New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:24 AM

Urdu Section ( 17 Oct 2014, NewAgeIslam.Com)

Nikah Ceremony and Invitations تقریبِ نکاح اور دعوتیں

 

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

17 اکتوبر، 2014

انسان کے اس دنیا میں آنے کے بعد اس کی زندگی میں  جو سب سے اہم واقعہ  پیش آتا ہے ، وہ ہے اس کا ازدواجی رشتہ کے بندھن میں بندھنا ، نکاح کے ذریعہ خاندان وجود میں آتا ہے ، نسلِ انسانی میں افزائش کا تسلسل باقی رہتا ہے اور اسی کی وجہ سے انسانوں کی یہ بسائی گئی  بستی لاکھوں سال سے آباد ہے اور قیامت تک آباد رہے گی، اس کے علاوہ نکاح پاکیزہ اور عفیف زندگی گذارنے میں معاون ہوتاہے، مرد و عورت کے لئے سکون و طمانینت کا ذریعہ بنتا ہے، دو خاندانوں کو ایک دوسرے سے قریب کرتا ہے اور زندگی کی دھوپ کی تپش سے جب آدمی بے چین ہوجاتاہے تو ایک دوسرے کی محبت کی شبنم اس تپش کو بجھاتی ہے اور دلوں کو راحت پہنچاتی ہے، اسی لئے اسلام نکاح کی ترغیب دی ہے اور نکاح میں سادگی اور کم سے کم خرچ کی تلقین بھی کی ہے ۔ مگر افسوس کہ اس وقت مسلم معاشرہ میں بھی برادران وطن کے ساتھ ساتھ بے جا رُسوم کی کثرت ہوگئی ہے اور فضول خرچی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے، ان فضول خرچیوں میں بڑا حصہ ان دعوتوں کا ہے، جنہیں تقریب نکاح سے جوڑ دیا گیا ہے، اس تکلف کا آغاز لڑکی دیکھنے اور منتخب کرنے سے ہوتا ہے ، لڑکی کو دیکھنے کے لئے گھر کی ایک دو خواتین کا آجانا کافی ہے، اگر لڑکا خود دیکھنا چاہے تو اس کیلئے  بھی اپنی منگیتر کو دیکھنے کی گنجائش ہے، لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس مقصد  کے لئے بھی درجن دو درجن مرد و عورت پہنچ جاتے ہیں اور ان کے لئے پر تکلف کھانا تیار کرنا ہوتا ہے ، پھر اس میں بعض اور قبیح باتیں بھی شامل  ہوگئی ہیں، بعض دفعہ اس لڑکے کے علاوہ جو رشتہ چاہتا ہے، خاندان کے کئی دوسرے مرد بھی جیسے بھائی بہنوئی وغیرہ لڑکی کو دیکھتے ہیں، یہ قطعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ غیر محرم عورت کو دیکھنا جائز نہیں ، صرف وہ شخص  اس سے مستثنیٰ ہے، جو خود نکاح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے رشتہ داروں کیلئے وہی حکم ہے ، جو دوسرے مردوں کے لئے ہے۔

 دوسری تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جب اس دھوم دھام کے ساتھ لڑکی کو دیکھنےجاتا ہے اور پسند نہ آنے کی وجہ سے رشتہ رد کردیا جاتاہے تو لڑکی پر اس کا خراب نفسیاتی اثر پڑتا ہے، اس کو سخت صدمہ پہنچتا ہے اور بعض دفعہ تو ایسے  واقعات  بھی پیش آتے  ہیں کہ لڑکیاں خود کشی کرلیتی ہیں، اس لئے صحیح  طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی لڑکی سے رشتہ کرنا ہو تو ایسے  طریقہ پر لڑکی کو دیکھا جائے کہ اسے احساس تک نہ ہو،  حدیث میں بھی اس کااشارہ ہےاور فقہاء و شارحین حدیث نے اس کی صراحت کی ہے، آج کل یہ ضرورت تصویر سے بھی پوری ہوجاتی ہے اور ایک دو منٹ کی متحرک تصویر براہ راست دیکھنے کے مقصد کو اچھی پوری کردیتی ہے اور شرعاً اس کو بھی تصویر کی ان صورتوں میں شامل کیا جاسکتا ہے ، جن کی ضرورۃً اجازت دی گئی ہے، البتہ دیکھنے کے بعد تصویر واپس کردینی ضروری ہے، موجودہ حالات میں اس طریقہ کار سے فائدہ اُٹھانا اس بات سے بہتر  ہے کہ اس کے لئے دعوت کا تکلف ہو، غیر محرم مردوں کے سامنے لڑکی کو چہرہ کھولنا پڑے، یا اگر رشتہ ہو پائے تو لڑکی کو ایک ذہنی تکلیف اور قلبی صدمہ سے گزرنا پڑے۔ اس کے علاوہ اب بعض علاقوں میں ایسی دعوتیں بھی لوازم میں شامل ہوگئی ہیں، جو مہندی ، چوڑی ، جوتے کے ناپ او رکپڑوں کے  ناپ یا کپڑے ایک دوسرے کو پہنچانے ، شادی کی تاریخ مقرر کرنے وغیرہ سے مربوط ہیں، یہ سب محض رسمیں ہیں، شریعت  میں ان کی کوئی گنجائش نہیں  ہے، اور اگر کسی رواجی کام میں شریعت کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کی جاتی ہو اور اس کو دینی حکم سمجھ کر نہیں کیا جاتاہو، لیکن وہ معاشرہ  کیلئے  بوجھ بن جائے تو شرعاً ایسی رسموں کو ترک  کرنا اور اس سے اجتناب کرنا واجب ہے،  اسی رسموں سے خود بھی بچنا  چاہئے اور اپنے معاشرہ کو بھی بچانا چاہئے ، اس لئے اس نوعیت کی ساری دعوتیں  اس لائق  ہیں کہ ان  کو منع کیا جائے اور سختی کے ساتھ ان کو روکا جائے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آنے والے مہمانوں کی ضیافت ہے، اور  مہمان نوازی ایک مستحب اور مسنون عمل ہے، لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ بعض باتیں اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہوتی ہیں ، لیکن  اگر وہ کسی فساد اور بگاڑ کا سبب بن جائیں اور انفرادی عمل اجتماعی سطح پر لوگوں کے لئے دشواری  کا باعث ہوجائے تو ایسے جائز عمل سے بھی روکنا واجب ہے، جس کو فقہ کی اصطلاح میں ‘‘ سد ذریعہ’’ کہتے ہیں، جیسے کسی بھی شخص سے ہتھیار بیچنا جائز ہے، کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہتھیار ظلم کرنے کےلئے حاصل کیا جائے ، ہتھیار ظالم کو ظلم سے روکنے او رمظلوم کی مدافعت کرنے کےلئے بھی استعمال  کیا جاسکتا ہے ، لیکن فقہا نے لکھا ہے کہ بد قماش لوگوں کے ہاتھ ہتھیار بیچنا  یا فتنہ و فساد کے ماحول میں ہتھیار بیچنا جائز نہیں  ، کیونکہ غالب گمان ہے کہ اس ہتھیار کااستعمال فساد کے لئے ہوگا۔ نکاح کے موقعہ سے ایک دعوت جو ملک کے اکثر علاقوں میں مروج  ہے، یہ ہے کہ عقد کے دن لڑکی والوں کی طرف سے کھنا کھلایا جاتا ہے بظاہر اس کی شروعات ا س طرح ہوئی ہوگی کہ عام طور پر پہلے لڑکے اور اس کے متعلقین کو دور جنا پڑتا تھا ، اور وہاں ایک دن یا ایک شب رہ کر واپسی ہوتی تھی،  اسی طرح خود لڑکی والوں کی دعوت پر اس کے بھی رشتہ دارو متعلقین آجاتے تھے، ان حالات میں ان کی ضیافت کرنا ایک اخلاقی فریضہ بھی تھا، اس لئے لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق  کھانے کا نظم کردیتے تھے، نہ اس میں لڑکے والوں کی طرف سے کوئی مطالبہ ہوتا تھا،  نہ باراتیوں کا لشکر جرار کھانے پر ٹوٹا پڑتا تھا، نہ لڑکے والوں کی طرف سے کھانے کامینو طے کیا جاتا تھا، نہ یہ بات کہی جاتی تھی کہ فلاں فنکشن  ہال میں دعوت کا اہتمام کیا جائے، ورنہ ہماری ناک کٹ جائے گی، اسی پس منظر میں بہت سے ارباب افتاء نے اس کی اجازت دی ہے، چنانچہ ہندوستان کے معروف فقیہ مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  جو تقسیم سے پہلے بجا طور پر ‘‘ مفتی اعظم ہند’’ کہے جاتے تھے ، فرماتے ہیں :

لڑکی والوں کی طرف سے براتیوں کو یا برادری کو کھنا دینا لازم یا سنت او رمستحب نہیں ہے، اگر بغیر التزام کے وہ اپنی مرضی سے کھانا دے دیں تو مباح ہے، نہ دیں تو کوئی التزام نہیں ۔ ( کفایت المفتی :5/157)

اسی طرح ماضی قریب میں فقہ و فتاوی کے مرجع استاذ ساتذہ حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:

یہ صحیح ہے کہ ولیمہ لڑکا یا اس کے اولیاء کریں گے، لیکن جو لوگ لڑکی والے کے مکان پر مہمان آتے ہیں او ران کا مقصود شادی میں شرکت کرنا ہے اور ان کو بلایا بھی گیا ہے تو آخر وہ کھانا کہاں جاکر کھائیں گے او راپنے مہمان کو کھلانا تو شریعت  کاحکم ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی، البتہ لڑکے والے کی طرح مقابلہ پر ولیمہ لڑکی کی طرف سے ثابت نہیں ہے ۔ ( فتاویٰ محمودیہ :12۔142)

اس کی ایک بنیاد حدیث میں بھی ملتی ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث منقول ہے، جس میں ذکر آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے نکاح کے موقعہ پر کھانا کھلانے کا اہتمام فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعوت کیلئے ایک بکرا ذبح کیا او رمہاجرین و انصار کو مدعو کیا،( مصنف ابن عبدالرزاق  ، باب تزویج فاطمہ رضی اللہ عنہ :5۔486) لیکن عبدالرزاق  بن ہمام نے اس روایت کو یحییٰ بن علاء بجلی سے نقل کیا ہے او ریہ بے حد ضعیف اور نا معتبر راوی ہیں ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور حدیثیں وضع کرتا ہے، فن رجال کے بڑے امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ غیر معتبر راوی ہیں، علامہ نسائی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ دار  قطنی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بلند پایہ محدثین ان کو متروک قرار دیتے ہیں ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور متعدد دوسرے علماء فن نے بھی ان پر کلام کیا ہے، ( تہذیب الکمال :31۔484) اس لئے یہ روایت قابل اعتبار نہیں ۔ البتہ شریعت کے عام اُصول کہ ضیافت جائز ہے او رموجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جو بات سمجھ میں آتی ہے ، وہ ہے کہ :

(1) لڑکےوالوں کی طرف سے کھانے کا مطالبہ ہو، یا اگر لڑکی والے اپنی مرضی سے خود کھانا کھلانا چاہیں اور لڑکے والوں کی طرف سے کھل کر یا دھکے  چھپے انداز پر کھانے کی اقسام کی تعیین کی جائے، یا کسی خاص فنکشن ہا ل میں دعوت کے اہتمام کا تقاضا کیا جائے تو یہ تمام صورتیں قطعاً ناجائز اور گناہ ہیں،  اور ایسی صورت میں لڑکے والوں  کے مدعوئین اور متعلقین کا بھی  جانتے بوجھتے اس دعوت میں شریک ہونا جائز ہے، کیونکہ  یہ فریقین کے حق  میں رشوت دینا اور لینا اور شرکاء کے حق  میں  بھی رشوت کے حرام مال کو کھانا ہے۔

(2) اگر لڑکے والوں نے کھل کر مطالبہ نہیں کیا،  لیکن دل میں یہ خیال ہے کہ لڑکی والے کھانے کا اہتمام کریں ، لڑکی والوں نے رسم و رواج کی رعایت کرتے ہوئے ،  یا لڑکے والوں کے مزاج کا لحاظ کرتے ہوئے کھانے کا اہتمام کر لیا او رلڑکے والوں نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ عملاً اس پر خوشی اور رضا مندی ظاہر کی تو اس دعوت کے مکروہ ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں  ، اندیشہ  ہے کہ یہ بھی ناجائز  کی فہرست میں شامل ہو،  کیونکہ  فقہی اُصول یہ ہے کہ جس چیز کی شرط نہیں لگائی  جاتی، مگر وہ بات رواج کا درجہ اختیار کرچکی ہو تو یہ بھی شرط لگانے کے ہی درجہ میں ہے، فقہا ء نے اس اُصول کو ‘‘ المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً ’’ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔

(3) اگر لڑکے والوں نے دعوت دینے سے منع کیا، اپنی طرف سے روکنے کی کوشش کی، اس کے باوجود لڑکی والوں کی طرف سے دعوت کا اہتمام کیا گیا اور اس میں اپنے زمانے کے لحاظ سے فضول خرچی سے بچنے کی کوشش کی گئی ، سودی قرض  لینا نہ پڑا اور نہ کسی کے سامنے مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے کی نوبت آئی تو اس کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ بھی نہیں،  گنجائش اس لئے ہے کہ اُصولی  طور پر میز بانی ایک درست عمل ہے اور دعوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، اور بہتر نہ ہونا  اس وجہ سے ہے کہ اس سے اس رسم کو تقویت پہنچتی ہے ، جس کو بہت سے لوگ مجبور ہوکر انجام دیا کرتے ہیں۔

(4) اگر لڑکی والوں کے اپنے کچھ  مد عوئین  او رمہمان  آجائیں اور وہ ان کے لئے بہت تکلف میں پڑے بغیر ضیافت کا اہتمام کردیں، یا لڑکے اور اس کے متعلقین  دوسرے شہر سے آئیں، یا اتنے  فاصلہ سے آئیں کہ ان کا گھر واپس جاکر کھانا کھانا دشوار ہو او رلڑکے والوں کی طر ف سے کسی خاص تعداد میں مدعوئین  کو کھانا کھلانے کا او رکسی خاص  نوعیت کےکھانے کا مطالبہ نہ ہو، آنے والے مختصر تعداد میں ہوں، جن کی عام طور پر نکاح کے اُمور کو انجام دینے اور عاقدین کو واپس لے جانے میں ضرورت پڑتی ہے، اور آنےوالے نوشہ کے قریبی  رشتہ دار اور متعلقین ہوں تو یہ صورت جائز ہے، کیونکہ یہ ضیافت ہے، جس میں دباؤ او رمشقت نہیں ہے اور یہ ایک ضرورت بھی ہے۔

(5) اگر لڑکی والوں کی طرف سے ایسی  مختصر ضیافت کا نظم ہوجائے ، جس میں تکلف نہیں ہو جیسے : چائے بسکٹ یا آئسکریم ، اور یہ لڑکی والے اپنی خوشی سے کریں ، کوئی دباؤ نہ ہو تو ا س میں بھی کوئی حرج نظر نہیں آتا ، کیونکہ ممانعت دو صورتوں میں ہے، ایک : اس وقت جب دوسرے فریق کی طرف سے مطالبہ ہو، دوسرے اس وقت جب یہ مالی اعتبار سے مشقت کا باعث ہو۔

(6)بعض علاقوں میں لڑکی او رلڑکے والوں پر التزام ہوتا ہے کہ وہ اپنی برادری کے تمام لوگوں کی دعوت کریں، یہ جائز نہیں ہے، نہ اس کا مطالبہ جائز ہے، اور نہ بغیر  مطالبہ کے جائز ہے، کیونکہ مطالبہ نہ بھی کیا جائے تو رواج کے تحت لوگ دعوت کرنے پرمجبور ہوتے ہیں اور اگر کوئی  شخص برادری کے خوف سے دعوت کر بھی دے تو لوگوں پر داعی کو اور برادری کے لوگوں کو روکنا چاہئے ۔

(7) اس رسم کی قباحت او را س کے غلط اثرات کو دیکھتے ہوئے بعض  حضرات دعوت نامہ پر لکھ دیتے ہیں کہ ‘‘ کوئی استقبالیہ نہیں رہے گا’’ یا یہ کہ ‘‘ کھانے کا کوئی نظم نہ ہوگا’’ اگر چہ کہ موجودہ حالات میں رسم و رواج کو دیکھتے ہوئے ایسی  صراحت قابل مذمت عمل نہیں ہے، لیکن بہتر  بھی نہیں ہے، آپ کسی کو اپنے گھر بلا ئیں اور کھانا نہ کھلائیں تو یہ اخلاق کے خلاف عمل ہے ، لیکن اگر آپ اپنے مدعو کو کہیں  کہ آف فلاں وقت تشریف لائیے ، مگر یاد رکھئے  کہ ہم آپ کو کھانا نہیں کھلائیں گے، غور کیجئے کہ کیا یہ بات ان اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ ہوگی، جو شریعت  کا مزاج ہے؟ ملا علی قادری ایک بڑے فقیہ او رمحدث ہیں، انہوں نے ایک خاص موقعہ پر مروج مصافحہ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سنت سے ثابت نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی شخص مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھا دے تو ہاتھ کھینچنا بھی نہیں  چاہئے تو بُری  رسموں کو ختم  کرنا اچھی بات ہے، لیکن اخلاق کا دامن بھی ہاتھ سے چھوٹنا نہ چاہئے ۔

یہ تو وہ دعوتیں ہیں، جو یا تو درست نہیں ہیں یا کم سے کم سنت او رمستحب کے دائرہ سے باہر  ہیں، لیکن جو دعوت مسنون ہے، یعنی دعوت ولیمہ ، اس کو بھی ہم نے کیا  کم پر تکلف بنا لیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص مسلسل  تین دن تک دعوت ولیمہ کھلاتا رہے ، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین فرمائی  کہ ایک ہی دن دعوت ولیمہ  ہونی چاہئے ، یہ اس پس منظر میں تھا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک ایک ہفتہ اور بعض مرتبہ اس سے بھی زیادہ  لوگ ولیمہ کی دعوت کرتے رہتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیجا تکلف کو ختم کرنے کیلئے ایک یا زیادہ سے زیادہ دن کی تحدید فرمائی، لیکن آج کل ایک ہی دن کی دعوت میں اتنا تکلف کیا جاتاہے کہ اتنے پیسوں میں شاید مدعوئین کو دس دنوں تک کھانا کھلایا جاسکتا ہے، اس کو بھی روکنے کی ضرورت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بہتر ولیمہ اُم المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کے نکاح کے موقع پر فرمایا ، اور اس ولیمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکرا ذبح فرمایا تھا ، ( بخاری، باب من أولم علی بعض نساۂ الخ ، حدیث نمبر :5171) ورنہ بعض ازواج کا ولیمہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی تھوڑی سی مقدار سے فرمایا ، ( بخاری ، باب من أولم بأ قل من شاۃ ، حدیث نمبر : 5172)کھانے کے تنوع ، مدعوئین کی کثرت، فنکشن ہال کے انتخاب، آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ڈیکوریشن اور ان سب کے ساتھ ساتھ بچے ہوئے کھانے کی بربادی ، یہ ایسی باتیں دعوت ولیمہ  کا جز بن چکی ہیں، جو یقیناً فضول خرچی کی آخری حد کو بھی پار کرجاتی ہیں اور سنت کے  نام پر ایک عمل کو اس کو اس طرح انجام دیا جاتا ہے کہ اس میں بہت  سے گناہ شامل ہوگئے ہیں۔

موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ملت اسلامیہ اور خاص کر اہل علم کی بارگاہ میں یہ مشورہ پیش کرنے کا خیال ہوتا ہے کہ کیو ں نہ عقد نکاح کے بعد اور لڑکی کی رُخصتی  سے پہلے ہی لڑکے کی طرف سے ولیمہ کی دعوت رکھ دی جائے، اس میں شبہ نہیں کہ  احناف کے نزدیک میاں بیوی کی تنہائی کے بعد ولیمہ کرنا بہتر ہے، ( دیکھئے : طحطاوی علی  الدر : 4۔175) او رمالکیہ کا بھی مشہور قول  یہی ہے، ( دیکھئے : وسوقی مع الشرح الکبیر :2۔337، فتح الباری:9۔139) لیکن یہ بات متفق علیہ نہیں ہے ، حنفیہ او رمالکیہ  کا ایک قول یہ بھی ہے کہ نکاح کے بعد اور زوجین کی یکجائی سے پہلے بھی ولیمہ کرنا درست ہے، ( دیکھئے : طحطاوی علی الدر: 4۔175، دسوقی 2۔337) فقہاء شواقع نے بھی صراحت کی ہے کہ اگرچہ زوجین کی ملاقات کے بعد ولیمہ افصل ہے، لیکن عقد کے بعد سے ہی ولیمہ کا وقت شروع ہوجاتا ہے، ( نہایۃ المحتاج : 6۔363) اور فقہا ء شوافع میں علامہ مرداوی نے  تو لکھا ہے کہ عقد کے بعد ہی  سے ولیمہ مستحب شروع ہوجاتا ہے : ‘‘ وقت الاستجاب مرسع من عقد النکاح إلی انتھاء ایام العرس ’’( مطالب اولی النہی:5۔232) جب کہ حنا بلہ   کے نزدیک عقد کے ساتھ  ولیمہ کرنا مسنون ہے، ( الانصاف: 8۔317) او راسی کے مطابق ایک قول حنفیہ او رمالکیہ کابھی ہے، ( طحطاوی: 4۔175، دسوقی:237) گویا حنابلہ کے نزدیک عقد نکاح کے وقت ہی ولیمہ مسنون ہے او ربقیہ تینوں دبستانِ فقہ میں بھی عقد کے بعد او رزوجین کی ملاقات  سے پہلے ولیمہ کرنا درست ہے اور ایک قول کے مطابق یہی بہتر ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے دونوں طرح کا عمل ثابت ہے، زیادہ تر روایتوں میں تو خلوت کے بعد ولیمہ کاذکر ہے، لیکن جب حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے واسطہ سے پیغام نکاح بھیجا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کھانا کھلانے کا اہتمام  کیا ، ( مستدرک حاکم : 4۔21) مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے استدلال کیا کہ عقد نکاح  کے بعد اور زفاف سے پہلے بھی ولیمہ  کیا جاسکتا ہے ، ( کفایت المفتی : 5۔156) اگر چہ مولنا ظفر عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ‘ دعوت تزویج’ قرار دیا ہے نہ کہ دعوتِ ولیمہ  ( اعلاء السنن :11۔12) ، لیکن مفتی صاحب کی بات زیادہ  قرین قیاس  معلوم ہوتی ہے ، کیونکہ  نکاح کےموقع سے دعوت ولیمہ  ہی کا معتبر احادیث  میں ذکر ملتا ہے، دعوت تزویج کے نام سے کسی او ردعوت کا ذکر نہیں ملتا، اس کے علاوہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی خلوت سے پہلے ولیمہ کی مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ( حجتہ اللہ البالغہ :2۔130)

پس اگر عقد نکاح کے بعد ہی ولیمہ کااہتمام کیا جائے او رمدعوئین کو کھانا کھلادیا جائے تو لڑکی والوں سے جو کھنا وصول کیا جاتا ہے، یا سماجی رسم کے تحت لڑکی والے جو کھانا کھلاتے ہیں ، حالانکہ یہ ان کے لئے مالی زیر باری کا باعث ہوتا ہے تو اس سے کم سے کم یہ رسم تو ختم ہوجائے گی، اور شادی کے اخراجات میں ایک  اہم بوجھ سے تو لوگوں کو چھٹکارا ملے گا، خدا کرے یہ تجویز قابل غور سمجھی جائے۔

17 اکتوبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/maulana-khalid-saifullah-rahmani/nikah-ceremony-and-invitations--تقریبِ-نکاح-اور-دعوتیں/d/99585

 

Loading..

Loading..