New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 03:06 PM

Urdu Section ( 16 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Moral Ethics Of Prayers اللہ کی بارگاہ سے طلب کرنے کے آداب

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

(قسط :3)

تقدیم..

قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ہے:

وَ لَقَد نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدر وَ اَنتُم اذِلَّۃ (اٰل عمران: 123)

اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالانکہ (اس وقت) تم بالکل بے سر و سامان تھے۔ (عرفان القرآن)

آیت مذکورہ کا پس منظر:

قرآن مقدس کی اس آیت کے پیغام کو اور اس کی اہمیت و افادیت کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے اختصار کے ساتھ اس کے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔مفسرین فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر جو کہ کفار و مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کا سب سے پہلا معرکہ تھا جس میں کمزور و ناتوں اور بے سر و سامان تین سو تیرہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت طاقتور اور مسلح کفار و مشرکین کی ایک بہت بڑی فوج کے مقابلے میں سب سے پہلی مرتبہ میدان کارزار میں اتری تھی، جب مسلمان مجاہدوں نے کفار و مشرکین کے طاقتور اور مسلح لشکر جرار کو دیکھا تو ان کے اندر ایک قسم کی بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہوگئی اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کافر جنگجوؤں کی تعداد ہم سے بہت زیادہ ہے، ان کے پاس جنگی ہتھیار اور سواریاں بھی ہم سے بہت زیادہ ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر عرض کیا "یا اللہ یہ تین سو تیرہ افراد پر مشتمل توحید پرستوں کی سب سے پہلی جماعت ہے اور یہ آج ناموس اسلام کی بقاء کے لیے باطل قوتوں کے مقابلے میں بے سرو سامان میدان جنگ میں اتر رہے ہیں، یا اللہ اگر آج یہ بھی مار دیے گئے تو قیامت تک اس روئے زمین پر تیرا نام نہ لیا جائے گا اسی لیے تو آج دست غیب سے ان جانثاروں کی مدد و نصرت فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب پیغمبر کی اس دعا کو شرف قبولیت سے بخشا اور اس جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے اللہ نے آسمان سے ہتھیاروں سے لیس فرشتوں کی فوج کو میدان جنگ میں اتار دیا۔ اور بلآخر اس جنگ میں فتح مسلمانوں کا مقدر بنی۔ اسی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے قرآن مقدس میں فرمایا:

(اٰل عمران:123)

اللہ نے بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالانکہ (اس وقت) تم بالکل بے سر و سامان تھے۔ (عرفان القرآن)

اس آیت کی تفسیر میں اولیاء اور عرفاء نے ایک انتہائی اہم نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ غزوہ بدر کے دن اللہ نے صحابہ کرام کے لیے آسمان سے مدد اس وقت نازل کیا جب انہیں اپنی کمزوری کا احساس پختہ ہو چکا تھا اور اسی عالم میں انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور وہ اللہ سے نصرت و حمایت کے طلب گار ہوئے۔ اس پر اولیاء اللہ اور عرفاء ایک راز کی بات بتاتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ جو اللہ کی مدد چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے اپنے کمزور ہونے کا احساس پیدا کرے۔ یعنی اللہ کی مدد اور اللہ کی نصرت انسان کے اوپر اس وقت اترتی ہےوہ اپنے کمزور ہونے کی معرفت پیدا کر لیتا ہے۔ جب انسان کو اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ ہم کمزور ہیں تب اس کی مدد انسان تک پہنچتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر علم چاہو تو پہلے یہ جان لو ہم جاہل ہیں اور کچھ نہیں جانتے اور پھر علم کی بھیک مانگو وہ تمہیں علم عطا کرے گا۔ اگر عزت چاہو تو پہلے یہ مانوں کہ میں تو اللہ کی بارگاہ میں حقیر ہوں ، ذلیل ہوں، گنہگار ہوں، سیاہ کار ہوں اور ایک پلید نطفہ سے پیدا کیا گیا ہوں، اللہ کی بارگاہ میں اس درجے کی عاجزی و انکساری پیدا کر لینے کے بعد جب انسان اللہ سے عزت مانگتا ہے تو وہ انسان کو عزت اور سرخروئی سے نوازتا ہے۔ جسے فراخی، کشادگی اور مالداری چاہیے وہ پہلے اپنی محرومی اور محتاجی کی معرفت پیدا کرے اور اس کے بعد اللہ کی بارگاہ میں استغاثہ کرے تو وہ انسان کو فراخی اور مالداری عطا کرتا ہے۔ جسے درجات کی بلندی اور تقویٰ کی خواہش ہو تو پہلے وہ اپنی گنہگاری اور سیاہ کاری کا اقرار کرے اور اس کے بعد اللہ سے التجا کرے تو وہ حقیقی عزت و شان والا رب اپنے بندے کو تقویٰ اور بلند درجات سے بھی سرفراز کرتاز ہے۔

ہماری دعائیں کیوں نہیں قبول ہوتیں

آج اس مادیت زدہ دور میں ہر خاص و عام کو اس بات کی شکایت ہے کہ ہماری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ اور ہمیں اللہ کی مدد کیوں نہیں ملتی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ سے مدد مانگتے وقت ہمارے دلوں کی کیفیت وہ نہیں ہوتی ہے جو ہونی چاہیے تھی، اس کی بارگاہ کا وہ ادب ہم ملحوظ خاطر نہیں رکھتے جو ہمیں رکھنا چاہیے تھا۔ ہم شش و پنج کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ ہمارا دھیان اپنے مال اور اسباب و وسائل پر بھی ہوتا ہے اور پھر ہم اس سے مدد اور دستگیری کی التجا بھی کرتے ہیں۔ ہمارے دلوں میں اپنے علم کا غرور بھی ہوتا ہے اور پھر ہم اللہ سے علم کی خیرات بھی مانگتے ہیں۔ ہمارے دل میں معاشرے کے اندر ہماری عزت اور مقام و مرتبہ کا جھوٹا بھرم بھی ہوتا ہے اور پھر ہم اس سے عزت کی بھیک بھی مانگتے ہیں۔

اولیاء، عرفاء اور صلحاء فرماتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے کہ حقیقی عزت و کبرائی والا صرف میں ہوں جسے عزت چاہیے وہ عاجزی و انکساری کا پیکر بن کر مجھ سے عزت مانگے۔ حقیقی طاقت اور جلالت والا میں ہوں جسے طاقت چاہیے وہ میری بارگاہ میں کمزور و ناتواں ہو کر طاقت مانگے۔ حقیقی علم والا میں ہوں جو مجھ سے علم چاہتا ہے وہ پہلے اپنی جہالت کا اقرار اور یقین کر لے اس کے بعد مجھ سے علم مانگے۔

مذکورہ آیت میں اللہ نے فرمایا "" اللہ نے تمہاری مدد اس وقت کی جب تمہیں اس بات کا یقین کامل ہو گیا تھا کہ ہم کچھ نہیں ہیں اور اب ہم کچھ نہیں کر سکتے، اسی لیے اولیاء اور عرفاء فرماتے ہیں کہ جب انسان کا اپنی طاقت سے یقین اٹھ جائے، اپنے مال و اسباب سے یقین اٹھ جائے، اپنے وسائل و ذرائع سے یقین اٹھ جائے، انسان اپنی عزت، اپنی طاقت ، اپنا فن، اپنا علم، اپنا ہنر اور اس دنیا میں اپنی حیثیت اور یہاں تک کہ اپنے وجود کو خاک میں ملا دے اس کے بعد اللہ کی بارگاہ میں عرض کرے کہ مولیٰ میری کوئی حیثیت نہیں اور اگر اب تیرا کرم نہ ہوا تو میرا کوئی پرسان حال نہیں اور اگر اب تو نے میری دستگیری نہ کی تو میں ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤں گا۔ جب کوئی اللہ کا بندہ اس کیفیت ، اس حالت اور اس ادب کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے تو فوراً آسمانوں سے اللہ مدد اترتی ہےاور بندے کے سارے دکھ درد اور ساری تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں ۔

اولیاء اللہ کا اللہ سے مانگنے کا ادب

جب ہم اکابر اولیاء اللہ اور سلف صالحین کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ان کی شخصیت کا جو پہلو سب سے نمایاں اور سب سے اعلیٰ نظر آتا ہے وہ حسن ادب اور حسن خلق ہے۔ ہم پوری تاریخ انسانیت میں جتنے بھی اللہ کے اولیاء، صلحاء اور نیک اور مقرب بندوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں ان تمام کی زندگی، ان کے معاملات اور ان کا کردار حسن ادب اور حسن خلق کا آئینہ دار اور مظہر اتم نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اللہ نے انہیں ولایت کے اعلیٰ ترین مقامات پر فائز فرمایا ہے۔

ولیوں کے سلطان حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک مرتبہ اللہ نے فریافت فرمایا بایزید مانگوں کیا مانگتے ہو؟ اب اس مقام پر اللہ سے مانگنے میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے کمال ادب کا مظاہرہ کیا۔ جب اللہ نے آپ سے فرمایا : " اے با یزید مانگو کیا مانگتے ہو؟ تو آپ نے عرض کیا ""۔ آپ نے اللہ سے عرض کیا کہ "مولیٰ میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کچھ نہ چاہوں سوائے اس کے جو تو چاہے"۔  یعنی حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اللہ سے عرض کیا کہ مولیٰ میں بھی وہی چاہتا ہوں جو میرے حق میں تیرا ارادہ ہے۔ اس جواب میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا طلب میں حسن ادب دیکھنے کے لائق ہے، اسے عرفاء نے "حسن طلب" کا نام دیا ہے، اس لیے کہ آپ نے فرمایا کہ اے میرے مولیٰ میں تجھ سے کچھ نہیں مانگتا، اگر کچھ مانگتا ہوں تو وہ صرف تیری مرضی پر میری رضاہے، یعنی میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں، اور اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ اور نہیں مانگتا، میرے حق میں جو بہتر ہو تو اسی کا فیصلہ فرما دے ۔

جاری.....................

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/moral-ethics-of-prayers---اللہ-کی-بارگاہ-سے-طلب-کرنے-کے-آداب/d/108880

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..