New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:52 AM

Urdu Section ( 25 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

In The Words of Hadith, the Prophet's Companions Who Were Martyred In the Battle of Uhud Part 72 جب بھی آپ ﷺ شہدائے احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے: میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے

مولانا ندیم الواجدی

25 فروری 2022

جبل احد؛ زیارت گاہ خلائق

جب کوئی مسلمان مدینہ منورہ کی حاضری کا شرف حاصل کرتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جبل اُحد کی زیارت کرے اور شہداء احد کے مزارات پر حاضری دے، یہ جگہ مسجد نبوی سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، لوگ کرائے کی گاڑیاں کرکے اور بہت سے لوگ پیدل چل کر یہاں آتے ہیں، اور دل ونگاہ کو ان مقامات کی زیارت سے منور کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سال کے آغاز میں کسی وقت شہداء کی قبروں پر تشریف لاتے اور فرماتے: السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار۔ ’’تم پر سلامتی ہو، تمہارے صبر کے صلے میں آخرت کا گھر کتنا عمدہ ہے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بھی یہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۳/۳۷۳، تفسیر الطبری: ۱۳/۱۴۲، تفسیر ابن کثیر: ۲/۵۱۲، عمدۃ القاری: ۸/۷۰)

عام مسلمانوں کی برزخی زندگی کے برعکس شہید کی برزخی زندگی بالکل جداگانہ، مختلف اور ممتاز ہوتی ہے، انہیں عام مُردوں پر قیاس کرنا قرآنی نصوص کی بنیاد پر صحیح نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں انہیں ہرگز مردہ خیال (بھی) نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے ربّ کے حضور زندہ ہیں انہیں (جنت کی نعمتوں کا) رزق دیا جاتا ہے۔‘‘(آل عمران: ۱۶۹)

 قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے شہداء کو جنت کا رزق ملتا ہے، اور رزق زندہ آدمی کو ملا کرتا ہے اور وہی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ آیت غزوۂ احد کے واقعات کے ضمن میں نازل ہوئی ہے، اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے، حالاں کہ مٹی کی طبعی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جسموں کو کھا لیتی ہے، مگر شہداء کے بدن اس کی دست وبرد سے محفوظ رہتے ہیں اور زمین ان کو نہیں کھاتی، شہداء احد کی یہ کرامت دیکھی گئی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ میرے والد کو ایک اور صحابیؓ کے ساتھ قبر میں دفن کیا گیا تھا، لیکن میرا دل نہیں مانا کہ میں انہیں دوسرے کے ساتھ یوں ہی رہنے دوں، اس لئے میں نے چھ ماہ کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکالا تو دیکھا کہ صرف کان کا تھوڑا سا حصہ گلا تھا باقی پورا جسم اسی طرح محفوظ تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔ (صحیح البخاری: ۲/۹۳، رقم الحدیث:۱۳۵۱)

حضرت قیس بن حازمؓ فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ کو ان کے کسی رشتے دار نے خواب میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم نے مجھے ایسی جگہ دفن کردیا ہے جہاں پانی آجاتا ہے، اس لئے میری جگہ تبدیل کردو۔ رشتے داروں نے ان کے کہنے پر عمل کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ان کا جسم اسی طرح تروتازہ تھا جس طرح اسے دفن کیا گیا تھا، داڑھی کے چند بالوں کے علاوہ اس میں کچھ بھی تغیر نہیں آیا تھا۔ (مصنف عبد الرزاق:۳/۵۴۷، رقم الحدیث: ۶۶۵۷) یاد رہے کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ بھی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے، غزوۂ احد کے چھیالیس برس کے بعد حضرت معاویہؓ کے عہد خلافت میں شہداء اُحد کی بعض قبریں کُھل گئیں تو ان کے کفن سلامت اور بدن تروتازہ تھے اور تمام اہل مدینہ نے دیکھا کہ شہداء کرام اپنے زخموں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، اتفاق سے کسی کا ہاتھ زخم کی جگہ سے ہٹ گیا تو وہاں سے خون بہنے لگا۔ (مدارج النبوۃ: ۲/۱۳۵، مصنف عبد الرزاق: ۳/۵۴۷، رقم الحدیث: ۶۶۵۶) حضرت مصعب بن عمیرؓ کا ہاتھ سینے پر تھا، ہاتھ اٹھایا گیا تو خون ابل پڑا، ہاتھ کو پھر اسی جگہ رکھ دیا، خون نکلنا بند ہوگیا، اسی طرح مٹی ہٹاتے وقت کدال حضرت حمزہؓ کے پاؤں پر لگ گئی، زخم سے فوراً خون جاری ہوگیا۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ شہداء احد کی قبریں پہلے کسی اور جگہ تھیں موجودہ جگہ پر تدفین حضرت معاویہؓ کے عہد میں ہوئی ہے، یہ جگہ بھی احد کے دامن میں ہے۔ (سیرۃ ابن ہشام: ۲/۸۳، سیرۃ ابن کثیر: ۳/۲۸، ۲۹)

روایات میں ہے کہ جب بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کا ذکر کرتے تو یہ فرماتے، اللہ کی قسم! میں نے چاہا تھا کہ اللہ مجھے بھی میرے ان صحابہؓ کے ساتھ شہید کردیتا جو پہاڑ کے دامن میں قتل کردیئے گئے۔ (مسند احمد بن حنبل: ۳/۳۰۸، رقم الحدیث: ۱۴۴۹۴، مجمع الزوائد: ۶/۱۲۸، عمدۃ القاری: ۱۴/۱۳۵)

اُحد سے واپسی سے قبل آپ ﷺ کی دُعا

جب آپؐ شہداء کی نماز جنازہ اور تدفین سے فارغ ہوگئے تو آپؐ نے صحابۂ کرامؓ کے ساتھ بیٹھ کر نماز ظہر ادا فرمائی، کیوں کہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپؐ نقاہت محسوس کررہے تھے، صحابۂ کرامؓ نے بھی آپؐ کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کی، نماز کے بعد آپؐ نے دُعا کے لئے ہاتھ پھیلائے، صحابہؓ سے بھی فرمایا کہ سیدھے بیٹھے رہو، تمام صحابہ بھی آپؐ کے ساتھ دُعا اور ثناء میں مشغول ہوئے، اس وقت آپﷺ نے یہ کلماتِ دُعا اور حمد وثناء ادا فرمائے:

(ترجمہ: )’’یا اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اے اللہ! جسے تو کشادہ کردے اسے کوئی تنگ کرنے والا نہیں ہے، اور جسے تو پھیلادے اسے کوئی سمیٹنے والا نہیں ہے، جسے تو گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے، اور جسے تو ہدایت عطا کرے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے، جسے تو نہ دینا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے، اور جسے تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے، جسے تو دور کردے اسے کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے اور جسے تو قربت سے نوازے اسے کوئی دور کرنے والا نہیں ہے، اے اللہ! ہم پر اپنی برکتیں، اپنی رحمت، اپنا فضل اور اپنا رزق وسیع فرما، اے اللہ! میں تجھ سے ایسی باقی رہنے والی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جن میں کوئی تبدیلی نہ ہو، جو زوال پزیر نہ ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے فقر والے دن کی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں، اور خوف کے دن امن اور عافیت کا طلب گار ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو تو نے عطا کی ہیں اور ان چیزوں کے شر سے بھی جو تونے عطا نہیں کی ہیں، اے اللہ! ہمارے لئے ایمان کو محبوب بنا، اور اس کو ہمارے دلوں میں سجادے، اور ہمیں کفر و فسق اور نافرمانی سے متنفر فرما اور ہمیں ہدایت پانے والے لوگوں میں سے بنا، اے اللہ! ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں موت دے اور اسلام کے ساتھ ہمیں زندہ رکھ، اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ ملا، اس حال میں کہ نہ ہم رسوا اور ذلیل ہوں، نہ نادم اور شرمندہ ہوں، اور نہ فتنہ وشر میں مبتلا ہوں، اے اللہ! ان کفار کو ہلاک فرما جو تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں، اور جو تیرے راستے سے روکتے ہیں اور ان پر اپنا عذاب مسلط فرما، اے اللہ! ان کفار کو بھی ہلاک فرما جن کو کتاب دی گئی ہے، یا الہ العالمین۔‘‘ (مجمع الزوائد: ۶/۱۲۱، ۱۲۲، رقم الحدیث: ۱۰۱۱۵، المستدرک للحاکم: ۳/۲۶، رقم الحدیث: ۴۳۰۸)

نماز اور دُعا سے فراغت کے بعد آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ واپسی

آپﷺ اسی شام مدینے واپس تشریف لائے۔راستے میں حمنہ بنت جحشؓ ملیں، انہیں بتلایا گیا کہ جنگ میں ان کے بھائی عبد اللہ بن جحشؓ شہید ہوگئے ہیں، انھوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر انہیں ان کے ماموں حمزہؓ بن عبدالمطلب کی شہادت کی خبر دی گئی، یہ سن کر بھی انھوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا، اس کے بعد ان کو ان کے شوہر مصعب بن عمیرؓ کی شہادت کے بارے میں بتلایا گیا، یہ سن کر وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں۔ ان کو اس حال میں دیکھ کر رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت کے دل میں شوہر کا ایک خاص مقام ہوتا ہے، وہ اپنے بھائی اور اپنے ماموں کی وفات کی خبر سن کر ضبط کرگئیں، لیکن شوہر کی وفات پر صبر نہ کرسکیں۔ (سنن ابن ماجہ: ۱/۵۰۷، رقم الحدیث: ۱۵۹۰، سنن البیہقی: ۴/۱۱۰، رقم الحدیث: ۷۱۳۲، المستدرک للحاکم: ۴/۶۱،۶۲)

مسلمانوں کا قافلہ مدینے پہنچا تو عورتیں اپنے شوہروں کو، بیٹوں اور بھائیوں کو تلاش کرتی نظر آئیں، جن کو مل گئے وہ خوشی سے نہال ہوگئیں، اور جن کو اپنے عزیز واقارب نظر نہیں آئے انھوں نے سینہ کوبی شروع کردی، بچے بھی اس بھیڑ میں اپنے باپ کو تلاش کررہے تھے، بہت سے بچوں کو ان کے والد مل گئے، اور کچھ بچے تلاش کرتے ہی رہ گئے۔ اسی دوران بنو عبد الاشہل کے ایک گھر کے پاس سے آپؐ کا گزر ہوا، وہاں سے رونے کی آوازیں آرہی تھیں، معلوم ہوا اس گھر کے سربراہ شہید ہوگئے ہیں، عورتیں آہ وبکا کررہی ہیں، ان کی درد بھری آوازیں سن کر آپ ﷺ کی مبارک آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے، آپ ؐ کو اپنے چچا حضرت حمزہؓ کا خیال آیا۔ آپؐ نے درد بھرے لہجے میں فرمایا: سب اپنے اپنے شہیدوں پر رورہے ہیں مگر حمزہؓ پر نوحہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ حضرت سعد بن معاذؓ اور حضرت اُسید بن حُضَیْرؓ نے یہ بات سنی تو اپنے اپنے گھروں میں پہنچے اور اپنی عورتوں سے کہا کہ وہ جاکر حضرت حمزہؓ پر نوحہ کریں، عورتیں آئیں اور مسجد کے صدر دروازے پر کھڑی ہوکر نوحہ کرنے لگیں، رسول اللہ ﷺباہر تشریف لائے اور فرمایا: بس اب واپس چلی جاؤ، اللہ تم پر رحم فرمائے، تم نے اپنی طرف سے تسلی وتشفی کا حق ادا کردیا ہے۔(سنن ابن ماجہ: ۱/۵۰۷، رقم الحدیث: ۱۵۹۱، سنن البیہقی: ۳/۳۰۱، ۳۰۲، سیرت ابن ہشام: ۳/۵۴، البدایہ والنہایہ: ۴/۴۷)

میدان اُحد سے واپسی کے بعد آپ گھر تشریف لے گئے، حضرت فاطمہؓ حاضر خدمت ہوئیں، آپؐ نے ان کو اپنی تلوار دی اور فرمایا:بیٹی اس پرخون لگا ہوا ہے، اسے دھودو، اللہ کی قسم! آج یہ تلوار بڑی سچی ثابت ہوئی ہے۔ حضرت علیؓ نے بھی اپنی خون آلود تلوار حضرت فاطمہؓ کو دے کر دھونے کے لئے کہا، اور فرمایا: خدا کی قسم! میری تلوار بھی آج بڑی وفادار اور سچی نکلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم جنگ میں ثابت قدم رہے تو تمہارے ساتھ سَہل بن حُنَیْف اور ابو دُجانہ بھی سچے کھرے اور ثابت قدم نکلے۔ (المستدرک للحاکم: ۳/۲۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے یہ بھی فرمایا کہ مشرکین اس وقت تک ان جیسی تلواروں کی موجودگی میں ہمیں گزند نہیں پہنچا سکتے جب تک اللہ ہی ان کو ہم پر غالب نہ کردے۔ (البدایہ والنہایہ: ۴/۴۷) حافظ ابن ہشام بعض محدثین کے حوالے سے کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺکی تلوار کا نام ذوالفقار تھا، اُحد کے دن کسی کہنے والے کا یہ شعر خوب سنا گیا:

لا سیف إلّا ذوالفقارولا فتی إلا علی

’’تلوار تو بس ذوالفقار ہے اور علی جیسا کوئی جوان نہیں۔‘‘ (سیرت ابن ہشام: ۴/۵۶) (جاری)

25 فروری 2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

Part: 57- Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

Part: 58- When The Prjophet Said, 'Who can teach Ka'b bin Ashraf a lesson'? Part-58 جب آپؐ نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف کو اس کی اوقات یاد دِلائے

Part: 59- When the Plan to Avenge the Defeat of the Battle of Badr Failed Part- 59 جب جنگ بدر کی شکست کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا

Part: 60- The Polytheists Were No Longer Peaceful and Quiet After the Defeat of Badr Part-60 بدر کی شکست نے مشرکین کے دن کا سکون اور رات کاچین چھین لیا تھا

Part: 61- Then He Said, ‘It Was Not For a Prophet to Take Up Arms and Put Them Down’ Part-61 تب آپ نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہتھیار لگا کر اُتاردے

Part- 62: Mount Uhud loves us, and we Love it, says the Holy Prophet PBUH Part-62 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبل اُحد ہم سے محبت کرتاہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں

Part: 63- The Archers Were Instructed Their Sole Mission Was To Protect by Remaining Behind the Mountain of Uhud Part-63 تیر اندازوں کو تاکید کی گئی کہ ان کا کام صرف جبلِ اُحد کے پیچھے ٹھہر کر حفاظت کرنا ہے

Part: 64- Only Those Who Have Been Guided By Allah Can Stand Firm against the Enemy Part-64 دشمن کے مقابلے میں وہی لوگ ڈٹے رہتے ہیں جنہیں اللہ نے رُشد و ہدایت سے نوازاہے

Part: 65- The Martyrdom Of Hazrat Hamza, The Holy Prophet's Uncle, Is The Most Terrible Episode Of The Battle Of Uhud Part-65 جنگ اُحد کا سب سے المناک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت ہے

Part: 66- At The Funeral of Hazrat Hamza, the Prophet's (PBUH) Eyes Were Filled With Grief Part-66 حضرت حمزہؓ کی تجہیز تکفین کے وقت شدت غم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشم مبارک چھلک اٹھی تھی

Part: 67- Rumours of the Prophet's Martyrdom Struck the Muslims Like A Bolt of Lightning, and They Lost the War They Had Won Part-67 آپؐ کی شہادت کی افواہ مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اور وہ جیتی ہوئی جنگ ہار گئے

Part: 68- Muslims Were Told A Year Ago That Seventy of Their Men Would Be Martyred Part-68 مسلمانوں کو ایک سال پہلے ہی بتلا دیا گیا تھا کہ تمہارے ستّر آدمی شہید ہوں گے

Part: 69- No Excuse Would Be Acceptable To Allah If the Holy Prophet (PBUH) Was Harmed Part - 69 اگر نبیؐ کی ذاتِ اقدس کو کوئی گزند پہنچی تو اللہ کے نزدیک تمہارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا

Part: 70- One Jew Who Fought On Behalf Of the Muslims Became Entitled To Heaven, And The Other To Hell Part-70 مسلمانوں کی طرف سےلڑنے والا ایک یہودی جنت کا حقدار بنا تو دوسرا دوزخ کا

Part: 71- The Prophet Decreed That the Individual Who Memorised the Qur'an Be Buried First, Above All Other Martyrs Part-71 شہداء کی تدفین کیلئے آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو پہلے قبر میں لٹاؤ جو حافظ قرآن تھا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hadith-prophet-martyred-uhud-part-72/d/126453

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..