New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:43 PM

Urdu Section ( 26 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Islam and Protection of Environment – Part Two (اسلام اور ماحولیات کا تحفظ (حصہ دوم


مولانا ندیم الواجدی

(گذشتہ سے پیوستہ)

17  جولائی، 2012

قرآن کریم نے اپنے مخصوص اسلوب میں انسان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ زمین کو برباد کر کے اس کے فوائد سے محروم نہ ہو، قرآن کریم نے اس تباہی کو ‘‘ فساد فی الارض ’’ کی ایک مخصوص اصطلاح سے تعبیر فرمایا ہے: وَلاَ تُقُسِدُوْ ا فِی الْاَ رْ ضِ بَعْدَ اِصْلاَ حِھَا ( الاعراف :86) ‘‘زمین میں اس کی درستگی کے بعد فساد مت پھیلاؤ ’’ فساد ایک وسیع مفہوم کا حامل لفظ فساد کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے : ‘‘ اصل لغت میں فساد کے معنی ہیں کسی چیز کا اپنی حالت سلیم سے بدل کر خراب حالت پر آجانا اور اعتدال سے نکل جانا  ، اس کی ضد صلاح ہے، چنانچہ کہتے ہیں دودھ فاسد ہوگیا، پھل فاسد ہوگئے ، یا ہوا فاسدہوگئی، یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ان میں تغیر واقع ہوجائے یا بدبو پیدا  ہوجائے ، اور وہ چیز یں استعمال کے قابل نہ رہیں، پھر اس لفظ کو ان تمام چیزوں میں استعمال کیا جانے لگا جو راہ اعتدال سے نکل جائیں جیسے فتنہ، ظلم، تعدی، وغیرہ۔

’’(مفردات القرآن مادہ فسد) زمین کی موجودہ تبدیلیوں پر بھی اس معنی کر فساد کا اطلاق ہوسکتا ہے کہ اس کا  جو اصل نظام اعتدال و توازن ہے وہ متأثر ہوتا جارہا ہے  ، اور اس  کی جو حقیقی افادیت ہے وہ رفتہ رفتہ ختم ہو تی جارہی ہے ، جیسا کہ ابھی بتلا یا گیا کہ غلّے کم پیدا ہورہے ہیں ، آبی ذخائر آلودہ ہورہے ہیں ، جانور وں کی نسلیں ختم ہوتی جارہی ہیں، زمین کا درجہ حرارت نقصان دہ حد تک بڑھتا جارہا ہے، یہ سب فساد فی الارض کی مختلف صورتیں ہیں، قرآن کریم بہت پہلے یہ واضح کرچکا ہے کہ زمین میں فساد کی جو بھی شکلیں ہوں وہ سب انسانی شرارتوں کے نتیجے میں وجود پذیر ہوتی ہیں، فرمایا : ‘‘خشکی او ر تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل رہا ہے۔’’( الرو م:41)

 قرآن کریم کی ایک آیت میں اللہ کے عطا کردہ رزق میں سے کھانے پینے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور زمین میں مفسد بن کر پھیلنے سے بھی روکا گیا ہے، ‘‘ کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق سے اور زمین پر فساد پھیلانے والے بن کر مت پھرو ’’ (البقرہ :60) اس کا واضح مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھانے پینے کی اجازت سے منع نہیں کیا، بلکہ حدّ  اعتدال میں رہتے ہوئے کھانے پینے کی اجازت دی، البتہ حد اعتدال سے نکلنے کو منع فرمایا اور اسے فساد فی الارض سے تعبیر کیا، گویا غذائی اشیاء مأ کولات و مشروبات میں اسراف وفضول خرچی کو پسند نہیں کیا گیا اور اسے فساد جیسے لفظ سے تعبیر کر کے انسان کو اس کی ذمہ داری سے آگاہ کیا گیا کہ وہ ان چیزوں کی حفاظت کرے اور انہیں  اپنی فضول خرچیوں سے ضائع نہ کرے۔ ماحولیاتی آلودگی کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے پانی پر دھیان جاتا ہے، پانی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا زندہ ٔ جاوید معجزہ ہے جس کی حقیقت کی تہہ تک پہنچنا انسان کے بس سے باہر ہے ، اللہ  تعالیٰ نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا، اور پانی ہی میں اس کی زندگی رکھی، ارشاد فرمایا: ‘‘ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنا یا ہے، کیا پھر بھی ایمان نہیں لاتے ۔’’( الانبیاء: 30) سائنس بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے کہ تمام جاندار اجسام کی حیات کا مدار پانی پر ہے، زندہ  جسم میں پانی کی کار کردگی کا حصہ دوسری چیزوں کے مقابلے میں نوے فیصد زیادہ ہے ، غذا اور ہوا بھی پانی ہی کے ذریعے جسم میں تحلیلی  عمل سے گزرتی ہیں، بلکہ جسم کے ظاہر اور باطن سے مضر عناصر کے ازالے کے لیے بھی پانی کی کارکردگی اہمیت رکھتی ہے۔

 قرآن کریم پانی کی اہمیت کو بار بار مختلف انداز میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان سمجھ لے کہ یہ کوئی معمولی اور بے حقیقت چیز نہیں ہے، بلکہ انسانی سرگرمیوں کی اساس اور بنیاد پانی پر  ہی قائم ہے ، ایک جگہ چیلنج بھرے انداز میں انسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ‘‘ آپ کہہ دیجئے کہ اچھا یہ بتلاؤ کہ اگر تمہارا پانی نیچے اتر کر غائب ہوجائے تو وہ کون ہے جو تمہارے پاس پانی کا چشمہ لے آئے ۔’’( الملک : 30) ‘‘اچھا پھر یہ بتلاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم، اگر ہم چاہیں تو اس کو کڑوا کر ڈالیں ، تم شکر گزار کیوں نہیں بنتے۔’’ (الوافعہ:68،69،70)۔پانی کی اسی اہمیت اور قدر وقیمت کی وجہ سے اسلام نے اس کی اضاعت سے منع کیا ہے، اسے آلودہ کرنے سے روکا ہے،یہاں تک کی ایسی ذخیرہ اندوزی پر بھی پابندی لگائی ہے جو کسی دوسرے کے کام نہ آسکے، اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات بہت واضح ہیں اور صاف ہیں، حدیث شریف میں ہے کہ لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں : ‘‘ پانی ، گھاس  اور آگ’’( ابوداؤد :2/300، رقم الحدیث :3477) ۔

اسلام کی نظر میں پانی کی کس قدر اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پنچ وقتہ نمازوں کے لیے جو وضو کی جاتی ہے اور اس میں جو پانی استعمال کیا جاتاہے اسلام نے اس پر بھی نظر رکھی ہے، او رنماز پڑھنے والے بندگان خدا کو حکم دیا ہے کہ وضوتو کریں مگر اسراف نہ کریں ، روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ صحابی  حضرت سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے، سعد رضی اللہ عنہ! کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے اعضاء وضو پرکچھ زیادہ ہی پانی ڈال رہے ہیں ، یہ دیکھ کر فرمایا ! لا تسرف اے سعد اسراف نہ کرو، سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا ر سول اللہ ! کیا پانی میں بھی اسراف ہوتا ہے ، فرمایا ہاں، اگر چہ تم بہتی  ہوئی نہر پر ہو ، (سنن ابن ماجہ :1/147، رقم الحدیث : 425) ایک صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کا طریقہ سکھلایا ، اور ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا، اس کے بعد فرمایا : جس نے مذکورہ تعداد پر اضافہ کیا یا کم کیا اس نے برا کیا ، ظلم کیا، (سنن أبی داؤد :1/146، رقم الحدیث :422)۔

 اسلام نے پانی کی اہمیت کو کس کس طرح لوگوں کے ذہنوں میں اجاگر کیا اس کا اندازہ اس طرح کیجئے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہر ے ہوئے پانی او ربہتے ہوئے پانی دونوں میں پیشاب وغیرہ کرنے سے منع کیا ، حالانکہ  بہتے ہوئے پانی میں تھوڑی بہت نجاست سے اس کی طہارت متأثر نہیں ہوتی لیکن وہ آلودہ ہوجاتا ہے ، اور یہ آلودگی اس وقت اور بڑھ سکتی ہے جب لوگ بہتے ہوئے پانی میں پیشاب وغیرہ کرنے کو اپنی عادت میں شامل کرلیں ، پیشاب پر دوسری نجاستوں اور فضلا ت کو بھی  قیاس کیا جاسکتا ہے ، حضرت جابرابن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے، ( المعجم الا وسط للطبرانی: 2/208، رقم الحدیث :1749)۔

 دوسری حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں : سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا !تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جس میں غسل کیا جائے پیشاب نہ کرے، ( صحیح بخاری :1؍249، رقم الحدیث : 232) آج بھی بہت سے علاقوں میں پانی کی قلت ہے، وہاں لوگ پانی ذخیرہ کر نے کے لئے گڑھے کھود لیتے ہیں ، اور ان میں بارش کا پانی یا زمین سے نکلا ہوا پانی جمع کر لیتے ہیں ، ایسے پانی میں پیشاب کرنے سے یا گندگی ڈالنے سے وہ پانی ناقابل استعمال ہوسکتا ہے ، ممکن  ہے کچھ لوگ اسے وضو یا غسل میں استعمال کرنا چاہتے ہوں، جانوروں کو پلانا چاہتے ہوں ، ویسے بھی گندے پانی سے طہارت حاصل نہیں  ہوسکتی  ، اور ایسے پانی کا استعمال  جلدی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔  اسلام نے پانی کے تحفظ کو بڑی اہمیت دی ہے، سو کر اٹھنے کے بعد دھوئے بغیر برتن میں ہاتھ ڈالنے کی ممانعت وار د ہے، (صحیح مسلم :1؍ 160، رقم الحدیث :445)یہاں تک کہ برتن میں سانس لے کر پانی پینا بھی ممنوع ہے، (صحیح البخاری  :1؍159، رقم الحدیث :153) کیوں کہ سانس کے ذریعے جراثیم پانی کے برتن میں داخل ہوسکتے ہیں، جس سے بچا ہوا پانی بھی گندا ہوسکتا ہے، اور اگر کوئی اسے استعمال کرے تو پیٹ کی بیماریاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔

 حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک نقل کرتے ہیں کہ ‘‘پانی کا برتن ڈھانپ دیا کرو اور مشکیز ے کا منہ باندھ دیا کرو۔’’( صحیح مسلم :6؍ 105، رقم الحدیث : 5364) یہ ہدایات تو پانی کے سلسلے میں ہیں، جس کے تحفظ کے معاملے میں ساری دنیا پریشانی میں مبتلا  ہے، اسلام نے ماحولیات سے متعلق کوئی پہلو بھی ایسا نہیں چھوڑا جس کے متعلق اس کی واضح ہدایات موجود نہ ہوں ، مثال کے طور پر ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے شجر کاری کی مہم کو اس وقت تقویت پہنچتی  ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بہت پہلے ادھر توہ دلا چکے ہیں فرمایا : جس مسلمان نے بھی کوئی درخت لگایا ، پھر اس درخت کے پھل کسی انسان نے کھائے یا کسی جانور نے اس کے پتے کھائے تو یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہوگی، (صحیح البخاری :5؍2239، رقم الحدیث :6017) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ‘‘ جس کسی نے درخت لگایا پھر اس کے ساتھ اس کی حفاظت او رنگرانی کی، یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگا ، جس کو بھی اس درخت کے پھل ملیں  گے اس کے لیے اللہ کے نزدیک صدقہ ہوں گے، (مسند احمد بن حنبل :4؍61، رقم الحدیث :16636)۔

 ایک اور حدیث اسی طرح کی ہے ، فرمایا : اگر قیامت برپا ہو جائے او ر تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو اور وہ اسے لگا سکتا ہو تو لگاددینا چاہئے ، (مسند ابن حمید :1؍366، رقم الحدیث :6216) حیوانات کو غیر ضروری طور پر مارنا بھی ممنوع ہے، بلکہ ان کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آنا پسند یدہ امرہے، حضرت مغیرہ ابن شعبہ رضی  اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم چند انصار کے پاس سے گزرے، انہیں دیکھا کہ وہ چڑیا پر نشانہ بازی کی مشق کررہے ہیں، فرمایا : لا تتخذو الروح غرضا ( المعجم الاوسط للطبرانی :2؍214)  ‘‘کسی ذی روح کونشانہ مت بناؤ ’’ ایک روایت میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ایک چڑیا بھی بلا ضرورت مار ڈالی وہ قیامت کے دن فریادکرے گی ، یا اللہ! فلاں شخص نے مجھے بلا وجہ اور بے فائدہ قتل کیا تھا( المعجم الکبیر للطبرانی :20؍386، رقم الحدیث :905)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعہ ارشاد فرمایا کہ ایک شخص جارہا تھا، اسے شدید پیاس لگی ، وہ کنویں میں اتر ا ، اور پیاس بجھا کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے زبان نکالے کھڑے ہے او رمٹی کھا رہا ہے، یہ شخص دو بارہ اترا اور اپنے موزے میں پانی بھر کر لایا ، کتے کو پلایا، کتا پانی پی کر شکر گزار ہوا ، اللہ نے اس شخص کی مغفرت فرمادی، (صحیح البخاری : 6؍ 99، رقم الحدیث : 2363)۔

  فضائی آلودگی کی روک تھام کیلئے اسلامی تعلیمات بڑی اہمیت کی حامل ہیں، اسلام میں مردوں کی تدفین کامقصد جہاں انسان کا اعزازو اکرام ہے وہاں یہ بھی ہے کہ مردہ جسموں سے پیدا ہونے والی نجاست اور بدبو سے فضا مسموم نہ ہو، ایک روایت میں تو یہاں تک ہے کہ تھوک بھی دفن کردیا جائے، (صحیح  ابن حبان :4؍ 516، رقم الحدیث :1637) ہمارا خیال ہے کہ اسلام نے طہارت اور نظافت پر جس قدر زور دیا ہے اتنا زور کسی اور مذہب نے نہیں دیا، بدن کی نظافت و طہارت کے لیے غسل اور وضو ، کپڑوں کی نظافت ،مکان اور راستوں کی صفائی ستھرائی کے لیے اسلام میں مستقل تعلیمات ہیں، جنہیں اس مختصر مضمون میں بیان نہیں کیا جاسکتا، البتہ ایک جامع حدیث بیان کر کے ہم اپنا مضمون ختم کرتےہیں۔

 حضرت ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے احتراز کرو، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا  ہمارے لیے راستوں میں مجلسیں کرنا ضروری ہے، ہم ان میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، فرمایا اگر اتنا ضروری ہے تو تم راستے کو اس کا حق دو ، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے ،فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا ، تکلیف دہ چیز ہٹانا ،سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور بری بات سے روکنا  ،( صحیح البخاری :15؍270، رقم الحدیث :2465) محدثین نے لکھا ہے کہ تکلیف دہ چیز ہٹانا ایک جامع حکم ہے، جس میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو راستہ چلنے والوں کے لیے تکلیف دہ ہو۔

17  جولائی، 2012   بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL for part 1:

http://www.newageislam.com/urdu-section/مولانا-ندیم-الواجدی/اسلام-اور-ماحولیات-کا-تحفظ/d/8050

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islam-and-protection-of-environment-–-part-two--(اسلام-اور-ماحولیات-کا-تحفظ-(حصہ-دوم/d/8072

 

Loading..

Loading..