New Age Islam
Fri Apr 16 2021, 04:59 PM

Urdu Section ( 23 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Muslim Separatism is Un-Islamic مسلم اعتزال پسندی غیر اسلامی ہے

 

مولانا وحیدالدین خان

17 اکتوبر 2013

بہت سے غیر مسلم اکثریتی ممالک میں ، مسلم جماعتیں ان علاقوں کی آزادی کے لئے لڑ رہی ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ مثال کے طور پر کشمیر، جنوبی فلپائن، جنوبی تھائی لینڈ، چیچنیا اور سنکیانگ وغیرہ میں ایسے ہی حالات ہیں ۔ غیر مسلم ریاستوں میں رہنے والی مسلم جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر قابض حکمرانوں کے خلاف لڑ رہی ہیں ۔ ان تنازعات میں بہت زیادہ خون بہہ چکا ہے لیکن اس کا بالکل ہی کوئی مثبت نتیجہ ظاہر نہیں ہوا ۔ ان تنازعات نے  ان لوگوں کے لئے صرف صورت حال کو بد سے بدتر بنا دیا ہے اور خاص طور پر خود ان مسلم جماعتوں کے لئے ۔

کبھی کبھی، علیحدگی یا آزادی حاصل کرنے کے مقصد کے تحت ان پر تشدد تنازعات کا جواز پیش کرنے کے لئے یہ بات کہی جاتی ہے کہ غیر مسلم اکثریت مبینہ طور پر ان اقلیتی مسلم جماعتوں کی اسلامی شناخت یا ثقافت کو تباہ کر رہی ہے ۔ لہذا یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ آزادی کا ان کا مطالبہ ان کے عقیدے اور اسلامی شناخت کو محفوظ کرنے کے لئے اسلامی طور پر جائز ہے۔

تاہم علیحدگی کی یہ سیاست جس میں مختلف ممالک میں مسلمان مصروف ہیں مکمل طور پر غیر اسلامی ہے۔ اس کا اسلامی تعلیمات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ قرآنی اصطلاحات میں اسے مضاہت (9:30) کہا جاتا ہے جس کا مطلب غیر مومنوں کی تقلید کرنا ہے ۔ ایسی سیاست کی بنیاد وہ جدید تصور ہے جسے ' خود ارادیت ' کا نام دیا جاتا ہے ۔ جدید سیاسی اصول کے مطابق ' خود ارادیت ' کسی ملک یا قوم کا وہ حق ہے جس کے ذریعہ انہیں کسی خارجی اثر و رسوخ سے متاثر ہوئے بغیر ہی خود اپنے طرز حکومت کے تعین کا اختیار حاصل ہوتا ہے یا دوسرے الفاظ میں کسی خطے کے لوگوں کا اپنی طرز سیاست کا تعین کرنے کا حق ہے ۔ یہ وہ سیاسی تصور ہے کہ جسے مسلمانوں نے اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے ۔

یہ دعوی کرنامکمل طور پر غلط ہے کہ کوئی خاص ملک یا قوم مسلم ثقافت کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس طرح خود ارادیت کے نام پر پرتشدد تنازعات کا جواز فراہم کرنے کے لئے اسے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے ۔ اس جدید دنیا میں ہر شخص اپنی ثقافت کو اپنانے کے لئے آزاد ہے۔ میں نے دنیا بھر میں سفر کیا ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی ایسا کوئی ملک نہیں پایا کہ جہاں مسلمانوں کے تشخص کو تباہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ یہ مکمل طور پر غلط الزام ہے۔

کبھی کبھی ایک غیر مسلم اکثریتی ریاست سے آزادی اور علیحدگی کے لئے مسلم اقلیتوں کے جدوجہد کا جواز یہ دعویٰ کرتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ ریاستیں بہت اچھی طرح سے منصوبہ بندی کے ساتھ مسلم اکثریتی ‘مقبوضہ’ علاقوں میں مسلمانوں کو  ایک اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ لہذا یہ دلیل دی جاتی ہے کہ غیر مسلم اکثریتی ریاستوں سے علیحدگی اور اس سے آزادی حاصل کرنے کی جدو جہد اسلامی طور پر جائز ہے۔

یہ دلیل بھی مکمل طور پر غلط ہے۔ اسلام مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست قائم کرنے یا سیاسی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے کا حکم کبھی نہیں دیتا ہے ۔ اسلام کے مطابق سیاسی نظام سماجی حالات کا معاملہ ہے ۔ سماجی حالات ہی سیاسی نظام کا تعین کرتے ہیں ۔ ایک خود ساختہ سیاسی نظام کے قیام کے لئے کسی تحریک کا آغاز کرنا غیر اسلامی ہے ۔ یہ بھی کہنا غلط ہے کہ کوئی خاص ملک مسلم اکثریتی علاقوں کو مسلم اقلیتی علاقے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ موجودہ ریاستوں سے علیحدگی کے لئے متشدد جدوجہد کا آغاز کرنا تمام ممالک یہاں تک کہ ایک مسلم ملک کے لئے بھی ناقابل برداشت ہے۔ لہذا سنکیانگ (چین) یا اراکان (میانمار) یا دوسرے مقامات پر جو ہو رہا ہے جہاں علیحدگی کے لئے پرتشدد تحریکوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ مارے جا رہے ہیں وہ صرف مسلمان اپنی ہی غلط پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں ۔ اور ان ممالک کے اقدامات جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی ہیں ۔

میں بارہا مسلمانوں کے لئے دعوت کی اہمیت پر زور دیتا ہوں ۔ دنیا کے ہر حصے میں مسلمانوں کی صرف ایک ہی ذمہ داری ہے اور وہ ہے لوگوں کو راہ خدا کی دعوت دینا ۔ مسلمانوں کو پرامن طریقہ سے دعوت کے کام میں مصروف ہونا چاہئے اور دیگر تمام چیزوں کو خدا پر چھوڑ دینا چاہیے ۔ دعوت ایک لازمی اسلامی فریضہ ہے ۔ دعوت قدرتی طور پر دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ قریبی ربط کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کے بہترین اور انتہائی فطری مواقع ان ممالک میں موجود ہیں جہاں کے مسلمان دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں جب مختلف غیر مسلم اکثریتی ممالک میں بہت سے مسلم نسلی جماعتیں علیحدگی اور آزادی کا مطالبہ کرتی ہیں ( جیسا کہ بلا شبہ بہت سے ہندوستانی مسلمانوں نے پاکستان کے مطالبہ میں اس کی تقسیم تک  کیا) تو وہ خود دعوت کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں کیونکہ صرف مسلم ممالک میں، جن کی وہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان میں غیر مسلمو کی موجودگی نہ ہو، دعوت کے مواقع فطری طور پر کم ہوں گے اس کے بجائے اگر وہ غیر مسلم اکثریت والے ممالک میں اقلیتوں کے طور پر رہتے تو دعوت کے زیادہ مواقع میسر ہوتے ۔

علیحدگی کی سیاست دعوتی ثقافت کے لئے ایک سم قاتل ہے ۔ دعوت عالمگیریت اور رواداری کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ علیحدگی عالمگیریت کی روح کو ختم کر دیتی ہے ۔ اس طرح کی پالیسی ایک سیاسی اختراع ہے ۔ اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں یہ بات انتہائی سبق آموز ہو گی کہ صوفی حضرات عام طور پر خلوت پسندی کی ایسی ذہنیت کے حامل نہیں بن جاتے بلکہ وہ  سرگرم انداز میں خلق خدا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کے درمیان رہتے بھی ہیں ۔ اور انہوں نے دعوت میں ایک انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ۔

صوفیاء حق پر تھے ۔ انہوں نے مسلموں کے سامنے اسلام کو صحیح طریقے سے پیش کیا ہے۔ جو لوگ صوفیوں کے خلاف ہیں ان کے پاس اسلام کی طرف سے اس کا کوئی معقول جواز نہیں ہے بلکہ وہ اپنے خودساختہ افکار و نظریات کی بنیاد پر صوفیوں کے خلاف ہیں ۔ وہ اسلام کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اس ذہنیت کی بنیاد پر تصوف کو نہیں سراہتے ۔ جو لوگ سیاسی اور ثقافتی علیحدگی کی وکالت کرتے ہیں وہ دعوت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں ۔

بلفظ دیگر مسلم علیحدگی کا یہ رجحان دعوت کے لئے مضرت رساں ہے اور اس وجہ سے یہ غیراسلامی ہے ۔ اس طرح کی علیحدگی سیاسی اور ثقافتی دونوں اعتبار سے غلط ہے ۔ اسلام اس قسم کی علیحدگی پسند پالیسیوں کا حکم نہیں دیتا ہے ۔ علیحدگی کی یہ سیاست کوئی نیکی نہیں بلکہ ایک گناہ ہے ۔ اور اسی وجہ سے مسلمان خدا کی مدد سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ اور اس طرح ہر جگہ ان کی سرگرمیاں نقصاندہ ثابت ہو رہی ہیں گو کہ وہ اشیاء کی الہی منصوبہ بندی کے خلاف ہیں ۔ مسلم رہنما پاکستان بنانے میں تو کامیاب رہے لیکن اس کی تخلیق کے ساٹھ سال کے بعد بھی پاکستان ایک ناکام ریاست ہے کیونکہ اسے خدا کی رحمتیں حاصل نہیں ہوئیں۔

دنیا بھر میں مسلم علیحدگی کے اس مذکورہ رجحان کے لئے کس طرح کوئی ذمہ دار ہو سکتا ہے؟ کبھی کبھی یہ صرف ایک مطلوبہ علیحدہ مسلم یا مسلم اکثریتی ملک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب یہ ممکن نہ ہو سکے تو بھی کبھی یہ ایسے مسلمانوں کے ساتھ جو صرف مسلم خطے میں ہی رہنا چاہتے ہیں، صرف آپس میں ہی سماجی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، جہاں تک ممکن ہو اپنے بچوں کو صرف مسلم اسکولوں میں ہی بھیجنا چاہتے ہیں اور صرف مسلمانوں کے ساتھ دوستی قائم کرنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ، مسلم علیحدگی پسندی کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جدید دور میں مسلمانوں نے تشخص کا ایک غلط تصور تیار کر لیا ہے اور وہ اپنی اس نام نہاد شناخت کا تحفظ چاہتے ہیں۔ اس طرح وہ شناخت کے تعلق سے انتہائی حساس ہو گئے ہیں۔ اور شناخت کے تعلق سے اسی غیرفطری حساسیت کی وجہ سے وہ ہر جگہ علیحدگی چاہتے ہیں: علیحدہ ملک، علیحدہ کالونی، علیحدہ ادارے اور علیحدہ معاشرے، وغیرہ۔

عصر حاضر میں مسلم علیحدگی پسندی ایک نیا رجحان ہے ۔ اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ درحقیقت 19ویں اور 20ویں صدی میں مسلمانوں نے ایک سیاسی پالیسی اپنائی جو کہ غیر اسلامی اور غیر حقیقی تھی ۔ لہٰذا فطری طور پر اس میں ناکامی ہاتھ آئی ۔ اور اس ناکامی نے مسلمانوں کے درمیان شکست خوردگی کی ذہنیت کو جنم دیا۔ آج کے مسلمان شکست خوردگی کی اسی ذہنیت کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اور شکست خوردگی کی اسی ذہنیت نے مسلم علیحدگی پسندی کے رجحان کو جنم دیا ہے ۔

لیکن بعض مسلمان جو گمان کر سکتے ہیں اس کے برعکس اسلام میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آپ کو قرآن یا حدیث میں اس کا ایک بھی حوالہ نہیں مل سکتا۔ اس کے علاوہ آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سوانح حیات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی زندگی میں اس قسم کی سیاست کی کوئی بھی مثال نہیں مل سکتی ۔

بعض مسلمان یہ سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح کی ثقافتی یا سیاسی علیحدگی عالمی سطح پر امت مسلمہ اور مسلم اخوت کے اتحاد کے نام پر جائز ہے ۔ لیکن یہ غلط ہے۔ دراصل اس قسم کی علیحدگی نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کو مسلم اتحاد کے نام پر قائم کیا گیا تھا ۔ لیکن اب اس ملک میں مسلمان خود آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں ہم امن کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جبکہ پاکستان کے مسلمان خوف اور تشدد کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ یہی صورت حال ان تمام خطوں کی ہے جہاں مسلمانوں نے اپنی " علیحدہ حکومت " قائم کی ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

مولانا وحیدالدین خان نئی دہلی میں سینٹر فار پیس اینڈ اسپریچویلٹی کے سربراہ ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/maulana-wahiduddin-khan/muslim-separatism-is-un-islamic/d/14018

UR for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan,-tr-new-age-islam/muslim-separatism-is-un-islamic-مسلم-اعتزال-پسندی-غیر-اسلامی-ہے/d/14114

 

Loading..

Loading..