New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 10:22 PM

Urdu Section ( 14 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Attitude in Madinah Had Shifted, As the Holy Prophet (Pbuh) Had Noted With His Far-Sighted Eyes Part-74 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دوربیں نگاہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ مدینہ کی فضا بدل گئی ہے

مولانا ندیم الواجدی

11 مارچ،2022

رسولؐ اللہ کی خبر وفات

میدان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی افواہ پھیلی تو صحابۂ کرامؓ کی ہمتیں ٹوٹ گئیں، ان میں افراتفری پھیل گئی اور وہ تتر بتر ہوکر رہ گئے، اس صورت حال میں منافقین کی بن آئی، انھوں نے کہنا شروع کردیا کہ اس وقت تو عبد اللہ بن أبی ہی ہماری مدد کرسکتا ہے، خود عبد اللہ أبی کو بھی یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ میں پہلے ہی سے یہ کہتا آرہا ہوں کہ محمد اللہ کے نبی نہیں ہیں، میری بات نہیں مانی گئی، اب میرے ساتھ آؤ، اور میری مانو میں ابوسفیان سے کہہ کر تمہیں امن دلا دیتا ہوں۔ بعض کی زبان پر یہ تک آگیا کہ محمد اگر اللہ کے رسول ہوتے تو کیسے قتل ہوجاتے، لہٰذا اپنے آبائی دین کی طرف پلٹ جانا چاہئے۔ قرآن کریم نے اس سوچ پر سخت گرفت کی ہے کہ اگر تم اس دین کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے وابستہ سمجھتے ہو اور ان کے جاتے ہی دین کو ختم سمجھتے ہو تو اسلام کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے، دین اور اس کے تمام احکام اللہ کے ہیں، اور اللہ کے لئے ہیں، اگر وفات کی خبر صحیح بھی ہوتی تب بھی تمہارے وہم وخیال میں یہ بات نہیں آنی چاہئے تھی، وفات تو ایک دن ہونی ہی ہے، کیا تم ان کے بعد دین چھوڑ دوگے۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ اس واقعے میں یہ حکمت رہی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے پر صحابہؓ کی جو کیفیت ہونے والی تھی اس پر پہلے ہی تنبیہ فرمادی گئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی فرمادی گئی، تاکہ اس کا صحیح نمونہ سامنے آجائے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس کی اصلاح بھی ہوجائے، تاکہ جب یہ حادثہ حقیقی طور پر رونما ہو تو صحابہؓ میں افرا تفری نہ پھیلے، بے قابو ہوکر جان نہ گنوا بیٹھیں، یا دیوانے اور پاگل نہ ہوجائیں۔ ان تمام تنبیہات کے بعد بھی بعض بڑے صحابہؓ آپ کی وفات کے بعد ہوش و خرد سے بے گانہ ہوگئے، وہ یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا سکتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بڑے حوصلے، ہمت اور تدبیر سے ان سب کو سنبھالا اور یہی آیات ان کے سامنے تلاوت کیں جو غزوۂ اُحد کے موقع پر نازل ہوئیں تھیں۔

احد میں شکست کی حکمتیں

قرآن کریم نے ان آیات میں مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا ہے کہ بدر میں کفار کے ستر آدمی مارے گئے تھے اور تم غالب آئے تھے، آج تمہارے ستر آدمی شہید ہوئے ہیں اور وہ غالب آئے ہیں، کفار تو حوصلہ نہیں ہارے اور وہ ایک جُٹ ہوکر لڑنے کے لئے نکل پڑے، تم کیوں حوصلہ ہار بیٹھے ہو، اس دنیا میں اللہ کا نظام ہی یہ ہے کہ وہ سختی نرمی، دکھ سکھ، راحت وتکلیف میں لوگوں کے حالات بدلتا سدلتا رہتا ہے، لہٰذا اہل حق کی اس عارضی شکست اور باطل پرستوں کی وقتی فتح وکامرانی سے بد دل نہیں ہونا چاہئے اور یہ سمجھ کر نہیں بیٹھ رہنا چاہئے کہ اب ہمیشہ ہمیں ہار اور دُشمن کی جیت ہوا کرے گی بلکہ شکست کے اسباب کی کھوج لگا کر ان کا دفعیہ کرو۔

منجملہ حکمتوں کے ایک مصلحت یہ ہے کہ اس واقعہ میں کھرے کھوٹے کی آزمائش ہوگئی اور منافق اور کچے دل کے کچھ آدمی جو اسلامی کیمپ میں گھس آئے تھے اُن کے چہرے بے نقاب ہوگئے۔

اس کے علاوہ ان لوگوں کو جنگ کے نازک اور فیصلہ کن معاملات کا ذاتی تجربہ ہوگیا اس لئے اب ان کے قدم زیادہ محتاط ہوجائیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو خدشات اور کمزوریاں پیدا ہوگئی تھیں وہ اس ٹھوکر لگنے سے دور ہوگئیں اور مسلمانوں کا ایمان زیادہ مضبوط اور گہرا ہوگیا، وہ سمجھ گئے کہ صرف اقرار کرلینے سے ایمان کی برکتیں اور کامرانیاں حاصل نہیں ہوں گی، جب تک آزمائشِ عمل میں ثابت قدم نہ ہوں گے اس وقت تک ایمان کے حقیقی ثمرات بھی میسر نہ آئیں گے۔(تفسیر انوار القرآن: ۲/۱۷۱)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے غزوۂ اُحد میں فتح کے بعد ہزیمت پیش آجانے کی حکمت اور مصلحت پر تفصیلی کلام کیا ہے، لکھتے ہیں: اللہ کے وعدے کے مطابق دن کے آغاز میں مسلمان کافروں پر غالب رہے، مگر جب اس مرکز سے ہٹ گئے جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے رہنے کا حکم دیا تھا اور مال غنیمت جمع کرنے کے لیے پہاڑ سے نیچے اتر آئے تو جنگ کا پانسہ پلٹ گیا، اور فتح شکست سے بدل گئی، بارگاہ خداوندی میں محبین مخلصین اور عاشقین صادقین کی ادنیٰ ادنیٰ بات پر گرفت ہوتی ہے، اللہ رب العزت کو یہ ناپسند ہوا کہ اس کے محبین مخلصین صحابۂ کرامؓ اللہ کے رسول کے حکم سے ذرہ برابر بھی رو گردانی کریں، اگرچہ وہ روگردانی یا حکم کی خلاف ورزی کسی غلط فہمی کی وجہ سے یا بھول چوک کی بنا پر ہی کیوں نہ ہوئی ہو، نیز عاشق صادق کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ دنیا کا مال ومتاع جمع کرنے میں لگ جائے اور اس کے حکم سے غافل ہوجائے، اگرچہ صحابۂ کرامؓ جس مال غنیمت کو جمع کرنے کے لیے پہاڑ سے اتر کر آئے تھے وہ حلال وطیب مال تھا کیوں کہ اللہ فرماتا ہے : ’’لہٰذا تم نے جو مال غنیمت میں سے حاصل کیا ہے اسے پاکیزہ حلال مال کے طور پر کھاؤ۔‘‘(الانفال: ۶۹)

مگر صحابہؓ جیسے عشاق کے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ وہ خداوند ذوالجلال کی اجازت کے بغیر اس حلال وطیب مال کی طرف ہاتھ بڑھاتے۔ اللہ نے اپنے محبین مخلصین کی تنبیہ کے لئے وقتی طور پر فتح کو شکست سے بدل دیا تاکہ اس بات پر متنبہ ہوجائیں کہ غیر اللہ پر نظر جائز نہیں، اور علم ازلی میں یہ مقدر فرمادیا کہ وقتی طور پر اگرچہ شکستہ خاطر ہوں گے، مگر عن قریب فتح سے اس کی تلافی کردی جائے گی، اور آئندہ برسوں میں قیصر وکسریٰ کے خزانے ان کے ہاتھوں میں دے دیئے جائیں گے۔

اگرچہ مسلمانوں پر عتاب ہوا، مگر یہ وقتی عتاب تھا اور اس میں بھی محبت کی آمیزش تھی، بار بار مسلمانوں کو تسلی دی گئی کہ وہ ناامید نہ ہوں اور شکستہ خاطر نہ ہوں، ہم نے ان کی اس لغزش کو بالکل معاف کردیا ہے، چنانچہ ایک دفعہ یہ اعلان فرمایا: ’’البتہ اب وہ تمہیں معاف کرچکا ہے اور اللہ مؤمنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۲)پھر اسی رکوع میں دوبارہ عفو ودرگزر کا اعادہ کیا گیا:’’اور یقین رکھو اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا برد بار ہے۔‘‘ (آل عمران: ۱۵۵)

اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام کے اس عمل کو لغزش قرار دیا اور اس کےلئے : اِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطَانُ ’’شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کردیا تھا‘‘ (آل عمران: ۱۵۵) کی تعبیر اختیار فرمائی، اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ مسلمانوں کا ارادہ اور نیت تو کچھ اور تھی مگر غلطی اور بھول چوک سے بلاارادہ قدم پھسل گیا، انھوں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا، اس لئے ہم نے اپنی رحمت اور حلم سے وہ غلطی معاف کردی، اور اس معافی کا اعلان ساری دنیا کو سنا دیا کہ ہماری عنایات رسول اللہ کے اصحابؓ پر جاری ہیں، اور یہ اعلان اس لئے کردیا تاکہ قیامت تک کسی کو صحابہؓ کی شان میں لب کشائی کی جرأت نہ ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ غزوۂ بدر میں فدیہ لینے پر جو عتاب ہوا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ کے دشمنوں کو قتل کرنے کے بجائے ان کا فدیہ مال کی صورت میں قبول کرلیا، اسی طرح غزوۂ احد میں دنیوی مال ومتاع کی طرف میلان کی وجہ سے عتاب ہوا، مگر بعد میں معاف کردیا گیا۔ (سیرۃ المصطفیٰ: ۲/۲۵۰، ۲۵۴)

غزوۂ حمراء الاسد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفقاء واصحاب کے ساتھ مدینے واپس تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دور بیں اور دور اندیش نگاہوں نے یہ بات محسوس کرلی کہ مدینے کی فضا اب ویسی نہیں ہے جیسی چھوڑ کر گئے تھے، اس وقت مخالفت تھی مگر مخالفین کو مسلمانوں کی طاقت اور قوت کا احساس بھی تھا، بدر کے میدان میں جو واقعات پیش آئے، اور فتح ونصرت کے جو مناظر بہت سی آنکھوں نے دیکھے اور بہت سے کانوں نے سنے وہ سب مخالفین کے سامنے تھے اس لئے ان کی آوازیں دبی دبی رہتی تھیں، مگر اُحد کی شکست نے ان کی آوازوں میں جان پیدا کردی، یہودی اب سرگوشیوں میں نہیں بلکہ کھلم کھلا مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگے، منافقین اب چھپ کر نہیں بلکہ کھل کر اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کرنے لگے، ان حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی کسی کو توقع بھی نہیں تھی، ابھی تھکے ماندہ مجاہدین ٹھیک سے آرام بھی نہیں کرپائے تھے، اور ابھی ان کے زخموں کی ٹھیک سے مرہم پٹی بھی نہیں ہوئی تھی کہ آپؐ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ وہ جلد سے جلد تیار ہوجائیں، دشمن کا تعاقب کرنا ہے۔

اُحد کا دوسرا دن تھا، شوال کی ۱۶ تاریخ تھی، صبح فجر کی نماز کے بعد یہ اعلان ہوا، تمام صحابہؓ اپنی تلوا ریں اور تیرو کمان لے کر گھروں سے باہر نکل آئے، ان میں بہت سے زخمی بھی تھے، کئی تو گھسٹتے ہوئے چل رہے تھے، مگر ایک جذبہ تھا ایک جنون تھا جو انہیں اپنے رسولؐ اپنے قائد کی آواز پر لبیک کہنے پر مجبور کررہا تھا، یہ کل چھ سو افراد تھے، اور تمام کے تمام احد سے واپس آئے تھے، صرف حضرت جابر بن عبد اللہؓ تنہا ایسے مجاہد تھے جو غزوۂ احد میں شریک نہیں ہوئے مگر ان کو ساتھ چلنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی، اصل میں حضرت جابرؓ اور ان کے والد عبد اللہؓ بن حرام دونوں غزوۂ احد میں شریک ہونا چاہتے تھے، مگر ان کے سات بیٹیاں تھیں جن کی دیکھ بھال کے لئے گھر پر کسی مرد کا ہونا ضروری تھا، باپ نے بیٹے سے کہا کہ میں تمہیں اپنے آپ پر ترجیح نہیں دے سکتا، اس لئے میں احد جاتا ہوں، تم گھر میں رہ کر بہنوں کی دیکھ بھال کرو، حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے جب یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپؐ نے انہیں ساتھ چلنے کی اجازت دے دی،پہلے ستر مجاہدین تعاقب میں روانہ ہوئے، باقی مجاہدین کچھ دیر بعد نکلے اور دوسرے دن ان ستر مجاہدین سے جاملے، بعض محدثین نے ان کی تعداد چھ سو تیس لکھی ہے۔ (فتح الباری: ۷؍۳۷۳) (جاری)

11 مارچ،2022 ، بشکریہ : انقلاب ، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

Part: 70- One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

Part: 71- The Prophet Decreed That the Individual Who Memorised the Qur'an Be Buried First, Above All Other Martyrs Part-71 شہداء کی تدفین کیلئے آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو پہلے قبر میں لٹاؤ جو حافظ قرآن تھا

Part: 72 - In The Words of Hadith, the Prophet's Companions Who Were Martyred In the Battle of Uhud Part 72 جب بھی آپ ﷺ شہدائے احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے: میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے

Part: 73 - The Muslims Were Defeated In Uhud Due to Disobedience to the Prophet's Instructions and Rumours of His Martyrdom Part 73 آپ ؐ کی حکم عدولی اور آپؐ کی شہادت کی افواہ اُحد میں مسلمانوں کی شکست کا سبب بنی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/attitude-madinah-holy-prophet-part-74/d/126572

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..