New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:14 PM

Urdu Section ( 24 Jul 2019, NewAgeIslam.Com)

Source of Divine Guidance is Quran—part-1 مصدر رشد و ہدایت قرآن ہے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

17 جولائی 2019

اس دنیا کے تمام ادیان و مذاہب کی بنیاد اس حقیقت پر استوار ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق (creator) و رازق (sustainer) ہےاور وہی ہمارا اور پوری کائنات کا مدبر حقیقی ہے۔ اور آخر کار ہم سب کو پلٹ کر اسی کی طرف جانا ہے، لہٰذا جو اس میں کامیاب ہوا وہ مراد کو پہنچا اور جو اس میں ناکام ہوا وہ نامراد اور ذلیل و خوار ہوا۔ چونکہ ہر مذہب کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ انسان نے جس حالت میں جہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اسی حالت میں اسی مقام پر بغیر بھٹکے اور بغیر بہکے بخیر و عافیت پہنچ کر اپنے اس سفر زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کر دے ، اگر چہ مختلف مذاہب میں یہ بنیادی تصور مختلف شکلوں میں موجود ہے۔

اسلامی نقطہ نظر یہ ہے کہ اللہ نے جب ہمیں تخلیقی مراحل سے گزار کر اس مادی دنیا میں داخل کیا تو منزل مقصود تک پہنچنے میں ہماری رہنمائی کے لئے اس راستے کے ماہرین کو بھی مبعوث کیا جنہیں ہم پیغمبروں اور رسولوں کی شکل میں جانتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس سفر کا ایک مکمل گائڈ بھی ہمیں فراہم کیا جو قرآن مقدس کی شکل میں ہمارے سامنے ہے تاکہ جب ابنیا و رسل ہمارے درمیان موجود نہ ہوں تب یہ ہمیں اس راہ کی مکمل رہنمائی عطا کرے۔

دور جدید کے تناظر میں ہم اس مسئلے کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب کوئی سائنسدان کوئی اہم آلہ یا مشین ایجاد کرتاہے تو اس کے ساتھ ایک گائڈ بک (Guide Book) بھی مرتب کرتا ہے جس میں وہ ان باتوں کی وضاحت کرتا ہے کہ اس مشین کے استعمال کے طریقے اور شرائط کیا کیا ہیں، کن باتوں کے پرہیز سے اس مشین کی حفاظت کی جا سکتی ہے، وہ کون سے عوامل ہیں کہ جن سے اگر پرہیز نہ کیا جائے تو یہ مشین خراب (Corrupt) ہو سکتی ہے اور آپ کو خسارہ ہو سکتا ہے، تاکہ جس کام کے لئے وہ آلہ یا وہ مشین بنائی گئی ہے اسے کامیابی کے ساتھ اس مصرف میں لایا جا سکے۔ اور ہمارے دور میں اس کا دوسرا طریقہ یہ بھی کافی رائج ہے کہ آج کل جو اہم مشینیں بنائی جاتی ہیں ان کے مراکز اور نمائش گاہوں (Showrooms) میں ایسے افراد ہوتے ہیں جنہیں اس مشین کے طریقہ استعمال کی خاص تربیت (Training) حاصل ہوتی ہے اور جو طریقہ استعمال میں ان مشینوں کے فوائدونقصانات کی باریکیوں سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں ۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو عملی طور پر اس مشین کا طریقہ استعمال بتاتے اور سکھاتے ہیں ۔

بالکل یہی طریقہ کار اللہ کے نظام رشدوہدایت میں بھی کار فرما ہے ۔ جب ہدایت انسانی اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہی تھی اور جب انسانی عقول اتنے بالغ اور پختہ نہیں ہوئے تھے تب اللہ نے بنیادی طور پر اس کام کے لئے رسولوں کا انتخاب کیا اور وقت اور زمانے کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں مختلف رسولوں کو مبعوث کرتا رہا تاکہ وہ اللہ کا دین عملی طور پر انسانوں کے سامنے پیش کریں، ہرچند کہ ان میں سے بعض کے ساتھ کتابیں بھی ہوتی تھیں لیکن بنیادی طور پر ہدایت انسانی کی ذمہ داری اللہ نے انبیا و رسل کے سپرد کی تھی، لیکن جب لوگوں کے قلوب و اذہان عقل و شعور کے ارتقائی منازل طے کر کے مطلوبہ سطحتک پہنچ گئے اور انسانی تہذیب وتمدن مائل بہ عروج ہونے لگی تو اللہ نے نبوت کا دروازہ بند کر دیا اور تا قیامت ہماری رشدوہدایت کے لئے قرآن کی شکل میں ایک روشن کتابہمیں عطا کر دی جو قیامت تک انسانوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرے گی۔

کیوں کہ یہ کتاب اس خالق حقیقی کا کلام ہے جس نے ہم انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اپنی مخلوق کے بارے میں خالق سے زیادہ جاننے والا کون ہو سکتا ہے ؟ اگر کائنات انسانیت علم کی معراج کو بھی پہنچ جائے تو وہ اتنا ہی جان سکتی ہے جتنا کہ اس نے بتانے کا ارادہ کیا ہے۔ چونکہ قرآن کا عنوان ہدایت انسانی ہے اسی لئے اللہ نے اس کتاب مقدس میں انسانوں کو اس کی کمزوریوں کے سے آگاہ کیا اور ان سے بچنے کی تدابیر بھی بیان کی ، اور امثال و احکام اور ہدایت و نصیحت کے ذریعہ اصل کامیابی و کامرانی کا راستہ مبین و مبرہن انداز میں بیان کر دیا ہے ۔

قرآن مقدس میں ہدایت انسانی کے حوالے سےکثیر تعداد میں آیتیں بشائر و نذائر پر مشتمل ہیں ،مثلاًدرج ذیل آیات قرآنیہ ملاحظہ ہوں:

يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (26) وَاللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَن تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا (27) يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا (28) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29) وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (30) إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا (4:31)

ترجمہ: اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے (اپنے احکام کی) وضاحت فرما دے اور تمہیں ان (نیک) لوگوں کی راہوں پر چلائے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں اور تمہارے اوپر رحمت کے ساتھ رجوع فرمائے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے - اور اللہ تم پر مہربانی فرمانا چاہتا ہے، اور جو لوگ خواہشاتِ (نفسانی) کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے بھٹک کر بہت دور جا پڑو - اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کر دے، اور اِنسان کمزور پیدا کیا گیا ہے - اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے - اور جو کوئی تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے - اگر تم کبیرہ گناہوں سے جن سے تمہیں روکا گیا ہے بچتے رہو تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں مٹا دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ میں داخل فرما دیں گے۔عرفان القرآن

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (2) وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَّرِيدٍ (3) كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَن تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ (4) يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ۖ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنبَتَتْ مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (22:5)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے - جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی (ماں) اس (بچی) کو بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلا رہی تھی اور ہر حمل والی عورت اپنا حمل گرا دے گی اور (اے دیکھنے والے!) تو لوگوں کو نشہ (کی حالت) میں دیکھے گا حالانکہ وہ (فی الحقیقت) نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن اﷲ کا عذاب (ہی اتنا) سخت ہوگا (کہ ہر شخص حواس باختہ ہو جائے گا) - اور کچھ لوگ (ایسے) ہیں جو اﷲ کے بارے میں بغیر علم و دانش کے جھگڑا کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں - جس (شیطان) کے بارے میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسے دوست رکھے گا سو وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا -اے لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) جی اٹھنے میں شک ہے تو (اپنی تخلیق و ارتقاء پر غور کرو) کہ ہم نے تمہاری تخلیق (کی کیمیائی ابتداء) مٹی سے کی پھر (حیاتیاتی ابتداء) ایک تولیدی قطرہ سے پھر (رِحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلق وجود سے پھر ایک (ایسے) لوتھڑے سے جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، جس میں بعض اعضاء کی ابتدائی تخلیق نمایاں ہو چکی ہے اور بعض (اعضاء) کی تخلیق ابھی عمل میں نہیں آئی تاکہ ہم تمہارے لئے (اپنی قدرت اور اپنے کلام کی حقانیت) ظاہر کر دیں، اور ہم جسے چاہتے ہیں رحموں میں مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر نکالتے ہیں، پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچ جاؤ، اور تم میں سے وہ بھی ہیں جو (جلد) وفات پا جاتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نہایت ناکارہ عمر تک لوٹائے جاتے ہیں تاکہ وہ (شخص یہ منظر بھی دیکھ لے کہ) سب کچھ جان لینے کے بعد (اب پھر) کچھ (بھی) نہیں جانتا، اور تو زمین کو بالکل خشک (مُردہ) دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو اس میں تازگی و شادابی کی جنبش آجاتی ہے اور وہ پھولنے بڑھنے لگتی ہے اور خوش نما نباتات میں سے ہر نوع کے جوڑے اگاتی ہے۔عرفان القرآن

اسی سورت کی درج ذیل آیتیں بھی ملاحظہ ہوں:

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَا لَيْسَ لَهُم بِهِ عِلْمٌ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍ (71) وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (72) يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ (73) مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (74) اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (75) يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۗ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (76) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۩ (77) وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّةَ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ۚ هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِي هَٰذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ (22:78)

ترجمہ: اور یہ لوگ اﷲ کے سوا ان (بتوں) کی پرستش کرتے ہیں جس کی اُس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ (ہی) انہیں اس (بت پرستی کے انجام) کا کچھ علم ہے، اور (قیامت کے دن) ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا - اور جب ان (کافروں) پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں (تو) آپ ان کافروں کے چہروں میں ناپسندیدگی (و ناگواری کے آثار) صاف دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ عنقریب ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنا رہے ہیں، آپ فرما دیجئے: (اے مضطرب ہونے والے کافرو!) کیا میں تمہیں اس سے (بھی) زیادہ تکلیف دہ چیز سے آگاہ کروں؟ (وہ دوزخ کی) آگ ہے، جس کا اﷲ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے، اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے - اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے سو اسے غور سے سنو: بیشک جن (بتوں) کو تم اﷲ کے سوا پوجتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کے لئے جمع ہو جائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے (تو) وہ اس چیز کو اس (مکھی) سے چھڑا (بھی) نہیں سکتے، کتنا بے بس ہے طالب (عابد) بھی اور مطلوب (معبود) بھی - ان (کافروں) نے اﷲ کی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنا چاہئے تھی۔ بیشک اﷲ بڑی قوت والا (ہر چیز پر) غالب ہے - اﷲ فرشتوں میں سے (بھی) اور انسانوں میں سے (بھی اپنا) پیغام پہنچانے والوں کو منتخب فرما لیتا ہے۔ بیشک اﷲ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے - وہ ان (چیزوں) کو (خوب) جانتا ہے جو ان کے آگے ہیں اور جو ان کے پیچھے ہیں، اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں - اے ایمان والو! تم رکوع کرتے رہو اور سجود کرتے رہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور (دیگر) نیک کام کئے جاؤ تاکہ تم فلاح پا سکو - اور اﷲ (کی محبت و طاعت اور اس کے دین کی اشاعت و اقامت) میں جہاد کرو جیسا کہ اس کے جہاد کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرما لیا ہے اور اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ (یہی) تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے۔ اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ، پس (اس مرتبہ پر فائز رہنے کے لئے) تم نماز قائم کیا کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور اﷲ (کے دامن) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، وہی تمہارا مددگار (و کارساز) ہے، پس وہ کتنا اچھا کارساز (ہے) اور کتنا اچھا مددگار ہے۔عرفان القرآن

ایک خاص انسانی فطرت کا بیان ذیل کی آیتوں میں ماحظہ ہو؛

وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ (33) لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (34) أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ (35) وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ (36) أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (30:37)

ترجمہ: اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ ان کو اپنی جانب سے رحمت سے لطف اندوز فرماتا ہے تو پھر فوراً ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں - تاکہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی ہے پس تم (چند روزہ زندگی کے) فائدے اٹھا لو، پھر عنقریب تم (اپنے انجام کو) جان لو گے - کیا ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل اتاری ہے جو ان (بتوں) کے حق میں شہادۃً کلام کرتی ہو جنہیں وہ اﷲ کا شریک بنا رہے ہیں - اور جب ہم لوگوں کو رحمت سے لطف اندوز کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں، اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے ان (گناہوں) کے باعث جو وہ پہلے سے کر چکے ہیں تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں - کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔عرفان القرآن

یہ آیتیں بھی دیکھیں:

وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (12) وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا ۙ وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِينَ (13) ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِن بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (10:14)

ترجمہ: اور جب (ایسے) انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں اپنے پہلو پر لیٹےیا بیٹھےیا کھڑے پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو وہ (ہمیں بھلا کر اس طرح) چل دیتا ہے گویا اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے لئے ان کے (غلط) اَعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں جو وہ کرتے رہے تھے - اور بیشک ہم نے تم سے پہلے (بھی بہت سی) قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایمان لاتے ہی نہ تھے، اسی طرح ہم مجرم قوم کو (ان کے عمل کی) سزا دیتے ہیں - پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ (اب) تم کیسے عمل کرتے ہو۔عرفان القرآن

إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا (19) إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا (20) وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (21) إِلَّا الْمُصَلِّينَ (22) الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (23) وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ (24) لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (25) وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ (26) وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ (27) إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ (28) وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (29) إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (30) فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (31) وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (32) وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (33) وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (34) أُولَٰئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ (70:35)

ترجمہ: بے شک انسان بے صبر اور لالچی پیدا ہوا ہے - جب اسے مصیبت (یا مالی نقصان) پہنچے تو گھبرا جاتا ہے - اور جب اسے بھلائی (یا مالی فراخی) حاصل ہو تو بخل کرتا ہے - مگر وہ نماز ادا کرنے والے - جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھنے والے ہیں - اور وہ (ایثار کیش) لوگ جن کے اَموال میں حصہ مقرر ہے - مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محتاج کا - اور وہ لوگ جو روزِ جزا کی تصدیق کرتے ہیں - اور وہ لوگ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں - بے شک ان کے رب کا عذاب ایسا نہیں جس سے بے خوف ہوا جائے - اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں - سوائے اپنی منکوحہ بیویوں کے یا اپنیمملوکہ کنیزوں کے، سو (اِس میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں - سو جو ان کے علاوہ طلب کرے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں - اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی نگہداشت کرتے ہیں - اور وہ لوگ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں - اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں - یہی لوگ ہیں جو جنتوں میں معزّز و مکرّم ہوں گے۔عرفان القرآن

يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ (13) يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ (14) فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (57:15)

ترجمہ: جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے: ذرا ہم پر (بھی) نظرِ (التفات) کر دو ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔ ان سے کہا جائے گا: تم اپنے پیچھے پلٹ جاؤ اور (وہاں جاکر) نور تلاش کرو (جہاں تم نور کا انکار کرتے تھے)، تو (اسی وقت) ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا، اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب اُس طرف سے عذاب ہوگا - وہ (منافق) اُن (مومنوں) کو پکار کر کہیں گے: کیا ہم (دنیا میں) تمہاری سنگت میں نہ تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں! لیکن تم نے اپنے آپ کو (منافقت کے) فتنہ میں مبتلا کر دیا تھا اور تم (ہمارے لئے برائی اور نقصان کے) منتظر رہتے تھے اور تم (نبوّتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دینِ اسلام میں) شک کرتے تھے اور باطل امیدوں نے تمہیں دھوکے میں ڈال دیا،یہاں تک کہ اللہ کا اَمرِ (موت) آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہا - پس آج کے دن (اے منافقو!) تم سے کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن سے جنھوں نے کفر کیا تھا اور تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور یہی (ٹھکانا) تمہارا مولا (یعنی ساتھی) ہے، اور وہ نہایت بری جگہ ہے (کیونکہ تم نے اُن کو مولا ماننے سے انکار کر دیا تھا جہاں سے تمہیں نورِ ایمان اور بخشش کی خیرات ملنی تھی)۔عرفان القرآن

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (20) سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (57:21)

ترجمہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری آرائش ہے اور آپس میں فخر اور خود ستائی ہے اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں زیادتی کی طلب ہے، اس کی مثال بارش کی سی ہے کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے پھر تم اسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور آخرت میں (نافرمانوں کے لئے) سخت عذاب ہے اور (فرمانبرداروں کے لئے) اللہ کی جانب سے مغفرت اور عظیم خوشنودی ہے، اور دنیا کی زندگی دھوکے کی پونجی کے سوا کچھ نہیں ہے - (اے بندو!) تم اپنے رب کی بخشش کی طرف تیز لپکو اور جنت کی طرف (بھی) جس کی چوڑائی (ہی) آسمان اور زمین کی وسعت جتنی ہے، اُن لوگوں کیلئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں،یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔عرفان القرآن

وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ ۖ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ (23) أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (24) تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (25) وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ (14:26)

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں (وہ) ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے، (ملاقات کے وقت) اس میں ان کا دعائیہ کلمہ ”سلام“ ہوگا - کیا آپ نے نہیں دیکھا، اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کہ پاکیزہ بات اس پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں - وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے، اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں - اور ناپاک بات کی مثال اس ناپاک درخت کی سی ہے جسے زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے، اسے ذرا بھی قرار (و بقا) نہ ہو ۔ عرفان القرآن

URL: http://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/source-of-divine-guidance-is-quran—part-1--مصدر-رشد-و-ہدایت-قرآن-ہے/d/119289

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..