New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:03 PM

Urdu Section ( 22 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

An Open Letter to Moderate Muslims اعتدال پسند مسلمانوں کے نام ایک کھلا خط

 

 مائیکل براؤن

12 اگست، 2014

القاعدہ۔ طالبان۔ بوکو حرم۔ اسلامی ریاست۔ اسلامی جہاد۔ حماس۔

عیسائیوں کا سر قلم کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ اسکول جانے والی بچیوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ طلباء کو زندہ جلایاجا رہا ہے۔

یہ اسلام کی ایسی چند تصاویر ہیں جو ہم دن اور رات خبروں میں دیکھتے ہیں، لیکن ہمیں بارہا یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے حقیقی اسلام کی نمائندگی نہیں ہوتی۔ بلکہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ ظلم و زیادتی بنیاد پرست اسلام کی مثالیں ہیں جس کا ارتکاب ایسے وحشی اور درندہ صفت لوگ کرتے ہیں جو مذہب کی حقیقی معرفت سے بالکل ہی نابلد ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے قرآن کا غلط استعمال کرتے ہیں یہ لوگ شاید دنیا کے 1.2 بلین مسلمانوں میں سے صرف 15 فیصد کی ہی نمائندگی کرتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مسلمانوں کی اکثریت امن پسند ہے جس کا پر تشدد طریقے سے پوری دنیا پر قبضہ کرنے یا تلوار کے ذریعہ دوسروں پر اپنے مذہب کو مسلط کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔

یقینً مجھے اس بات کی پوری سمجھ ہے کہ ایسے بہت سارے "اعتدال پسند مسلمان" جو اب اتنے سچے مسلمان نہیں ہیں کہ بہت سے لبرل عیسائی جتنے سچے مسیحی نہیں ہیں۔ بہ الفاظ دیگر وہ صرف برائے نام ہی مومن ہیں۔

لیکن یقینی طور پر ایسے بہت سے مسلمان بھی موجود ہیں جو اسلام کے پانچوں ارکان کو زندہ رکھنے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بنیاد پرست مسلمان نہیں بلکہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہیں گے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جنگیں کی ہیں اور قرآن مذہب کے دشمنوں کے ساتھ سخت برتاؤ کا حکم دیتا ہے لیکن یہ پرانے عہد نامے میں يوشع بن نون کی کتاب سے مختلف نہیں ہے جو ماضی میں تو ہوا ہے لیکن اب دوبارہ دہرایا نہیں جائے گا۔

یقیناً جب میں آج کل رونما ہونے والے والے متنازعہ فیہ مسائل پر گفتگو کرتا ہوں مثلاً اسرائیل کا خود کے دفاع کرنے کا حق خود اسلامی دہشت گردوں کے خلاف ہے تو میرے سوشل میڈیا کے صفحات ناراض مسلمانوں کے یہودیوں کے تئیں نفرت بھرے تبصروں سے بھر جاتے ہیں جن میں اس قسم کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے: "انشاء اللہ اسرائیل جلد ہی فنا ہو جائے گا۔ "مجھے پورا یقین ہے کہ اسرائیل فنا ہو کر رہے گا"۔ "کوئی ہٹلر کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے؟ [یہودی] چنے ہوئے ہیں۔ وہ قتل کرنے، عصمت دری کرنے، نسلی امتیاز برتنے اور شیطان کی عبادت کرنے کےلیے منتخب کیے گئے ہیں۔"

کیا وہ اسلام کی حقیقی روح کی ترجمانی کرتے ہیں، یا یہ 200 یا 300 ملین مسلمان "بنیاد پرست مسلمان" ہیں؟ (ویسے "بنیاد پرست اسلام" خواہ معیاری اسلام ہو یا نہ ہو لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ آج کی دنیا کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔)

میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ اس طرح کے جذبات پرتشدد جہاد سے دست برداری کا اظہار کرتے ہوئے معزز اسلامی رہنماؤں نے پیش کیے گئے ہیں، لیکن وضاحت کے لئے میں کچھ آسان سوالات پوچھنا چاہوں گا مجھے یقین ہے کہ آسانی کے ساتھ اس کا جواب دیا جا سکتا ہے۔

آپ اسلام کے پانچوں ارکان کو قائم رکھتے ہیں اور کلام اللہ (قرآن) اور حدیث کی معتبریت پر یقین رکھتے ہیں تو میں ان سوالات کے جوابات آپ سے سننا پسند کروں گا۔

اسلامی ریاست میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر مسلم یا تو اسلام قبول کریں یا مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ کیا آپ جبراً تبدیلی مذہب کے اس عمل کی دوٹوک انداز میں مذمت کرتے ہیں؟ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ تلوار کے زور پر اسلام قبول کروانا حقیقتاً اسلام قبول کرنا نہیں ہو سکتا؟

تمام بنیاد پرست مسلم جماعتیں شریعت نافذ کرنا چاہتی ہیں۔ کیا آپ شریعت کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہیں ؟

ایک مشہور حدیث ہے "قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی جب تک تم یہودیوں کے خلاف جنگ نہ کرو۔ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو درخت یا پتھر سے یہ آواز آئے گی کہ 'اے مسلمانوں، اللہ کے بندوں! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے قتل کرو"۔

کیا آپ دوٹوک انداز میں اس روایت کی مذمت کرتے ہیں جو کہ مبینہ طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہے؟

خود کش حملہ آوروں کے بارے میں شہید (اللہ کی راہ میں مقتول) ہونے کا تصور آج کل بنیاد پرست مسلمانوں کے درمیان بہت عام ہے۔

کیا آپ اس نظریہ کو مسترد کرتے ہیں کہ ایک خودکش بمبار جو اللہ کے نام پر دوسروں کو قتل کرتا ہے خاص طور پر عام شہریوں کا قتل عام کرتا ہے اس لیے جنت میں ایک اعلیٰ مقام کی ضمانت ہے؟

جیسا کہ آپ جانتے کہ بعض مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلموں کو دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت حاصل ہے اور وہ جبراً جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض مسلم ممالک کا تو عالم یہ ہے کہ اگر کوئی کسی شخص پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا صرف الزام لگا دے تو اسے جیل ہو سکتی ہے یا اسے موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔

کیا آپ بغیر کسی شرط کے کھل کر اس کی مذمت کر سکتے ہیں اور کیا مسلمان اپنے ملکوں میں غیر مسلموں کو رہنے کے لئے مکمل طور پر مساوی حقوق عطا کرتے ہیں؟

چند مسلم ممالک میں ارتداد (اسلام کو چھوڑنا) حرام ہے اس کی سزا موت مقرر کی گئی ہے جو کہ واضح طور پرمذہبی آزادی پر ایک زبر دست حملہ ہے۔

کیا آپ بغیر کسی شرط کے کھل کر اس عمل کی مذمت کرتے ہیں اور خوش گوار مذہبی روابط کی اجازت دیتے ہیں جیسا کہ امریکہ میں پایا جاتا ہے جہاں مذہب بدلنے پر کوئی سزا نہیں ہے؟

ہم اکثر کم عمر لڑکیوں کی بڑی عمر کے مردوں سے شادی اور غیرت کے نام پر قتل کی ڈراونی داستان سنتے ہیں جو کہ مبینہ طور پر ان کے اہل خانہ کی بدنامی کا سبب ہے۔

کیا آپ بغیر کسی شرط کے واضح انداز میں بچیوں کی کم عمر میں شادی اور غیرت کے نام پر قتل کی مذمت کرتے ہیں؟

ایسے بہت سارے سوالات ہیں جو میں پیش کر سکتا ہوں اور مباحثے سے زیادہ سمجھنے کے لیے میں ایسا کرتا ہو، اسی لیے میں ان لوگوں سے اپنے مذہب کے بارے میں گہرے مسائل پر بات چیت کرنا پسند کرتا ہوں جو بنیاد پرست اسلام سے دست برداری کا اظہار کرتے ہیں۔

یہاں مغرب میں ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک آسان سوال یہ ہے کہ "کیا بنیاد پرست اسلام ہی معیاری اسلام ہے"؟

میں آپ لوگوں کے جوابات کا شدت کے ساتھ منتظر ہوں اور میں اس کھلے خط کے غیر مسلم قارئین کی اس بات کے لیے حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اس خط کو اپنے دوستوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر شیئر کریں تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ اعتدال پسند مسلمانوں تک پہنچ سکے۔

مائیکل براؤن نے نیویارک یونیورسٹی سے مشرقی زبان اور ادب میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ "Can You Be Gay and Christian" سمیت 25 کتابوں کے مصنف ہیں اور وہ قومی ریڈیو چینل "the Line of Fire" پر ڈیلی ٹاک ریڈیو شو کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔

ماخذ:

 http://www.christianpost.com/news/an-open-letter-to-moderate-muslims-124704/

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/michael-brown/an-open-letter-to-moderate-muslims/d/98589

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/michael-brown/an-open-letter-to-moderate-muslims--اعتدال-پسند-مسلمانوں-کے-نام-ایک-کھلا-خط/d/98686

 

Loading..

Loading..