New Age Islam
Wed Jan 26 2022, 09:18 PM

Urdu Section ( 30 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Knowledge of Unseen for the Prophets انبیاء علیہم اسلام کے لئے علم غیب کا مسئلہ مسلمانوں کے درمیان مزید اختلاف و انتشار کی وجہ نہ بنے

 

 

 

مصباح الہدی، نیو ایج اسلام

1 جولائی 2014

عربی لفظ ‘‘غیب’’ کا معنی ہے ‘‘جو نظروں کے سامنے موجود نہ ہو’’۔ قرآن پاک میں لفظ غیب مختلف مقامات پر اسی معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے۔اس سے مراد لفظ ‘‘حاضر’’ کا مفہو م مخالف ہے۔

چونکہ غیر اللہ کے لئے علم غیب کا عقیدہ ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے اور صدیوں سے یہ مسئلہ اسلام کے اندر مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلاف و انتشار اور تنازعات کی وجہ رہا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ پہلے قرآن کی روشنی میں اس امر کو واضح کر دیا جائے کہ غیر اللہ کے لیے علم غیب ممکن ہے یا نہیں۔

اس نقطہ نظر سے جب ہم قرآنی آیات کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ قرآن نہ صرف نبیوں کے لئے علم غیب کی تصدیق و تائید کرتا ہے بلکہ چند مواقع ایسے ہیں کہ جب اللہ نے بچوں اور جانوروں سمیت عام افراد کو بھی غیب کے علم پر مطلع فرمایا ہے۔

قرآن کی روشنی میں غیر اللہ کے لیے علم غیب کا جواز:

حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی

‘‘پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (اپنے آپ پر) نادم رہنے والے تھے، پھر اگر وہ (اﷲ کی) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو اس (مچھلی) کے پیٹ میں اُس دن تک رہتے جب لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے،’’(سورة الصافات (37) آیات 142تا144)۔

یہ آیت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ نے مچھلی کو حضرت یونس علیہ السلام کو نگلنے اور انہیں اس وقت تک اپنے پیٹ میں رکھنے کا حکم دیا تھا جب تک کہ وہ اللہ کی مدح سرائی کرنے والوں میں سے نہ ہو جائیں ۔

زلیخا کے کمرے میں موجود شیر خوار بچہ

'..... اس کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے (جو شیر خوار بچہ تھا) گواہی دی.....' (سورہ یوسف (12): آیت 26)

مفسرین فرماتے ہیں کہ زلیخا کے کمرے میں جو شیر خوار بچہ موجود تھا اسے اللہ نے غیب کے علم پر مطلع کیا اور اس نے اسی کے مطابق اس معاملے میں حضرت یوسف کے علیہ السلام کے حق میں فیصلہ کیا جس سے ان کی بے گناہی ثابت ہوئی اور ان کی عصمت کا تحفظ بھی ہوا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ

‘‘اور ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تم انہیں دودھ پلاتی رہو، پھر جب تمہیں ان پر (قتل کردیئے جانے کا) اندیشہ ہو جائے تو انہیں دریا میں ڈال دینا اور نہ تم (اس صورتِ حال سے) خوفزدہ ہونا اور نہ رنجیدہ ہونا، بیشک ہم انہیں تمہاری طرف واپس لوٹانے والے ہیں اور انہیں رسولوں میں(شامل) کرنے والے ہیں’’۔ "(سورة القصص: (28)آیت 7)

چند منتخب نبیوں کے لئے علم غیب ثابت کرنے وآلی قرانی آیتیں:

حضرت آدم علیہ السلام

‘‘پھر آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے (عاجزی اور معافی کے) چند کلمات سیکھ لئے پس اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے’’۔ (سورہ بقرہ، آیت :37)

حضرت نوح علیہ السلام

‘‘اور تم ہمارے حکم کے مطابق ہمارے سامنے ایک کشتی بناؤ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے (کوئی) بات نہ کرنا، وہ ضرور غرق کئے جائیں گے’’۔ (سورہ ہود، آیت: 37)

حضرت نوح علیہ السلام کو باخبر کر دیا گیا تھا کہ کون اس طوفان میں ڈوبے گا اور کون محفوظ رہے گا یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کے انجام سے بھی واقف تھے۔

حضرت خضر علیہ السلام

سورہ الکہف کی آیات 65 تا 82 میں ایسے تین واقعات کا ذکر بالتفصیل موجود ہے جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کو غیب کے ان علوم پر مطلع کیا گیا تھا جن سے حضرت موسی علیہ السلام بھی ناواقف تھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام

اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ وہ دریاے نیل میں ڈوبنے سے بچا لیے جائیں گے:

‘‘پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے، (موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا’’(سوہ الشعراء آیت 61 تا 62 )

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

ایسی متعدد آیتیں ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی وقت علم غیب سے نواز دیا گیا تھا جب وہ اپنی ماں کی گود میں محض ایک شیر خوار بچے تھے۔

‘‘بچہ خود) بول پڑا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے، اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک (بھی) زندہ ہوں اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا ہے، اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا، اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا، یہ مریم (علیہا السلام) کے بیٹے عیسٰی (علیہ السلام) ہیں، (یہی) سچی بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں’’ (سورہ مریم، آیت: 30 تا 34)۔

ان مذکورہ بالاآیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی قوم کی طرف سے لگائے جانے والے جھوٹے الزامات کے خلاف اپنی ماں کا دفاع کیا اور اپنی قوم کو اپنی نبوت سے آگاہ کیا۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علم غیب کی تائید و توثیق میں آیات مبینات

قرآن مجید میں اللہ کا فرمان ہے:

‘‘اے محبوب!) یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں’’۔ (سورہ آل عمران، آیت: 44)

‘‘اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ (اے عامۃ الناس!) تمہیں غیب پر مطلع فرما دے لیکن اللہ اپنے رسولوں سے جسے چاہے (غیب کے علم کے لئے) چن لیتا ہے’’۔ (سورہ آل عمران، آیت: 179)

‘‘وہ) غیب کا جاننے والا ہے، پس وہ اپنے غیب پر کسی (عام شخص) کو مطلع نہیں فرماتا، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے’’۔ (سورہ الجن، آیت: 26)

‘‘.......اس نے آپ کو وہ سب علم عطا کر دیا ہے جوآپ نہیں جانتے تھے، اورآپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے’’۔ (سورہ النساء، آیت: 113)

ان تمام آیات کے علاوہ قرآن میں کچھ آیات ایسی بھی ہیں کہ بظاہر جن کا مندرجہ بالا آیات کے ساتھ تضاد معلوم ہوتا ہے۔

‘‘آپ (ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا خود مالک نہیں ہوں مگر (یہ کہ) جس قدر اللہ نے چاہا، اور (اسی طرح بغیر عطاءِ الٰہی کے) اگر میں خود غیب کا علم رکھتا تو میں اَز خود بہت سی بھلائی (اور فتوحات) حاصل کرلیتا اور مجھے (کسی موقع پر) کوئی سختی (اور تکلیف بھی) نہ پہنچتی.......’’ (7:188)۔

‘‘فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں’’۔ (18:110، 41:6)

‘‘اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں، یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کردیں، یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اﷲ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں، یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں جسے ہم (خود) پڑھ سکیں، فرما دیجئے: میرا رب (ان خرافات میں الجھنے سے) پاک ہے میں تو ایک انسان (اور) اﷲ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں’’(سورہ الاسراء آیت: 90 تا 93)

"سلفی" اور "وہابی" علماء غیر اللہ کے لیے علم غیب کے کسی بھی تصور کو یکسر مسترد کرنے کے لیے مندرجہ بالا قرآنی آیات کا حوالہ پرزور انداز میں پیش کرتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ آیت (18:110) کے پہلے حصے {فرما دیجئے: میں تو صرف (بخلقتِ ظاہری) بشر ہونے میں تمہاری مثل ہوں } کو تو پیش کرتے ہیں اور اس آیت کے دوسرے حصے {ذرا غور کرو) میری طرف وحی کی جاتی ہے} کو چھپا دیتے ہیں۔

مندرجہ بالا آیات کے بارے میں علماء اسلام اور مفسرین کی رائے یہ ہے کہ ان آیات کے نزول کا مقصد غیر اللہ کے لیے علم غیب کے کسی بھی تصور کو یکسر مسترد کرنا نہیں ہے بلکہ ان آیات کا مقصد کسی بھی غیر انسانی فطرت کے دعوے کے امکان کو حفظ ماتقدم کے طور پر یکسر مسترد کرنا ہے جو کہ ممکنہ طورپر ان کی طرف منسوب کیے جا سکتے تھے۔

اس کے علاوہ، اس بات کے امکانات بہت زیادہ تھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ توہم پرست لوگ خدا سمجھ بیٹھیں جیسا کہ اس سے پہلے چند نبیوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں ایسی آیتیں نازل فرمائی۔ کیونکہ تمام انبیاء کی ظاہری شکل و صورت اور وضع قطع اگرچہ ایک عام انسان کی ہی طرح تھی، لیکن ان کا باطن اور ان کے روحانی احوال ملکوتی صفات کے ساتھ اعلیٰ ترین انسان اقدار کے حامل تھے جنہیں ہر لمحہ مصاحبت خدا وندی حاصل تھی اور جو کسی بھی طرح کے نقص کے یا برائی کے کسی بھی تصور سے پاک اور بلند و بالا تھے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کوئی بھی نبی حامل وحی نہیں بن پاتاجیسا کہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے۔

"اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو (اے مخاطب!) تو اسے دیکھتا کہ وہ اﷲ کے خوف سے جھک جاتا، پھٹ کر پاش پاش ہوجاتا، اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کر رہے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں"(سورہ الحشر آیت:21)۔

مختصراً یہ کہ علم غیب نبوت کے بارے بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ آج کچھ اہل علم حضرات علم غیب نبوت پر ایمان رکھنے کو شرک کے مترادف قرار دے کر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت کو مشرک بنانے پر بضد ہیں۔ جبکہ خدا کے لا محدود، ابدی اور ازلی علم کا تعین اور تحدید جو کہ وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہے اور جس کی کوئی ابتداء اور انتہاء نہیں ہے، انبیاء کے علم کی بنیاد پر کرنا بہت بڑی ناانصافی اور علمی کم مائگی کا ثبوت ہے اس لیے کہ اگرچہ انبیاء علیہم السلام کا علم اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو ایک عام انسان حاصل کر سکتا ہے لیکن پھر بھی اس کے محدود ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خدا کا علم ایک سمندر کی طرح ہے جس کی کوئی حد اور جس کا کوئی دائرہ اور کنارہ نہیں ہے اور انسانیت کو دریافت تمام علوم و فنون خدا کے علم کے مقابلے میں پانی کی ایک بوند سے بھی کم ہیں۔

آج پوری امت مسلمہ کو ایک بات یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایمان کی روح اور اس کا محور و مرکز صرف خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنا اور پیغمبر اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری محبت اور بے پناہ عشق کرنا ہے اور باقی تمام چیزوں کا تعلق عقیدت سے ہے ایمان اور کفر سے نہیں۔

نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار مصباح الہدیٰ تصوف سے وابستہ ایک عالم اور فاضل (کلاسیکی اسلامی اسکالر) ہیں۔ انہوں نے ہندوستان ایک شہرہ آفاق اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ، مؤ، (یوپی) سے کلاسیکی اسلامی علوم (عالمیت) کی تکمیل کی ہے اور جامعہ منظر اسلام، بریلی، (یوپی) سے فقہ اسلامی اور تفسیر و حدیث میں میں فضیلت (ایم اے) کیا ہے ۔ فی الحال وہ مرکزی یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے عربی میں گریجویشن کر رہے ہیں۔

URL for English article:

https://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/the-knowledge-of-unseen-for-the-prophets--it-should-not-be-made-an-apple-of-discord-within-islam/d/87613

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,---new-age-islam/the-knowledge-of-unseen-for-the-prophets--انبیاء-علیہم-اسلام-کے-لئے-علم-غیب-کا-مسئلہ-مسلمانوں-کے-درمیان-مزید-اختلاف-و-انتشار-کی-وجہ-نہ-بنے/d/97822

 

Loading..

Loading..