New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 05:14 AM

Urdu Section ( 24 Feb 2013, NewAgeIslam.Com)

Religion And The Right To Free Speech مذہب اور آزادئی اظہار رائے کا حق

 

مائیک غوث   ،  نیو ایج اسلام کے لئے

20 ستمبر 2012

(انگریزی سے ترجمہ ۔ مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام )

تقریر کی آزادی کو دو مختلف طریقوں میں سمجھا جاتا ہے ،ایک گروپ کا خیال ہےکہ ان غیر ذمہ دارانہ بیانات کا  حکومت کی طرف سے کنٹرول کیا  جانا اور اس کا مواخذہ  کیا جانا ضروری ہے ، جبکہ دوسرے گروپ کا خیال ہے کہ ہمیں  اپنے کام سے مطلب ہے ، دوسروں کو ان کا کام کرنے دیں ،۔ امریکیوں کے لئے، حکومت کے ذریعہ کسی کے اظہار رائے کی آزادی کو کنٹرول کرنےکا خیال ، ایک اجنبی تصور ہے  ۔

بیشک، تقریر کی آزادی تمام مذاہب کی ایک قدر ہے، جس کے بغیر کوئی مذہب وجود میں نہیں آتا اور نہ ہی پھلتا پھولتا ہے ۔ وہ لوگ جو اسلام کی طرف مائل ہیں ، اسلام آزادی میں اتنا ہی  یقین رکھتاہے  جتنا کوئی اور  دوسرا مذہب ۔ یہ مذہب کے ماننے والے افراد ہیں جنہوں نے اسے مسخ  کر دیا  ہے، قدامت پسند  مسلمان اسے  مارنا چاہتے ہیں جس نے توہین رسالت کی ہے ، اور قدامت پسند  عیسائی یہ تبانا  چاہتے ہیں کہ ایک عورت اپنے جسم کے ساتھ کیا کر سکتی  ہے اور کیا نہیں ،یا اور دو لوگ اپنے  تعلقات کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں ۔

منافقانہ تقویٰ تمام مذاہب میں سرایت کرتا ہے  ، اس پر کسی کی  بھی اجارہ داری نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے ، تقریر کی حتمی  اورمشترکہ مثبت آزادی کی سہولیات کی وضاحت کرتے ہوئے، میں دنیا بھر کے لوگوں سے تعلق رکھنے میں  امریکی اقدار کا  ایک سفیر بن گیا ۔ میں نے کہا ، ‘‘اظہار رائے کی آزادی بالآخر جیتتی ہے  ’’ جو کہ مہاتما گاندھی کے اس جملہ  "بالآخر سچ کی جیت ہوتی ہے " سے ماخوذہے ۔

ٹیکساس کا عقیدہ : مذہب اور آزادی اظہاررائے  کا حق

گزشتہ ہفتے ، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں حالات سیال رہے ہیں ، اور ٹھیک طرح سے کوئی نہیں جانتا کہ کس طرح کے واقعات ظہور پذیر ہوں گے ۔ لیکن یہ واضح ہے کہ تنازعہ کے کم سے کم حصہ میں اقدار کے درمیان تصادم شعلہ زن ہو رہا ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ ہفتے ، ہمارے ایڈیٹوریل نے کہا ، اگر لیبیا میں نہیں، تو مصر اور یمن میں یقینی طور پر ، ابھی تک ہم نے مذہب اور آزادی اظہاررائے  کے درمیان ایک تصادم دیکھا ہے۔

ایک طرف میں نے دیکھا کہ ان کے عقیدے کو بدنام کیا جا رہا ہے اور یہ خیال کیا جا رہا  ہے کہ اس میں پر  تشدد ردعمل کو  جائز قرار دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف یہ سمجھا جاتا  ہے کہ آزادانہ  تقریر کی آزادی  احمقانہ فلموں کی بھی حفاظت کرتی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب ہم اس قسم کے تنازعہ کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ہم نے ایسا دیکھا ہے، مثال کے طور پر، ایک ڈینش کارٹون کے بعد جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہجو کی اور ہم شاید،مذہب اور آزادی اظہار کے درمیان اس کشیدگی کو مسلسل  دیکھتے رہیں گے۔

اس کے ساتھ ذہن میں بحث کے لئے سوال یہ ہے کہ: اگر مذہب ہی بنیادی  قدر ہے، تو کیا یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ کچھ لوگ اسے  آزادی اظہاررائے  کی تدبیر سمجھیں گے ؟

مائیک گھوش ، صدر، فاؤنڈیشن  فار پلورلزم، ڈلاس ۔

اقدار کا  تصادم اس مخصوص تناظر میں ایک مناسب جملہ ہے، صرف مسلمان نہیں ، بلکہ پوری دنیا اظہار رائے  کی آزادی کے اقدار کے معاملے میں ہمارے ساتھ اختلاف  رکھتی ہے ۔ یہ ایک امریکی قدر ہے اور ضروری طور پر مغربی یا عیسائی قدر نہیں  ہے۔

گزشتہ ہفتے ، تقریر کی حتمی  مشترکہ اچھی  آزادی کی سہولیات کی وضاحت کرتے ہوئے، میں دنیا بھر کے لوگوں سے تعلق رکھنے میں  امریکی قدر کا  ایک سفیر بن گیا ۔ میں نے کہا ، ‘‘اظہار رائے کی آزادی بالآخر جیتتی ہے  ’’ جو کہ مہاتما گاندھی کے اس جملہ  "بالآخر سچ کی جیت ہوتی ہے " کا نتیجہ ہے ۔

 Innocence of Muslims  نامی  فلمی کلپ کو  YouTube  پر لوڈ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے لئے گوگل‘‘Google’’ کا شکریہ۔ مجھے امید ہے کہ اس سے  مسلم ممالک کو یہ  پیغام جا ئے گا کہ امریکہ کے صدر بھی اظہار رائے کی اس  آزادی میں    مداخلت  نہیں کر سکتے ، جس کی ضمانت ہمارے آئین میں دی گئی ہے، جو کہ قوانین کا ایک اچھا ٹھوس اور پائیدار نظام ہے ۔ لہٰذا یہ امریکہ نہیں ہے جس نے یہ  فلم بنائی تھی بلکہ وہ ایک فرد تھا جس نے ایسا کیا  ۔ امریکی مسلمانوں سمیت اکثر  امریکیوں نے اس فلم کی  ٹریلر اور اس احمق کی  مذمت کی ہے  جس نے اسے بنایا تھا ، لیکن اس کےآزادیء اظہار رائے   کے حق کے دفاع کے لئے  تیار ہیں۔

تاہم، ہمیں  ریاست کی اس کے شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری کی قدرضرور کرنی چاہئے ، اور اگر اسے ہی  دوسری جگہوں پر امریکیوں کی زندگیوں کو بچانا سمجھ جا تا ہے ، تو اسے  ایک مختصر اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم طویل مدت میں، ہمیں  آزادی اظہار سے سمجھوتہ نہیں کرنا  چاہیے اس لئے  کہ یہ خدا کا عطا کردہ  حق ہے اور تہذیبوں کی شناخت ہے  ۔

دنیا کے زیادہ تر ممالک میں تقریر کی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے والے قوانین ہیں ، یورپ کوئی مستثنیٰ نہیں ہے۔ سب سے زیادہ عام چیلنجز میں ایک جس کا میں نے سامنا کیا  ہے  ، وہ ہالوکاسٹ کے بارے میں   سوال کرنے پر پابندیاں اور  سزا ہے۔

اگر مذہب ہی بنیادی  قدر ہے، تو کیا یہ بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے کہ کچھ لوگ اسے  آزادی اظہاررائے  کی تدبیر سمجھیں گے ؟

بے شک، اگر ہم خاص قسم کے  مسلمانوں کے مخصوص معاشروں میں رہتے تو  یہودی، عیسائی اور اس کےمذہب کے دیگر کے فرقے  آزادی اظہار کے حق کی تدبیر کرتے ۔ خدا  کا شکر ہے، امریکہ خدا کا  اپنا ملک ہے اور اختلاف انتہا پسندی کی  حکایت ہے۔

اتنی زیادہ تباہی اور عداوت کے بعد سعودی عرب اور اخوان المسلمون کے مفتی (علماء کے صدر )، نے یہ بیانات جاری کئے ہیں کہ نبی کے نام پر لوگوں کو اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانا  غیر اسلامی ہے ۔ مسلم دنیا کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جب مسائل پیدا ہوتے ہیں تو وہ کچھ نہیں کرتے ، لیکن امریکی مسلمانوں نے مشورے اور مذمت کے ساتھ فوری طور پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

میں اقدار کے تصادم کا  پائیدار حل تلاش کرنے پر ایک پیپر  لکھ رہا ہوں۔ بے شرمی کے ساتھ  مودودی ، بنا اور دوسروں کی طرح اسلام پسندوں نے ایسی کتابیں لکھی ہیں جس میں یہ اعلان کیا ہے کہ اگر کسی نے  توہین رسالت  کی تو  وہ ہلاک کیا جا سکتا ہے ۔ ایک لمبی  مدت کے دوران، ہمیں  ان کتابوں کو منظم طریقے سے بدلنا ہو گا (باہمی معاہدوں اور اتفاق رائے کے ذریعے، کسی دجل و فریب کے بغیر ) ۔

یہ جہالت کا  تصادم ہے، اسماعیلی فرقے کے امام، ایچ ایچ  آغا خان دوسری صورت میں اس کی وضاحت کرتے ہیں ۔ اس مخصوص صورتحال میں قران اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے وہ اس سے مختلف ہے  جس پر عمل کیا جاتا ہے۔ ایک طبقہ کا خیال ہے کہ اگر کوئی توہین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرتا ہے تو اسے  مار دینا چاہئے ، جبکہ اکثریت مذہب  کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، خدا کے ذریعہ عطا کردہ آزادی  اور اس بات کا  یقین کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کی طرح ہے۔ اکثریت کا اس بات پر بھی یقین  ہے کہ تم اپنے کام سے مطلب رکھو اور میں اپنے کا م سے ۔

اچھی خبر صرف یہ ہے کہ تشدد کے واقعات میں عوام کے 1فیصد کے   10ویں حصے سےبھی کم لوگ ملوث تھے۔

مسلمانوں نے  اپنے خدا، نبی اور مذہب کے تصور کو  ناکام بنادیا ہے ۔ (5:32) قرآن میں واضح ہے - ایک شخص کا  قتل پوری انسانیت کے قتل کی طرح ہے اور ایک زندگی کو  بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ ہمیں کسی اور کو نہیں ، انہیں حاصل  کرنے کی ضرورت ہے۔ تمہارے  برے کارناموں  کے لئے مذہب کیوں ذمہ دار ہو؟

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کہ، "اگر تم اپنے کسی ہم نفس پر ظلم کرتے ہو ، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ، خدا کی قسم ،میں قیامت کے دن تمہارے  خلاف اس مظلوم  کے ساتھ کھڑا ہوں گا ، ۔" ​​یہ ایک ایسا مضبوط انتباہ تھا کہ ان مجرموں نے اس کی طرف توجہ نہیں دی  ۔

جن  لوگوں نے  سفیر کرسٹوفر سٹیونس اور ان کے عملے کے ارکان کا قتل کیا ، اور وہ لوگ جو ہمارے سفارت خانوں کو تباہ کر رہے ہیں ان کا منشا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا دفاع ہے ، لیکن انہوں نے بالکل اپنے  ارادے کے برعکس کیا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو گرد آلود کر دیا ۔

مسلمانوں نے  اپنے خدا، نبی اور مذہب کے مقصد کو  ناکام بنا  دیا ہے ۔

نوٹ: یہ مضمون نیو ایج  اسلام کے لئے اس مضمون کی مبسوط صورت ہے جو سب سے پہلے ڈلاس مارننگ  نیوز کے  ٹیکساس  فیتھ کالم  میں شائع ہوا تھا ۔

مائیک غوث  نے  متحدہ  امریکہ کی تعمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے ،  اور وہ روز مرہ کے مسائل پر تکثیریت پر مبنی حل پیش کرتے ہیں اور وہ  پیشے کے اعتبار سے   کثیر ثقافتی اقدار سیاست، شہری امور، اسلام، بھارت، اسرائیل، امن، اور انصاف کے موضوع پر مقرر ، مصنف اور مفکر ہیں۔  ۔ مائیک فاکس ٹی وی پر Sean Hannity شو کے مستقل  مہمان ہیں ، اور قومی ریڈیو نیٹ ورک پر ایک مبصر ہیں ، ڈلاس مارننگ نیوز میں ٹیکساس فیتھ  کالم میں ہفتہ وار  لکھتے ہیں  ، ہفنگٹن پوسٹ میں مستقل ، اور دنیا بھر میں کئی دوسرے مجلے میں  وقتاً فوقتاً کا لم لکھتے رہتے ہیں ۔ blogwww۔ TheGhousediary۔com روزانہ اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

URL: http://newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/mike-ghouse-for-new-age-islam/religion-and-the-right-to-free-speech/d/8729

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mike-ghouse-for-new-age-islam-مائیک-غوث/religion-and-the-right-to-free-speech---مذہب-اور-آزادئی-اظہار-رائے-کا-حق/d/10548

 

Loading..

Loading..