New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:00 AM

Urdu Section ( 25 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

Seven Rights of Quaran e Kareem قرآنِ کریم کے سات حق

 

مولانا ندیم احمد انصاری ، نیو ایج اسلام

قرآن کریم میں لفظِ قرآن 66 مرتبہ استعمال ہوا ہے ۔ ’’قرآن‘‘ کو قرآن کہنے کی مندرجۂ ذیل مختلف وجوہ ہیں: (1) یہ آیات و سورتوں کا مجموعہ ہے (2) انبیاء سابقین پر نازل شدہ صُحف کی تعلیمات کا عطر اور خلاصہ اس میں جمع کر دیا گیا ہے (3) اس میں قصص و واقعات ، اہم سابقہ حالات و حوادث، اوامر و نواہی اور وعدہ و وعید وغیرہ کو مناسب انداز سے جمع کیا گیا ہے(4) علوم و معارف کا عمدہ ترین مجموعہ ہے ۔

قرآن کے مختلف نام

رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ قرآن کریم کو موقع ومحل کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے متعدد ناموں سے موسوم کیا ہے ۔ امام ابن جریر طبریؒ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : اللہ تعالیٰ نے اس کے چار نام ذکر کیے ہیں ؛ (1) القرآن (2)الفرقان (3) الکتاب اور (4) الذکر ۔

القرآن؛ اس لیے کہ یہ پڑھا جاتا ہے اور آیات و سورتوں کا مجموعہ ہے نیز اس میں مختلف علوم و قصص و اخبار کو نہایت بلیغ انداز میں جمع کر دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ خود قرآن کریم میں ہے :{نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْ حَیْنَآ اِلَیْکَ  ھٰذَا  الْقُرْاٰن}۔ (اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے ، جو ہم نے تمھاری طر ف بھیجا ہے ، تمھیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے، پہلے بے خبر تھے۔(یوسف : 3)نیز ارشاد فرمایا: {اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ھُمْ  فِیْہِ  یَخْتَلِفُوْنَ }۔ بلا شبہ قرآنِ کریم بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے ، جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔(النمل : 76)

 الفرقان ؛کے نام سے قرآن کو اس لیے موسوم کیا گیا کہ اس میں حق و باطل کے درمیان خطِّ امتیاز کھینچ دیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : {تَبٰرَکَ  الَّذِیْ  نَزَّلَ   الْفُرْقَانَ  عَلٰی  عَبْدِہ  لِیَکُوْنَ  لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا}۔بڑی برکت والی ہے وہ ذاتِ گرامی ، جس نے اپنے بندے پرفرقان (قرآنِ کریم ) اتارا ، تاکہ وہ سارے جہان کو(اللہ تعالیٰ اور آخرت کے عذاب سے ) ڈرانے والا ہو۔(الفرقان : 1)

الکتاب؛کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لکھا ہوا ہے اور اسے باقاعدہ ضبط و تحریر میں لایا گیا ہے ۔ارشادِ ربانی ہے :{ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْب}۔ یہ کتاب ایسی ہے ، جس میں کوئی شک نہیں ۔( البقرۃ : ۱)ایک مقام پر ارشاد ہے :{اَلْحَمْدُ  لِلّٰہِ  الَّذِیْٓ  اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ  الْکِتٰبَ  وَلَمْ  یَجْعَلْ  لَّہ عِوَجًا}۔تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں ، جس نے اپنے بندے پر الکتاب (قرآنِ کریم ) اتاری اور اس میں کسی طرح کی بھی کجی نہ رکھی۔(الکہف : 1)

الذکر؛ کے نام سے اسے اس لیے پکارا گیا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پند و نصائح سے نوازا ہے ۔ حدود و فرائض پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے اور اسرار و حِکم کی پردہ کشائی فرمائی ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :{وَاِنَّہ  لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ }۔بلا شبہ یہ ذکر ہے آپ( ﷺ )کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے۔( الزخرف : 44)

اس کے علاوہ اس کے اور بہت سے صفاتی نام ہیں جو خود قرآنِ کریم میں وارد ہوئے ہیں منجملہ ان کے یہ ہیں: المبارک (الانعام :55)،الحکیم (یٰس : 2)،المبین ( یوسف : 1)، العربی( یوسف : 2)،المجید ( ق: 1)،العزیز( حم سجدہ:41)، العظیم (الحجر:87)،کلام اللہ ( التوبۃ :6)۔احادیث مبارکہ میں بھی قرآنِ کریم کے چند صفاتی ناموں کا ذکر ملتا ہے ، مثلاً: (1) النجاۃ (2)حبل اللہ المتین (3)صاحب المؤمن (4)کلام الرحمن و غیرہ وغیرہ۔

قرآنِ کریم کی فضیلت و اہمیت

 اس کی فضیلت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اس کے نزول کا فیصلہ فرمایا تو اس عظیم الشان ذمے داری پر حضرت جبریل امین علیہ السلام کو مقرر فرمایا ، جن کا ذکر قرآنِ کریم میں{شدید القویٰ} کہہ کر کیا گیا ہے:{عَلَّمَہ شَدِیْدُ الْقُوٰی}۔(رسول اللہ ﷺ کو )اس کی تعلیم بہت بڑی طاقت والے (جبریل ؑ) نے دی ۔(النجم : 5)یہ قرآنِ کریم اس بلند و بالا ذات کی جانب سے اتارا گیا ہے ، جس کو زمین و آسمان کی ہر شے کا علم ہے۔ {قُلْ اَنْزَلَہُ  الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ  وَالْاَرْضِ ، اِنَّہ  کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا}۔(اے نبی کریم ﷺ ) آپ کہہ دیجیے ! اِس (قرآنِ کریم ) کو اُس (اللہ تعالیٰ) نے اتارا ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ اور مخفی باتوں کو جانتا ہے ، یقیناًوہ بخشنے والا مہربان ہے ۔( الفرقان : 6)

اس قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی ہے اور اس کو بندوں کے لیے نصیحت قرار دیا ہے:{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہ لَحٰفِظُوْنَ }۔بے شک ! ہم نے اس نصیحت کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت و نگہ بانی کرنے والے ہیں۔(الحجر:9)قرآنِ کریم لفظی و معنوی ہر قسم کی کجی سے پاک ہے :{ قُرْاٰنًا  عَرَبِیًّا  غَیْرَ  ذِیْ  عِوَجٍ  لَّعَلَّھُمْ  یَتَّقُوْن}۔قرآن کریم عربی زبان میں ہے اور اس میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے، شاید تم پرہیزگار بن جاؤ۔(الزمر:28)

قرآنِ کریم کی بنیادی اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ بنی نوعِ انسان کے سامنے حقائق کی راہیں واضح کرتا اور انھیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی تلقین کرتا ہے ۔ اس ضمن میں جنات کی زبانی شہادت ہے :{قَالُوْا یٰقَوْمَنَآ اِنَّا سَمِعْنَاکِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْ  بَعْدِ مُوْسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ یَھْدِیْٓ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی طَرِیْقٍ مُّسْتَقِیْمٍ}۔ِ جنّوں نے کہا؛ اے ہماری قوم ! ہم نے ایک کتاب (قرآنِ کریم ) سنی ، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نازل کی گئی ہے ، وہ اس( کتاب) کی تصدیق کرتی ہے ، جو اس سے پہلے نازل کی جا چکی ہے ۔ وہ حق کی رہ نمائی کرتی ہے اور سیدھی راہ پر لگاتی ہے ۔( الاحقاف:30)

قرآن ِکریم سے متعلق قیامت میں سوال

 یہ قرآنِ کریم رسول اللہ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کی قوم کے لیے بڑے شرف کی چیز ہے اور عنقریب تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ارشادربانی ہے :{وَاِنَّہ  لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ ، وَسَوْفَ تُسْئَلُوْن}۔یقیناً یہ (قرآنِ کریم ) آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کی قوم کے لیے بڑے شرف کی چیز ہے اور عنقریب تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔( الزخرف:44)

قرآنِ کریم کے سات حق

جیسا کہ مذکورہ بالا آیت میں ذکر کیا گیا کہ قرآنِ کریم سے متعلق امّتِ محمدیہ ﷺ سے سوال کیا جائے گا ۔ معلوم ہوا ہر مسلمان پر قرآن سے وابستہ چند حقوق ہیں ، جن کا ادا کرنا لازم و ضروری ہے۔یہ حقوق مندرجۂ ذیل ہیں؛(1) اس پر ایمان لانا(2) اس کی حفاظت کرنا(3)اس کا احترام کرنا(4)اس کی تلاوت کرنا(5) اس میں تدبّر کرنا(6) اس پر عمل کرنا اور(7) اس کی تبلیغ کرنا۔اب ہم ان حقوق کو قدرے تفصیل سے سمجھیں گے۔ ان شاء اللہ

قرآن کریم پر ایمان لانا

قرآنِ کریم کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:{یٰأیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ، وَمَنْ  یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ  وَرُسُلِہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِفَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً  بَعِیْدًا}۔ اے ایمان والو! تم اللہ ، اس کے رسول، اس کتاب؛ جو اُس (اللہ) نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری۔۔ایمان لے آؤ اور جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کرے، تو وہ بے شک دور ضلالت و گمراہی میں جاپڑا۔( النساء: 136)

ایک مقام پر ایمان والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمیایا گیا:{ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہ وَالْمُؤْمِنُوْنَ،کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ  وَمَلٰٓئِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ}۔وہ رسول اس پر ایمان لائے جو کچھ ان پر اُن کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور ایمان والے بھی، (یہ) سب ہی دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی (نازل کردہ) کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔( البقرۃ: 285)ایک مقام پر ارشاد ہے:{فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہ وَالنُّوْرِالَّذِیْٓ اَنْزَلْنَا}۔پس ایمان لاؤ اللہ پر ، اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے اتارا ہے۔(التغابن:8)

یہاں {نور} سے مراد قرآنِ کریم ہے، کیوں کہ نور کی حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی ظاہر اور روشن ہو اور دوسری چیزوں کو بھی ظاہر و روشن کر دے، قرآنِ کریم کا اپنے اعجاز کی وجہ سے خود روشن اور ظاہر ہونا کھلی بات ہے اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے اور ناراـض ہونے کے اسباب اور احکام و رشرائع اور تمام حقائقِ عالمِ آخرت؛ جن کے جاننے کی انسان کو ضرورت ہے، وہ روشن ہو جاتے ہیں۔(معارف القرآن)

اس کے علاوہ احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے بھی قرآنِ کریم پر ایمان لانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ(مومن ہونے کے لیے ضروری ہے )؛ (1) اللہ تعالیٰ (2) فرشتوں (3) (اس کی نازل کردہ) کتابوں (4) (اس کے بھیجے ہوئے) رسولوں(5) آخرت کے دن اور (6) تقدیر کے اچھا یا برا، اسی کی طرف سے ہونے پر ۔۔۔ایمان لانا۔(مسلم:10،بخاری: 50)

کتابوں پر ایمان لانے سے مراد ان تمام کتابوں پر ایمان لاناہے، جن کا  مُنزل من السماء ہوناہمیں معلوم ہے۔مثلاً تورات، انجیل، زبور اور قرآنِ کریم لیکن اب چوں کہ باقی آسمانی کتابوں میں تحریف کر دی گئی ہے، اس لیے ان پر مجموعی طور پر اور قرآنِ کریم قیامت تک کے لیے محفوظ ہے، اس لیے اس پر تفصیلی طور پر ایمان لانا فرض و واجب ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی خیال رہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جدال فی القرآن کو حرام قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{مَا یُجَادِ لُ فِی آیَاتِ اللہِ اِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْ}۔قرآن کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں، جو منکر ہیں۔ (المؤمن: 4)

صاحبِ معارف القرآن اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں: اس آیت نے جدال فی القرآن کو کفر قرار دیا ہے اور رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:ان جدالاً فی القرآن کفر۔بعض جدال قرآن میں کفر ہوتے ہیں۔(رواہ البغوی)ایک حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول اللہﷺ نے دو شخصوں کی آواز سنی، جو کسی آیت میں قرآن کے متعلق جھگڑ رہے تھے، آپﷺ غضب ناک ہو کر باہر تشریف لائے اور چہرۂ مبارک سے غصّے کے آثار محسوس ہو رہے تھے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا؛ تم سے پہلی امتیںا سی (طرح کے جھگڑوں کی وجہ) سے ہلاک ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں جدال کرنے لگی تھیں۔(رواہ مسلم)یہ جدال، جس کو قرآن و حدیث نے کفر قرار دیا، اس سے مراد قرآنی آیات پر طعن کرنا اور فضول قسم کے شبہات نکال کر اس میں جھگڑا ڈالنا ہے، یا کسی آیتِ قرآن کے ایسے معنی بیان کرنا، جو دوسری آیاتِ قرآن اور نصوصِ سنت کے خلاف ہوں، جو تحریف کے درجہ میں ہے، ورنہ کسی مبہم یا مجمل کلام کی تحقیق یا مشکل کلام کا حل تلاش کرنا، یا کسی آیت سے احکام و مسائل کے استنباط میں باہم بحث و تحقیق کرنا۔۔ اس میں داخل نہیں، بلکہ بڑا ثواب ہے۔ ( معارف القرآن )

قرآنِ کریم کی حفاظت

قرآنِ کریم کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتاب ِ ہدایت ہے، جس طرح خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آنے والا، اسی طرح قرآن کریم کے بعد اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی کتاب بھی نازل نہیں ہونے والی۔اب قیامت تک پیدا ہونے والے اِنس و جِنّ کی رہنمائی قرآنِ کریم کے ذریعے ہی انجام پائے گی ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے: {اِنا نحن نزلنا الذکر واِنا لہ لحافظون}۔ (الحجر:9)درحقیقت یہ اللہ جل شانہ کی حفاظت ہی ہے کہ قرآن کریم، چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود اسی طرح محفوظ اور موجود ہے، جس طرح نازل ہوا تھا۔یہ حفاظت صرف حروف و الفاظ اور اعراب و حرکات کی حد تک ہی نہیں بلکہ اس کے معانی و مطالب بھی محفوظ منجانب اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ ارشاد فرمایا: {اِنا نحن نزلنا الذکر واِنا لہ لحافظون}۔ (الحجر:9)اسی کے پیش نظراولاً قرآن ِکریم کو لوحِ محفوظ میں، ثانیاً بیت العزت میں، ثالثاً قلبِ رسولﷺ میں اور رابعاً بہت سے قلوبِ امت میں محفوظ کیا گیا اور خامساًسیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے قرآنِ کریم کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرواکر، سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تراویح کی باجماعت نماز میں قرآن پر مسلمانوں کو جمع کرواکر اور سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ذریعے مصحفِ عثمانی کو مرتَّب کرواکرموجودہ صورت میں قرآن کریم کا حفاظتی نظام جاری کیا گیا۔ایسا اس لیے کیا گیا کہ یہ دنیا عالمِ اسباب ہے، یہاں جو کچھ رونما ہوتا ہے، وہ اسباب و وسائل کے تحت ہوتا ہے، اس لیے اس کریم مولا نے بے حد و حساب اجر و ثواب سے اپنے بندوں کو نوازنے کے لیے ان بندوں کو بھی اس ذمہ داری میں حصہ نصیب فرما دیا۔ سب سے پہلے اس کی حفاظت صحابہ کرامؓ کے ذریعے کرائی اور ان حضرات نے بے سر و سامانی کے عالم میں بھی اس کلامِ معجز کے ہر ہر پہلو کی حفاظت فرمائی بعض نے اس کو حفظ کرکے اور بعض نے اس کی کتابت کے ذریعے اس کی حفاظت میں حصہ لیا۔ اسی خطرے کو بھانپ کر علماے اسلام نے قرآنِ کریم کا صرف ترجمہ، بغیر عربی الفاظ کے لکھنا اور لکھوانا اور شایع کرنا باجماع امت حرام اور باتفاق ائمۂ اربعہ ممنوع قرار دیا ۔۔۔اس کا ناجائز و حرام ہونا مذاہب اربعہ سے ثابت ہے اور جب اس کا لکھنا اور شایع کرنا ناجائز ہوا تو اس کی خرید و فروخت بھی بوجہ اعانتِ معصیت کے ناجائز ٹھہری ، اس لیے اس کا فروخت کرنے والا اور خریدنے والا بھی گنہ گار ہوگا اور چھاپنے اور شایع کرنے والے کو بھی اپنے عمل کا حصہ ملے گا اور جتنے مسلمان اس کی خرید و فروخت کی وجہ سے گنہ گار ہوں گے، ان سب کا گناہ اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھے جائے گا۔(جواہر الفقہ)

 رسم ِخطِ عثمانی کا اتباع بھی لازم و واجب ہے، اُس کے سوا کسی دوسرے رسم خط میں اگرچہ وہ بھی عربی ہی کیوں نہ ہو، قرآن کی کتابت جائز نہیں۔ مثلاً اوائل سورت میں {بسم اللہ الرحمن الرحیم} کو مصاحفِ عثمانی میں بحذف ِالف لکھا ہے اور {اقرأ باسم ربک الذی خلق} میں بشکل الف ظاہر کیا گیا ہے، اگرچہ پڑھنے میں دونوں یکساں بحذف الف پڑھے جاتے ہیں مگر باجماعِ امت اسی کی نقل و اتباع ضروری ہے، اس کے خلاف کرنا عربی رسم خط میں بھی جائز نہیں، تو ظاہر ہے کہ سرے سے پورا رسم خط غیر عربی میں بدل دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ (جواہر الفقہ)

قرآ نِ کریم کا احترام

قرآنِ کریم کا تیسرا حق مسلمانوں پر یہ ہے کہ اس کا احترام کیا جائے اس لیے کہ قرآن ِ کریم اللہ سبحانہ و تقدس کا کلام اور اس کی ذاتی صفت ہے ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے سید الملائکہ کے توسط سے سید الانبیاء ﷺپر نازل فرمایا تاکہ قیامت تک آنے والی تمام مخلوق کے لیے ہدایت و نور کا سامان ہو۔اس لیے اللہ کے نیک بندے قرآن ِ کریم کی ہر طور تکریم وتعظیم کو بجا لاتے ہیں لیکن بعض محرومین ایسے بھی ہیں ، جو خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن قرآن پر عمل ، اس میں فکر وتدبر اور اس کی تلاوت و غیرہ کو چھوڑے رہتے ہیں ۔ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ہے: { وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا }۔ اور رسول ﷺکہیں گے: یا رب ! میری قوم، اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی۔ ( الفرقان:30 )

اللہ تعالیٰ اس عظیم کتاب قرآن کی عظمت و رفعت کی وضاحت میں ارشاد فرماتے ہیں:{اِنَّہ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْم، فِیْ کِتٰبٍ مَّکْنُوْن،لَّا یَمَسُّہٓ  اِلَّا  الْمُطَھَّرُوْنَ، تَنْزِیْل ٌمِّنْ   رَّبِّ  الْعٰلَمِیْنَ}۔ بلا شبہ یہ بڑی عظمت و رتبے والا ’قرآن ‘ ہے ۔جو ایک محفوظ کتاب میں(پہلے سے )درج ہے۔ اس کو وہی لوگ چھوتے ہیں ، جو خوب پاک ہیں ۔ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا جا رہا ہے۔ (الواقعہ : 80-77)

قرآنِ کریم کی تلاوت

قرآنِ کریم کا چوتھا حق مسلمانوں پر یہ ہے کہ اس کی تلاو ت کی جائے۔بعض لوگ تلاوتِ قرآنِ کریم کو معمولی اور بے فائدہ چیز سمجھتے ہیں ، جب کہ اس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر عظیم اجر وثوب کے وعدے ہیں ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے : {اُتْلُ مَا اُوحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبِ }۔(اے پیغمبر!) جو کتاب تمھارے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے ، اس کی تلاوت کرو۔(العنکبوت:۴۵)دوسرے مقام پر ارشاد ہے :{ اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتٰب اللہ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرّاً وَّعَلَانِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ}۔ جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور جنھوں نے نماز کی پابندی رکھی ہے اور ہم نے انھیں جو رزق دیا ہے ، اُس میں سے وہ (نیک کاموں میں ) خفیہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ، وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں ، جو کبھی نقصان نہیں اٹھائے گی۔ (فاطر : ۲۹) یعنی ان کے اعمال کا انھیں پورا اجر وثواب دیا جائے گا۔

صاحبِ معارف القرآن رقم طراز ہیں:اس میں شبہ نہیں کہ قرآِن کریم کے نزول کا اصل مقصد اس کے بتائے ہوئے نظامِ زندگی پر عمل کرنا اور اس کی تعلیمات کو سمجھنا اور سمجھانا ہے، محض اس کے الفاظ رٹ لینے پر قناعت کرکے بیٹھ جانا قرآنِ کریم کی حقیقت سے بے خبری اور اس کی بے قدری ہےلیکن اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی کسی طرح صحیح نہیں کہ جب تک قرآنِ کریم کے الفاظ کے معانی نہ سمجھے، طوطے کی طرح اس کے الفاظ پڑھنا فضول ہے۔ یہ میں اس لیے واضح کر رہا ہوں کہ آج کل بہت سے حضرات قرآنِ کریم کو دوسری کتابوں پر قیاس کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کسی کتاب کے معنی نہ سمجھیں، تو اس کے الفاظ کا پڑھنا پڑھانا وقت ضائع کرنا ہے، مگر قرآنِ کریم میں ان کا یہ خیال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ قرآن، الفاظ اور معنی دونوں کا نام ہے، جس طرح ان کے معانی کا سمجھنا اور اس کے دیے ہوئے احکام پر عمل کرنا فرض اور اعلیٰ عبادت ہے، اسی طرح اس کے الفاظ کی تلاوت بھی ایک مستقل عبادت ہے اور ثوابِ عظیم ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسولِ کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ۔۔۔جو معانیٔ قرآن کو سب سے زیادہ جاننے والے اورسمجھنے والے تھے۔۔۔انھوں نے محض معنی سمجھ لینے اور عمل کر لینے کو کافی نہیں سمجھابلکہ ساری عمر تلاوتِ قرآن کو حرز جاں بنائے رکھا، بعض صحابہؓ کا تو حال یہ تھا کہ وہ روزانہ ایک قرآن مجید ختم کرتے تھے۔(معارف القرآن)

کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے اسلاف نے قرآن ِکریم کی تلاوت کو اپنے رات و دن کا مشغلہ اور اپنے دلوں کی بہار بنا ئے رکھا اور امت رفتہ رفتہ اس عظیم نعمت سے محروم ہوتی جا رہی ہے ۔خیال رہے قرآن ِکریم کے حقِ تلاوت کی ادائیگی کے لیے تجوید کے احکام کا جاننا بھی نہایت ضروری ہے ، تاکہ اس سے عدم واقفیت کے باعث اس کے معانی و مفاہیم میں فساد لازم نہ آئے۔

قرآن ِکریم میں تدبُّر

قرآن کریم کا پانچواں حق مسلمانوں پر یہ ہے کہ وہ اس میں غور و فکر اور تدبر کریں ، اس لیے کہ قرآنِ کریم ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ تدبرِ قرآن کے معنی ہیں ؛ اس کے مضامین میں غور و فکر کرنا۔ ارشاد ِ ربانی ہے:{ اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ، وَلَوْکَانَ مِنْ عِنْدِغَیْرِ اللہ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا}۔کیا یہ لوگ قرآن ِکریم میں غور وفکر سے کام نہیں لیتے ؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے سواکسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بکثرت اختلافات پاتے ۔(النساء : 82)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ، قرآن ِکریم میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔جس میں چند امور قابلِ غور ہیں :(1) ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے{افلا یتدبرون}فرمایا ،{افلا یقرؤن} نہیں ۔ اس سے بظاہر ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ وہ اگر گہری نظر سے قرآن کو دیکھیں ، تو اس کے معانی و مضامین میں کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا اور یہ مفہوم تدبر کے عنوان سے ہی ادا ہو سکتا ہے ، صرف تلاوت اور قراء ت ؛ جس میں تدبر اور غور و فکر نہ ہو ، اس سے بہت سے اختلاف نظر آنے لگتے ہیں ، جو حقیقت کے خلاف ہے۔(2) دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم کا مطالبہ ہے کہ ہر انسان اس کے مطالب میں غور کرے۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ قرآن ِکریم میں تدبر کرنا صرف ائمہ و مجتہدین ہی کے لیے ہے، صحیح نہیں ہے البتہ تدبر اور تفکر کے درجات علم و فہم کے درجات کی طرح مختلف ہوں گے ۔ ائمۂ مجتہدین کا تفکر ایک ایک آیت سے ہزاروں مسائل نکالے گا ، عام علماء کا تفکر ان مسائل کے سمجھنے تک پہنچے گا ، عوام اگر قرآنِ کریم کا ترجمہ یا تفسیر اپنی زبان میں پڑھ کر تدبر کریں ، تو اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت اور آخرت کی فکرپیدا ہوگی ، جو کامیابی کی کلید ہے البتہ عوام کے لیے غلط فہمی اور مغالطے سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ کسی عالم سے قرآن سبقاً سبقاً پڑھیں ، یہ نہ ہو سکے تو کسی مستند و معتبر تفسیر کامطالعہ کریں اور جہاں کوئی شبہ پیش آئے ، اپنی رائے سے فیصلہ نہ کریں بلکہ ماہر علماء سے رجوع کریں ۔ (معارف القرآن)

سورہ محمد میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں غور وفکر نہ کرنے کو منافقین کی رو ِش قرار دیا ہے ۔ارشادہے :{اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا}۔بھلا کیا یہ لوگ غور نہیں کرتے ، یا دلوں پر وہ تالے پڑے ہوئے ہیں ، جو دلوں پر پڑا کرتے ہیں ۔(آیت:24) دل پر قفل لگ جانے کے وہی معنی ہیں ، جس کو دوسری آیت میں {ختم} اور طبع یعنی مہر لگ جانے سے تعبیر کیا گیا ہے اور مراد اس سے دل کا سخت اور ایسا بے حس ہو جانا ہے کہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگے ۔(معارف القرآن)

قرآن کریم ِپر عمل

چھٹا حق قرآنِ کریم کا مسلمانوں پر یہ ہے کہ محض اس کی تلاوت کرنے یا اس میں غور و فکر کرنے ہی پر اکتفاء نہ کریںبلکہ اس کے تمام احکامات پر عمل بھی کریں، اگرچہ مذکورہ بالا چیزوں کا مستقل فایدہ ہے لیکن انھیں پر اکتفاء کرلینا کافی نہیں۔ارشاد ِ ربانی ہیں:{اِتَّبِعْ  مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ   مِنْ  رَّبِّکَ }۔ ( اے پیغمبر !)آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے جو وحی بھیجی گئی ہے ، آپ اس کی پیروی کیجیے۔(الانعام : 106)ایک مقام پر ارشاد ہے :{اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ}۔(لوگو!) جو کتاب تمھارے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی ہے ، اس کے پیچھے چلو۔ (الاعراف : ۳)ایک اور مقام پر ارشاد ہے : {وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ  مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً  وَّاَنْتُمْ  لَا تَشْعُرُوْن}۔اور تمھارے پروردگار کی طرف سے ، تمھارے پاس، جوبہترین باتیں نازل کی گئی ہیں ، ان کی پیروی کرو قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمھیں پتا بھی نہ چلے۔( الزمر : 55)

 قرآنِ کریم کی تبلیغ

قرآن ِکریم کا ساتواں حق ، مسلمانوں پر یہ ہے کہ اس کی تبلیغ اقوام ِعالم میں کی جائے ، اگر ہم نے اس کی تبلیغ میں حتی المقدورکوشش نہ کی اور اس کی آفاقی دعوت،امت ِدعوت تک پہنچانے میں کوتاہی کی ، تو یہ عظیم جرم ہوگا ، جس کا خمیازہ ہمیں دنیاو آخرت میں بھگتنا پڑے گا۔ارشاد ِ ربانی ہے :{کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰکَ فِیْٓ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھَآ اُمَمٌ  لِّتَتْلُوَا عَلَیْھِمُ  الَّذِیْٓ  اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ}۔ (اے پیغمبر ! جس طرح دوسرے رسول بھیجے گئے تھے ) اسی طرح ہم نے تمھیں ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے ، جس سے پہلے بہت سی امتیں گذر چکی ہیں ، تاکہ تم ان کے سامنے وہ کتاب پڑھ کر سنا دو جو ہم نے وحی کے ذریعے تم پر نازل کی ہے اور یہ لوگ اس ذا ت کی ناشکری کر رہے ہیں ، جو سب پر مہربان ہے۔(الرعد : 30)ایک مقام پر ارشاد ہے :{وَاِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ}۔اور جس بات کی دھمکی ہم ان (کافروں ) کو دیتے ہیں ، چاہے اس کا کوئی حصہ ہم تمھیں (تمھاری زندگی ہی میں ) دکھا دیں ، یا (اس سے پہلے ہی ) تمھیں دنیا سے اٹھا لیں ،بہر حال ! تمھارے ذمے تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینے کی ذمہ داری ہماری ہے ۔(الرعد : 40)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآنِ کریم سے متعلق تمام حقوق کی ادایگی کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-nadeem-ahmad-ansari,-new-age-islam/seven-rights-of-quaran-e-kareem--قرآنِ-کریم-کے-سات-حق/d/104373

 

Loading..

Loading..