New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 05:12 AM

Urdu Section ( 5 Feb 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company Part-18 اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

 مولانا ندیم الواجدی

5 فروری ، 2021

قریش کی تلملاہٹ

اس ناکامی کے بعد قریش کے سربرآوردہ لوگ پھر دارالندوہ میں جمع ہوئے، مشورہ ہوا، طے پایا کہ مکے سے باہر جانے والے تمام راستوں پر آدمی دوڑائے جائیں، اعلان کیا گیا کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لائے گا اسے سو اونٹ انعام میں دئیے جائیں گے۔ یہ اعلان سنتے ہی گھڑ سوار، پیدل چلنے والے اورنشانِ راہ کے ماہرین کی ٹولیاں تلاش و جستجو میں نکل پڑیں، ایسی ہی ایک ٹولی غار ثور کے دہانے پر بھی پہنچ گئی۔ حضرت ابوبکرؓ کو ڈر ہوا کہ کہیں یہ لوگ غار کے اندر جھانک کر نہ دیکھ لیں، یا کوئی شخص تلاش کرتا ہوا اندر تک نہ آجائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے اس اندیشے کا اظہار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے تسلی کے طور پر یہ الفاظ فرمائے: ’’یا أبا بکر ما ظنک بأثنین اللّٰہ ثالثھا‘‘ اے ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو۔ (صحیح البخاری، ۱۱؍۴۸۵،  رقم الحدیث ۳۳۸۰)گویایہ تسلی تھی کہ ابوبکر! تم گھبرائو مت، ہمارے ساتھ اللہ کی مدد اور اس کی نصرت ہے، ہم ہر طرح محفوظ ہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق کے ساتھ تین رات اس غار میں رہے۔ روایات میں ہے کہ غار کے منہ پر مکڑیوں نے جالا بنا لیا تھا، کفار مکہ جب ان حضرات کو تلاش کرتے ہوئے غار کے دہانے پر پہنچے تو آپس میں کہنے لگے کہ اگر اس غار میںکوئی شخص داخل ہوتا تو یہاں مکڑی کے جالے نہ ہوتے۔ (مسند احمد بن حنبل ۱۰؍۳۴۸، تاریخ الطبری ۲؍۳۷۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ دونوں اندر غار میں تھے اور ان لوگوں کی بات چیت سن رہے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان قدم دیکھتے دیکھتے جبل ثور تک جا پہنچے، وہاں نشانات قدم گڈمڈ ہوگئے، مگر انہوںنے تلاش جاری رکھی اور ڈھونڈتے  ڈھونڈتے غار تک جا پہنچے، مگر غار کے منہ پر مکڑی کے جالے دیکھ کر یہ کہتے ہوئے واپس ہوگئے کہ اگر کوئی شخص اندر داخل ہوتا تو مکڑی کے جالے نہ ہوتے۔ (حوالۂ سابق) بہرحال مکڑی کی صورت میںیہ خدائی فوج تھی، جس نے کفار کو واپس جانے پر مجبور کردیا۔ مکڑی کی حیثیت ہی کیا ہے، ایک جثۂ ناتواں جو بسا اوقات آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا، اس طرح کی خدائی فوجیں اس کائنات میں جابجا بکھری ہوئی ہیں، جو ہمیں نظر نہیں آتیں اور نہ ہم ان کو محسوس کرتے ہیں مگر اللہ جب چاہے ان سے کام لے لیتا ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں اسی کی خبر دی گئی ہے: ’’اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیںجانتا اور یہ ساری بات تو نوع انسانی کو یاد دہانی کرانے کے لئے ہے۔‘‘(المدثر:۳۱)

بعض کتابوں میں حضرت انس بن مالکؓ، حضرت زید بن ارقمؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی روایتوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے یارِ غار حضرت ابوبکرؓ غار ثور میں فروکش ہوگئے اور کفار آپ دونوں کو تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے تو خدا کے حکم سے غار کے عین سامنے ایک درخت اُگ آیا، جنگلی کبوتروں نے گھونسلہ بنا کر انڈے دے لئے اور  مکڑی نے جالے بُن دئیے۔ مشرکین یہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے کہ بھلا اس غار کے اندر کون ہوسکتا ہے، یہاں تو جانے کا راستہ ہی نہیں ہے۔ (الطبقات الکبریٰ ۱؍۱۵۴)

صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ مشرکین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں غار کے قریب گھومتے پھرتے دیکھ کر حضرت ابوبکرؓ بہت زیادہ پریشان اور غمگین ہوئے اور گھبرا کر کہنے لگے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب کیا ہوگا؟ مجھے اپنی فکر نہیں ہے، میں اگر مارا جاتا ہوں تو ایک آدمی مارا جائے گا لیکن خدانخواستہ آپ کو کوئی گزند پہنچے تو ساری امت ہلاک ہوجائے گی، جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ الفاظ بھی فرمائے جو پہلے نقل کئے گئے ہیں اوریہ بھی فرمایا :ـ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ’’غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکرؓ پوری طرح مطمئن ہوگئے۔ قرآن کریم میں اس واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:

’’اگر تم ان کی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہیں کرو گے تو (ان کا کچھ نقصان نہیں) کیوں کہ اللہ ان کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوںمیں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے، چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کی ایسے لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آئے۔‘‘(توبہ:۴۰)

سورۂ توبہ کی یہ آیت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فضائل و مناقب اور خصائص کے بیان میں نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے دل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر محبت تھی اور جتنا عشق تھا اس کا عشر عشیر بھی اس امت میں کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں انہوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا، مال و دولت، گھر بار، آل اولاد، ایک جان باقی تھی وہ بھی خطرے میں ڈال کر ساتھ آگئے، چاہتے تو تنہا بھی ہجرت کرسکتے تھے، دوسرے قافلوں کے ساتھ بھی جاسکتے تھے مگر ان کی دیرینہ تمنا ساتھ جانے کی تھی تاکہ آپؐ کی حفاظت کریں، آپؐ کے آرام و راحت کا خیال رکھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آپ کی وفاداری اور محبت کا پورا یقین تھا تب ہی تو انہیں ہجرت کی اجازت نہیں دی، بلکہ بار بار یہی کہتے رہے کہ ابھی ٹھہرو، ابھی رکو، کیا خبر اللہ تمہیں اس سفر میں میرا رفیق بنادے اور ایسا ہی ہوا، گویا خدا کے نزدیک بھی حضرت ابوبکرؓ کا اخلاص، عشق اور وفاداری مسلم تھی، جب ہی تو ایسے پُرخطر سفر میں انہیں آپ کی رفاقت کے لئے منتخب کیا۔

بہرحال قرآن کریم کی اس آیت کا یہ رخ دیکھئے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرنے والوں پر عتاب کیا جارہا ہے۔ اس عتاب میں کسی کا استثناء نہیں ہے، اگر استثناء ہے تو حضرت ابوبکرؓ کا ہے جنہوں نے اس نازک گھڑی میں مدد کی اور دوستی کا حق ادا کردیا۔

قرآن کریم میں ثانی اثنین فرمایا یعنی دو آدمیوں میں دوسرا، اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مرتبہ مسلّم ہے تو وہ حضرت ابوبکرؓ کا ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کا استحقاق حضرت ابوبکر ہی کو حاصل تھا، اسی آیت میں ان کو صاحب کہا گیا ہے جس کے معنی رفیق، ساتھی اور دوست کے ہیں، صحبت یافتہ کے ہیں، ہم نشیں کے ہیں، اسی سے لفظ صحابی ہے، گویا اللہ رب العزت نے خود حضرت ابوبکرؓ کو صحابیت کے مرتبے پر فائز کیا، لاکھوں صحابہ میں صرف حضرت ابوبکرؓ ایسے صحابی ہیں جن کی صحابیت منصوص ہے، اس لئے علماء کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حضرت ابوبکرؓ کی صحابیت سے انکار کرتا ہے تو وہ قرآن کریم کی اس آیت کا انکار کرتاہے۔

حضرت ابوبکرؓ کی پریشانی فطری تھی، مگر جس پیار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فرما کر تسلی و تشفی دی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب گرامی پر ان کی آزردگی و پریشانی کا گہرا اثر ہوا، اس لئے انہیں اطمینان دلایا اور ان کے سکونِ قلب کے لئے دعا بھی فرمائی۔ اسی لئے حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ کی ایک رات اور ان کا ایک دن عمرؓ کی تمام عمر کی عبادت سے بدرجہا بہتر ہے۔ رات تو وہ رات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں گزری اور دن؛ وہ دن ہے جس دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہوجانے والے قبائل کے ساتھ قتال کا فیصلہ کیا۔ (فتح الباری ۷؍۸۵)

وقت ہجرت آپ ؐکی دعا

یہ نہات اہم سفر تھا، قدم قدم پر دشمنوں کے خطرات تھے، راستہ طویل تھا، صرف دو مسافر تھے جو اللہ کے حکم پر اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے مال و متاع، گھر بار اور اہل و عیال سب کچھ چھوڑ کر جارہے تھے، اس خاص موقع پر پر حدیث کی بعض کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا نقل کی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ ہم یہاں لکھتے ہیں:

’’تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے پیدا کیا، حالاںکہ میراکوئی وجود نہ تھا، اے اللہ! دنیا کے خطرات، زمانے کے مصائب اور رات و دن کی مشکلات میں میری مدد فرما، اے اللہ! اس سفر میں تو میرا رفیق بن اور میرے اہل و عیال میں میرا قائم مقام ہو، اے اللہ جو رزق تو نے مجھے عطا کیا ہے اس میں برکت عطا فرما، مجھے اپنے ہی سامنے سرنگوں کر، اپنی باقی مخلوق کے مقابلے میں مجھے مضبوط بنا، اے اللہ! مجھے اپنا محبوب بنا اور مجھے لوگوں کے حوالے نہ کر، اے کمزوروں کے پروردگار! تو ہی میرا رب ہے، میں تیرے وجہ کریم کے صدقے سے جس سے تمام آسمان اور زمین روشن ہیں اور جس کے نور سے اندھیرے مٹ جاتے ہیں اور تمام اگلوں پچھلوں کے احوال سدھر جاتے ہیں، اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو یا تو مجھ سے ناخوش ہو، اے اللہ! میں تیری نعمتوں کے زائل ہونے سے اور تیری اچانک گرفت سے اور تیری بخشی ہوئی عافیت کے بدلنے سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے تیری پناہ چاہتاہوں، تیر ے ہی آگے گناہوں کا اعتراف ہے، ہر قسم کی قوت اور طاقت صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے۔ ‘‘

(مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث ۹۲۳۴)

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ایک بازار میں حَزْوَرَہ نام کی ایک جگہ پر کچھ لمحوں کے لئے ٹھہرے اور آپؐ نے مکہ کے درو دیوار پر الوداعی نظر ڈالتے ہوئے فرمایا: ’’اے مکہ تو اللہ کی تمام زمین سے بہتر اور اللہ کے نزدیک پوری زمین سے زیادہ محبوب ہے، اگر مجھے یہاں سے نکالا نہ جاتا تو میں ہرگز نہ نکلتا۔‘‘ (ترمذی ۵؍۷۲۲، رقم ۳۹۲۵، ابن ماجہ ۸؍۲۵۳، رقم الحدیث ۳۸۶۰) ایک روایت میں یہ ہے:

’’تو کتنا اچھا شہر ہے اور مجھے کس قدر پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تو میں تیرے علاوہ کسی اور جگہ نہ رہتا۔‘‘ (ترمذی ۱۲؍۴۳۵، رقم الحدیث۳۸۶۱)   (جاری)

nadimulwajidi@gmail.com

5 فروری ، 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13-  The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/o-abu-bakr-think-those-part-18/d/124236

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..