New Age Islam
Fri May 20 2022, 08:56 AM

Urdu Section ( 24 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hazrat Ali in the Eyes of Non-Muslim Intellectuals حضرت علی ؑ غیرمسلم دانشوروں کی نظر میں

مہدی باقرخان

22 اپریل، 2022

الٰہی نمائندوں کو کسی خاص علاقہ یا مخصوص طبقہ کے افراد کا ہادی و پیشوا جاننا صرف تنگ نظری ہی نہیں بلکہ کفران نعمت کے مترادف ہے۔ خدا کا جو خصوصی نمائندہ دنیا میں آیا اس نے رنگ و نسل اور ملکی و قبائلی نظام سے پرے جاکر پوری عالم انسانیت کے سامنے خود کو نمونۂ عمل کی حیثیت سے پیش کیا اور انسانی حافظہ پر ایسی انمٹ چھاپ چھوڑی کہ آج ساری دنیا مذہب و مسلک کی قید و زنجیر سے آزاد ہوکر اس کے در عظمت پناہ پر سرتسلیم خم کئے نظر آتی ہے۔ یہ بات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے باب میں واضح طور پر صادق نظر آتی ہے۔ آپ کی ذات والا صفات کے سلسلے میں غیرمسلم دانشوروں نے جو کچھ کہا ہے اس کا مطالعہ انصاف پسند اور صاحب ضمیر افراد کو دعوت فکر دیتا ہے ۔ ذیل میں حضرت علی ؑ کے تعلق سے دنیا کی بعض سرکردہ غیر مسلم شخصیات کے اقوال پیش ہیں ملاحظہ کریں:

پنڈت جواہر لال نہرو

حضرت علی ؑ کی ذات سے وابستہ ان کی تاریخ زندگی ہمیں بڑی سے بڑی مشکلات میں حوصلہ و ہوش مندی سے کام کرنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے۔ ہمارے عزم و استقلال ان کی قوت ثبات قدمی سے وابستہ ہیں تاکہ ہم ناموافق حالات میں بھی شکست نہ کھانے پائیں۔

ڈاکٹر راجندر پرساد سابق صدر جمہوریہ ہند

حضرت علی ؑ کی ناقابل بیان جرأت بے باکی اور ان کے اٹوٹ ارادے آج بھی عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔

ڈاکٹر شنکر دیال شرما سابق صدر جمہوریہ ہند

جس مقدس ہستی کو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی پشت پربٹھایا ہو اس کی عظمت و بلندی کا کیا کہنا، مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ میں دو مرتبہ کوفہ، کربلا اور نجف گیا، میں نے حضرت علی ؑ کے خطبات نہج البلاغہ کو پڑھا، امن و دوستی، اصول پسندی ،صداقت، راست بازی، جوانمردی، دشمنوں کو معاف کرنا اور ان کی زندگی کی قربانیاں ان کے نمایاں وصف ہیں۔ حضرت علی ؑ کی کامیابی میں ان کی جسمانی طاقت سے زیادہ ان کی سچائی کی طاقت تھی۔

مسٹر موہن لال سکھاڈیا سابق وزیر اعلیٰ راجستھان

حضرت علی ؑ جیسے لوگوں سے متعلق دنیا کو زیادہ سے زیادہ جاننے کی ضرورت ہے ایسے لوگ انسانیت کے لئے احسان عظیم ہیں اور ان کی سیرت موجودہ مادیت پسند تہذیب کے نقصان دہ رجحان کی اصلاح کرتی ہے، جو انسان کے حیوانی جذبات اور بے لگام حوصلوں کے لئے ہمت افزا ہیں اور شرافت و نیک نفسی کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ حضرت علی ؑ کا مشن اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے سچے اصولوں کی تبلیغ کی جائے، حضرت علی ؑ نے پیغمبر اسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جرأت کے ساتھ انسانیت کو تاریکی سے نکالا اور اسے آزادی دلائی اسی وجہ سے ان کا نام ہمیشہ ذہنوں میں رہے گا۔

مسٹر ولسن

جس طرح تیز آندھیوں کا زور، پہاڑ سے ٹکراتے ہی تھم کر رہ جاتا ہے اس طرح بڑے بڑے شجاعان عرب حضرت علی ؑ سے ٹکر اکر خود فنا ہوگئے۔

مسٹر گبن

حضرت محمدؐ اعلان رسالت میں ذرا تأمل فرما رہے تھے بالآخر انہوںنے نور ہدایت کو پھیلانے اور اظہار مقصد کی غرض سے چالیس افراد کو مدعو کیا ان کے کھانے کا اہتمام کیا بعد ضیافت لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے لئے افضل ترین نعمتیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ لے کر آیا ہوں۔ جو میرے سوا کوئی دوسرا تمہیں نہیں دے سکتا، خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم  لوگوں کو اس کی عبادت کی طرف بلاؤں پس تم میں سے جو بھی میرے اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے گا وہ میرا وزیر ہوگا، رسول کی اس بات کا جواب نہ ملا یہاں تک کہ چودہ سالہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے جواب سے خاموشی کا دامن تار تار ہوا انہوں نے کہا یا نبی اللہ! میں آپ کا ساتھ دوںگا، آپ کی نصرت کروںگا، محمدؐ نے علی ؑ کی درخواست کو قبول کیا مگر حاضرین نے ابو طالب کو ان کے لڑکے کی فضیلت پر طنزیہ کلمات کہے۔

مسٹر جرجی زیدان

حضرت علی ؑ کے بارے میں کیا بیان کیا جائے اصول اسلام کے انتہائی پابند اور قول و فعل میں بے پناہ شریف تھے، جعل و فریب، دھوکے و مکر گویا آپ جانتے ہی نہ تھے۔آپ کی تمام تر ہمت و بے باکی محض دین کے لئے رہی آپ کا اعتماد اور بھروسہ صرف سچائی اور حق پر تھا۔

جبران خلیل جبران

’’میرا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم کے بعد فرزند ابو طالب وہ سب سے پہلے عرب تھے جنہوں نے روح کلی (الوہیت) کی ملازمت کی اور رسول اسلام کے بعد وہ ہی انسان تھے جس نے اسلامی ترانہ کی آواز کو ان کانوں تک پہنچایا جنہوںنے پہلے کبھی یہ آواز نہیں سنی تھی‘‘ حضرت علی ؑ کو ان کی عظمت و بزرگی کے سبب ہی شہید کیا گیا آپ دنیا سے اس عالم میں رخصت ہوئے کہ آپ کا سر سجدۂ معبود میں اور لبوں پر ذکر خدا تھا، آ پ کا دل عشق الٰہی سے مملو تھا عرب نے آپ کے مقام و رتبہ کو نہ پہچانا۔

جارج جرداق

اس عیسائی مؤرخ نے حضرت علی ؑ کی شخصیت و مکتب علی ابن ابی طالب کی تحلیل اور تشریح کرتے ہوئے ’’صوت العدالت الانسانیہ‘ ‘ کے عنوان سے ایک انتہائی تاریخی اور اہم کتاب تحریر کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’تاریخ کے نزدیک نامور شہید، شہدا کے پدر بزرگوار، عدالت انسانی آواز حضرت علی ؑ ہی تھے جن کے نزدیک جہاد و قتال و کارزار کی غرض و غایت دوسری ہی تھی، وہ غرض و غایت نہیں جو اور لوگ سمجھتے تھے۔ وہ دوسری ہی نیت و مقصد سے جنگ کرتے تھے، انہوں نے زہد و ورع تقویٰ کے ساتھ جہاد کیا اور عاجزوں، بیچاروں اور مجبوروں کی محبت میں قلعوں کے فتح کرنے پر آمادہ ہوئے، انہوںنے دشمنان عدل و انصاف کو خاک میں ملایا وہ انسانی اخلاق کریمہ و صفات فاضلہ عالیہ میں بلندی و کمال کی حد تک پہنچے ہوئے تھے، اے دنیا! کیا بگڑ جاتا اگر تو اپنی طاقت و تونائی کو صرف کرکے ہر زمانہ کو ایک دوسرا علی بخش دیتی جو اسی علیؑ کی عقل و دانش رکھتا، اسی علی ؑ کا دل اور زبان رکھتا اور اس کے پاس ویسی ہی ذو الفقار ہوتی۔

مینحائل نعمیہ

عصرحاضر کا ایک عظیم عیسائی مؤرخ و فلسفی یوں رقمطراز ہوا:

’’ایک تاریخ نویس کتناہی قابل و ہنر مند کیوں نہ ہو حضرت علی ؑ کی شخصیت اور ان کے پر آشوب زمانہ اور فتنہ انگیز ماحول کی کامل تصویر کشی ہرگز نہیں کرسکتا، چاہے وہ ہزاروں صفحات اس سلسلے میں لکھ ڈالے، کیوں کہ اس عرب کے مرد کامل نے جو خدمات اپنے اور اپنے خدا کے درمیان انجام دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ کسی شخص نے نہ دیکھاہے اور نہ سنا۔ پس اس صورت میں اس شخصیت کی جو بھی شکل ہم کہیں گے وہ لامحالہ مبہم، نامکمل اور ایک دھندلی سی شکل ہوگی، وہ میدان جنگ و پیکار کے مقابلے میں بہت بڑے بہادر شمار ہوتے تھے ان کی یہ عظمت و بزرگی اگرچہ اسے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے ہے لیکن یہ عظمت علی ؑہمیشہ ہمارے لئے ایک گراں بہار خزانہ ثابت ہوسکتی ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنے کی ضرورت ہے، آج یا جب کبھی بھی ہمیں شائستہ اور سربلند زندگی گزارنے کی ضرورت محسوس ہو اور دل میں خواہش پیدا ہو تو ہم اس روح پرجوش سے غیبی مدد حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ وہ تفکر کا ختم نہ ہونے والا خزانہ ہر زمانہ اور ہر جگہ پر موجود کارآمد اور نفع بخش رہا ہے‘‘۔

تھامس کار لائل

انگریز مؤرخ و فلسفی حضرت علیؑ کی عظمت کی گرہ کشائی اس طرح کرتا ہے:

’’ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں کہ ہم علی ؑ کو دوست رکھیں اور ان سے عشق کی حد تک محبت کریں کیوں کہ وہ ایسے بالاقدرعظیم الشان جوانمرد تھے جن کے سرچشمۂ وجود سے نیکیاں، اچھائیاں اور خوبیاں جوش مارتی ابلتی تھیں اور ان کے دل سے جوش شجاعت کے شعلے بلند ہوتے تھے لیکن ایسی شجاعت جو مہربانی و پاکیزگی کا پہلو لئے ہوئے اور انسانی نرم و نازک جذبات کے لئے شفقت، مروت و نرم دلی سے بھر پور تھی۔

وہ مسجد کوفہ میں حالت سجدہ میں شہید ہوئے اوردشمن کے حیلہ و مکر و فریب کے نتیجہ میں جام شہادت نوش کیا یہ آپ کے عدل و انصاف میں شدت ہی تھی جو اس جرم کا باعث بنی، کیوںکہ آپ ہر شخص کو اپنی طرح عادل سمجھتے تھے۔ جس وقت آپ بستر مرگ پر تڑپ رہے تھے، کسی نے آپ کے قاتل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب میں فرمایا: ’’اگر میں زندہ رہ گیا تو میں جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا کروںگا یعنی اگر میں زخم سے جانبر نہ ہوسکا تو مسئلہ تمہارے اختیار میں ہے لیکن اگر تم قصاص لینا چاہو تو اس کی ایک شمشیر کے بدلے تم ایک ضرب ہی لگانا‘‘۔

گابر یل دانگیر

مشہور فرانسیسی مؤرخ اپنی کتاب میں انتہائی پرجوش انداز میں لکھتا ہے:

’’علی ؑ زبر دست خطیب، قادر الکلام انشا پرداز اور عظیم القدر قاضی تھے جو نظریات کے بنیاد گزاروں کی صف میں سب سے اونچا مقام رکھتے ہیں، جس نظریئے کی بنیاد آپ نے رکھی ہے وہ اپنی صراحت و روشنی اور اپنے استحکام کے لحاظ سے نیز ترقی و تجدد اور حرکت و بیداری کے تئیں اپنے نمایاں میلان و رجحان کے اعتبار سے ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ علی ؑ کی شخصیت دو منفرد اور نمایاں خاصیتوں کے سبب تاریخ کے سارے سورماؤں سے ممتاز نظر آتی ہے۔پہلی خاصیت یہ ہے کہ علی ؑ شجاعت و امامت دونوں کے حامل تھے جہاں آپ ناقابل شکست جنگی سپہ سالار تھے وہیں علوم الٰہی کے زبردست عالم بھی تھے اور صدر اسلام سے لے کر اب تک کے فصیح ترین خطیب بھی۔ دوسری خاصیت یہ ہے کہ علی ؑ کو سنی ہوں یا شیعہ دونوں فرقوں کے مسلمان، اسلام کی بزرگ ترین اور قابل فخر شخصیتوں میں شمار کرتے ہوئے لائق تکریم و تعظیم سمجھتے ہیں، چنانچہ جہاں اہل سنت میں علی ؑ کا نام نظر آتا ہے وہیں شیعوں میں پیغمبر کے نام کے بعد علی ؑ کے نام کو اولیت و فضیلت حاصل ہے‘‘۔

سلیمان کتائی

اس مؤرخ نے اپنی بیشتر عمر ،حریت کے اس عظیم علمبردار کی زندگی کے بار ے میں تحقیق کرنے میں صرف کردی اور آپ کی یکتائے روزگار شخصیت کو پہچاننے اور پہچنوانے میں سر دھنتا رہا اور ’’الامام علی ؑ‘‘ کے عنوان سے ایک بیش قیمت کتاب لکھی۔ اس کتاب کو تاریخ اور تحقیق کی کتاب ہونے کے علاوہ بہترین ادبی شاہکار ہونے کی حیثیت بھی حاصل ہے چنانچہ ماہرین ادبیات عرب کے علاوہ ہر کس و ناکس کے لئے اس کے دقیق اور معنی آفرین نکات کا سمجھنا آسان نہیں۔

مذکورہ بالا تمام بیانات میں ایک چیز قدر مشترک کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے کہ کسی نے بھی امام علی ؑ کے باب میں اظہار خیال کرتے ہوئے محض عقیدتی و روایتی انداز نہیں اپنایا  بلکہ حقیقت پسندانہ رویہ کے تحت تحقیقی نقطۂ نظر سے آپ کو لائق تکریم و تعظیم جانا ہے ۔ غالباً ایک عقیدتمند کے لئے یہ کام آسان ہے کہ وہ جس مولا کا فدائی ہے اس کی منقبت کرے مگر جس کا حضرت علی ؑ سے کوئی ایمانی لگاؤ نہ ہو پھر بھی آپ کی عظمت کا اعتراف و اعلان کئے بغیر نہ رہ سکے امر مشکل ہے تاہم یہ آپ کی شخصیت کی جامعیت ہے کہ ساری دنیا خراج تحسین پیش کرتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ حضرت علی ؑ عالمی رہنما بھی ہیں، کائنات کے حلّال مشکلات بھی، ہر زمانے کے امام بھی ہیں، ہر دور کی ضرورت بھی۔چنانچہ بڑی آسانی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جہان اسلام میں حضرت علی ؑ کی شخصیت فکری دو راہے کی حیثیت رکھنے کے باوجود عالم انسانیت کے لئے مقام اتحاد نظر آتی ہے، علاوہ براین اس اصول کی رو سے کہ کمال وہ ہے جس کی گواہی غیر بھی دیں، غیر مسلم دانشوروں اور مؤرخوں کے مذکورہ اقوال سے یہ صاف ظاہر ہے کہ علی ؑ دنیا کے ہر فرد کے لئے ایک مثالی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے ہر انسان ہر عہد میں بقدر ظرف و اہلیت، تہذیب حیات کی بھیک لیتا رہے گا۔

نوٹ: جملہ نقل شدہ اقوال کتاب ’’کشکول نیوجرسی‘‘ سے ماخوذ ہیں۔

22 اپریل، 2022 ، بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hazrat-ali-non-muslim-intellectuals/d/126854

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..