New Age Islam
Sat Nov 27 2021, 10:07 AM

Urdu Section ( 7 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Abdullah Ibn Ubay: His Sympathy With the Jews Until the Last Moment of Their Expulsion From Madina Part-57 عبد اللہ بن أبی، یہود کے مدینہ سے اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمدرد بنا رہا

مولانا ندیم الواجدی

5 نومبر 2021

مدینہ سے بنی قینقاع کا اخراج:

بنو قینقاع کے یہود کا یہ متکبرانہ لب ولہجہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا، ان کی سرزنش ضروری تھی، اور سرزنش بھی ایسی جس سے یہودیوں کے دوسرے قبیلوں کو سبق ملتا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابولبابہ ابن عبد المنذر انصاریؓ کو مدینہ منورہ کی ذمہ داریاں تفویض کرکے بنوقینقاع کے علاقے کی طرف کوچ فرمایا۔ مسلمانوں کو دیکھ کر یہ بد باطن اور عہد شکن یہودی قلعے کے اندر چلے گئے اور اس کا دروازہ بند کرکے بیٹھ گئے۔ یہ ۱۵؍ شوال کا واقعہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افواج اسلام کو حکم دیا کہ وہ اس وقت تک قلعے کا محاصرہ جاری رکھیں جب تک یہودی قلعے سے باہر نہ نکلیں،حالات سے مجبور اور پریشان ہوکر سولہویں دن ذی القعدہ کی پہلی تاریخ کو یہودی دروازہ کھول کر باہر آگئے جس کے بعد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر باندھنے کا حکم دیا۔

عبد اللہ بن أبی بن سلول کی درخواست

جس وقت یہودیوں کی مشکیں کسی جارہی تھیں، رئیس المنافقین عبد اللہ بن أبی بن سلول نے یہ درخواست کی کہ ان کے (یہودیوں کے)  ساتھ رحم وکرم کا معاملہ کیا جائے، کیوں کہ یہ میرے حلیف ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی درخواست پر توجہ نہیں دی، اس نے پھر درخواست کی، آپؐ نے پھر اعراض فرمایا، عبد اللہ بن أبی طیش میں آگیا، اور انتہائی گستاخانہ انداز میں اس نے اپنا ہاتھ آپؐ کے گریبان پر ڈال دیا۔ اس کی اس حرکت سے آپؐ غضب ناک ہوگئے، یہاں تک کہ غصّے سے آپؐ  کا چہرۂ مبارک سُرخ ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا: اے عبد اللہ! تیرا ناس ہو، میرا گریبان چھوڑ دے۔ اس نے ہٹ دھرمی دکھلائی اور کہا : میں آپؐ  کا گریبان اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپؐ مجھ سے ان کو رہا کرنے کا وعدہ نہیں کریں گے۔ خدا کی قسم اس قوم کے چار سو ننگے سر والوں اور تین سو زرہ پوشوں نے میرا دفاع کیا ہے، آپؐ ایک دن میں انہیں ہلاک کردینا چاہتے ہیں۔ ابن أبی منافق کے حد درجہ اصرار کے بعد آپؐ نے بربنائے مصلحت ان کی مشکیں کھلوا دیں  مگر اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ اب سرکشوں اور  باغیوں کو مدینے میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہیں یہاں سے جانا ہوگا، عبد اللہ بن أبی نے یہ بات مان لی۔ اس طرح تمام یہودی اپنے اہل وعیال کے ساتھ مدینے سے چلے گئے۔ (تاریخ الطبری: ۲/۴۹، الطبقات الکبری: ۲/۲۹،  عیون الاثر: ۲/۴۴۴)

بنو قینقاع کے یہودیوں سے جان بخشی کی یہ شرط لگائی گئی تھی کہ وہ اپنا مال واسباب چھوڑ کر یہاں سے جائیں، ان کے جانے کے بعد مسلمانوں نے ان کے غنائم اکٹھے کئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہؓ  کو غنائم کا نگراں مقرر کیا اور واپس مدینے تشریف لے گئے۔

عبد اللہ بن أبی جلا وطنی اور اخراج کے آخری لمحے تک ان کا ہمنوا اور ہمدرد بنا رہا، اس کی کوشش تھی کہ یہودیوں کو جلا وطنی کی جو سزا دی گئی ہے وہ معاف کردی جائے، اور اگر انہیں جلا وطن ہی کرنا ضروری ہے تو کم از کم انہیں اپنا مال ومتاع ساتھ لے کر جانے کی اجازت دی جائے، یہ درخواست لے کر وہ آپؐ کے در دولت پر حاضر ہوا، ایک انصاری صحابی عویم بن مساعدہؓ وہاں موجود تھے، انھوں نے اسے روک دیا، اور کہا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہیں دیں گے میں اس وقت تک تمہیں اندر جانے نہیں دوں گا، یہ سن کر ابن أبی نے حضرت عویمؓ کو دھکا دیا۔ انہوں نے بھی اس پر سختی کی، اور اس قدر زور سے اس کو دھکا دیا کہ اس کا چہرہ دیوار سے ٹکراکر زخمی ہوگیا، منافقوں کے سردار کی یہ درگت دیکھ کر اس کے حلیف یہود کہنے لگے: اے ابو الحباب بس کرو، رہنے دو، ہم ایسے گھر میں رہنا نہیں چاہتے، جس میں آپ کا یہ حال کردیا گیا ہو۔ اس واقعے کے بعد یہودیوں نے مدینے میں رہنے کی امید چھوڑ دی اور شام کی طرف روانہ ہوگئے۔ (الطبقات الکبری: ۲/۲۸)

دوسری طرف حضرت عبادہ بن الصامتؓ بھی بنو قینقاع کے حلیف تھے، لیکن انھوں نے یہودیوں سے علی الاعلان برأت اور بے زاری کا اظہار کیا، حالاں کہ عبد اللہ بن أبی نے انہیں یاد بھی دلایا کہ تم یہود کے حلیف ہو، تمہیں ان کا ساتھ دینا چاہئے، مگر انھوں نے کسی بھی طرح کی مدد کرنے سے صاف انکار کردیا۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! میں آپؐ کے دشمنوں سے بری اور بے زار ہوں، اور اللہ اور اس کے رسولؐ اور اہل ایمان کی طرف آتا ہوں اور انہی کو اپنا حلیف بناتا ہوں، اور کفار کی دوستی سے مکمل طور پر اپنی برأت کا اظہا ر کرتا ہوں۔ (البدایہ والنہایہ: ۴/۵)

غزوۂ سَوِیْق

یکم ذوالحجہ کو یہ واقعہ پیش آیا، اور ۵؍ذی الحجہ کو آپؐ ایک اور غزوے کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس غزوے کی تفصیل یہ ہے کہ بدر میں زندہ بچ جانے والے مشرکین جب مکّہ پہنچے اور وہاں پہنچ کر انھوں نے بدر کے واقعات سنا کر رونا پیٹنا شروع کیا تو ابوسفیان نے قسم کھائی کہ جب تک وہ مدینے پر حملہ نہیں کرے گا اس وقت تک غسلِ جنابت نہیں کرے گا، چنانچہ اس نے دو سو ساتھیوں کو لے کر مدینے کے لئے روانہ ہوا۔ مدینے پہنچ کر وہ اور اس کے تمام رفقاء بنی النضیر میں پہنچے، سلَّام بن مشکم نے  ان کا استقبال کیا، اور رات میں ان کی ضیافت کی، صبح کو یہ لوگ اپنی منزل کے لئے روانہ ہوئے، مدینہ منورہ سے باہر عُرَیْض نامی علاقے میں ایک انصاری صحابی اپنے نوکر کے ساتھ باغ میں پانی دے رہے تھے، ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے ان دونوں کو قتل کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی، آپ نے اپنے جاں نثار صحابہؓ کے ساتھ ان کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر وہ لوگ یہ بزدلانہ حرکت کرکے وہاں سے جا چکے تھے، اس لئے ہاتھ نہ آسکے، اپنا بوجھ کم کرنے کے لئے ان لوگوں نے ستو کے کٹّے اور تھیلے اسی باغ میں چھوڑ دئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ستو کے یہ تھیلے جو بڑی تعداد میں تھے، اٹھا لئے جائیں گو یا یہ مال غنیمت تھا جو اس غزوے میں ہاتھ آیا، پانچ روز کے بعد آپؐ مدینہ واپس تشریف لائے، اس غزوہ کو غزوۃ السویق اس لئے کہا جاتا ہے کہ عربی میں ستّو کو سویق کہتے ہیں۔ (تاریخ الطبری: ۲/۵۰، الکامل فی التاریخ: ۲/۳۹،۴۰)

غزوۂ ذی أمْر

غزوہ سویق سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ کا پورا مہینہ مدینے ہی میں گزارا، اس کے اختتام پر یا محرم کے آغاز میں آپ کو یہ اطلاع ملی کہ بنو غطفان کے دو قبیلے بنو ثعلبہ اور بنو محارب نجد میں جمع ہورہے ہیں، ان کا ارادہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا ہے، اس اطلاع کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیاری کا حکم دیا اور حضرت عثمان بن عفانؓ کو اپنا قائم مقام مقرر فرماکر نجد کی طرف کوچ فرمایا۔ اس سفر میں چار سو پچاس صحابہ آپؐ کے ہمراہ تھے۔ کچھ پیدل اور کچھ سوار۔ مسلمانوں کے لشکر کی خبر پاکر دشمن بھاگ کھڑے ہوئے، صرف ایک شخص ہاتھ آیا، اس کا نام جبار تھا اور وہ بنو ثعلبہ سے تعلق رکھتا تھا۔  لوگوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ دیر تنہائی میں گفتگو کی، اور اس پر اسلام پیش کیا، جسے اس نے قبول کرلیا۔ آپؐ نے اسے حضرت بلالؓ کے سپرد کیا کہ وہ اس کو دین کی تعلیم دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غطفان کے علاقے میں مہینہ بھر تک قیام فرمایا، اس طویل عرصے میں کوئی ایک شخص بھی مقابلے کے لئے نکل کر نہیں آیا، طویل انتظار کے بعد آپؐ واپس مدینہ تشریف لے آئے۔ غزوۂ ذی امر کو غزوۂ غَطْفَان بھی کہا جاتا ہے، اور بعض مؤرخین نے اسے غزوۂ اَنْمَار بھی لکھا ہے، ذُوْ اَمْر مدینے سے کچھ فاصلے پر ایک وادی ہے جو نخیل نامی بستی کے قریب واقع ہے۔ (تاریخ الطبری: ۲/۵۲، الطبقات الکبری: ۲/۳۴)

آپؐ پر قاتلانہ حملےکا مذموم ارادہ

اس سفر میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک دن بارش ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابۂ کرامؓ کے کپڑے بھیگ گئے، آپؐ نے اپنے کپڑے  دھوپ میں پھیلا دیئے اور صحابہ سے ذرا دور ہٹ کر ایک درخت کے نیچے آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے۔ گاؤں والے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ  یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ آپؐ درخت کے نیچے تنہا لیٹے ہوئے ہیں اور سو رہے ہیں، جب کہ آپؐ کے رفقاء دور ہیں اور بکھرے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنے سردار دعثور سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نقصان پہنچانے کا یہ بہترین موقع ہے، تم جاؤ اور ان کو قتل کردو۔ دعثور کی بہادری کا دور دور تک شہرہ تھا، لیکن اس کا یہ اقدام انتہائی بزدلی کا غماز تھا۔ کیا کسی تنہا شخص پر حملہ کرنا جب کہ وہ غیر مسلّح ہو اور سویا ہوا بھی ہو، بہادری اور شجاعت کی دلیل ہے؟

قوم کے اکسانے پر دعثور بن حارث ایک تیز دھار والی تلوار لے کر اس جگہ جا پہنچا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محو استراحت تھے، آپؐ کی تلوار درخت پر لٹکی ہوئی تھی، آپؐ آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹے تھے، آپؐ کو احساس ہوا کہ کوئی شخص دبے پاؤں قریب آکر کھڑا ہوگیا ہے۔ آپؐ نے آنکھیں کھول کر دیکھا کہ ایک شخص ہاتھ میں تلوار لئے کھڑا ہے، اس نے للکارتے ہوئے کہا کہ اے محمد! بتاؤ، تمہیں اب کون بچائے گا۔ آپؐ نے لیٹے لیٹے فرمایا: مجھے میرا اللہ بچائے گا، یہ سن کر دعثور کے ہاتھ کانپنے لگے، تلوار اس  کے ہاتھ سے چھو‘ٹ کر نیچے گر گئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھا کر اسے پکڑا دی۔ اس واقعے کا اس پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔  قبیلے میں واپس پہنچے تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہوا، تم ناکام کیسے رہ گئے، تم تو محمد کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے کے ارادے سے گئے تھے، کہنے لگا: میں نے ایک طویل القامت شخص کو دیکھا، میرا خیال ہے وہ فرشتہ تھا، اس نے میرے سینے پر اس زور سے مکا مارا کہ میں پیٹھ کے بَل نیچے گر پڑا، لوگو! میں مسلمان ہوچکا ہوں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تم لوگ بھی ایمان لے آؤ۔ قرآن کریم کی سورۂ المائدہ آیت گیارہ میں اسی واقعے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (اسد الغابہ: ۲/۲۰۰، البدایہ والنہایہ: ۴/۲)

بخاری اور مسلم میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ مذکور ہے، مگر یہ واقعہ کسی دوسرے غزوہ میں پیش آیاتھا، حضرت جابر بن عبد اللہ اس کے راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ ہم لوگ غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام کی نیت سے درخت کے سائے میں لیٹ گئے، ہم ذرا دور تھے، آپؐ کی تلوار مبارک بھی درخت سے لٹکی ہوئی تھی، اتنے میں ایک مشرک وہاں آیا، اور آپؐ کی تلوار ہاتھ میں لے کر کہنے لگا کیا آپؐ کو مجھ سے ڈر لگ رہا ہے، آپ نے فرمایا: نہیں، کہنے لگا: آپؐ  کو مجھ سے کون بچائے گا، آپؐ نے فرمایا: اللہ میری حفاظت کرنے والا ہے۔ (صحیح البخاری:۵/۱۱۵، رقم الحدیث: ۴۱۳۶، صحیح مسلم: ۱/۵۷۶، رقم الحدیث: ۸۴۳) حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ یہ دو قصے الگ الگ ہیں، پہلے قصے میں دعثور مسلمان ہوگئے تھے، یہ شخص مسلمان نہیں ہوا۔ (فتح الباری: ۷/۴۲۷) (جاری)

5 نومبر 2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Related Article

Part: 1- I Was Taken to the Skies Where the Sound Of Writing with a Pen Was Coming (Part-1) مجھے اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسی جگہ پہنچا جہاں قلم سے لکھنے کی آوازیں آرہی تھیں

Part: 2- Umm Hani! ام ہانی! میں نے تم لوگوں کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جیسا کہ تم نے دیکھا، پھرمیں بیت المقدس پہنچا اور اس میں نماز پڑھی، پھر اب صبح میں تم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو

Part: 3 - Allah Brought Bait ul Muqaddas before Me and I Explained its Signs اللہ نے بیت المقدس کو میرے روبرو کردیااور میں نے اس کی نشانیاں بیان کیں

Part: 4- That Was A Journey Of Total Awakening وہ سراسر بیداری کا سفر تھا، جس میں آپؐ کو جسم اور روح کے ساتھ لے جایا گیا تھا

Part: 5- The infinite power of Allah Almighty and the rational proof of Mi'raj رب العالمین کی لامتناہی قدرت اور سفر معراج کی عقلی دلیل

Part: 6- The Reward of 'Meraj' Was Given by Allah Only to the Prophet معراج کا انعام رب العالمین کی طرف سے عطیۂ خاص تھا جو صرف آپؐ کو عطا کیا گیا

Part: 7- Adjective of Worship مجھے صفت ِ عبدیت زیادہ پسند اور عبد کا لقب زیادہ محبوب ہے

Part:-8- Prophet Used To Be More Active Than Ever In Preaching Islam During Hajj رسولؐ اللہ ہر موسمِ حج میں اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوجاتے

Part: 9- You Will Soon See That Allah Will Make You Inheritors Of The Land And Property Of Arabia تم بہت جلد دیکھو گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسریٰ اور عرب کی زمین اور اموال کا وارث بنا دیگا

Part: 10- The Prophet That the Jews Used To Frighten Us With یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر کرکے یہودی ہمیں ڈراتے رہتے ہیں

Part: 11- Pledge of Allegiance بیعت ثانیہ کا ذکر جب آپؐ سے بنی عبدالاشہل کے لوگوں نے بیعت کی،ایمان لائے اور آپ ؐسے رفاقت و دفاع کا بھرپور وعدہ کیا

Part: 12 - Your Blood Is My Blood, Your Honour Is My Honour, and Your Soul Is My Soul تمہارا خون میرا خون ہے، تمہاری عزت میری عزت ہے، تمہاری جان میری جان ہے

Part: 13- The event of migration is the boundary between the two stages of Dawah ہجرت کا واقعہ اسلامی دعوت کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل کی حیثیت رکھتا ہے

Part: 14- I Was Shown Your Hometown - The Noisy Land Of Palm Groves, In My Dream مجھے خواب میں تمہارا دارالہجرۃ دکھلایا گیا ہے، وہ کھجوروں کے باغات والی شوریدہ زمین ہے

Part: 15- Hazrat Umar's Hijrat and the Story of Abbas bin Abi Rabia تو ایک انگلی ہی تو ہے جو ذرا سی خون آلود ہوگئی ہے،یہ جو تکلیف پہنچی ہے اللہ کی راہ میں پہنچی ہے

Part: 16- When Allah Informed The Prophet Of The Conspiracy Of The Quraysh جب اللہ نے آپؐ کو قریش کی سازش سے باخبرکیا اور حکم دیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں

Part: 17- Prophet Muhammad (SAW) Has Not Only Gone But Has Also Put Dust On Your Heads محمدؐنہ صرف چلے گئے ہیں بلکہ تمہارے سروں پر خاک بھی ڈال گئے ہیں

Part: 18- O Abu Bakr: What Do You Think Of Those Two Who Have Allah As a Company اے ابوبکرؓ: ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہو

Part: 19- The Journey of Hijrat Started From the House of Hazrat Khadija and Ended At the House of Hazrat Abu Ayub Ansari سفر ِ ہجرت حضرت خدیجہ ؓکے مکان سے شروع ہوا اور حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان پر ختم ہوا

Part: 20- O Suraqa: What about a day when you will be wearing the Bracelets of Kisra اے سراقہ: اس وقت کیسا لگے گا جب تم کسریٰ کے دونوں کنگن اپنے ہاتھ میں پہنو گے

Part:21- The Holy Prophet's Migration And Its Significance نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا واقعہ اور اس کی اہمیت

Part: 22- Bani Awf, the Prophet Has Come اے بنی عوف وہ نبیؐ جن کا تمہیں انتظار تھا، تشریف لے آئے

Part: 23- Moon of the Fourteenth Night ہمارے اوپر ثنیات الوداع کی اوٹ سے چودہویں رات کا چاند طلوع ہوا ہے

Part: 24- Madina: Last Prophet's Abode یثرب آخری نبیؐ کا مسکن ہوگا، اس کو تباہ کرنے کا خیال دل سے نکال دیں

Part: 25- Bless Madinah Twice As Much As You Have To Makkah یا اللہ: جتنی برکتیں آپ نے مکہ میں رکھی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ میں فرما

Part: 26- Construction of the Masjid-e-Nabwi مسجد نبویؐ کی تعمیر کیلئے جب آپؐ کو پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتا دیکھا تو صحابہؓ کا جوش دوچند ہو گیا

Part: 27- The First Sermon of the Holy Prophet after the Migration and the Beginning of Azaan in Madina ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضورﷺ کا پہلا خطبہ اور اذان کی ابتداء

Part: 28- The Lord of the Ka'bah رب کعبہ نے فرمایا، ہم آپ ؐکے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا دیکھ رہے تھے

Part: 29- Holy Prophet’s Concern for the Companions of Safa نبی کریمؐ کو اصحابِ صفہ کی اتنی فکر تھی کہ دوسری ضرورتیں نظر انداز فرمادیتے تھے

Part: 30- Exemplary Relationship of Brotherhood مثالی رشتہ ٔ اخوت: جب سرکار ؐدو عالم نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا

Part: 31- Prophet (SAW) Could Have Settled in Mecca after Its Conquest فتح مکہ کے بعد مکہ ہی مستقر بن سکتا تھا، مگر آپؐ نے ایسا نہیں کیا، پاسِ عہد مانع تھا

Part: 32 - From Time To Time The Jews Would Come To Prophet’s Service And Ask Questions In The Light Of The Torah یہودی وقتاً فوقتاً آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور تورات کی روشنی میں سوال کرتے

Part: 33- Majority Of Jewish Scholars And People Did Not Acknowledge Prophet Muhammad’s Prophethood Out Of Jealousy And Resentment یہودی علماء اور عوام کی اکثریت نے بربنائے حسد اور کینہ آپ ؐکی نبوت کا اعتراف نہیں کیا

Part: 34- When The Jew Said To Hazrat Salman Farsi: Son! Now There Is No One Who Adheres To The True Religion جب یہودی نے حضرت سلمان فارسیؓ سے کہا: بیٹے!اب کوئی نہیں جوصحیح دین پرقائم ہو

Part: 35- When the Holy Prophet said to the delegation of Banu Najjar, 'Don't worry, I am the Chief of your tribe' جب حضورؐ نے بنونجار کے وفد سے کہا تم فکر مت کرو، میں تمہارے قبیلے کا نقیب ہوں

Part: 36- When Hazrat Usman Ghani (RA) Bought a Well (Beer Roma) and Dedicated It to Muslims جب حضرت عثمان غنیؓ نے کنواں (بئر رومہ) خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کردیا

Part: 37- The Charter of Medina Is the First Written Treaty of the World That Is Free From Additions and Deletions میثاقِ مدینہ عالم ِ انسانیت کا پہلا تحریری معاہدہ ہے جو حشو و زوائد سے پاک ہے

Part: 38- Only Namaz Were Obligatory In The Meccan Life Of The Holy Prophet, Rest Of The Rules Were Prescribed In Madinah حضورؐ کی مکی زندگی میں صرف نماز فرض کی گئی تھی ، باقی احکام مدینہ میں مشروع ہوئے

Part: 39- Prophet Muhammad (SAW) Ensured That Companions Benefited From The Teachings Of The Qur'an And Sunnah آپ ؐ ہمیشہ یہ کوشش فرماتے کہ جماعت ِ صحابہؓ کا ہرفرد کتاب و سنت کی تعلیم سے بہرہ ور ہو

Part: 40- Hypocrisy of the Jews and Their Hostility with the Holy Prophet نفاق یہود کی سرشت میں تھا اور حضورؐ کی مکہ میں بعثت سے وہ دشمنی پر کمربستہ ہوگئے

Part: 41- Greatest Threat to the Muslims Was From the Hypocrites مسلمانوں کو بڑا خطرہ منافقین سے تھا جن کا قائد رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا

Part: 42 - When Oppressed Muslims Complain, Holy Prophet Pbuh Used To Say, Be Patient, I Have Not Been Ordered To Kill مظلوم مسلمان ظلم کی شکایت کرتے توآپ ؐ فرماتے صبرکرو،مجھے قتال کا حکم نہیں دیا گیا

Part: 43- First Regular Battle Between Kufr And Islam Was Fought At Badr کفر و اسلام کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ میدان ِ بدر میں لڑی گئی تھی

Part: 44- When The Prophet Took Fidya Payment and Released Two Prisoners جب سرکارؐ دوعالم نے فدیہ لے کر قافلہ ٔ قریش کے دو قیدیوں کو رہا فرما دیا

Part: 45- Three Hundred And Thirteen Companions Had Only Three Horses And Seventy Camels تین سو تیرہ صحابہ ؓکے پاس صرف تین گھوڑے اور صرف ستر اونٹ تھے

Part: 46- O Messenger of Allah! Even If You Take Us to Barak Al-Emad, We Will Go With You یارسولؐ اللہ ! اگر آپؐ برک العماد لے جانا چاہیں تو بھی ہم آپؐ کے ساتھ چلیں گے

Part: 47- Before The Battle of Badr, Many People Had Advised the Quraysh to Return But They Refused غزوۂ بدر سے پہلے کئی لوگوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ واپس ہوجائیں مگر وہ نہیں مانے

Part: 48- Prophet (Pbuh) Remained Engaged in Worship for the Whole Night and by the Command of Allah, Drowsiness Fell on the Muslims آپؐ تمام رات عبادت میں مشغول رہے اور بحکم الٰہی مسلمانوں پر غنودگی طاری رہی

Part: 49- Allah, Fulfill Your Promise of Victory To Me اے اللہ تُونے مجھ سے فتح و نصرت کا جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما

Part: 50- Prophet Muhammad Pbuh Threw a Handful of Dust and Pebbles at the Enemy and There Was a Panic Part-50 آپ نے مٹھی بھر خاک اور سنگریزے دشمن کی طرف پھینکے اور ان میں افراتفری مچ گئی

Part: 51- Every Incident Of The Battle Of Badr Is A Clear Proof Of The Truthfulness Of The Holy Prophet And A Masterpiece Of Prophetic Insight And Determination Part-51 جنگ بدر کا ہر واقعہ حضورؐ کی حقانیت کی روشن دلیل اور پیغمبرانہ بصیرت و عزیمت کا شاہکار ہے

Part: 52- After Badr, There Was Mourning In Every House In Makkah, While There Was Celebration In Madinah Part-52 بدر کے بعد مکہ کے ہر گھرمیں صف ِ ماتم بچھی تھی جبکہ مدینہ منورہ میں جشن کا سماں تھا

Part: 53 - History Can Never Forget the Humane Behaviour of Prophet Muhammad Pbuh with the Prisoners of War Part 53 اسیرانِ جنگ کے ساتھ آپ ﷺ کا حسن سلوک تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی

Part: 54- Respect For The Martyrs Part-54 شہداء کی تکریم اور ان کے اہل و عیال کی دلجوئی کا پہلا نمونہ نبی کریمؐ نے پیش فرمایا

Part: 55- O People of Makkah! The Messenger of God Gave us the glad tidings of the Roman Domination Part-55 اے اہل مکہ! اللہ کے رسولؐ نے ہمیں رومیوں کے غلبے کی خوشخبری دی ہے

Part: 56- O Nation of Jews! Fear Allah, Lest the Chastisement Overtake You Part-56 اے قوم یہود! اللہ سے ڈرو، ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی عذاب نازل ہوجائے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/abdullah-ibn-ubay-sympathy-madina-part-57/d/125727

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..