New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 04:15 PM

Urdu Section ( 11 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

مولانا ندیم الواجدی

8 اکتوبر،2021

قیدیوں کیساتھ سلوک پر مشورہ

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دونوں طرح کے موقف آگئے، آپؐ کچھ دیر خاموش رہے، اس کے بعد آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ کی رائے کے مطابق فیصلہ کیا کہ جنگی قیدیوں کو زرفدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ظاہر ہے زرفدیہ کی وصولی میں وقت لگتا اس لئے آپؐ نے ان تمام ستر قیدیوں کو مختلف صحابہؓ کے حوالے کردیا کہ وہ انہیں اپنے گھر لے جائیں اور ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کے بعد کہ قیدیوںکو زر فدیہ لے کر رہا کردیا جائے، یہ آیت نازل ہوئی:

’’ ’’یہ بات کسی نبی کے شایانِ شان نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی رہیں، جب تک وہ زمین میں (دشمنوں کا) خون اچھی طرح نہ بہاچکا ہو، (جس سے ان کا رعب پوری طرح ٹوٹ جائے) تم دنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ (تمہارے لئے) آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے اور اللہ صاحب اقتدار بھی ہے اور صاحب حکمت بھی۔‘‘(الانفال:۶۷) اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مفسرین نے لکھا ہے کہ اکثر صحابہؓ کی رائے یہی تھی کہ ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، فدیہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی جنگی قیدی کو چھوڑنے کے عوض طلب کیا جائے۔

بہرحال فدیہ لینے کا فیصلہ ہوچکا تھا، اس پر عمل بھی ہوا، فدیہ لینے پر یہ ناراضگی بھی وقتی تھی اور اس مصلحت کی وجہ سے تھی جو بیان کی گئی، بعد میں جنگی قیدیوں کے بدلے میں فدیہ لینے کی اجازت دے دی گئی، جیسا کہ سورہ محمد کی آیت (۴) میں ہے۔  بعد کی جنگوں میں فدیہ لینے کی اجازت دے دی گئی اور فدیہ لئے بغیر محض احسان کے طور پر رہا کرنے کی اجازت بھی مرحمت فرمادی گئی۔

(تفسیر طبری، ۱۴؍۵۸، ۶۲، تفسیر بغوی ۳؍۳۷۴، ۳۷۶)

اسلام رحمت و شفقت، عدل و انصاف، ہمدردی اور غم گساری کا مذہب ہے، اور پیغمبر اسلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں، آپؐ کی ہر تعلیم اور آپؐ کے ہر عمل میں صفت رحمت پنہاں ہے، یہی وجہ ہے کہ بدر سے جو قیدی یہاں مدینے لائے گئے ان کو فرار ہونے سے تو روکا گیا، لیکن ان پر بے جا ظلم و تشدد روا نہ رکھا گیا، بعثت نبوی سے قبل اسیرانِ جنگ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا جاتا تھا، جوانوں کو قتل کردیا جاتا یا انہیں اپاہج اورمعذو بنا دیا جاتا، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو غلام بنا کر ان سے بیگار لی جاتی تھی اور ان پر تشدد کیا جاتا تھا، آج بھی نام نہاد متمدن قوموں کا یہی وطیرہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسیرانِ جنگ کے ساتھ جو حسن سلوک کیا اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی، مدینے تشریف لانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو صحابہؓ کے حوالے کردیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی حیثیت اور گنجائش کے مطابق دو-دو، چار-چار قیدی اپنے گھر لے جائیں اور ان کیساتھ اچھا سلوک کریں۔ (البدایہ والنہایہ، ۳؍۳۰۶) یہ حکم مسلمانوں کے اس وصف کی عملی تفسیر تھی جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے:’’اور وہ اللہ کی محبت کی خاطر مسکینوں،یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘  (الدھر:۸)

ایک قیدی ہیں، ان کا نام ابوعزیربن عمیر ہے، حضرت مصعب بن عمیرؓ کے بھائی ہیں، وہ ایک انصاری صحابی کے گھر میں قید رکھے گئے تھے، کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کے بعد کہ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا میری میزبانی کا یہ حال تھا کہ وہ خود تو کھجوروں پر گزارا کرتے اور مجھے گیہوں کی روٹی کھلاتے۔ (معجم الزوائد، ۶؍۸۶، المعجم الکبیر للطبرانی، ۱۶؍۲۴۸، رقم الحدیث ۲۴۸) ابوالعاص بن ربیعؓ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمیں صبح و شام کے کھانے میں روٹی ملتی تھی اور وہ لوگ خود کھجور سے پیٹ بھرا کرتے تھے، ولید بن المغیرہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ وہ ہمیں اٹھا کر باہر لے جاتے اور ہمیں ٹہلاتے بھی تھے۔ (کتاب المغازی، للواقدی، ۱؍۱۱۹)

اس حسن سلوک کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض قیدیوں نے قید کے دوران ہی اسلام قبول کرلیا، جیسے ابوعزیرؓ نے اپنے میزبان کی مہمان نوازی سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھا، سائب بن عبیدؓ نے فدیہ ادا کرکے رہائی پائی، مگر وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس نہیں گئے بلکہ مسلمان ہوکر وہیں رہ گئے۔

حضرت عباسؓ کا فدیہ

قریش نے اپنے اپنے متعلقین کا فدیہ روانہ کیا، بہت سے لوگ رہا ہو کر چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباسؓ سے بھی فدیہ دینے کے لئے کہا، انہوں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میں تومسلمان ہوچکا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: آپ کے ایمان کا حال تو اللہ ہی جانتاہے اور اگر ایساہی ہے تو اللہ آپ کو اس کی جزا دے گا۔ بظاہر تو ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ آپ مسلمان ہیں، آپ اپنا فدیہ دیں اور اپنے دو بھتیجوں نوفل بن الحارث بن عبدالمطلب اور عقیل بن ابی طالب بن عبدالمطلب اور اپنے حلیف عتبہ بن عمرو کا فدیہ بھی دیں۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میرے پاس اتنامال کہاں ہے؟ میں توغریب آدمی ہوں۔ آپ نے فرمایا: اچھا وہ سونا کہاں ہے جو آپ اپنی بیویؐ ام الفضل کو دے کر آئے ہیں کہ اگر میں واپس نہ آسکوں تو یہ سونا میرے بیٹوں عبداللہ، عبیداللہ،  قاسم اور فضل وغیرہ پر خرچ کردینا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ بات سن کر حضرت عباسؓ حیرت زدہ رہ گئے، کیوںکہ اس بات کا علم انہیں تھا یا ان کی اہلیہ ام الفضل کو، کسی تیسرے کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی کو سونا دے کر آئے ہیں۔ وہ بے ساختہ پکار اٹھے یارسول اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ حضرت عبدالمطلب کی والدہ یعنی حضرت عباس کی دادی انصار مدینہ میں سے تھیں، اس رشتے سے وہ انصار کے بھانجے تھے، چنانچہ اس رشتے کے حوالے سے انصار نے عرض کیا کہ عباس ہمارے بھانجے ہیں، آپ اپنے چچا کی حیثیت سے نہیں بلکہ ہمارا بھانجا ہونے کی وجہ سے ان کا فدیہ معاف کردیجئے، مگر آپ اس پر راضی نہیں ہوئے، بلکہ ان پر سواوقیہ فدیہ لگایا۔ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔عقیل اور نوفل پر اسّی اسّی درہم لگائے۔ حضرت عباسؓ نے عرض کیا کہ آپ نے مجھ پر بیس اوقیہ زیادہ رکھے ہیں، رشتہ داری کا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ کم رکھتے یا کم از کم برابر ہی رکھتے، اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: ’’اے نبی! آپ ان قیدیوں سے جو آپ کے قبضے میں ہیں کہہ دیجئے کہ (تم اس فدئیے پر کچھ افسوس نہ کرو) اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں کچھ بھلائی دیکھے گا تو جو تم سے لیا گیا ہے اس سے کہیں زائد اور بہتر مال تم کو عطا کردے گا۔‘‘ (الانفال:۷۰)

بعد میں حضرت عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ کاش مجھ سے اور زیادہ فدیہ لے لیا گیا ہوتا، اس لئے کہ اللہ نے مجھے اس سے کہیں زیادہ اور بہتر مال عطا فرمایا، سو اوقیہ کے بدلے میری ملکیت میں سو غلام آئے، جو سب کے سب تجارت میں لگے ہوئے تھے اور مال کما کر مجھے دیتے تھے۔ (فتح الباری، ۷؍۳۲۱،مسند احمد، ۷؍۱۷۳، رقم الحدیث ۳۱۴)

حضورؐ کے داماد کا معاملہ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی حضرت زینبؓ مکہ مکرمہ ہی میں رہ گئی تھیں، انہیں ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع نے اپنے پاس ہی روک لیا تھا، حالاںکہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، مگر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی نہیں تھے،کبھی نہیں سنا گیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کوئی نازیبا بات کہی ہو، یا کسی مسلمان کو برا کہا ہو، یا اسلام مخالف مشوروں میں حصہ لیا ہو، جنگ بدر میں شریک ہوئے، کیوں کہ قوم کا دباو تھا، مگر انہوں نے جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا، نہ ان کی آواز سنی گئی، نہ ان کی کوئی رائے سامنے آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد کی حیثیت سے ان کی شخصیت اہمیت کی حامل تھی، لیکن انہوں نے خودکو نمایاں نہیں کیا، گرفتار ہونے والوں میں یہ بھی تھے، ان سے بھی زر فدیہ طلب کیا گیا۔

حضرت زینبؓ نے ان کو قید سے چھڑانے کے لئے اپنا ہار بھیج دیا،یہ وہ ہار تھا جو ان کی والدہ مرحومہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے شادی کے موقع پر ان کو دیا تھا، یہ ایک قیمتی ہار تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ ہار پیش ہوا تو آپؐ  کا دل بھر آیا، آپ کو رفیقۂ حیات حضرت خدیجہؓ یاد آگئیں، ان کی طویل رفاقت اور اس دوران ان کی بے مثال قربانیاں نگاہوں کے سامنے آگئیں، پھر یہ ہار عزیز از جان بیٹی زینبؓ کا تھا، جو اس وقت اپنے مشفق والد سے سیکڑوں میل دور دیار کفر میں ایک مشرک کے گھر میں زندگی بسر کر رہی تھیں، یہ سب واقعات آپ کو بے قرار کر گئے، آنکھوںمیں پانی بھر آیا، دوسری طرف عدل کا تقاضا یہ تھا کہ سب قیدیوں کے ساتھ برابری کا معاملہ ہو، قرابت داری کی وجہ سے کسی کے ساتھ خصوصی برتاو نہ کیا جائے، اگرچہ آپؐ  کو مکمل اختیار تھا اور آپ اپنے اس اختیار سے کام لے کر بغیر فدیہ لئے اپنے داماد کو رہا بھی کر سکتے تھے، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا بلکہ صحابہ سے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور اس کا ہار بھی واپس کردو، صحابہؓ نے عرض یارسول اللہ! آپؐ  جیسا چاہیں، ہم تو آپؐ کی خوشی سے خوش ہیں۔ (سنن ابی دائود، ۷؍۳۰۶، رقم الحدیث۷؍۲۳)

ابوالعاص رہا کردئیے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ زینبؓ کو مدینے بھیج دیں گے ، انہوں نے وعدہ کیا، ابوالعاص کی روانگی کے ٹھیک ایک ماہ بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہؓ اور ان کے ساتھ ایک انصاری کو مکہ کی جانب بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ بطنِ یأجَجْ میں جا کر ٹھہریں، زینبؓ وہاں آئیں گی، ان کو لے کر یہاں آنا، یہ دونوں حضرات سفر پر روانہ ہوگئے، اُدھر ابوالعاص نے اپنی اہلیہ محترمہ حضرت زینبؓ سے کہا کہ تمہیں اپنے ابا جان کے پاس مدینے جانا ہے، تیاری کرو، مقررہ وقت پر ابوالعاص کے بھائی کنانۃ بن الربیع ایک اونٹ لے کر آئے اور حضرت زینبؓ کو لے کر روانہ ہوئے، اہل مکہ ابھی تک اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تھے، انہیں جیسے ہی یہ پتہ چلا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی مدینے جارہی ہیں، چند لوگ جن میں ہبار بن الاسود پیش پیش تھا، تعاقب میں روانہ ہوئے، ہبار نے ایک تیر مارا، جو حضرت زینبؓ کے ہودج پر لگا، وہ حمل سے تھیں، خوف اور صدمے سے ان کا حمل ضائع ہوگیا، کنانہ نے ان لوگوں کو پیچھے آتے ہوئے دیکھا تو وہ تیر کمان سنبھال کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ اگر کوئی آگے بڑھا تو میں تیر چلادوں گا، اتنے میں ابوسفیان وہاں آگیا، اس نے قریش کو سمجھایا اور کنانہ سے بھی کہا کہ بدر کا زخم ابھی تازہ ہے،تم علی الاعلان زینب کو لے کر نکلے ہو، ابھی واپس چلو، کسی دن خاموشی کے ساتھ نکلنا، کنانہ کے بات سمجھ میں آگئی، اس وقت تو وہ زینب کو لے کر واپس ہوگیا، مگر چند روز بعد رات میں وہ زینب کو لے کر روانہ ہوا اور انہیں بطن یأجج میں حضرت زید بن حارثہ کے سپرد کردیا۔

سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابوالعاص چھ سال تک مکہ مکرمہ میں رہے، اس دوران اُن میں اور حضرت زینبؓ میں کوئی رابطہ نہیں رہا۔ بعد میںمسلمان ہوگئے، حضرت زینب کے ساتھ ان کا نکاح برقرار رہا۔ (سنن ابی دائود، ۷؍۳۰۶، رقم ۲۳۱۷، دلائل النبوۃ للبیہقی، ۳؍۱۶۶، رقم الحدیث ۴۰۱۷)

ابوالبختری کی ہلاکت

جنگ کے آغاز ہی میں رسول اللہ ﷺ نے یہ اعلان فرمادیا تھا کہ بنی ہاشم کو قتل مت کرنا، کیوں کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے لڑنے نہیں آئے ہیں بلکہ زبردستی لائے گئے ہیں، اسی طرح یہ بھی اعلان فرمایا تھا کہ ابوالبختری کو قتل نہ کیا جائے،یہ شخص اگرچہ مشرک تھا مگر اس نے کبھی اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت نہیں کی، نہ کبھی رسولؐ اللہ کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کی، بلکہ اس نے آپ کی مدد بھی کی، اس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ تمام بنوہاشم شعب ابی طالب میں محصور تھے تو اس نے غلہ وغیرہ پہنچانے میں لوگوں کی مدد کی تھی، مقاطعے کا جو تحریری معاہدہ قریش نے آپس میں کیا تھا وہ خانہ کعبہ کے اندر آویزاں تھا، اس معاہدے کو کالعدم قرار دینے کے لئے جن چار لوگوں نے کوشش کی ان میں ایک ابوالبختری بھی تھا، اس لئے آپ نے بطور خاص یہ ہدایت دی کہ اسے قتل نہ کیا جائے۔

اس ہدایت کے باوجود وہ قتل ہوگیا، مگر اس میں صحابہ کی کوئی غلطی نہیں تھی، واقعہ یہ پیش آیا کہ جنگ کے دوران یا بعد میں کسی وقت ابوالبختری کا سامنا حضرت مجذر بن زیاد البُلویٰ سے ہوگیا، انہوں نے کہا کہ رسولؐ اللہ ہمیں تمہارے قتل سے منع فرمایا ہے، ابوالبختری اس وقت اونٹ پر سوار تھا اور اس کے پیچھے جَنَادَہ بن مَلِیحہ بنت زہیر بن الحارث بیٹھا ہوا تھا، اس نے مجذر سے دریافت کیا کہ میرے اس ساتھی کا کیا ہوگا، انہوں نے کہا اسے ہم نہیں چھوڑیں گے، ابوالبختری کی غیرت نے یہ گوارا نہیں کیا کہ اس کا ہم نشیں مارا جائے اور وہ خود محفوظ رہے،دونوں طرف سے تلواریں چلیں، بالآخر ابوالبختری اور جنادہ دونوں مارے گئے۔ (البدایہ والنہایہ، ۳؍۳۱۲، سیرت ابن ہشام، ۱؍۶۳۰) (جاری)

8 اکتوبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/history-forget-prophet-muhammad-pbuh-part-53/d/125557

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..