New Age Islam
Sun Apr 18 2021, 07:32 PM

Urdu Section ( 14 Oct 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Do We Have absolutely no choice, But to Perform What is Predestined in Islam? Part-6 کیا بندہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور محض ہے؟

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

13 اکتوبر 2018

اب تک ہم نے رسالہ‘‘ ثلج الصدر لایمان القدر’’ سے جس قدر اقتباسات کا مطالعہ کیا ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر کو بنیاد بنا کر یہ نظریہ قائم کر لینا کہ انسان اپنے نیک و بد اعمال کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا ایک زبردست مظالطہ ہے ، اس لئے کہ تقدیر کا جو معنیٰ عوام میں مشہور ہے وہ اس کا درست معنیٰ نہیں ہے ۔ بلکہ اللہ نے مشیت ، ارادہ اور اختیار کی تخلیق اپنے دست قدرت میں رکھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان بالکل آزاد نہیں ہے اور اللہ نے انسان کے لئے ارادہ و اختیار کی تخلیق بھی کی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو مانند پتھر مجبور محض بھی نہیں چھوڑا ہے ۔

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؛

بس یہی ارادہ،یہی اختیار جو ہر شخص اپنے نفس میں دیکھ رہا ہے عقل کے ساتھ اس کا پایا جانا،یہی مدار امر و نہی و جزا و سزا و عقاب و پرسش و حساب ہے،اگرچہ بلاشبہہ بلا ریب قطعا یقیناً یہ ارادہ و اختیار بھی اﷲ عزوجل ہی کا پیداکیا ہو ا ہے جسے انسان خود بھی اسی کا بنایا ہوا ہے آدمی جس طرح نہ آپ سے آپ (خود بخود) بن سکتا تھا نہ اپنے لئے آنکھ،کان، ہاتھ،پاؤں،زبان وغیرہ بنا سکتا تھا،یو نہی اپنے لئے طاقت،قوت،ارادہ،اختیار بھی نہیں بنا سکتا،سب کچھ اس نے دیا اور اسی نے بنایا،مگر اس سے یہ سمجھ لینا کہ جب ہمارا ارادہ و اختیار بھی خدا ہی کا مخلوق ہے تو پھر ہم پتھر ہوگئے قابل سزا و جزا و باز پرس نہ رہے،کیسی سخت جہالت ہے،صاحبو ! تم میں خدا نے کیا پیدا کیا ؟ ارادہ و اختیار،تو ان کے پیدا ہونے سے تم صاحب ارادہ۔صاحب اختیار ہوئے یا مضطر،مجبور،ناچار،صاحبو ! تمھاری اور پتھر کی حرکت میں فرق کیا تھا،یہ کہ وہ ارادہ و اختیار نہیں رکھتا اور تم میں اﷲ تعالٰی نے یہ صفت پیدا کی عجب عجب کہ وہی صفت جس کے پیدا ہونے نے تمھاری حرکات کو پتھر کی حرکات سے ممتاز کردیا،اسی کی پیدائش کو اپنے پتھر ہوجانے کا سبب سمجھو یہ کیسی الٹی مت ہے ؟ اﷲ تعالٰی نے ہماری آنکھیں پیدا کیں ان میں نور خلق کیا اس سے ہم انکھیارے (دیکھنے والے) ہوئے نہ کہ معاذ اﷲ اندھے یونہی اس نے ہم میں ارادہ و اختیار پیدا کیا اس سے ہم اس کی عطاکے لائق مختار ہوئے،نہ کہ الٹے مجبور۔

اپنے اس دلیل کی تائید میں اعلیٰ حضرت ابو نعیم کی حلیۃ الاولیاء سے حضرت علی کی ایک روایت نقل کرتے ہیں؛

ابو نعیم حلیۃ الاولیاء میں بطریق امام شافعی عن یحیی بن سلیم امام جعفر صادق سے،وہ حضرت امام باقر،وہ حضرت عبداﷲ بن جعفر طیار،وہ امیر المؤمنین مولی علی رضی اﷲ تعالٰی عنھم سے راوی: انہ خطب الناس یوما(فذکر خطبتہ ثم قال)فقام الیہ رجل ممن کان شھد معہ الجمل،فقال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر،فقال بحر عمیق فلا تلجہ،قال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر،قال سر اﷲ فلا تتکلفہ،قال یا امیر المؤمنین اخبرنا عن القدر،قال اما اذا ابیت فانہ امر بین امرین لا جبر و لا تفویض،قال یا امیر المؤمنین ان فلانا یقول بالاستطاعۃ،وھو حاضرک،فقال علی بہ فاقاموہ،فلما راٰہ سل سیفہ قدر اربع اصابع،فقال الاستطاعۃ تملکھا.

 یعنی ایك دن امیر المؤمنین خطبہ فرمارہے تھے،ایك شخص نے کہ واقعہ جمل میں امیر المؤمنین کے ساتھ تھے کھڑے ہوکر عرض کی:یا امیر المؤمنین! ہمیں مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے، فرمایا:گہرا دریا ہے اس میں قدم نہ رکھ،عرض کی:یا امیر المؤمنین! ہمیں خبر دیجئے،فرمایا:اﷲ کا راز ہے زبردستی اس کا بوجھ نہ اٹھا۔عرض کی:یا امیر المؤمنین ہمیں خبر دیجئے فرمایا:اگر نہیں مانتا تو ایك امر ہے دو امروں کے درمیان،نہ آدمی مجبور محض ہے نہ اختیار اسے سپرد ہے۔عرض کی:یا امیر المؤمنین ، فلاں شخص کہتا ہے کہ آدمی اپنی قدرت سےکام کرتا ہے،اور وہ حضور میں (یہاں مجلس میں) حاضر ہے،مولی علی نے فرمایا:میرے سامنے لاؤ،لوگوں نے اسے کھڑا کیا۔جب امیر المؤمنین نے اسے دیکھا تیغ مبارك چار انگل کے قدر نیام سے نکال لی اور فرمایا: مع اﷲ او من دون اﷲ ؟ وایاك ان تقول احدھما فترتد فاضرب عنقک،قال فما اقول یا امیر المؤمنین قال قل املکھا باﷲ الذی ان شاء ملکنیھا۔کام کی قدرت کا توخدا کے ساتھ مالك ہے یا خدا سےجدا مالك ہے (یعنی کیا اپنے افعال اور اپنے معاملات میں تو خدا کی عطا سے اختیار رکھتا ہے یا خدا سے بے نیاز ہے) ؟ اور سنتا ہے خبردار ان دونوں میں سے کوئی بات نہ کہنا کہ کافر ہوجائیگا اور میں تیری گردن مار دوں گا۔ اس نے کہا:یا امیر المؤمنین! پھر میں کیا کہوں ؟ فرمایا:یوں کہہ کہ اس خدا کے دیے سے اختیار رکھتا ہوں کہ اگر وہ چاہے تو مجھے اختیار دے بے اس کی مشیت کے مجھے کچھ اختیار نہیں ۔

اعلیٰ حضرت مزید فرماتے ہیں ؛

بس یہی عقیدہ ٔ اہلسنت ہے کہ انسان پتھر کی طرح مجبور محض ہے نہ خود مختار،بلکہ ان دونوں کے بیچ میں ایك حالت ہےجس کی کنہ (حقیقت) رازِ خدا اور ایك نہایت عمیق دریا ہے۔اﷲ عزوجل کی بے شمار رضائیں امیر المؤمنین علی پر نازل ہوں کہ ان دونوں الجھنوں کو دو فقروں میں صاف فرمادیا۔

ایک جاہلانا دلیل کا رد ،

‘‘ایك صاحب نے اسی بارے میں سوال کیا کہ کیا معاصی بھی بے ارادہ الہیہ واقع نہیں ہوتے ؟ فرمایا تو کیا کو ئی زبردستی اس کی معصیت کرلے گا افیعصی قھرا یعنی وہ نہ چاہتا تھا کہ اس سے گناہ ہو مگر اس نے کرہی لیا تو اس کا ارادہ زبردست پڑا (غالب ہوا اللہ کے ارادے پر) معاذاﷲ خدا بھی دنیا کےمجازی بادشاہوں کی طرح ہوا کہ وہ ڈاکوؤں،چوروں کابہتیرا بندوبست کریں پھر بھی ڈاکو اور چور اپنا کام کر ہی گزرتے ہیں۔حاشا وہ ملك الملوك بادشاہ حقیقی قادر مطلق ہر گز ایسا نہیں کہ اس کےملك میں بے اس کےحکم کےایك ذرہ جنبش کرسکے،وہ صاحب کہتے ہیں فکانما القمنی حجرامولی علی نے یہ جواب دے کر گویا میرے منہ میں پتھر رکھ دیا کہ آگے کچھ کہتے بن ہی نہ پڑا۔ عمرو بن عبدو معتزلی کہ بندے کے افعال خداکے ارادہ سےنہ جانتا تھا کہ خود کہتا ہے کہ مجھے کسی نے ایسا الزام نہ دیا جیسا ایك مجوسی نےدیا جو میرے ساتھ جہاز میں تھا،میں نے کہا تو مسلمان کیوں نہیں ہوتا ؟ کہا خدا نہیں چاہتا، میں نے کہا خدا تو چاہتا ہے مگر شیطان تجھے نہیں چھوڑتے،کہا تو میں شریك غالب کے ساتھ ہوں (یعنی میں اس کے ساتھ ہوں جس کی مرضی خدا کی مرضی پر غالب ہے)،اسی ناپاك شناعت کے رد کی طرف مولی علی نے اشارہ فرمایا کہ وہ نہ چاہے تو کیا کوئی زبردستی اس کی معصت کرلے گا؟۔

مجوسی کا جواب ؛

‘‘باقی رہا اس مجوسی کا عذر،وہ بعینہ ایسا ہے کہ کوئی بھوکا ہے بھوك سے دم نکالا جاتا ہے،کھاناسامنے رکھا ہے اور نہیں کھاتا کہ خدا کا ارادہ نہیں ، اس کا ارادہ ہوتا تو میں ضرور کھالیتا ، اس احمق سے یہی کہا جائے گا کہ خدا کا ارادہ نہ ہونا تونے کاہے سے (کیسے) جانا ؟ اسی سے کہ تو نہیں کھاتا ، تو کھانے کا قصد توکر ، دیکھ تو ارادہ الہیہ سے کھانا ہوجائے گا۔ایسی اوندھی مت اسی کوآنی ہے جس پر موت سوار ہے۔غرض مولی علی نے یہ تو اس کا فیصلہ فرمایا کہ جو کچھ ہوتا ہے بے ارادہ الہیہ نہیں ہوسکتا۔

(حوالہ ؛ العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ – جلد 29 –رسالہ- ثلج الصدر لایمان القدر‘‘سینے کی ٹھنڈک ، ایمان تقدیر کے سبب’’)

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part---1--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116564

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part--2-کیا--بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116573

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part--3--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116581

URL for Part-4: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part-4--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116606

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part-5--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116616

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part-6--کیا--بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116626

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..