New Age Islam
Tue Oct 27 2020, 04:57 AM

Urdu Section ( 17 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Honesty Must Be the Best Policy in Business تطفیف پر وَیل


مولانا وحیدالدین خان برائے نیو ایج اسلام

تجارت کو منصفانہ بنیاد پر قائم کرنا، شریعتِ الٰہی کا ایک اہم اصول ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ایک بنیادی حکم یہ دیاگیا ہے کہ تجارتی سودے میں کوئی تاجر نہ کم تولے، اور نہ کم ناپے، بلکہ ناپ اور تول میں پوری طرح عدل سے کام لے۔ اس سلسلے میں قرآن کے چند حوالے یہ ہیں:

وَلَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ (11:84)۔یعنی ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔

وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْیَاءَہُمْ (26:183)۔ یعنی لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو ۔

وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیزَانَ (55:9)۔ یعنی اور تول میں نہ گھٹاؤ۔

اس کے علاوہ قرآن کی سورہ المطففین میں ایک اور حکم آیا ہے۔وہ آیات یہ ہیں وَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ۔ الَّذِینَ إِذَا اکْتَالُوا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُونَ ۔ وَإِذَا کَالُوہُمْ أَوْ وَزَنُوہُمْ یُخْسِرُونَ ۔ أَلَا یَظُنُّ أُولَئِکَ أَنَّہُمْ مَبْعُوثُونَ۔ لِیَوْمٍ عَظِیمٍ۔ یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ (83:1-6) یعنی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو لوگوں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں، اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا کردیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اُٹھائے جانے والے ہیں، ایک بڑے دن کے لیے، جس دن تمام لوگ خداوند ِعالم کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

تطفیف کا لفظی معنی ہےناپ تول میں کمی کرنا۔سورہ المطففین کے حکم اور دوسری سورتوں کے حکم میں بظاہر لفظی اعتبار سے مشابہت ہے، یعنی دونوں میں ناپ اور تول کی زبان استعمال کی گئی ہے۔ مگر دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ دوسری سورتوں میں دینے کے وقت یک طرفہ طورپر کم تولنے یا کم ناپنے کا ذکر ہے۔ مگر سورہ المطففین میں اس کے برعکس یہ کہاگیا ہے — وہ لوگ جو دوسروں سے ناپ کرلیں تو پورا لیں، اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کردیں تو گھٹا کر دیں۔

اس فرق پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری سورتوں میں تاجرانہ بد معاملگی سے منع کیا گیا ہے۔ مگر سورہ المطففین میں جو بات ہے، اُس کا تعلق تجارتی معاملے سے نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک انسانی کردار ہے، جس کو ناپ اور تول کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کامزاج یہ ہو کہ اپنے معاملے میں اُن کا معیار کچھ ہو، اور دوسروں کے معاملے میں اُن کا معیار کچھ اور۔

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اُن کی اپنی ذات کا ذکر ہو تو وہ صرف اپنی خوبیاں بیان کریں، اور جب دوسرے کا معاملہ ہو تو وہ اُس کی صرف برائیاں بیان کریں۔ اپنے معاملے کو بیان کرنے کے لیے اُن کو ہمیشہ خوب صورت الفاظ مل جائیں، اور دوسرے کے معاملے کو بیان کرنے کے لیے اُن کے پاس صرف برے الفاظ ہوں۔ وہ اپنے آپ کو تو ہمیشہ خوش نام رکھنا چاہتے ہوں، مگر دوسروں کے معاملے میں انھیں صرف اُن کی بدنامی سے دلچسپی ہو۔ ایک طرف وہ اپنے کارناموں کا بھرپور اعتراف چاہتے ہوں، اور دوسری طرف اُن کے سوا جو لوگ ہیں، اُن کا ذکر اس طرح کریں ،جیسے کہ انھوں نے کوئی اچھا کام ہی انجام نہیں دیا۔

ان آیات میں ناپ اور تول کی زبان بطور تمثیل استعمال کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس پیمانے سے دوسروں سے لے رہاہے، اسی پیمانے سے اُسے دوسروں کو دینا بھی چاہیے۔ مثلاً دوسروں سے وہ اپنا اعتراف چاہتا ہے تو اُس کو بھی دوسروں کا اعتراف کرناچاہیے۔ دوسروں سے وہ چاہتا ہے کہ وہ اُس کو بدنام نہ کریں، تو اُس کو بھی چاہیے کہ وہ دوسروں کو بدنام کرنے سے پرہیز کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ حق کے معاملے میں اُس کا ساتھ دیں تو اُس کو بھی اسی طرح دوسروں کا ساتھ دینا چاہیے۔وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اُس کے بارے میں وہی بات کہیں جو واقعہ کے مطابق ہو تو اُس کو بھی دوسروں کے بارے میں ہمیشہ مطابقِ واقعہ بات کہنا چاہیے۔

تاریخ کے اکثر نزاعات بدگمانی کی بنیاد پر ہوئے ہیں، اور بدگمانی کا سبب ہمیشہ یہی تطفیف ہوتا ہے۔ دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان جب بھی نزاع ہوئی، تو اُس کا سبب ہمیشہ یہی تطفیف تھا۔ لوگوں نے جس کو اپنا حریف سمجھ لیا، اُس کی اچھائیوں کو بالکل نظر انداز کردیا۔ البتہ اُس کی حقیقی یا غیر حقیقی برائیوں کو ڈھونڈھ کر نکالا، اور اُس کو عوام کے درمیان خوب پھیلادیا— گھر کی انفرادی لڑائی سے لے کر باہر کی قومی لڑائیوں تک ہر جگہ یہی تطفیف کا معاملہ کام کرتا ہوا نظر آئے گا۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-wahiduddin-khan-for-new-age-islam/honesty-must-be-the-best-policy-in-business-تطفیف-پر-وَیل/d/122401


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..