New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:49 AM

Urdu Section ( 23 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Darkness in Four Shades چار تاریکیاں ۔۔سرمایہ داری، ملوکیت، ملائیت اورپیری

 

 

 

محمد قاسم نوری

بے تکلف احباب کا مجمع تھا ۔ موسیقی  ، چٹکلے اور لطیفوں میں سیالکورٹ کا رہنے والا ایک نوجوان شخص  اقبال  بھی شامل تھا ۔ ذکر سچ بولنے  اور حق بات کہنے کا  چھڑ گیا ۔ کسی نےامام جعد بن  درہم کا واقعہ سنایا ۔ لوگ مختلف  جذبات  سے دو چار ہوئے پھر جس طرح ہر حقیقت آئی گئی ہو جاتی ہے ، یہ بات بھی  آئی گئی  ہوگئی لیکن  اقبال  نامی اس نوجوان  کے دل میں اس طرح چبھی کہ ترازو ہوگئی ۔ کیا واقعی کسی انسان کو دوسرے انسان پر حکومت  کاحق حاصل نہیں ہے ۔ تو پھر یہ بادشاہتیں ، حکومتیں ، حکمرانیاں ، ڈکٹیٹر شپ، آمریت  پارلیمانی  نظام جمہوریت  یہ سب کیا ہے؟ یہ بھی تو کسی نہ کسی  اعتبار سے دوسروں پر حکومت ہی  کے طریقے  ہیں؟

اس نوجوان کی نیند اڑ گئی وہ ایک ایک سے اپنے سوالوں   کے جواب پوچھتا ۔ مزاروں پر جاتا مجاوروں سے کشف و کرامت  کے حامل  بزرگوں کے اقوال  سنتا ۔ ولیوں  کی نثر اور شاعری کھنگا  لتا ۔ مختلف فرقوں  کے علماء سے خط و کتابت  کرتا مگر الفاظ  کے انبار  تو ملتے ۔صحیح  جواب کہیں سے نہ ملتا ۔ پھر ایک دن از خود اسے خیال  آیا کہ  ایک کتاب  ایسی بھی  ہے جو ساری دنیا کے انسانوں کے مسائل کا حل پیش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور موجودہ  دنیا کی ہی نہیں قیامت  تک کے لئے آنے والی نسلوں کی بات کرتی ہے ۔ تب اس نوجوان اقبال  نے قرآن حکیم کو مروّجہ  تفسیر وں اور نظریوں سے بلند ہوکر سیرت رسول  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنی عقل  سلیم سے سمجھ کر پڑھنے کا طریق ڈھونڈا  ۔ جوں جوں وہ اسے سمجھتا گیا اس کی سوچوں میں اس کی روح میں اس کی زندگی  میں انقلاب  آتا گیا ۔ قدم قدم پر وہ چونکتا ۔ رُکتا ۔ سوچتا  پھر تڑپ اٹھتا ۔ قدم قدم پر اسے محسوس  ہوتا کہ وہ اسلام جو قرآن حکیم پیش کرتا ہے، سرے سے یہ وہ اسلام  ہے ہی نہیں  جو ہماری  زندگی میں رچا بسا ہے۔

سوچیں بدلیں تو شاعری کے موضوع بھی بدل گئے ، لہجہ بھی بدل گیا ۔ اب اس نے تاریخ پر نظر ڈالی کہ تقریباً اس ڈیڑھ ہزار سال کے عرصے میں کیا کوئی اور بھی ایسا گزرا ہے جس نے حقیقی  اسلام کو سمجھا ہے ۔ تو صدرِ اول کے ابتدائی دور  کے بعد بھی بے شمار انفرادی زندگیاں نظر آئیں جنہوں نے نہ صرف قرآن کو سمجھا بلکہ وہ اسے لے کر آگے بھی چلے ۔ لیکن  یہ درد ناک  پہلو  بھی اقبال  کے سامنے آیا کہ ان سب کے ساتھ  اسلام  کے ٹھیکے  داروں نے ہولناک  سلوک  کیا کسی کو سولی پر لٹکا  یا، کسی  کی زبان کاٹی گئی ۔ کسی کا سر قلم کردیا ۔ کسی  کو جیل  میں ساری عمر  تڑپایا ۔ کسی کو ہاتھی  کے پاؤں  کے نیچے دیا  ، اور وہی سب لوگ  کافر ٹھہر ائے گئے جو کفر  کو مٹانے گھر سے نکلے تھے ۔

یہ بڑا مشکل مرحلہ تھا ۔ شہادت  گاہ الفت میں قدم رکھنا تھا ۔ قرآن کے مطابق مسلم ہونے  کا دعویٰ  کرنا بڑا ہی  جہد آزما مرحلہ تھا ۔ مگر اندر کاانسان مسلم ہوچکا تھا اور جب اندر کا انسان مسلم ہوجائے تو پھر آتشِ نمرود  میں بے خطر کود پڑتا ۔ اقبال  نے عمل  کا آغاز  اس سوچ  سے کیا کہ  پہلے  خود مسلمانوں کو یہ  تبایا جائے  کہ اللہ کا عطا ء کردہ اصل اسلام کیا ہے اور اس تک پہنچنے  میں اصل  رکاوٹ  کیا رہی ہے؟

رکاوٹ کا اصل سبب بھی  اقبال کو قرآن سے مل گیا ۔ اقبال نے اعلان کیا ۔

چار مرگ اندر پئے ایں دیر میر

سود خوار و والی و ملا و پیر

یعنی چار موتیں ہیں ۔ کفر کے چار اندھیر ے ہیں جو مسلسل ساتھ لگے  ہوئے ہیں ۔ سرمایہ داری ( نظام سود) ملوکیت  تصوف اور مذہبی پیشوائیت ۔ اردو میں بھی اقبال نے اسی طرح  کی بات کی ہے ۔

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری

اے کشتہ  سلطانی و ملائی و پیری

سرسری نظر سے بھی دیکھیں تو پوری انسانیت  انہی چار لفظوں میں جکڑ ی چلی آرہی ہے لیکن جو نہی  اقبال نے ان کے بارے میں لب  کشائی  کی ، کا فر قرار دیا گیا ۔ مرتد اور قابل  گردن زونی  ٹھہرا،  مگر اقبال  نے ہنستے ہوئے یہ تہمت  برداشت کرلی اور روتے ہوئے امت مرحومہ  کی تاریخ  انہی  چار لفظوں میں بیان  کرنا شروع  کردی ۔گلی گلی کوچے کوچے  حتیٰ کہ آخری  سانس تک یہی ‘‘ کفر’’ کہتے اور پھیلاتے پھیلاتے  اس جہانِ فانی  سے رخصت  ہوئے ۔ آج  بھی اگر یہ چار چیزیں  سمجھ میں  آجائیں تو ساری تاریخ  روشن ہو جائے ۔ سارا اسلام  اور فلسفہ اسلام سمجھ میں آجائے ، اور ساری  حقیقتیں بے نقاب  ہوکر اور ابھر کر سامنے آجائیں کہ سرمایہ داری کیا ہے اور کیا کرتی ہے؟ ملوکیت  کسے کہتے ہیں ؟ تصوف کیا کرتاہے اور کیا ہوتا ہے ؟ اور مذہبی پیشوائیت اللہ کے راستے  میں روک بن کر کس طرح کھڑی ہو جاتی ہے ۔

..................................................................

یوں تو ہر موضوع تفصیل  طلب ہے لیکن جب قرآن  نے کہا  تنفکرو ۔ ثم تنفکرو سوچا کرو۔ یونہی حالات، وقت اور رسم و رواج کے دھاروں میں مت بہے چلے  جاؤ رک جاؤ ، سوچو کہ تم اپنی قبر  آپ تو کھود رہے ہو ؟۔ جو کچھ کر رہے ہو وہ مناسب  بھی یا  نہیں؟ یا تمہارے پاس بھی وہی دلیل  ہے کہ جو کچھ بڑے کرتے چلے آرہے  ہیں ہم بھی وہی  کررہے ہیں؟ قرآن نے کہا اے رسول ان کے کہہ دو جو مر گئے ہیں ان کے بارےمیں تم سے کچھ پوچھا جائے گا، تم صرف  اور صرف اپنے  ہی اعمال کے لئے جواب دہ ہو (2:134) اور ( 2:141) تو سب  سے اہم  او رپہلا سوال ذہن  میں یہی ابھرتا ہے کہ ہم اعمال کس طرح ٹھیک  کریں  کہا ں سے آغاز کریں ۔ کس طرح باطل سے حقیقت کی طرف آئیں ؟ دیکھئے ان سوالوں اور سوچوں کا جواب  بھی اقبال  کی فرمودہ  انہی چار باتوں پر پوشیدہ ہے جو اس کرۂ ارض  پر سارے  فساد کی جڑ ہیں ۔

(1) سرمایہ داری:

 سرمایہ داری  سود کے نظام سے جنم لیتی ہے اسی سے پروان چڑھتی پھولتی  پھلتی ہے ۔ یعنی نفع محنت  کے بجائے  سرمائے کا ہوتا ہے ۔ آپ ایک سو روپے کا نوٹ  بند کر کے رکھ دیجئے ۔ سو سال کے بعد بھی وہ ایک سو روپے  ہی کا نوٹ ہوگا ۔ اس میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا ۔ لیکن اگر  آپ اپنی رقم  سودی کا کاروبار میں لگادیں یا بنک  میں رکھوا دیں گے ، کہ بنک کا سارا نظام سود ہی پر استوار ہوتا ہے ۔ یا سلیپنگ پارٹنر شپ اختیار کرلیں گے کہ سرمایہ آپ کا، محنت دوسرے کی یا جائیداد یں بناکر کرایہ  پر چڑھادیں گے یا کاشت کے لئے اپنی  زمین  کسی کو دیدیں گے کہ محنت  وہ کرے اور فصل تیار ہوجائے تو آدھی آپ کو دیدے یا  کسی بھی  ایسے کاروبار میں روپیہ لگا دیں گے جس میں آپ کی محنت  شامل نہ ہوتو نفع سرمایہ کا کہلا ئے گا۔ محنت کا نہیں ہوگا ۔ اس سے ہوگا یہ کہ انسانوں میں تفریق  پیدا ہوجائے گی۔ایک کمانے والا طبقہ بن جائے گا اور دوسرا کھانے والا اور دندنانے والا، کمانے والا محنت  کر کے بھی محدود قائدہ حاصل کر سکے گا لیکن  کھانے اور دندنانے والا طبقہ  محنت نہ کرنے کے باوجود دوسروں کی  Investment سے دولت کے انبار لگاتا چلا جائے گا اور سارے معاشرے  کا توازن  بگاڑ کر رکھ دے گا۔ دوسروں کی صلاحیتوں  اور توانائیوں  پر اس کی گرفت مضبوط  تر ہوتی  جائے گی اور اس طرح انسانوں کی ایک بڑی  اکثریت  کو وہ اپنا غلام بنالے گا۔

قرآن چونکہ ہر قسم کی غلامی  کو مٹانے  آیا ہے، لہٰذا  سرمایہ  داری اور اس نظام یا اس سوچ کی جڑیں  یہ کہہ کر کاٹ دیتا ہے وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ ( 53:39) یعنی انسانو ں کے لئے  معاوضہ صرف محنت  کا ہے سرمایہ  کا نہیں ۔ سرمایہ کا معاوضہ ربوٰ ہے یعنی  سود ہے ۔ قرآن  نے اتنا ہی  نہیں  کہا کہ یہ حرام ہے ، کہا یہ ہے کہ جو کاروبار کرتے ہیں اور جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس میں شریک ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں ( 2:279) ۔ سوچئے بات  کہاں تک جا پہنچی ہے ۔ ہم میں سے تقریباً ہر ایک واسطہ کسی نہ کسی اعتبار سے بینک سے پڑتا ہے ۔ اکثریت بینکوں میں اکاونٹ بھی کھولتی  ہے اندرون  اور بیرون ملک تقریباً سارا کاروبار بینکوں کے ذریعے ہی انجام پاتا ہے ۔ اس سے ہوتا  کیا ہے؟ہوتا یہ ہے کہ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ بینکنگ کی بنیاد ہی سود پر استوار ہے اور سود کے بارے میں واضح حکم موجود ہے کہ نہ صرف یہ حرام ہے  بلکہ اللہ اور رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ تو کیا ہم بالواسطہ یا بلاواسطہ ان لوگوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتے؟  جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف میدان جنگ میں اتر آئے ہیں اور اس اعتبار سےخود اللہ کے دشمنوں  میں شمار نہیں  ہوجاتے ۔

اگر ایسا ہے پھر ہم سرے سے مسلم ہی نہیں رہتے ۔ پھر اللہ سے رحم و کرم کی امیدیں  کیسی؟  یاد رکھئے  قرآن  ہر شخص کو با عمل  اور انسانیت  کی فلاح و بقا ء کے لئے مصروفِ  جہد دیکھنا  چاہتا ہے وہ برداشت  ہی نہیں کرسکتا  کہ کوئی تو محنت  کر کے کھائے اور کوئی دوسروں کی محنت اٹھا کر اپنے  گھر لے آئے ۔ اور دولت مند کہلائے جس طرح ہمارے  ملک میں بیس  کروڑ  کی آبادی  میں بارہ خاندان  دولت  مند تھے ۔ پھر بائیں  ہوئے ۔ ملک آدھا رہ گیا لیکن دولت  مند خاندانوں  کی تعداد دو گنی ہوگئی اب دس کروڑ کی آبادی  کی تقدیر  کے مالک چوالیس خاندان ہیں ۔ پھر دہرا دوں دس کروڑ کی قسمتوں  کے مالک صرف چوالیس خاندان  ۔ یہ کیسے  ہوا؟ صرف سود  اور دوسروں کی کمائی ہڑپ  کرنے کی وجہ سے ۔ آج حکومت  کی پالیسی  اور خود حکومتیں  ان چوالیس کی مرضی کے تابع ہوتی ہیں سیلاب  آتے ہیں تو ان کی جائیداد یں ۔ کارخانے اور مفادات  بچانے کی غرض  سے بند توڑ کر طوفانوں  کا رخ محنت  کشوں کی بستی  کی طرف کر دیا جاتا ہے ۔ اور سینکڑوں ہزاروں  جانوں کو جان بوجھ کر ہلاک کردیا جاتا ہے لیکن کسی ایک سرمایہ  دار کا کبھی بال  بھی بیکا نہیں ہوتا ۔

ملوکیت کی بنیاد استبداد ، ظلم  جبر اور انسانیت  کشی پر ہوتی ہے ایک انسان  یا انسانوں  کا ایک گروہ  باقی تمام  انسانوں  پر حکومت  کرتا ہے اور اپنی  اطاعت  کراتا ہے  اور کروڑوں انسان ذہنی  غلامی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ قرآن  نے اسے شرک  قرار دیا ہے ۔ اطاعت  اور بندگی  صرف اور صرف اللہ  کے قانون ہی کی  کی جاسکتی ہے اور جو کوئی کہتا ہے کہ میری یا میرے  بنائے  ہوئے قوانین  کی اطاعت کرو تو  وہ اللہ کی برابری  کا دعویٰ  کرتاہے ۔ جب بھی الیکشن  ہوتے ہیں تو کوئی بھی جماعت  یا امیدوار  اللہ کے قانون  کی حکمرانی  کی بات نہیں کرتا ۔ بلکہ اپنے قوانین کی بات کرتاہے ۔ ہم ایسا  قانون بنائیں گے  ہم ویسا قانون بنائیں گے ۔ سوچئے  جب آپ  کے سامنے  واضح  حکم موجود ہے، لا الٰہ الآ اللہ ۔ حکومت  و اقتدار  صرف اللہ  کے لئے ہے اور دوسرا  کوئی  ہے ہی نہیں جس  کی اطاعت  کی جائے تو پھر کیا آپ کا ووٹ  اللہ کے مقابلے  میں انسانوں کے قوانین  کی اطاعت  کا وعدہ نہیں کہلاتا ۔؟؟؟۔

ملاّ یا مذہبی پیشوائیت :۔

ملاّ دراصل مذہبی پیشوائیت  کا ہی نمائندہ  ہوتا ہے ۔یہ مذہبی پیشوائیت کرتی کیا ہے؟ یہ سرمایہ داری اور ملوکیت  کی جڑوں کو کھاد اور پانی کا کام دیتی ہے یہ لعنتیں  اس سہارے  کے بغیر  پنپ ہی نہیں سکتیں ۔ یہ انسانی جذبات  کو اس طرح ایکسیلائٹ کرتی ہے کہ اندر کا انسان  اپنے ہاتھوں  اپنی عقل  پر تالے  ڈال دیتا ہے  اور بے چوں و چرا ملوکیت  کی مشینری  کا پرزہ  بن کر رہ  جاتا ہے ۔ کوئی فرعون اس وقت  تک حکومت  نہیں چلا سکتا  جب تک قارون اور ہامان اس کے ساتھ  نہ ہوں۔ قارون  سرمایہ داری کی علامت  اور ہامان مذہبی  پیشوائیت کے ہی علامتی  نام ہیں ۔

ہر شخص جو ذرا غور و فکر سےکام لے تو بآسانی  محسوس کر لیتا ہے کہ ملوکیت سرمایہ  داری اور زمینداری یکسر غیر  فطری نظام زندگی ہیں لیکن  جب ملاّ  اسے بتاتا ہے کہ سب کچھ  اللہ اور رسول  کے حکم کےمطابق  ہے اور ان  سے انکار کرنے والا اللہ کا سرکش ، باغی اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کامنکر ہے تو وہ بے چارہ خاموش  ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد ملاّ آگے بڑھتا ہے او رکہتا ہے ‘‘ وہ شریعت  میں عقل کا کوئی دخل نہیں اگر کسی  کے دل میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاحکم سننے  کے بعد ذرا سابھی شک  و شبہ پیدا ہوجائے تو وہ سیدھا جہنم میں جاگرتا ہے ۔ اس پر بے چارہ سادہ لوح  مسلمان کانپ اٹھتا ہے ۔ اور یہ کہہ کر اپنے  آپ کو جھوٹا اطمینان  دے لیتا ہے کہ دین کی مصلحتیں  اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی  بہتر جان سکتا ہے ۔ ہمارا کام تو ایمان  لانا ہے  اور بس ۔ حالانکہ جس چیز  کو ملاّ  ، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بتا کر پیش کرتاہے وہ اسی نظام   سر مایہ داری کے وضع  کردہ قوانین  ہوتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ان علمبردار  انِ مذہب  و شریعت  کی شدّت سے مخالفت  کی ہے ۔ اقبال نےبھی بڑی  شدّومد  کے ساتھ ان کے خلاف جہاد کیا ہے۔

مکتب و ملاّ و اسرارِ کتاب۔ کورِ ما درزاد نورِ آفتاب

دینِ کافر فکر و تدبیر جہاد ۔ دین ملاّ فی سبیل اللہ فساد

مکتب و ملاّ اور قرآن  کے رموز  و اسرار ، ان کی مثال  یوں سمجھئے  جیسے ایک پیدائشی اندھے  کے سامنے سورج  کی روشنی ۔ دنیا  کے غیر  مسلم قومیں اپنی ترقی اور استحکام  کےلئے مصروف جہاد رہتی  ہیں لیکن  ملاّ خدا واسطے فساد  بر پا کرنے میں مصروف ، جس کا نتیجہ  یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ بڑھتا چلا جاتا ہے اور انسان انسانیت سے گرتا چلا جاتا ہے ۔ اور یہ تو آپ  سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ نے فرقہ سازی  اور فرقوں  کو بدترین  شرک سے تعبیر کیا ہے ۔ اسلام کے صدرِ اول میں نہ کوئی فرقہ تھا او رنہ کوئی فقہ رائج تھی ۔ اللہ کی وحی پر جو ایمان  لاتا وہ نہ سنی ہوتا تھا نہ شیعہ ، صرف مسلم کہلاتا تھا ۔ مسلم ہوتا تھا اور فقہوں کی جگہ  صرف اللہ کے قانون  کی حکومت  ہوتی تھی ۔ اسے کسی گستاخی  پرمحمول  نہ فرمائیے  جس قدر فقہہ  ہیں یہ سب  جن کی اطاعت کرتے چلے آرہے ہیں اور پھر بھی مسلم ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں ۔ اور اب  آخری لفظ ہے ،پیری یعنی  تصوف۔

یہ تصوف انسان کی عملی  قوتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ کائنات کی قوتوں کو تسخیر کرنا ایک طرف روز مرہ  کے معمولی سے معمولی  کام کے بھی قابل  رہنے نہیں  دیتا ۔ بلا محنت مشقت دولت مند بنانا ہے ۔ نالی  میں سے کیچڑ نکالنے والا مجذوب  دوسروں کو بادشاہت بخش رہا ہوتا ہے ۔ جتنے جاہل  اور نفسیاتی  مریض  ہوتے ہیں انہی عالموں  ،پڑھے لکھوں صحت مند وں پر فوقیت  بخشنے  میں سٹہ کا نمبر بتاتا ہے ۔ تعویذوں سے افسروں کو غلام بناتا ہے ۔کتنا  ہی سنگدل محبوب  کیوں نہ ہو قدموں میں لاکر بٹھا  تا ہے ۔جن کے منہ  سے رال ٹپک رہی ہے، سر سے پاؤں تک ننگ  دھڑنگ  ہیں اتنا  بھی ہوش نہیں  کہ جسم  سے  گندگی کر کہاں  تک پھیل  گئی ہے ۔  وہ اللہ تک آپ  کی رسائی کرا دیتے ہیں ۔ یہاں  تک بھی غنیمت  ہے ۔ اور وہ جو قبروں  میں پڑے ہیں جن  کے متعلق  قرآن کہتا ہے کہ یہ تمہاری پکار  سن ہی نہیں سکتے اور بالفرض  سن بھی لیں  تو جواب نہیں دے سکتے ۔ انہیں اپنا پیشوااور حاجت  روا بناتا ہے ۔ چلہ کشی  اور مزاروں  پر چڑھاوے  سے ڈوبے  ہوئے جہاز  ابھر آتے ہیں اور مردے زندہ ہوجاتے ہیں  مزاروں  کی کھڑکیوں سے گزرنے والے جنت  کے حقدار ہوجاتے ہیں ۔پہلے مردوں کی تقدیر زندوں کے ہاتھ میں ہوتی  تھی یعنی  مردہ بدست زندہ ہوتا تھا اب زندوں کی تقدیر یں مردوں  کے ہاتھ میں ہوتی ہے ہم زندہ بدست  مردہ ہوگئے  ہیں ۔ تصوف  ہے جس  میں وحی کشف والہام  نے لے رکھی ہے اور جس میں ایک صوفی کو قرب الہٰی  میسر رہتا ہے ، وہ خود  نماز  تک نہیں  پڑھنے  جاتا کعبہ  خود اس کے دروازے پر حاضر ہو جاتا ہے  ، شاہ صاحب  بیک وقت  متعدد  شہروں  میں ، پاسپورٹ کے بغیر  متعدد ملکوں  میں بیک وقت نظر آسکتے ہیں ۔ اور یہ زندہ ہوں یا مردہ ان کا خوف  اور دبدبہ اللہ سے بھی بڑھ کر ہوتاہے ۔اللہ نے کہا  میں تمہاری  شہ رگ  سے قریب ہوں،  اس کے باوجود  ہم اس کے خلاف اور اس کے حکم  کے خلاف جو چاہیں  کرسکتے ہیں  کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ان مردوں  اور مقربین  کے بارے میں دل  میں کوئی برا خیال  لاتےہوئے  ڈرتے ہیں او رکانپ  جاتے ہیں،

امتحان  میں کامیابی درکار ہو۔ عدالت سے اپنے حق میں  فیصلہ  کرانا ہو ۔صحت درکار ہو۔ راتوں رات  دولت مند بننا ہو سیاست میں نمایا ہونا ۔ لیڈری چمکانی  ہو۔ اور اب تو جب تک آپ ان  مزارات ، کی دھلائی  کا پانی تبرّکانہ  لے جائیں اور پھولوں کی چادر نہ چرھائیں تو نہ وزیر اعظم رہ سکتے ہیں  اور نہ وزیر اعلیٰ...

یہ سب کیا ہے؟  تذلیل انسانیت  او ر عمل سے بے گانگی کی تعلیم ، کھلی جہالت  اور اسلام  کے علی الرغم باطل  نظام کی تائید ۔ یہیں سے تقدیر  کے مسئلہ  نے جنم لیا اور اسی تصو ف  سے اسلام  کے خد و خال  مسخ ہوکر رہ گئے ۔ قرآن  نے سختی  سے اس کی مذمت کی ہے ۔ اور  اقبال نے اسے اسلام سے دوری کی اصل  وجہ کہا ہے ۔

چار مرگ اندر پئے ایں دیر میر

سود خوار و والی  و ملا و پیر

یہ چار تاریکیاں  ہیں ۔ اندھیر وں کے چار نام ہیں جو انسان کو بھی اندھا  اور تاریک بنا دیتے ہیں کہ مرگ او رموت کو بھی پردہ اور تاریکی  کہہ کر پکار ا گیا  ہے ۔ اس مرض  اور مرض  کے علاج کی دریافت کے بعد اقبال  نے سوچا  کہ اللہ کا قانون کہا ں او رکس طرح نافذ کیا جاسکتا ہے ظاہر ہے اس کے لئے  کسی ایسے  خطے  کی ضرورت ہوتی ہے جہاں صرف  اور صرف اللہ  کے قوانین نافذ کئے جائیں ۔ یہ جذبۂ ایمانی  تھا جس نے ایسی ہی  مملکت کا تصور دیا اور جو قائد اعظم  رحمۃ اللہ علیہ  کی قیادت میں ہمارے  آپ کے سامنے  موجود ہے ۔

آج اقبال  نہ ہوتا یا اس میں یہ سوچ پیدا نہ ہوئی ہوتی  تو ہم بھی ہندوستان  میں رہ جانے والے مسلمانوں  کی طرح ایک  اقلیت ہوتے او ربھوک  و افلاس ، بے روزگاری  ، ذلت اور جہالت  کی زندگی بسر کرتے ۔ معجزوں کے منتظر رہتے ۔ مزاروں پر قوالیوں  اور کرامتوں  کے افسانے سن رہے ہوتے ۔ شکر ادا کیجئے  کہ جس اقبال پر ہندوستان بھر کے علماء نے کفر  کے فتوے  لگائے تھے  ، اسی کافر کی بدولت  آج ہم  آزادی  کی نعمت  سے مالا مال ہیں، اور پھر مزید  سوچئے  کہ اللہ کی یہ نعمت کس طرح  قائم دائم رہ سکتی ہے۔

مارچ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ  صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/md-qasim-nuri/darkness-in-four-shades--چار-تاریکیاں-۔۔سرمایہ-داری،-ملوکیت،-ملائیت-اورپیری/d/97705

 

Loading..

Loading..