New Age Islam
Sun May 09 2021, 03:15 AM

Urdu Section ( 16 Oct 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Do We Have absolutely no choice, But to Perform What is Predestined in Islam? No! –conclusion !کیا بندہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور محض ہے؟ نہیں

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

13 اکتوبر 2018

رسالہ ‘‘ ثلج الصدر لایمان القدر’’ کے اب تک کے مطالعہ سے یہ بات بخوبی عیاں ہو چکی کہ انسان اپنے اعمال و افعال میں نہ تو مختار کلی ہے اور نہ ہی مجبور محض اور تقدیر کے باب میں یہی مذہب اہلسنت و جماعت کا ہے اس لئے کہ یہی موقف ‘‘خیر الامور اوسطھا’’ کی تصویر ہے ، اس ہے الگ ہٹ کر دیگر نظریات یا تو افراط کا شکار ہیں یا تفریط کا ، اور ہر دو صورت ہلاکت سے خالی نہیں ۔ اس لئے کہ یہی ایک ایسا نظریہ ہے جس کی تائیدعقلاً بھی ہوتی ہے اور نقلاً بھی ، دلیل عقلی کی ایک مثال ماسبق میں گزر چکی ہے لہٰذا اسی سے ملتا ہوا ایک اور اقتباس مذکورہ رسالہ سے نقل کیا جاتا ہے ؛

زہر کھانے کی مثال پیش کرنے کے بعد اعلی ٰحضرت (رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ارضاہ عنا) تحریر فرماتے ہیں:

‘‘اب (زہر) حلق سے اترنے کے بعد تو ظاہر ی نگاہوں میں بھی پینے والے کا اپنا کوئی کام نہیں ،خون میں اس کا ملنا اور خون کا اسے لے کر دورہ کرنا اور دورہ میں قلب تك پہنچنا اور وہاں جاکر اسے فاسد کردینا یہ کوئی فعل نہ اس کے ارادے سے ہے نہ اس کی طاقت سے بہتیرے زہر پی کر نادم ہوتے ہیں،پھر ہزار کوشش کرتے ہیں جو ہونی ہے ہوکر رہتی ہے۔اگر اس کے ارادہ سے ضرر ہوتا تو اس ارادہ سے باز آتے ہی زہر باطل ہوجانا لازم تھا،مگر نہیں ہوتا تو معلوم ہوا کہ اس کا ارادہ بے اثر ہے پھر اس سے کیوں باز پرس ہوتی ہے ؟ ہاں،باز پرس کی وہی وجہ ہے کہ شہد اور زہر اسے بتادیے تھے،عالی قدر حکمائے عظام کی معرفت سے نفع نقصان جتادیے تھے،دست ودہاں وحلق اس کے قابو میں کردیے تھے،دیکھنے کو آنکھ،سمجھنے کو عقل اسے دے دی تھی،یہی ہاتھ جس سے اس نے زہر کی پیالی اٹھا کر پی،جام شہد کی طرف بڑھاتا اﷲ تعالٰی اسی کا اٹھنا پیداکردیتا،یہاں تك کہ سب کام اول تا آخر اسی کی خلق و مشیت سے واقع ہو کر اس کے نفع کے موجب ہوتے مگرا س نے ایسا نہ کیا بلکہ کاسہ زہر کی طرف ہاتھ بڑھایا ور اس کے پینے کا عزم لایا وہ غنی بے نازز دونوں جہان سے بے پروا ہے وہاں تو عادت جاری ہو رہی ہے کہ یہ قصد کرے اور وہ خلق فرما دے،اس نے اسی کا سہ کا اٹھنا اور حلق سے اترنا دل تك پہنچنا وغیرہ وغیرہ پیدا فرمادیا پھر یہ کیونکر بے جرم قرار پا سکتا ہے۔ انسان میں یہ قصد و ارادہ و اختیار ہونا ایسا واضح و روشن و بدیہی امر ہے جس سے انکار نہیں کرسکتامگر مجنون،ہر شخص سمجھتا ہے کہ مجھ میں اور پتھر میں ضرور فرق ہے ہر شخص جانتا ہے کہ انسان کےچلنے پھرنے،کھانے پینے،اٹھنے بیٹھنے وغیرہ وغیرہ افعال کے حرکات ارادی میں ہر شخص آگاہ ہے کہ انسان کا کام کرنے کے لئے ہاتھ کو حرکت دینا اور وہ جنبش جو ہاتھ کو رعشہ (کپکپی) سے ہو،ان میں صریح فرق ہے ہر شخص واقف ہےکہ جب وہ اوپر کی جانب جست کرتا (کودتا) اوراس کی طاقت ختم ہونےپر زمین پر گرتا ہے ان دونوں حرکتوں میں تفرقہ (فرق) ہے اوپر کودنا اپنے اختیار و ارادہ سے تھا اگر نہ چاہتا نہ کودتا اور یہ حرکت تما م ہوکر اب زمین پر آنا اپنے ارادے و اختیار سے نہیں۔

ولہذا اگر رکنا چاہے تو نہیں رك سکتا،بس یہی ارادہ،یہی اختیار جو ہر شخص اپنے نفس میں دیکھ رہا ہے عقل کے ساتھ اس کا پایا جانا،یہی مدار امر و نہی وجزا وسزا وعقاب وپرسش وحساب ہے،اگرچہ بلاشبہہ بلا ریب قطعا یقیناً یہ ارادہ و اختیار بھی اﷲ عزوجل ہی کا ہی پیدا کیا ہو ا ہے’’۔

اس کے بعد اس نظریہ کے رد میں کہ ‘‘جوکچھ بھی اچھے برے اعمال انسان کرتا ہے وہ سب کے سب مشیت الہی کے عین مطابق ہیں ۔ کوئی کفر پر مرا تو یہ بھی اللہ کی مرضی تھی ، کسی نے بدکاری کی تو یہ اس کی تقدیر میں پہلی ہی لکھا جا چکا تھا ، کسی نے شر و فساد برپا کیا تو وہ تقدیر الہی کا پابند تھا ، غرضیکہ ہر چھوٹے بڑے ، نیک و بد اور اچھے برے اعمال جو انسان اس دنیا میں انجام دیتا ہے وہ اس کی تقدیر میں پہلے ہی لکھے جا چکے ہیں اور انسان ان اعمال کے انجام دینے پر مجبور محض ہے ، لہذا جب بات یہ ہے تو انسان پر آخرت میں اس کے اچھے برے اعمال کی بنااد پر جزا وسزا کا مرتب ہونا انصاف کے خلاف ہو گا۔ اس لئے کہ اپنی زندگی میں انسان نے جو کچھ بھی کار اس میں اسکی مرضی اور ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا ، بلکہ اس نے وہی کیا جو قضائے الہی میں متعن ہوچکا تھا اور تقدیر کی رو سے وہ جس کا پابند تھا ’’ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ارضاہ عنا ارشاد فرماتے ہیں:

‘‘آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الٰہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اﷲ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد(سرکشی)والے مذموم و ملزم ہو کر سزا پائں گے۔ پھر بھی جب تك ایمان باقی ہے " فَیَغْفِرُ لِمَن یَّشَآءُ" (جسے چاہے بخش دے۔ت)باقی ہے۔

والحمد ﷲ رب العٰلمین،لہ الحکم و الہ ترجعون۔

اور سب تعریں ا اﷲ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا،حکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے۔(ت)

قرآن عظیم میں یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان اشخاص کو زیادہ ہدایت نہ کرو۔۔۔۔ہاں یہ ضرور فرمایا ہے کہ ہدایت ضلالت سب اس کے ارادہ سے ہے،اس کا بیان بھی ہوچکا اور آئندہ ان شاء اﷲ تعالٰی اور زیادہ واضح ہوگا۔

نیز فرمایا:

 اِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَوَآءٌ عَلَیہِمْ ءَاَنذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُونَ"۔

وہ علم الٰہی میں کافر ہیں انہیں ایك سا ہے چاہے تم ان کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان نہ لائیں گے۔

ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تمام جہان کے لئے رحمت بھیجے گئے جو کافر ایمان نہ لاتے ان کا نہایت غم حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو ہوتا،یہاں تك کہ اﷲ عزوجل نے فرمایا:

"فَلَعَلَّکَ بٰخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰۤی اٰثٰرِہِمْ اِن لَّمْ یُؤْمِنُو ا بِہٰذَا الْحَدِیثِ اَسَفًا "[2]۔

شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان پر کھیل جاؤگئے اس غم میں کہ وہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں ۔

لہذا حضور کی تسکین خاطر اقدس کو یہ ارشاد ہوا ہےکہ جو ہمارے علم میں کفر پر مرنے والے ہیں و العیاذ باﷲ تعالٰی وہ کسی طرح ایمان نہ لائیں گے،تم اس کا غم نہ کرو۔لہذا یہ فرمایا کہ تمھارا "سمجھانا نہ سمجھانا "ان کو " یکساں ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ "تمھارے حق میں" یکساں ہے،کہ ہدایت معاذاﷲ امر فضول ٹھرے۔ہادی کا اجر اﷲ پر ہے،چاہے کوئی مانے نہ مانے۔

"وَمَا عَلَی الرَّسُولِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِینُ"۔

"وَمَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِینَۚ"۔

اور رسول کےذمہ نہیں مگر صاف پہنچا دینا (ت)

اور میں تم سے اس پر کچھ اجرت نہیں مانگتا،میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہاں کا رب ہے۔

اﷲ خوب جانتا ہے اور آج سے نہیں ازل الآزال سے کہ اتنے بندے ہدایت پائیں گے اور اتنے چاہ ضلالت (گمراہی کے کنویں) میں ڈوبیں گے ،مگر کبھی اپنے رسولوں کو ہدایت سےمنع نہیں فرمایا کہ جو ہدایت پانے والے ہیں ان کے لئے سبب ہدایت ہوں اور جو نہ پائیں ان پر حجت الہیہ قائم ہو۔وﷲ الحجۃ البالغۃ(اور اﷲ ہی کی حجت پوری ہے۔ت)

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part---1--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116564

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part--2-کیا--بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116573

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part--3--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116581

URL for Part-4: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part-4--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116606

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part-5--کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116616

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-part-6--کیا--بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟/d/116626

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/do-we-have-absolutely-no-choice,-but-to-perform-what-is-predestined-in-islam?-no!-–conclusion--!کیا-بندہ-تقدیر-کے-ہاتھوں-مجبور-محض-ہے؟-نہیں/d/116643

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..