certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (21 Aug 2019 NewAgeIslam.Com)



Does Maulana Tauqir Raza Barailvi Understand The Implications Of Triple Talaq Act? کیا مولانا توقیر رضا بریلوی طلاق ثلاثہ قانون کے مضمرات کو سمجھتے ہیں؟ وہ مُصِر کیوں ہیں کہ اب بھی طلاق ثلاثہ کا مطلب غیر رجعی فوری طلاق ہے؟

 

 

 

Transcribed by New Age Islam Edit Bureau

 

تین طلاق بل پر مولانا توقیر رضا اور مولانا احمد رضا سمنانی کے درمیان فون پر بات چیت

مولانا توقیر رضا : تین نہیں مانتا تھا وہ ایک مانتا تھا تین کو-

مولانا احمد رضا سمنانی: جی حضور

مولانا توقیر رضا: صحیح ہے نا

مولانا احمد رضا سمنانی: جی حضور بلکل صحیح فرما رہے ہیں  حضور تو وہی مطلب جب میں نے آج دیکھا تو مجھے بہت تعجب ہوا کی حضرت کا ایسا بیان کیسے ہو سکتا ہے؟

مولانا توقیر رضا: نہیں نہیں بلکل صحیح آیا ہے جو آیا ہے-

مولانا احمد رضا سمنانی : جی

مولانا توقیر رضا: ایسا ہے کہ ہماری لڑائی یہ تھی کی تین کو تین مانو وہ کہتے تھے کی تین نہیں ایک ہے اب جب یہ بل آ گیا اور انہوں نے یہ کہا کہ تین طلاق پر سزا دی جاے گی تو یہاں تو انہوں نے تین کو تین مان لیا نا تو ہم تو یہاں جیت گے اپنی لڑائی- لوگوں کو اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے-

مولانا احمد رضا سمنانی : لیکن حضور وہیں پر یہ بات بھی تو آتی ہے کہ پھر وہاں شادی ٹوٹتی نہیں تو پھر تعلقات کیسے رہیں گے میاں بیوی کے؟

مولانا توقیر رضا : میاں بیوی کے تعلقات کیسی بات کرتے ہیں آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں جب اسنے تین طلاق دے دی تو تعلق رکھے گا کیسے؟

مولانا احمد رضا سمنانی : نہیں حضور اس بل میں تو ایسا ہے کہ از روے کورٹ تو تعلقات قائم ہو سکتا ہے پھر آنے کے بعد شادی برقرار رہ سکتی ہے-

مولانا توقیر رضا : نہیں نہیں جو اسلام کا ماننے والا ہے قانون شریعت کا ماننے والا ہے طلاق دینے کے بعد اس پر بیوی حرام ہو گئی-

مولانا احمد رضا سمنانی : جی حضور بلکل صحیح فرما رہے ہیں-

مولانا توقیر رضا: تو سنیے طلاق بدعت پر انہونے بل بنایا ہے طلاق احسن اور طلاق حسن پر نہیں بنایا ہے طلاق بدعت جو نشے میں اور غصّے میں ہوتی ہے اور ایسی طلاق پر حضور نے بھی ناگواری کا اظہار فرمایا تھا اور حضرت عمر کے زمانے میں ایسی طلاق پر کوڑے بھی لگاے گئے تھے تو ایسی طلاق والے کو اگر آج سزا دی جاتی ہے تو ہماری لڑائی تو یہ تھی کہ نشے میں بھی یا غصّے میں بھی جیسے بھی اس نے طلاق دی تو طلاق ہو گئی یہ لوگ نہیں مانتے تھے لیکن اب جب بل آ گیا تو انہونے یہ تسلیم کر لیا کہ جو تین طلاق دے گا اسکو سزا دی جاے گی تین سال کی اسکا مطلب سزا تو وہ تب دینگے نا جب تین کو تین مان لینگے بس ہم تو اپنی لڑائی جیت گئے ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ مخالفت کیوں کر رہے ہیں سمجھ نہیں پا رہے ہیں یا کیا بات ہے-

مولانا احمد رضا سمنانی:  اس بل کی مخا لفت  میں تو     خصوصا ہمارے سعید نوری صاحب  جو رضا اکیڈمی  کے چییر مین ہیں وہ بھی آے  ہیں-

مولانا توقیر رضا: کچھ لوگوں کو تو ایسا ہوتا ہے نا  کہ صرف دکھاوا  کرنا ہوتا ہے  ہر  معاملے  میں مذہبی جذبات بھڑکا کے  بھیڑ  لگانا اور فوٹو کھچوانا اور اخبار میں نام چھپوانا اس چیز کا شوق ہوتا ہے بعض لوگوں کومخالفت بلا وجہ ہو رہی ہےاصل میں اس چیز کی حمایت ہونی چاہیے جس چیز پر ہمیں خوشی منانا چاہیے ہم اس پر ناراض ہو رہے ہیں- ہم لڑائی اپنی جیتے ہیں یہ ظاہر ایسا کر رہے ہیں جیسے ہم ہارے ہیں-

مولانا احمد رضا سمنانی : جی حضور  ابھی اسجد  رضا صاحب کا بھی بیان آیا تھا کچھ دن پہلے وہ تو ہمارے سنیت کی  جاماز گاہ ہیں-

مولانا توقیر رضا: آپ یہ بتاو آپ پڑھے لکھے آدمی ہوآپ کی کیا سمجھ میں آتا ہے اس میں ؟

مولانا احمد رضا سمنانی : میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ آج تک جو نا انصافی ہو رہی تھی عورتوں کے ساتھ تو اس میں کچھ نا کچھ تو سدھار آے گا –

مولانا توقیر رضا: آج تک جو ناانصافی ہو رہی تھی جو غیر ذممیدار طلاقیں ہو رہی تھیں نشے میں طلاقیں ہو رہی تھیں سارے علماء اورمفتی کی ذمہ داری نہیں تھی کہ لوگوں میں بیداری لاتے کہ  یہ کام مت کرو یہ گناہ ہے-

مولانا احمد رضا سمنانی: بیشک انہیں کا یہ فیلیور ہے جو آج یہ ہو رہا ہے-

مولانا توقیر رضا: بچیوں  کی زندگی برباد کر رہے تھے اب ہمیں شوہر بن کر نہیں لڑکی کا باپ اور بھائی بن کر سوچنا چاہیےہاں یہ لوگ انکا مجھے سمجھ نہیں آتایہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور کیوں ایسا کر رہے ہیں سیدھی بات یہ ہے کہ ہم کتنی مخالفت کریں  یہ بات سچ ہے کہ انہونے قانون جو بنایا ہےوہ بنایا مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے ہی ہے لیکن الله تو جس سے چاہے کام لے لے نا  ہمارے مولوی اور ہمارے علماء جو کام نہیں کر سکےوہ کام الله نے حکومت سے لے لیا ہماری بچیوں کا مستقبل محفوظ ہوگا اس سے اور یہ  غیر ذمہ دار طلاقوں پر  پر روک لگے گی-

مولانا احمد رضا سمنانی: لیکن حضور آپ جیسے لوگوں سے ایک امید یہ بھی ہے کیوں  کہ آپ کے پاس پلیٹ فارم بھی ہی اور اثر و رسوخ بھی ہےہر اعتبار سے تو آپ سے امید یہ ہے کہ آپ ایک لایہ عمل تیار کریں جیسا کہ ابھی کورٹ نے کہا  کی شادی نہیں ٹوٹتی اسکے بعد پھر جب جیل سے آینگے تو جب کورٹ کے مطابق جب شادی ٹوٹی نہیں  تو پھر وہ اپنے مایکے جاےگی نہیں تو پھر وہ اپنے شوہر کے ہی گھر  رہے گی  توپھر ایسا لایہ عمل تیار کریں جس سے  حرام کاریاں نہ ہوں-

مولانا توقیر رضا : آپ ابھی بھی بات کو نہیں سمجھے- سزا  تب ہوگی جب جرم ثابت ہو جاۓ گا اور جرم کیا ہوا کہ تین طلاق  اور تین طلاق جب مان لی گئی تو اسکا مطلب یہ کہ  طلاق ہو گئی اسے سزا تبھی ملے گی جب  تین طلاق ثابت ہو جاۓ اور یہ سزا حضرت عمر نے بھی کوڑے لگا کر دی ہے اور جب طلاق ہو گئی تو پھر اسکے ساتھ رہنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہےبس اتنا اندیشہ ہےکہ طلاق ہو جانے کے بعد جب دونوں مجسٹریٹ کے سامنے  جب دونوں حاضر ہونگے تو مجسٹریٹ انھیں سمجھاے گا کہ صلح کر لوتو اندیشہ یہ ہے کہ شوہر جو کہ طلاق دے چکا ہے وہ    سزا کے ڈر سے کہیں سمجھوتا نہ کر لے تب حرام کاری ہوگی اگر شو ہر سمجھوتا کر لے گا سمجھ رہے ہیں آپلیکن یہ حرام کاری قانون نے نہیں کرائی یہ وہ مسلمان کر رہا ہے- اور پھر ایسے مسلمان  لاپرواہی  غیر ذمہ داری اصل میں  ہماری ہے کیونکی ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ شراب پینا حرام ہے پھر بھی شراب مسلمانوں  میں عام ہوتی جا رہی ہے ذمہ دار کون ہے؟ یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے ہم یہ کہیں شراب پر پابندی لگائی جاۓ شراب بیچنا بند کیا جاۓ تاکہ ہمارے بچے محفوظ ہو جاے ہم اپنے بچوں کو نہیں روک پا رہے ہیں تو ہماری غلطی ہے نا ہم شراب بیچنے والے کی غلطی بتا رہے ہوں- اصل میں شراب بیچنے والے کی غلطی نہیں غلطی ہماری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو روک نہیں پا رہے ہیں-بلکل ایسے ہی یہ لوگ اس طلاق بل کے ساتھ کر رہے ہیں کہ بل کے خلاف مہم  چلا رہے ہیں بلکہ انکو اپنے بچوں کو طلاق سے روکنا چاہیے- ایسی کوئی مہم نہیں چلاتے حکومت کے خلاف مہم چلانے کا کیا مطلب مہم چلائے  اپنے بچوں میں بیداری لاۓ اپنا کام چاہتے ہیں کہ حکومت کرے  بھائی یہ شراب کی دکانیں بند کرانے سے کام نہیں چلے گا جب تک ہم خود اپنے بچوں کو نہیں روکیں گےبچے نہیں رکینگے-

مولانا احمد رضا سمنانی: حضور میں آپ سے معافی چاہتے ہوئے  اس بات کو تحقیق کرنا اسلئے چاہا کہ کئی ہمارے لوگ ایسے ہیں جو آپ کے پارٹی سے جڑے ہوئے ہیں پچھلی بار آپ ہماری constituency سے الیکشن بھی لڑے تھے-

مولانا توقیر رضا: کہاں سے ہیں آپ؟

 مولانا احمد رضا  سمنانی: بایسی پو رنیا سے ہوں میں حضور- میں آپکا ایک عدنا سا خادم ہوں بہت سارے لوگ ہم سے  جڑے ہوئے تھے اور غالب  %  30ووٹ میں نے آپکی پارٹی کو دلوایا تھا- لوگ دھرنا پردرشن کرنے والے تھے کہ حضرت نے ایسا کیسے بول دیا  جب کی سارے علماء خلاف تھے – مجھے آپسے تشفّی  بخش جواب ملا-

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/maulana-tauqir-raza-barailvi,-tr-new-age-islam/does-maulana-tauqir-raza-barailvi-understand-the-implications-of-triple-talaq-act?-why-is-he-insisting-that-triple-talaq-still-means-irrevocable-instant-divorce?/d/119480

 

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-tauqir-raza-barailvi/does-maulana-tauqir-raza-barailvi-understand-the-implications-of-triple-talaq-act?--کیا-مولانا-توقیر-رضا-بریلوی-طلاق-ثلاثہ-قانون-کے-مضمرات-کو-سمجھتے-ہیں؟-وہ-مُصِر-کیوں-ہیں-کہ-اب-بھی-طلاق-ثلاثہ-کا-مطلب-غیر-رجعی-فوری-طلاق-ہے؟/d/119528

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content