New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:03 AM

Urdu Section ( 31 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Muharram: In the Light of Quran and Sunnah محرم الحرام : قرآن و سنت کی روشنی میں

 

مولانا ندیم احمد انصاری ( ممبئی)

31 اکتوبر، 2014

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے : (إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ )۔ اللہ کے نزدیک مہینے کی گنتی میں بارہ ہیں، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ اللہ کی کتاب میں سال کے بارہ مہینے لکھے ہوئے ہیں ، ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں ۔ ( سورۃ التوبہ :36)

یہ جو ارشاد فرمایا گیا : (مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ) ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے ( ادب کے) ہیں۔

ان کو حرمت والا دو معنی کے اعتبار سے کہا گیا ۔ ایک تو اس لیے کہ ان میں قتل  و قتال حرام ہے، دوسرے اس لیے کہ یہ مہینے متبرک اور واجب الاحترام  ہیں، ان میں عبادات کاثواب ( دیگر ایام کے بالمقابل ) زیادہ ملتا ہے ۔ ان میں سے پہلا  حکم تو شریعت اسلام میں منسوخ ہوگیا، مگر دوسرا حکم احترام و ادب اور ان میں عبادت گزاری کا ( خصوصی) اہتمام ، اسلام میں بھی باقی ہے۔ حجتہ الوداع کے خطبہ یوم النحر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان مہینوں کی تشریح یہ فرمائی کہ تین مہینے ( تو ) مسلسل ہیں،  ذی القعدہ ، ذی الحجہ ، محرم الحرام اور ایک مہینہ رجب کا ہے ( معارف القرآن : 4:372)

محرم میں روزہ کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رمضان   کے بعد افضل ترین روزے اللہ تعالیٰ  کے مہینے ‘‘ محرم’’ کے ہیں۔ ( رواہ مسلم : 1163) نعمان بن سعد حضرت علی رضی اللہ عنہ سےنقل کرتے ہیں کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ رضی اللہ عنہ رمضان کے علاوہ مجھے کس مہینے میں روزے رکھنے کا حکم فرماتےہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس کے متعلق ایک آدمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے سنا، میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ۔ اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے رمضان کے علاوہ کون سے مہینے میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم رمضان کے بعد روزہ رکھنا  چاہو تو محرم کے روزے رکھا کرو، کیونکہ  یہ اللہ کا مہینہ  ہے۔ اس میں ایک ایسا دن  ہے جس میں اللہ تعالیٰ  نے ایک قوم کی توبہ قبول  کی تھی  اور اسی دن دوسری قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ ( ترمذی :741) ایک روایت میں ہے کہ جس نے محرم الحرام کے مہینہ میں ایک دن کا روزہ رکھا ، اس کو ہر ایک روزہ کا ثواب  ،تیس روزوں کے ثواب کے بقدر دیا جائے گا۔ ( الترغیب           و الترہیب للمنذر :1503)

عاشورہ کا پسِ منظر

دس محرم الحرام کا عاشوراء کہتے ہیں ۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا، تاکہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے ،  ( تو یوم عاشوراء کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( اب) جس کا جی چاہے یومِ عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہےنہ رکھے ( بخاری: 1893،1592 ، مسلم :1125)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک نیک اور اچھا دن ہے، اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن یعنی فرعون سےنجات دی تھی، اسی لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: پھر ہم موسیٰ سے تمہاری  بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور اس کے تم سے زیادہ مستحق ہیں ۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس کا حکم دیا ۔ ( بخاری:2004، مسلم :1130) اس سے قبل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت گزر چکی کہ مشرکین قریش زمانہ جاہلیت ہی سے اس دن روزہ رکھتے تھے ، غالباً یہ کسی نبی  اللہ کی باقیات میں سے ہوگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انصار کو بھی اس کا حکم دیا تھا ۔ روایتوں میں یہ بھی ہے کے عیسائی بھی اس دن روزہ رکھتے تھے،  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ  شریعتوں میں اس دن کا روزہ شروع تھا ۔ ( تفھیم البخاری:1780)

عاشوراء کے روزہ کی فضیلت و احکام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے روزے کےمتعلق دریافت کیا گیا ، تو آپ  نے ارشاد فرمایا : عاشوراء کا روزہ، گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے ۔ ( مسلم :1162، ابوداؤد :2425) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراء میں روزہ رکھنے  کو اپنا اصول و معمول  بنایااور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا ، تو بعض صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اس دن کو تو یہود و نصاریٰ  بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں ( گویا یہ ان کا قومی و مذہبی شعار ہے) اور خاص اس دن ہمارے روزہ رکھنے سےان کے ساتھ اشتراک اور تشابہ ہوتا ہے ، تو کیا اس میں کوئی ایسی تبدیلی ہوسکتی ہے ، جس کے بعد یہ اشتراک اور تشابہ والی بات  باقی نہ رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد  فرمایا : انشاء اللہ جب آئندہ  سال آئے گا تو ہم نویں  محرم کو بھی  روزہ رکھیں گے۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں  کہ لیکن آئندہ  سال ماہِ محرم آنے سے قبل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ۔ ( مسلم : 132، ابن ماجہ : 1736)

اسی لیے  فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد یعنی نویں یا  گیارہویں تاریخ کا روزہ  رکھنا مستحب ہے ، اور صرف عاشوراء کا روزہ رکھنا  مکر وہِ تنزیہی ہے،اس لیے کہ اس میں یہود کی مشابہت ہے ۔ ( شامی : 3:302 و انظر نصیب الرایۃ: 2:456) البتہ حضرت مولانا محمد منظور نعمانی فرماتے ہیں : ہمارے زمانہ میں چونکہ یہود و نصاریٰ وغیرہ  یومِ عاشوراء کا روزہ نہیں  رکھتے، بلکہ ان کا کوئی  کام بھی قمری مہینوں  کے حساب سے نہیں ہوتا ، اس لیے اب کسی اشتراک اور تشابہ کا سوال ہی نہیں ۔ لہٰذا فی زماننا رفعِ تشابہ کے لیے نویں یا گیارہویں کے روزے کی ضرورت  نہ ہونی چاہیے ۔ ( معارف الحدیث : 4:387  بتغیر)

یہ بھی خیال رہے کہ ان روایات میں جن گناہوں کی معافی کا ارشاد اور وعدہ  ہے اس سے مراد صغائر ہیں، باقی کبیرہ گناہوں  کی معافی کی بھی امید نہیں رکھنی  چاہئے ۔ مگر اس احادیث کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ ان کے بھروسہ پر گناہ کرنے لگے، بلکہ گناہوں پر نادم ہو اور پاکباز رہنے کی کوشش کرتا رہے ، تو یہ چیزیں  انشاء اللہ مددگار ثابت ہوں گی۔

عاشوراء کے دن اہل و عیال پر وسعت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر رزق میں وسعت کرے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں برکت و وسعت فرمائیں گے ۔ ( شعب الایمان :3795)

یوم عاشوراء میں مسلمان کیا کریں؟

شیخ الفقہا ء و محدثین شیخ  شہاب الدین ابن حجر ہیثمی  مصری، مفتی  مکہ معظّمہ نے اپنی تالیف صواعق محر فہ میں یومِ عاشوراء کے ضمن میں لکھا ہے:

لوگو! اچھی طرح سمجھ لو کہ عاشوراء کے دن حضرت حسین رضی اللہ عنہ مصائب سے دوچار ہوئے اور آپ کی شہادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کے مراتب و درجات کی رفعت کا ثبو ت ہے۔اس شہادت کے ذریعہ اہل بیت اطہار  کے درجات بلند کرنا بھی اللہ کو منظور تھا ۔ اس لیے عاشوراء  کے دن جو شخص  مصائب  کا تذکرہ کرے ، تو اسے لازم  ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں  اِنَّاللہ وَ اِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُونَ پڑھنے میں مشغول رہے، تاکہ اللہ تعالیٰ کے ثواب کا مستحق ہوسکے ، جیسا  کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( اَو لٰئکَ عَلَیْھِمْ صَلَوَاتَ مِّنْ رَّبَھِمْ وَرَ حْمَۃَ وَ أو لٰئِکَ ھمْ الْمْھْتَدونَ) ۔ یعنی یہ لوگ وہ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے رحم و کرم ہوتا ہے اور یہی ہدایت  یافتہ ہیں ۔ عاشوراء کے دن انا اللہ الخ پڑھتے رہے ، یا بڑی  نیکی  روزہ رکھنے کے علاوہ کسی او رکام میں مشغول نہ ہو۔ ( ماثبت بالسنۃ:7)

31 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ اردو ٹائمز ، ممبئی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/maulana-nadeem-ahmed-ansari/muharram--in-the-light-of-quran-and-sunnah--محرم-الحرام---قرآن-و-سنت-کی-روشنی-میں/d/99812

 

Loading..

Loading..