New Age Islam
Sun May 09 2021, 03:36 AM

Urdu Section ( 21 Feb 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے


 مولانا ندیم الواجدی

19 فروری ، 2021

سراقہ بن مالک کا قصہ

سراقہ کہتے ہیں کہ جب میں گھوڑا دوڑاتا ہو ا ان کے قریب پہنچا تو میرا گھوڑا پتھریلی زمین میں گھٹنوں تک دھنس گیا، میں اٹھا اور اپنا تیر نکال کر قسمت کا حال معلوم کرنے لگا کہ میں ان لوگوں کو پکڑنے میں کامیاب رہوں گا یا نہیں، جواب میری مرضی کے خلاف آیا، مگر میں نے اس کی پروا نہیں کی، میں دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھنے لگا، یہاں تک کہ میں ان لوگوں کے اتنے قریب ہوگیا کہ رسولؐ اللہ کی تلاوت کی آواز میرے کانوں میں آرہی تھی اور ابوبکرؓ چوکنا ہو کر چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ اس وقت میرے گھوڑے کے دونوں پائوں زمین میں ٹخنوں تک دھنس گئے، میں نیچے گر پڑا، میں نے اٹھ کر گھوڑے کو ڈانٹا، اس نے بہ مشکل تمام اپنے دونوں پائوں زمین سے باہر نکالے، میں نے پھر تیروں کے ذریعے قسمت آزمائی کی، اس وقت بھی نتیجہ میری مراد کے برخلاف نکلا۔ تب میں نے کہا مجھے یقین ہے کہ تم دونوں کی بددعا سے ایسا ہوا ہے، مجھے امان دیجئے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو شخص تم لوگوں کو تلاش کرتا ہوا ملے گا میں اس کو واپس کروںگا۔

اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دین غالب ہو کر رہے گا، میں نے ان لوگوں کو قریش مکہ کے ارادوں سے باخبر کیا اور یہ بھی بتلایا کہ انہوں نے آپؐ  کو قتل کرنے یا گرفتار کرنے پر سو اونٹ انعام میں دینے کا اعلان کیا ہے، جو زادِ راہ میرے پاس تھا وہ میں نے ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور درخواست کی کہ وہ اسے لے لیں، مگر انہوں نے میری کوئی چیز قبول نہیں کی، البتہ اتنا کہا کہ وہ ان لوگوں کے متعلق کسی کو کچھ نہ بتلائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںعرض کیا کہ وہ مجھے معافی نامہ اور پروانۂ امن لکھ کر دے دیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عامر بن فہیرہ (حضرت ابوبکرؓ کے خادم) نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پرمعافی نامہ لکھ کر مجھے دے دیا۔

بعض روایت میں یہ بھی ہے کہ اس موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ بن مالک سے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اے سراقہ! اس وقت تمہیںکیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے،سراقہ نے پوچھا کسریٰ بن ہرمز؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس کے بعد آپؐ نے سراقہ کی درخواست کے مطابق پروانۂ امن اور معافی نامہ لکھوا کر دے دیا، اس واقعے کے بعد سراقہ بن مالک مکہ کی طرف واپس چلے گئے، راستے میں جو شخص بھی آپ ؐ کو ڈھونڈتا ہوا ملتا وہ اسے یہ کہہ کر واپس کردیتے کہ ادھر جانے کی ضرورت نہیں ہے میں دیکھ آیا ہوں۔

حدیث کی کتابوںمیں ہے کہ سراقہؓ نے وہ معافی نامہ محفوظ رکھا، اور اسے لے کر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپﷺ طائف سے لوٹتے ہوئے جعرانہ کے مقام پر تشریف فرما تھے، آپؐ نے ان سے فرمایا :یہ دن ایفائے عہد کا اور خیرخواہی کا دن ہے، قریب آجائو، سراقہؓ قریب آئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے۔

سراقہ کے لئے سرکار دو عالم ﷺکی یہ پیشین گوئی کہ تم ایک دن کسریٰ کے کنگن پہنو گے؛ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں پوری ہوئی، چنانچہ جب عجم فتح ہوا اور کسریٰ کے زیورات مال غنیمت کے طور پر مدینہ منورہ لائے گئے اور مسجد نبویؐ میں حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے ڈال دئیے گئے تو آپؓ نے سراقہؓ کو طلب کیا، جب سراقہؓ آگئے،حضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر کسریٰ کے کنگن ان کی طرف بڑھا دئیے ’’اللہ اکبر‘‘ کتنی عظیم ہے وہ ذات جس نے کسریٰ کے کنگن اتار کر ایک دیہاتی سراقہ کے ہاتھوں میں ڈال دئیے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث ۳۹۰۶، صحیح مسلم، رقم الحدیث۲۰۰۹، زاد المعاد۳؍۴۸،۳۹، دلائل البیہقی ۲؍۴۴۸۷، الاستیعاب لابن عبدالبر ۲؍۱۲۰)

ام معبد خزاعی کا واقعہ

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے یارغار حضرت ابوبکر صدیقؓ، ان کے غلام حضرت عامر بن فہیرہؓ اور راستہ بتلانے والے عبداللہ ابن اریقط کے ہمراہ صبح ہونے سے پہلے غارِ ثور سے نکلے، پہلے ان حضرات نے جنوب میں یمن کا راستہ اختیار کیا، پھر مغرب کی سمت ساحل کا رخ کیا، یہاں تک کہ جب آپ ایسے راستے پر پہنچ گئے جس پر عام طور پر قافلے سفر نہیں کرتے تو آپؐ  شمال کی طرف بحر احمر کے ساحل سے لگ کر چلنے لگے۔ر استے میں ایک جگہ ام معبد خزاعیؓ کا خیمہ نظر آیا، یہ ایک نیک دل خاتون تھیں جو اپنے خیمے کے دروازے پر بیٹھی رہتیں، جب کوئی مسافر ادھر سے گزرتا تو وہ اسے جو کچھ ان کے پاس کھانے پینے کے لئے ہوتا اسے پیش کردیتیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس نیک طینت خاتون کے خیمے کے قریب پہنچے تو اپنی سواریوں سے اتر گئے اور ام معبدؓ سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کچھ گوشت یا کھجوریں ہیں؟ ہم یہ چیزیں خریدنا چاہتے ہیں۔ ام معبدؓ نے کہا میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیمے کے ایک گوشے میں ایک بکری نظر آئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:ام معبد! کیا یہ بکری دودھ دیتی ہے؟ ام معبد نے عرض کیا کہ وہ ایک کمزور اور دبلی پتلی بکری ہے، اس میں دودھ کہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم مجھے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا:بالکل! اگر اس کے تھنوں میں دودھ ہو تو آپ ضرور نکالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھ کر اس کے تھنوں کو چھوا اور ام معبدؓ کے حق میں دعا کی ، پھر ان سے کہا کہ وہ ایک برتن لائیں، چنانچہ وہ برتن لائیں، آپؐ نے بکری کے تھنوں سے دودھ نکالا، یہاں تک کہ وہ برتن لبالب بھر گیا، پہلے آپ ؐ نے ام معبدکو دودھ پینے کے لئے دیا، انہوں نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا، پھر آپؐ کے ساتھیوں نے دودھ پیا، وہ بھی سیر ہوگئے،آخر میں آپ ﷺ  نے نوش فرمایا۔ آپؐ نے دوبارہ برتن بھر کر دودھ دوہا، اور پھر وہ بھرا ہوا برتن ام معبد کو دے کر روانہ ہوگئے۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ام معبد کے شوہر اکثم بن ابی الجونؓ جو قریب کے جنگل میں بکریاں چرانے کے لئے گئے ہوئے تھے واپس آگئے، انہوں نے خیمے کے اندر دودھ سے بھرا ہوا برتن دیکھ کر حیرت سے پوچھا :اے ام معبد! یہ دودھ تمہارے پاس کہاں سے آیا،یہ بکری تو اس قابل نہیں ہے کہ دودھ دیتی، ام معبد نے جواب دیا، ہمارے پاس ایک نہایت بابرکت اور نہایت شریف آدمی تشریف لائے تھے، ان کی برکت سے یہ سب کچھ ہو۔، ام معبد نے ایک ایک بات اپنے شوہر کو بتلائی، شوہر نے پوچھا :وہ صاحب کیسے تھے، کس حلئے کے تھے،ام معبد نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ عقیدت و محبت کا شہ پارہ تو ہے ہی ، ادب عالیہ کا گراں قدر نمونہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا رنگ کھلتا ہوا تھا،ان کا چہرہ انتہائی روشن اور منور تھا، تمام سراپا دل آویز، خوبصورت، نہ وہ بڑی توند والے تھے، نہ گنجے سر والے، پورا پیکر ایسا جیسے رنگ و نور میں ڈھال دیا گیا ہو، سرمگیں اور سفید و سیاہ آنکھیں، لمبی سیاہ پلکیں، دراز گردن، باریک اور ملے ہوئے ابرو، چمک دار سیاہ بال، خاموشی میں وقار، گفتگو میںحلاوت، جو بات کریں واضح، نہ مختصر اور نہ طویل، بولنے کا انداز اتنا پیارا گویا لفظ نہیں موتی جھڑ رہے ہوں، درمیانہ قد، نہ اتنا کوتاہ کہ نظر میں نہ جچے اور نہ اتنا طویل کہ ناگوار گزرے، دو شاخوں کے درمیان ایسی شاخ کی طرح جو سب سے زیادہ تازہ اور خوش منظر ہو، آپ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھی انتہائی باادب، حلقہ بنا کر ان کے پاس بیٹھتے، جو بات وہ فرماتے اسے غور سے کان لگاکر سنتے، کوئی حکم دیتے تو اسے بجا لانے میں سبقت کرتے، خوبصورتی ان پرنچھاور، دور سے بھی لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور جاذب نظر اور قریب سے بھی سب سے زیادہ دلکش اور حسین، ابومعبد نے کہا خدا کی قسم! یہ تو وہی صاحب معلوم ہوتے ہیں جن کے بارے میں قریش سے ایسا ویسا سنا گیا ہے، اگر وہ مجھے مل جائیں تو میں ان کا مطیع اور فرماں بردار بن جائوں اور ان کے ساتھ ساتھ رہوں۔

اِدھر ام معبد کے خیمے میں دودھ دوہنے اور دودھ پینے کا یہ واقعہ پیش آیا، اُدھر مکے کی وادیوں میں ایک آواز گونجی، لوگوں نے کچھ اشعار سنے، مگر اشعار پڑھنے والا نظر نہیں آیا ، آواز مکے کے زیریں حصے سے آرہی تھی، لوگ آواز کا تعاقب کر رہے تھے اور سن رہے تھے مگر دیکھ نہیں پا رہے تھے۔چند اشعار (کے تراجم) یہ ہیں:

’’اللہ تعالیٰ جو لوگوں کا رب ہے ان دونوں رفیقوں کو جزائے خیر دے جو ام معبد کے خیمے میں اترے،وہ دونوں ہدایت لے کر خیمے میں اترے تھے،چنانچہ ام معبد نے ہدایت پالی، وہ شخص مراد کو پہنچا جو اس سفر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رفیق رہا (یعنی حضرت ابوبکرؓ) تم لوگ اپنی بہن (ام معبدؓ) سے اس کی بکری اور اس کے برتن کے بارے میں پوچھو، اگر تم بکری سے بھی پوچھو گے تو وہ بھی گواہی دے گی،آنے والے نے اس سے بکری طلب کی، اس نے اس قدر دودھ دیا کہ کف سے بھرا ہوا تھا، پھر وہ بکری کو اس کے پاس چھوڑ کر رخصت ہوگئے، ام معبد ہر آنے جانے والے کیلئے اس کا دودھ دوہتی تھی، مبارک ہو بنو کعب کو ان کی خاتون کا مقام و مرتبہ اور وہ ٹھکانہ جو اہل ایمان کے کام آیا۔‘‘

روایات میں ہے کہ یہ غیبی آواز ان بچے کُھچے مسلمانوں نے بھی سنی جو کسی عذر کی وجہ سے مکے میں رہ گئے اور ہجرت نہ کرسکے تھے، یہ آواز سننے کے بعد ان مسلمانوں کو یقین ہوگیاکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما چکے ہیں، چنانچہ وہ لوگ تیزی کے ساتھ ام معبد کے خیمے کی طرف نکل پڑے اور جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے میں جا کر شامل ہوگئے۔

ام معبد خزاعی کو اس واقعے سے پہلے کوئی جانتا بھی نہ تھا، وہ گائوں کی رہنے والی سیدھی سادی خاتون تھیں،ان کی شہرت اس خیمے سے آگے نہیں بڑھی تھی کہ اچانک سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے مہمان بن گئے،وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ تھا کہ انہیں ایمان کی دولت بھی نصیب ہوئی اور لازوال شہرت بھی،آج ان کا قصہ سیرت طیبہ کے ایمان افروز واقعے کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔  ام معبد کا پورا نام عاتکہ بنت خالد بن منقذ تھا،ان کے بھائی کا نام حبیش بن خالد خزاعی ہے، وہی اس قصے کے راوی بھی ہیں۔

دودھ کے اس واقعے کے بعد قریشی جوان اس خیمے کے پاس آئے، انہوں نے ام معبدؓ سے رسولؐ اللہ  کے متعلق پوچھا: وہ بالکل انجان بن گئیں اور کہنے لگیں کہ تم مجھ سے ایسی بات پوچھ رہے ہو جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی۔ حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یہ دونوں میاں بیوی مشرف بہ اسلام ہوئے اور ہجرت کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔ویسے تو ام معبدؓ کے دل و دماغ کو ایمان کی بادِصبا نے اسی وقت چھو لیا تھا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انجان شخصیت کے روپ میں دیکھا تھا۔  (البدایہ والنہایہ ۳؍۱۹۰، ۱۹۶، السیرۃ النبویہ لابن ہشام ۱؍۱۷۲، سیرۃ المصطفی ۱؍۳۸۷) (جاری)

nadimulwajidi@gmail.com

19 فروری ، 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13-  The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19-  The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-nadeemul-wajidee/o-suraqa-what-about-a-day-when-you-will-be-wearing-the-bracelets-of-kisra-اے-سراقہ-اس-وقت-کیسا-لگے-گا-جب-تم-کسریٰ-کے-دونوں-کنگن-اپنے-ہاتھ-میں-پہنو-گے/d/124361



New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..