New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 01:57 AM

Urdu Section ( 17 Jun 2016, NewAgeIslam.Com)

Fulfilment of Huquq ul Ibaad: Way to Jannah حقوق العباد کی ادائیگی جنت کا راستہ

 

مولانا عثمان دلدار قاسمی

17 جون، 2016

جنت کا راستہ

(1) اولاد کا فریضہ ہےکہ اپنے ماں باپ کی عزت کرےاور ان کے ساتھ اٹھنے ،بیٹھنے ،چلنے پھرنے او ربات چیت کرنےمیں ان کا ادب ملحوظ رکھے۔

(2)اپنے ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری کرے۔رسول اللہ نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ ایک دن میں بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! میری ایک بیوی ہے جس سےمجھے بہت محبت ہے ۔ میرے والد (فاروق اعظم) اسےمیرے لئے پسند نہیں کرتے اور مجبور کرتےہیں کہ طلاق دے دو۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا اے عبداللہ تم اسے طلاق دے دو ۔ مطلب یہ ہے کہ والدین کی فرمانبرداری کرو تاکہ ان کی دعاؤں سے دنیا میں پھولے پھلو اور آخرت میں جنت کے مستحق بنو۔

(3) ماں باپ کی نافرمانی سےبچے ۔ حدیث شریف میں والدین کی نافرمانی کو شرک وکفر کے ساتھ ذکر فرماکر یہ بتایا ہے کہ ان کی نافرمانی کرنا بدترین گناہ ہے ۔ رات دن کا مشاہدہ ہےکہ جو لوگ اپنے والدین کی نافرمانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور ان پر ذلت و خواری مسلط کردیتا ہے، نافرمان اولاد کی اس سے زیادہ او رکیا بدنصیبی ہوگی کہ مرنے کے بعد جنت اورجنت کی نعمتوں سےمحروم رہے گی۔

(4) اپنے ماں باپ کی خدمت کرے اور ان کی خدمت گذاری کو اپنے حق میں سعادت سمجھے ۔ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا کہ والدین کی خوشنودی اور رضامندی سے خدا خوش ہوتاہے اور ناراضگی سے خدا ناراض ہوتا ہے۔ ماں باپ کی خوشنودی جنت کے حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

(5) اپنے والدین کےساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے احسانات کو فراموش نہ کرے، ماں باپ کو اپنے لئے خدا کی نعمت سمجھے ان کی قدر کرے اور ان سے محبت کا برتاؤ کرے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ماں باپ کو محبت بھری نظروں سے دیکھنا حج مبرور کے برابرثواب رکھتا ہے۔

(6) کوئی کام ایسانہ کرے جس سے ان کو تکلیف پہنچے ، ان کی زبان سےکوئی ایسی بددعا نکلے کہ وہ اولاد کی بربادی کا باعث بنے۔

(7) ان کےانتقال کے بعد ان کے لئے دعا و استعفار کرے او ران کے دوستوں کےساتھ نیک سلوک کرے۔

نیک فرزند صدقہ جاریہ ہے

والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو پیار محبت سے پرورش کرے، اسلام میں اولاد کی محبت پسند دیدہ او رمرغوب ہے۔ رسول اللہ کو اپنی اولاد سےبے حد محبت تھی ۔

(1) لڑکوں او رلڑکیوں پر ترجیح نہ دے۔ بعض لوگ لڑکوں سے زیادہ محبت کرتے ہیں او رلڑکیوں کو حقیر وذلیل سمجھتے ہیں بلکہ بعض نادان ان کی پیدائش پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور ان کے وجود کو اپنے اوپر بار خیال کرتےہیں یہ بات اسلامی تعلیمات کےخلاف ہے۔ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ لڑکیوں سےمحبت کرنااور ان کو پالنا بڑے ثواب کا کام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب کا ذریعہ ہے۔

(2)اولاد کو حلال کمائی سے کھلائیں، حرام کی کمائی سے خود بھی بچیں اور اپنی اولاد کوبھی بچائیں ۔(3) اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے بارےمیں اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور اس بات کا شروع سے ہی خیال رکھیں کہ وہ دنیا وی تعلیم سے پہلے شرعی آداب سیکھیں ۔ اگر اس میں ذرا بھی کوتاہی برتی گئی اور اولاد مذہب او رمذہبی احکام سے دور رہی تو اس جرم میں قیامت کےدن اولاد ہی ماخوذ نہ ہوگی بلکہ والدین بھی پکڑے جائیں گے ۔ البتہ یہ خیال رکھنا چاہئے کہ لڑکوں کو زیادہ تعلیم دی جائے جو ان کےلئے مفید ہو او رلڑکیوں کو وہ تعلیم دی جائے جو ان کے حق میں نفع بخش ہو ،تاکہ وہ مستقبل میں بہترین مائیں بن کر اولاد کو صحیح معنوں میں مسلمان بنا سکیں ۔

(4) جب بچے اور بچیاں بالغ ہوجائیں تو جلد از جلد ان کی شادی کردیں تاکہ وہ اپنی عفت وعصمت کو محفوظ رکھ سکیں۔

نیک عورت

(1) بیوی کا فریضہ ہےکہ اپنے شوہر کی خدا داد عظمت کو ملحوظ رکھے اور اس کے ادب واحترام میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے او رنہ زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکالے جس سے سے تکلیف ہو۔حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کسی سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو عورتوں کو حکم دیا جاتاکہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔

(2) بیوی کو لازم ہے کہ اپنے شوہر سے سچی محبت کرے ، سچی محبت یہ ہے کہ شوہر کی ذات سے محبت ہو، مفلسی ہو یادولت مندی ، تنگ دستی ہو یا خوش حالی ہر حال میں شوہر کی محبت کا دم بھرے۔

(3) اللہ اور ان کےرسول کے حکم کےمطابق اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اس کی فرماں برداری کو اپنا فرض سمجھے ، اس کی خدمت سے دریغ نہ کرے اور زندگی کے ہر ہر قدم پر نہایت خندہ پیشانی سے اس کی خدمت کرکے اپنی وفاداری کی عملی ثبوت دے۔ خوب یاد رکھے کہ اگر وہ اپنےشوہر کی خدمت اور فرماں برداری میں کوتاہی نہ کرے گی تو ایک دن ایسا آئے گا کہ شوہر خود ہی اس کا گرویدہ ہوجائے گا۔

نیک مرد

(1)شوہر کا فریضہ ہے کے بیوی کا نفقہ ادا کرے یعنی کھانا کپڑا اور رہنے کےلئے مکان دے اور اس کو ان کی تمام ضرورت سےبے نیاز کردے جو اس کے لئے ضروری ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وسعت والے کو چاہئے کہ اپنی وسعت کےموافق نفقہ دے اورجس کی آمدنی کم ہو تو وہ اپنی آمدنی کے حساب سےنفقہ دے ۔ شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے او ربیوی کانفقہ دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے ۔ بعض شرپسند شوہر اپنی بیوی کو میکے میں چھوڑ دیتے ہیں پھر نہ اس کو خرچ دیتے ہیں اور نہ ہی طلاق دے کر آزاد کرتے ہیں ایسے لوگ سخت ترین مجرم ہیں ۔

(2) شوہر کی ایک بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنی بیوی کا مہر ادا کرے، بیوی کا مہر شوہر کے ذمہ واجب ہے اور اس کا ادا کرنا ضروری ہے ،اگر اس کے ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی کی تو قیامت کے دن حقوق العباد کے سلسلہ میں سخت گرفت ہوگی او رسزاپانی ہوگی۔

(3) شوہر کو چاہئے کہ بیوی کے جذبات کا پاس کرے اور زیادہ دنوں تک اپنی بیوی سےجدانہ رہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےسپہ سالار وں کے نام پر حکم جاری کردیا تھاکہ جو شخص شادی شدہ ہو وہ اپنی بیوی سے چار مہینے سےزیادہ جدا نہ ہو۔

(4)شوہر کااپنی بیوی کو ستانا ، گالیاں دینا اور اس پر ظلم وزیادتی کرنا بدترین گناہ ہے۔ جو شخص اپنی بیوی پر ظلم و تعدی کرتا ہے وہ خود بھی اپنی زندگی کے سکون اوراطمینان کو برباد کرکے پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ سب سے زیادہ براآدمی وہ ہے جو اپنی بیوی کو ستائے۔

(5)اپنی بیوی کےساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئے ،محبت کا برتاؤ کرے اور جہاں تک ہوسکے اپنی ذات سےخوش رکھنے کی کوشش کرے ، باطنی تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے محبت کے طریقے اختیار کرے اور اس کی دلجوئی اور دل بستگی کےلئے کسی وقت بے تکلف ہوکر ہنسی مذاق کی باتوں سے اسے خوش کرنے کی بھی کوشش کرے تاکہ دونوں ایک دوسرے سے اس طرح گھل مل جائیں کہ ایک روح دو قالب ہوجائیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی دلجوئی کا بہت خیال رکھتےتھے ۔

(6)شوہر کو چاہئے کہ اپنی بیوی کو شریک زندگی سمجھ کر اس سے محبت کرے ۔ حدیث شریف سےثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما سےبے حد محبت تھی ، ان کے انتقال کےبعد بھی ان کو یاد فرمایا کرتےتھے۔ اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے آپ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف خیال کیا کرتے تھے۔

بہنوں کے حقوق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بار بار ہدایت فرمائی۔ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ بہنوں کی پرورش کرنا اور ان کےاخراجات کا کفیل ہونا بڑے ثواب کاکام ہے اور جنت میں جانے کاذریعہ ہے۔ فرمایا کہ جس شخص نےدو بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو میں اس کو اپنے ساتھ جنت میں لے جاؤں گا۔ لہٰذا بھائیوں کو لازم ہےکہ اپنی بہنوں کےساتھ اچھا سلوک کریں اور ان کےحقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔

بھائیوں کے حقوق

چھوٹےبھائی کوچاہئے کہ بڑے بھائی کاادب و احترام ملحوظ رکھے اور اس کو باپ کی طرح سمجھے او ربڑے بھائی کو چاہئے کہ چھوٹے بھائی سےشفقت ومحبت کا برتاؤ کرے اور اس کو اپنی اولاد کی طرح سمجھے ۔ حدیث میں ہےکہ جو شخص چھوٹوں سے محبت و مہربانی کا برتاؤنہ کرے او رچھوٹے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ میرے امت سے نہیں ہے۔بھائیوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی تاکید فرمائی ہے۔

خالہ کا حق

اسلام نے خالہ کو ماں کی منزلت میں بتایاہے اس لئےمسلمان کو چاہئےکہ اپنی خالہ کو اپنی ماں کی طرح سمجھے اور اس کی تعظیم و توقیر کرے۔

چچا کا حق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ چچا باپ کی مانند ہے ۔ ایک بار حضرت عباس رضی اللہ عنہ کےچہرے پر غصہ کے آثار دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہر ہ مبارک سرخ ہوگیا اور فرمایا خدا کی قسم ! کسی کےدل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ آپ سے اللہ و رسول کےلئے محبت نہ کرے۔پھر فرمایا اے لوگو! جس نے میرے چچا کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی ،ہر شخص کاچچا باپ کی مانند ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ چچا کو باپ کی طرح سمجھیں او ران کا ادب واحترام ملحوظ رکھیں اور ان کےساتھ حسن سلوک کریں۔

رشتہ داروں کے حقوق

ہر مسلمان پر اپنے رشتہ داروں کے حقوق ہیں اور ان کا ادا کرنا ضروری ہے ۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔ فرمایا جو شخص یہ پسند کرے کہ ا س کےرزق میں زیادتی اور عمر میں برکت ہو تواس کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرناچاہئے ۔ اور فرمایا رشتہ داروں کو پہچانو تاکہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرو اس لئے رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرناآپس کی محبت ،مال ودولت کی زیادتی او رعمر میں برکت کاذریعہ ہے اور فرمایا رشتہ داروں کے حقوق کو پامال کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ان احادیث کریمہ سے معلوم ہوا کہ رشتہ دراوں کےساتھ نیک سلوک کرنے سےانسان کی عمر میں برکت ہوتی ہے، دولت میں زیادتی ہوتی ہے، آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے ۔رشتہ داروں سےصلہ رحمی نہ کرنے والا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ایسا مجرم ہے کہ اپنے جرم کی سزا بھگتنے سےپہلے جنت اور اس کی نعمتوں سےمحروم رہے گا۔ رسول پاک خود بھی اپنے رشتہ داروں سے محبت کرتے اور ان کےحقوق کا لحاظ رکھتے تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں اپنے آپ کسی رشتہ دار سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھاجتنا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے رشتہ داروں سےتھی۔

پڑوسیوں کے حقوق

انسان کا اپنے ماں باپ ،اہل و عیال اور دیگر رشتہ داروں کے علاوہ پڑوسیوں سےبھی تعلق ہوتا ہے، اس لئے اسلام نے ان کے حقوق بھی مقرر کئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بار بار تاکید فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ جبرئیل امین مجھے پڑوسی کےبارےمیں بار بار تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں پڑوسی کو پڑوسی کے ترکہ میں وارث نہ بنادیں ۔ اور فرمایا خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہوگا ۔ صحابہ کرام نے پوچھا کون؟ تو فرمایا وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ رہے اور فرمایا جو شخص اللہ و رسول پر ایمان لایا ہے اس کو چاہئے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔ اور فرمایا جب شور با پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈال دیا کرو اور اس میں سےکچھ اپنے پڑوسیوں کو بھیج دیا کرو۔ اور فرمایا وہ مومن نہیں جو خود تو سیر ہوکر کھائے او ربرابر میں اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےپوچھا یارسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہوں تو ان میں میرے سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازے سے زیادہ قریب ہو وہی زیادہ مستحق ہے۔ اور فرمایا کہ اگر تیرے پڑوسی تیر ی تعریف کرتے ہوں تو توبھلا ہے اور اگر برا بتلاتے ہوں تو تو براہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نےکہایا رسول اللہ ! فلاں عورت کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ نماز روزہ کی بڑی پابند ہے اور بہت زیادہ خیرات کرتی ہے مگر وہ اپنی پڑوسن کو زبان سےتکلیف پہنچاتی ہے ۔ آپ نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گی۔ اس نے کہا کہ فلاں عورت نفلی نماز اور نفلی روزے کم ادا کرتی ہے مگر اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ستاتی نہیں ۔ آپ نے فرمایا وہ جنت میں جائے گی ۔ ان حدیثوں سےمعلوم ہوا کہ پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کی بڑی تاکید ہے۔

مہمان کے حقوق

مہمان کی خاطر تواضع کرنا سنت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جب کوئی مہمان آتا تو آپ اس کی خاطر تواضع فرماتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ جب تمہارے یہاں کوئی مہمان آئے تو اس کی مہمانی کا حق اداکرو۔ فرمایا کہ جو شخص خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لایا ہے اس کو مہمان کی عزت کرنی چاہئے ۔ اور فرمایا جو شخص اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اکرام کرے ۔ ایک دن رات اس کا جائزہ ہے(یعنی ایک دن اس کی پوری خاطرداری کرے ، اپنے مقدور بھر اس کےلئے تکلیف کاکھانا تیار کرائے)ضیافت تین دن ہے یعنی ایک دن کے بعد ماحضر پیش کرے اور تین دن کے بعد صدقہ ہے۔ مہمان کو کسی کےیہاں اتنازیادہ قیام نہ کرناچاہئے کہ اس کا میزبان پریشان ہوجائے ۔

یتیموں کے حقوق

یتیموں سےمحبت کرنا،ان کو کھاناکھلانا ،تعلیم دلانا اور ان کے ساتھ اچھاسلوک کرنا بڑے ثواب کا کام ہے اور خدا اور رسول کی خوشنودی کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں مسلمانوں کو بار بار ہدایت فرمائی ہے۔ فرمایا جو شخص یتیم کی پرورش کرتاہے خواہ وہ یتیم اپنا ہو یا غیر تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ اور فرمایا جو شخص کسی یتیم کو اپنے کھانے میں شریک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں ضرور داخل کرے گا۔ او ر فرمایا مسلمان کا سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں یتیم کےساتھ احسان کیا جائے اور سب سےبرا گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جائے اور فرمایا جوکوئی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر بال کے بدلے اس کونیکی عطاکرتاہے۔

بیواؤں اور مسکینوں کے حقوق

بیواؤں او رمسکینوں کی خبر گیری ،ان سے ہمدردی اور ان کی مدد کرنا بھی بڑے ثواب کا کام ہے اور خدا اور اس کےرسول کی خوشنودی کابہترین ذریعہ ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیواؤں او رمسکینوں کی مدد کے لئے کوشش کرنے والاخدا کی راہ میں جہادکرنے والے کی مانند ہے ۔ راوی کا بیان ہےکہ میں خیال کرتاہوں کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ شخص اجر و ثواب میں اس شحص کی مانند ہےجو ہمیشہ دن میں روزہ رکھتا ہو اور رات میں نوافل پڑھتا ہو ۔ معلوم ہواکہ خدا کی راہ میں نفلی جہاد کرنے ، ساری رات نوافل پڑھنے اور دن بھر نفلی روزے رکھنے میں جتنا ثو اب ہے اسی کے برابر بیواؤں او رمسکینوں سےہمدردی رکھنے اور ان کی خدمت کرنے کا ثواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیواؤں او رمسکینوں کا کام کردینے میں ذرا بھی عارنہ تھا ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بیواؤں ،غریبوں او رمحتاجوں کی خدمت ،ان سے ہمدردی او ران کی مدد کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔

بوڑھوں کے حقوق

جوانوں کو چاہئے کہ اپنے بوڑھوں اور سن رسید ہ لوگوں کے بڑھاپے او رمعمر ہونے کی وجہ سے عزت کریں ۔ ان کے سامنےادب و لحاظ سےرہیں اور جہاں تک ممکن ہو ان کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نوجوان کسی بوڑھے کی اس کے بوڑھاپے کی وجہ سے عزت کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کے بڑھاپے میں دوسرے نوجوانوں کو اس کی عزت کےلئے مقرر کردے گا۔ اور فرمایا بوڑھے مسلمان کی تعظیم و تکریم بھی اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں سے ہے ،اور فرمایا جو شخص بڑوں کا ادب و احترام نہیں کرتا وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔

عام مسلمانوں کےحقوق

ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اخوت اسلامی کا رشتہ ملحوظ رکھے ۔ ہر مسلمان کو اپنابھائی سمجھے، کسی مسلمان پرظلم نہ کرے۔ اگر کوئی دوسرا ظلم کرے تو مسلمان بھائی بے مدد نہ چھوڑے بلکہ اس کی مدد کرے۔ اپنے حاجت مند بھائی کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرے۔ کسی مسلمان بھائی کو مصیبت میں دیکھے تو اس کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کرے ، دوسرے مسلمان کی پردہ پوشی کرے یعنی اس کے پوشیدہ عیبوں کو کسی پر ظاہر نہ کرے۔ کسی مسلمان کے جان ومال اور عزت و آبر و کےدرپے نہ ہو۔ کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچا ئے اور نہ دھوکہ دے۔ کسی مسلمان سےحسد نہ کرے ،بغض و کینہ نہ رکھے اور اس کی غیبت نہ کرے، کسی مسلمان سے تین دن سےزیادہ سلام و کلام ترک نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرے نہ اس کو بے مدد چھوڑے ۔ اور فرمایا جو مسلمان اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرے گا ۔ اور فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی مصیبت دور کرے گا تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت کو اس سے دور فرمائے گا۔ اور فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کےدن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اور فرمایا مسلمان کی جان اس کامال اور اس کی عزت و آبرو لینا مسلمان پر حرام ہے۔ اور فرمایا جو کسی مسلمان کو ضرر میں ڈالے یا دھوکہ دے وہ ملعون ہے۔ اور فرمایا تم لوگ آپس میں ایک دوسرے پر حسد نہ کرو او رنہ ایک دوسرے سے بغض و کینہ رکھے او رنہ ایک دوسرے کی غیبت کرے۔ اور فرمایا کسی مسلمان کو کسی مسلمان سےتین دن سے زیادہ سلام و کلام ترک کرنا حلا ل نہیں ۔

عام انسانوں کے حقوق

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہر بانی کرنے والے جو لوگ ہیں ان پر خدائے تعالیٰ مہربانی فرماتا ہے ۔ تم زمین والوں پر مہربانی کرو اللہ تعالیٰ اور آسمان کے فرشتے تم پر مہربانی کریں گے۔ اس حدیث شریف کا مطلب ظاہر ہے کہ اگر تمہارے خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی کرے اور نظر رحمت فرمائے تو تم کو چاہئے کہ ہر انسان پر خواہ وہ دوست ہو یا دشمن، مسلم ہو یا کافر مہربانی کرو۔ مثلاً بھوکوں کوکھانا کھلاؤ، ننگوں کو کپڑا پہناؤ ، بیماروں کی تیمارداری کرو، اندھوں کو راستہ بتاؤ، مصیبت زدوں کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کرو۔ غرض یہ کہ ہر انسان کے ساتھ حسن اخلاق سےپیش آؤ او ر جہاں تک ہوسکے اس کی مدد کرو۔ یہ بڑے اجر و ثواب کاکام ہے اور یہی انسانیت کا تقاضہ ہے۔ جس انسان کے دل میں خدا کے بندوں پر مہربانی کرنے کا جذبہ نہیں وہ خدا کی رحمت سے محروم ہے۔

17 جون،و2016 بشکریہ : روز نامہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-usman-dildar-qasmi/fulfilment-of-huquq-ul-ibaad--way-to-jannah--حقوق-العباد-کی-ادائیگی-جنت-کا-راستہ/d/107680

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..