New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 09:07 AM

Urdu Section ( 19 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

مولانا ندیم الواجدی

19 نومبر 2021

محمد بن مسلمہؓ کہتے ہیں کہ اس دوران ہم میں سے کسی کی تلوار سے حارث بن اوسؓ کا ایک پاؤں زخمی ہوگیا، ہم کعب کے قلعے سے بہ حفاظت باہر نکل آئے، وہاں سے ہم بنو امیہ بن زید سے ہوتے ہوئے بنو قریظہ کی طرف آئے، وہاں سے بعاث پہنچے، پھر حرۃ العریض تک پہنچ کر رُک گئے، ہمارے زخمی ساتھی حارث بن اوس آہستہ آہستہ آ رہے تھے، ہم نے کچھ دیر ان کا انتظار کیا، جب وہ ہمارے پاس پہنچ گئے تو ہم نے انہیں گود میں اٹھایا اور انہیں لے کر رات کے آخری پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ  اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے آپؐ  کو کعب کے قتل کی خوش خبری سنائی، آپؐ نے حارثؓ کے زخم پر اپنا لعاب دہن لگایا، جس سے ان کا زخم صحیح ہوگیا، اس کے بعد ہم سب اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوگئے۔ صبح جب لوگوں میں کعب کے قتل کی خبر عام ہوئی تو یہودیوں میں خوف وہراس پھیل گیا، جو لوگ دشمنی میں بہت زیادہ آگے بڑھے ہوئے تھے انہیں اپنی موت سامنے نظر آنے لگی۔ (سیرت ابن ہشام: ۳/۱۴، ۱۵)

یہودیوں کے وفد کی حاضری

اس واقعے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمادیا کہ جو یہودی کھلم کُھلا اسلام دشمنی پر آمادہ نظر آئے، یا وہ نقض عہد کا مرتکب ہو اسے قتل کردیا جائے۔ (زاد المعاد: ۳/۱۴۸) بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہؓ اور ان کے ساتھیوں کو دیکھ کر فرمایا: افلحت الوجوہ  ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا: وجہک یارسول اللّٰہ۔  سب سے پہلے آپ کا چہرۂ مبارک یا رسول اللہ ۔ اس کے بعد ان لوگوں نے کعب کا بریدہ سر آپؐ کے قدموں میں ڈال دیا، آپ نے الحمد للہ کہا اور اللہ کا شکر ادا فرمایا۔ (فتح الباری:۱۱/۳۶۷) صبح کو جب کعب کے قتل کی خبر پھیلی تو یہودیوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، وفد میں شامل لوگوں نے بہ طور شکایت عرض کیا کہ آپؐ کے ساتھیوں نے ہمارے سردار کو اس اس طرح قتل کردیا ہے۔آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو ایذا پہنچاتا تھا، اور لوگوں کو ہمارے قتل پر اکساتا رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے سامنے کعب کے کرتوت کھول کھول کر بیان فرمائے۔ آپؐ کی باتیں سن کر یہود خاموش ہوگئے، ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا اس لئے واپس ہونا بہتر جانا البتہ آپؐ نے ان سے ایک نیا عہد نامہ اس مضمون کا لکھوا یا کہ آئندہ کوئی یہودی اس طرح کی حرکت نہیں کرے گا۔ (فتح الباری: ۱۱/۳۶۵)

کعب کی سازش کا ناکام ہونا

ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کعب بن اشرف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت پر بلایا، اور کچھ لوگ ایسے متعین کردیئے جو موقع دیکھتے ہی آپ پر حملہ کردیں اور نعوذ باللہ آپ کو قتل کردیں، آپؐ  اس کے گھر تشریف لے گئے، ابھی بیٹھے ہی تھے کہ جبریل امین نے تشریف لاکر اس سازش کا راز فاش کردیا۔ آپؐ  اسی وقت وہاں سے اٹھے، اور حضرت جبریلؐ کے پروں کے سائے میں باہر تشریف لائے، اس طرح کعب کی سازش ناکام ہوگئی۔ (فتح الباری: ۱۱/۳۶۴)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے کعب بن اشرف کے قتل کی وجوہات اور اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’روایات حدیث سے کعب بن اشرف کے قتل کے جو وجوہ اور اسباب معلوم ہوسکے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

(۱) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں دریدہ دہن اور سب وشتم اور گستاخانہ کلمات کا زبان سے نکالنا۔

(۲) آپ کے ہجو میں اشعار کہنا ۔

(۳) غزلیات اور عشقیہ اشعار میں مسلمان عورتوں کا بہ طور تشبیب ذکر کرنا۔

 (۴) غداری اور نقض عہد۔

 (۵) لوگوں کو آپؐ کے مقابلے کے لئے  ابھارنا اور اکسانا اور ان کو جنگ پر آمادہ کرنا۔

 (۶) دعوت کے بہانے آپ کے قتل کی سازش کرنا، اور

 (۷)  دین اسلام پر طعن کرنا۔

 لیکن قتل کا سب سے قوی سبب آپؐ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور سب وشتم اور آپؐ  کی ہجو میں اشعار کہنا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں صفحہ ۷۰ تا ۹۱ میں اس پر مفصل کلام کیا ہے۔ (سیرۃ المصطفی: ۲/۱۸۹، ۱۸۰)

ابن سبینہ یہودی کا قتل اور حویصہ بن مسعود

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان و اجازت کے بعد کہ اگر آج کے بعد کسی یہودی نے معاہدے کی خلاف ورزی کی یا کسی طرح کا فتنہ وفساد پھیلانے کی کوشش کی یا اللہ اور اس کے رسول کو سب وشتم کیا تو اسے سزا دی جائے، ایک صحابی نے جن کا نام مَحیصہؓ بن مسعود تھا ابن سبینہ یہودی کو قتل کرڈالا، مقتول بڑا تاجر تھا، بہت سے لوگ اس کے ساتھ مل کر تجارت کرتے تھے، وہ شخص اپنے شرکائے تجارت کا بڑا خیال رکھتا تھا، بہ ظاہر وہ اچھے معاملات کا حامل ملنسار اور ہمدرد قسم کا آدمی تھا، لیکن اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت ومخالفت اس کے رگ وپئے میں سرایت کئے ہوئے تھی۔ محیصہؓ کے بڑے بھائی حَویصَہ بن مسعود جو ایک عمر رسیدہ انسان تھے اور ابھی تک حلقہ بہ گوشان اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے، ابن سبینہ کے قتل سے اس قدر برا فروختہ ہوئے کہ اپنے چھوٹے بھائی کو یہ کہہ کر مارنا شروع کردیا کہ اے اللہ کے دشمن تو نے اسے کیوں مار ڈالا، تیرے پیٹ پر جو چربی چڑھی ہوئی ہے تجھے معلوم ہے اس میں سے زیادہ تر چربی اس کے کھانے کھا کھا کر بنی ہے۔مَحیصہؓ نے کہا: بھائی! مجھے اس کے قتل کا حکم جس شخص نے دیا تھا وہ مجھے جو بھی حکم دیں گے میں اس کی تعمیل میں تامل نہیں کروں گا۔

یہ سن کر انھوں نے حیرت سے اپنے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھا اور کہا کہ کیا واقعی تو محمد کے کہنے پر ایسا کرسکتا ہے؟  محیصہؓ نے بلا خوف وخطر جواب دیا، بالکل! اگر وہ مجھے حکم دیں گے تو میں یقیناً ایسا کروں گا۔

حویصہ کا قبول اسلام

 حویصہ اپنے بھائی کا یہ جذبہ، اسلام پر اس کی ثبات قدمی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں اس کی محبت وعقیدت اور جاں نثاری کا یہ حال دیکھ کر بے حد متأثر ہوئے، اور یہی واقعہ ان کے قبول اسلام کا سبب بن گیا۔ (سنن ابی داؤد: ۳/رقم الحدیث: ۳۰۰۲، دلائل البیہقی: ۳/۲۰۰،  سیرت ابن ہشام: ۳/۱۵)

غزوۂ بُحْران

رابغ شہر سے سو کلو میٹر کی دوری پر جبل بُحران واقع ہے، یہ غزوہ اسی پہاڑ کے نشیبی علاقے کی طرف منسوب ہے۔    ۳ھ؁ کے ماہ ربیع الثانی میں آپ بحران تشریف لے گئے اور جمادی الاولیٰ تک وہیں مقیم رہے، آپ کو خبر ملی تھی کہ بنو سلیم کے جنگجو جبل بحران کے قریب وادی حجر میں جمع ہورہے ہیں، آپؐ نے تین سو جاں باز صحابہؓ کا انتخاب کیا اور ان کی قیادت کرتے ہوئے اس وادی میں تشریف لے گئے، وہاں پہنچنے سے ایک رات پہلے بنو سلیم کے کسی شخص نے آکر یہ اطلاع دی کہ بنو سلیم کا جماوڑا ختم ہوچکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دینے والے شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اسے لے کر بحران کا قصد فرمایا، وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ واقعی دشمن راہ فرار اختیار کرچکا ہے، آپؐ نے قیدی کو رہا فرمادیا، لیکن اسلامی فوجیں وہاں کچھ روز ٹھہری رہیں تاکہ آس پاس کے قبائل کو معلوم ہوجائے کہ مسلمان غافل نہیں ہیں، وہ عقابی نظر رکھتے ہیں اور دشمن کی کوئی حرکت ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ کچھ روز وادی بحران میں ٹھہر کر آپ مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ (الکامل فی التاریخ: ۲/۱۴۲، تاریخ الطبری: ۲/۵۲، الواقدی فی المغازی: ۱/۱۹۶)

سریہ زید بن حارثہ

بدر کے میدان میں ذلت آمیز شکست کے بعد مشرکین مکہ کے دل میں ڈر اور خوف بیٹھ گیا تھا، اگرچہ ان کا جذبۂ انتقام بھی سرد نہ ہوا تھا، وہ کچھ عجیب سی کیفیت سے دو چار تھے، ایک طرف تو وہ یہ چاہتے تھے کہ بدر کی شکست کا بدلہ لیں، اور پوری قوت کے ساتھ مدینے پر حملہ کرکے مسلمانوں کو منہ توڑ جواب دیں، دوسری طرف تجارتی قافلوں کے راستوں کو لے کر انہیں ایک گونہ بے اطمینانی بھی تھی، یہ بھی ممکن نہ تھا کہ تجارتی قافلوں کی آمد ورفت معطل کردی جاتی، کیوں کہ مکے کی معیشت کا دار ومدار ہی تجارت پر تھا، اس مرتبہ جو قافلہ ترتیب دیا گیا اس نے شام کے قدیم راستے کے بجائے وہ راستہ اختیار کیا جو عراق کی طرف جاتا ہے، اس قافلے میں ابو سفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، حویطب بن عبد العزی وغیرہ شامل تھے، فُرات بن حیان عجلی کو راہ نما کے طور پر ساتھ لیا گیا تھا، قافلے میں چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی سامان وافر مقدار میں تھا، ایک انداز ے کے مطابق اس سامان کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی۔

قافلے کے لوگ ڈر کر بھاگ گئے

سلیط بن نعمانؓ حکومتِ اسلامیہ کی خفیہ ایجنسی کے ایک اہم رکن تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس قافلے کی اطلاع دی، آپ نے حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں ۱۰۰؍ سواروں کا ایک دستہ اس قافلے کا راستہ روکنے کیلئے روانہ فرمایا، قَردَہ نامی چشمے پر وہ قافلہ جس کی تلاش میں صحابہ نے سفر کی زحمت اٹھائی تھی مل گیا، قافلے کے بیشتر لوگ ڈر کر بھاگ گئے، مسلمانوں کو مال غنیمت کے طور پر قافلے کے اونٹ اور ان پر لدا ہوا سامان تجارت ملا، فُرات بن حَیّان قید کرلیا گیا، بعد میں وہ اسلام لے آیا، اور اسے آزاد کردیا گیا، یہ دستہ کامیابی کے ساتھ مدینے واپس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس رکھ کر باقی تمام سامان دستے کے ارکان میں تقسیم فرمادیا، سریۂ زید بن حارثہ جمادی الاخریٰ ۳ھ؁ میں پیش آیا۔ (سیرۃ بن ہشام: ۳/۹، طبقات بن سعد: ۲/۳۶، عیون الاثر: ۱/۴۵۵) (جاری)

19 نومبر 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/plan-avenge-defeat-battle-badr-part-59/d/125803

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..