New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 04:01 AM

Urdu Section ( 5 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

What is Terrorism in the Light of Islamic Teachings? اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دہشت گردی کیا ہے؟

 

 

مولانا وحیدالدین خان

07 اگست 2013

آج ' دہشت گردی ' ایک رَمزِيَہ لفظ بن گیا ہے۔ دنیا بھر میں ، لوگ اس کے بارے میں  لکھ رہے ہیں اور بات کر  رہے ہیں ۔ لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں ابھی تک اس اصطلاح کی کوئی واضح تعریف سامنے نہیں آئی  ہے۔ لوگ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں لیکن اب بھی اس کی تشخیص  اور واضح طور پر یہ وضاحت نہیں کر سکتے ہیں کہ یہ ہے کیا ۔

میں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس سوال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ دہشت گردی کی  میری تعریف غیر سرکاری کارکن کے ذریعہ  مسلح جدوجہد ہے۔

اسلام آزادی کا حق قبول کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی شخص یا جماعت کو سیاسی مقاصد یا ان کی کمیونٹی کے لیے ایک پرامن تحریک چلانے کا حق ہے۔ وہ اس وقت تک اس بات کا حقدار ہوتا ہے جب تک کہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر جارحیت میں ملوث  نہ ہو۔ اسلام میں صرف ایک قائم حکومت کو ہی ہتھیار استعمال کرنے یا فوجی کارروائی میں مشغول ہونے کا حق ہے، اسے  اس کی حقیقی ضرورت پیش آنے پر ۔ غیر سرکاری تنظیموں کو کسی بھی بہانے سے اسلحہ اٹھانے  کا حق نہیں ہے ۔ میں نے اپنی کئی کتابوں میں اس اسلامی حکم کے بارے کافی تفصیل سے لکھا ہے ۔

بین الاقوامی سطح پر - مقبول اصولوں کے مطابق، قائم حکومتوں کو ہی مجرموں کو سزا دینے  اور حملہ آوروں کے خلاف دفاع میں مشغول ہونے کاحق حاصل ہے۔ یہ ایک اسلامی اصول بھی ہے۔ اس اصول کی روشنی میں کوئی  دہشت گردی کی وضاحت کسی غیر سرکاری عملے کا مسلح کارروائی میں مصروف ہونے کے طور پر کر سکتا ہے ۔ اس سے کوئی  فرق نہیں پڑتا کہ  ایک غیر سرکاری کارکن  تشدد کا سہارا لینے کے لئے کس بہانے کا استعمال کر سکتا ہے ، اس کا عمل تمام حالات میں ناقابل قبول ہے۔ ایک غیر سرکاری کارکن کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی خاص ملک میں نا انصافی کی جارہی ہے یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے،  تو اس کے  پاس  صرف پرامن طریقے کا استعمال کرتے ہوئے اس صورت حال سے نمٹنے کی کوشش کرنے کا حق ہے۔ لیکن کسی بھی حالت یا بہانے کے تحت  تشدد کو اپنانا اس کے لئے  جائز نہیں ہے ۔

فرض کریں کہ کوئی  فرد یا غیر سرکاری تنظیم یہ  کہے کہ  ‘ ہم عدم تشدد سے کام کرنا پسند  کریں گے لیکن اگر ہم پرامن طریقہ استعمال کرتے ہیں تب بھی  ہمارا مخالف ہمیں ہمارے حقوق دینے سے انکار کرتا ہے لہٰذا  ان حالات میں ہم ہتھیار اٹھانے کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں ؟

اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ ان معاملات کے تعلق سے ذمہ داری حکومت کے کندھوں پر ہے  نہ کہ  غیر سرکاری کارکنوں کے  کندھوں پر ۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے  ميں ناکام ہو رہی ہے تو اس صورت  میں بھی  امور مملکت کو اپنے ہاتھوں میں  لینا  ناجائز  ہے ، ایسی  صورت میں وہ صرف دو متبادل کے درمیان انتخاب  کر سکتا ہے: یا تو صبر کرے ورنہ صرف پرامن طریقے سے جدوجہد کرے ۔ دوسرے الفاظ میں، یا تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، یا پھر صورت حال سے نمٹنے کے لئے پر امن کوششں كر سکتا ہے ۔

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی دہشت گردی کا مناسب رد عمل کیا ہے اور یہ  اس وقت رو نما ہوتا ہے جب ریاست نا مناسب تشدد میں مصروف ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس طرح کا  تشدد ریاست کے غلط استعمال کا معاملہ ہے ، جب کہ  غیر سرکاری کارکنوں کا تشدد میں مشغول ہونا ایک ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جس کا انہیں بالکل ہی  کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ کسی کے ذریعہ  ایسا کارنامہ انجام دیاجانا جس کا اسے کوئی  حق حاصل نہیں ہے اور  دوسری  طرف، کسی  کو  مبینہ طورپر حاصل شدہ حقوق کا اس کے ذریعہ غلط استعمال کرنے کے درمیان، ایک فرق ہے۔

بہ الفاظ دیگر کسی غیر سرکاری جماعت کا کسی بھی بہانے سے  تشدد میں مشغول ہونا یقینی طور پر ناجائز ہے ۔ جبکہ دوسری طرف اگر کوئی  حکومت نامناسب تشدد میں مشغول ہوتی ہے تو یہ کہا جائے گا کہ  اسے  تشدد کو استعمال کرنے کے اپنے حق کو  جائز انداز میں استعمال کرنا لازمی ہے ۔ اس حق کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک حکومت خود کو ایک غیر سرکاری کارکن کی طرح ایک مجرم میں تبدیل کر سکتی ہے ۔

اس نقطہ کو ایک مثال  سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔ فرض کریں کہ ایک ڈاکٹر اپنے مریض کے جسم کے غلط حصہ پر کام کرنے کے لئے اپنی  جراحی چاقو کا استعمال کرتا ہے ۔ اس صورت میں وہ اپنے اس حق کے  غلط استعمال کا مجرم ہو گا جو اسے حاصل ہے ۔ ایک سند  یافتہ ڈاکٹر کو یقینی طور پر اس کے مریض کے صحیح حصہ پر کام کرنے کے لئے اس کی جراحی چاقو کااستعمال کرنے کا حق ہے لیکن اسے غلط حصہ کو کاٹنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ دوسری طرف جو شخص ڈاکٹر نہیں ہے اسے کسی بھی  بہانے سے  کسی پر چاقو کا استعمال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں  ہے۔ اس کا ایسا کرناتمام حالات کے تحت غلط ہو گا ۔

[1 ۔ مختلف زبانوں میں مولانا وحیدالدین خان کی کتابوں کو مفت میں  انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے، اس کے لئے  http://www.cpsglobal.org/books/mwk پر کلک کریں ۔

2۔ مولانا وحیدالدین خان کی اہم تحریروں کے ترجمہ پر مشتمل ایک انگریزی ماہانہ ' Spirit of Islam '، آن لائن حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے  www.spiritofislam.co.in پر کلک کریں ۔

3۔ مولانا وحید الدین خان نے قرآن کا سادہ اور خوبصورت انگریزی میں ترجمہ کیا  ہے۔ جو کہ مولانا کی تفسیر کے ساتھ اور اس کے بغیر دونوں صورتوں میں  دستیاب ہے۔

اگر آپ یہ  چاہتے ہیں کہ ایک مفت نسخہ آپ  کو بھیجا جائے  تو، http://cpsglobal.org/quran/free پر کلک کریں

(انگریزی سے ترجمہ   : مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام )

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/maulana-wahiduddin-khan/what-is-terrorism-in-the-light-of-islamic-teachings?/d/12928

URL for this article:  http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduuin-khan/what-is-terrorism-in-the-light-of-islamic-teachings?--اسلامی-تعلیمات-کی-روشنی-میں-دہشت-گردی-کیا-ہے؟/d/13387

 

Loading..

Loading..