New Age Islam
Tue Oct 27 2020, 04:33 AM

Urdu Section ( 3 Dec 2019, NewAgeIslam.Com)

Justice and Moderation Are Islam's fundamental Ethos عدل اور اعتدال، اسلام کابنیادی مزاج ہے


مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

1نومبر،2019

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جتنی چیزیں پیدا فرمائی ہیں، عام طور پر ان میں افراط و تفریط انسان کے لئے ناگوار خاطر او دشوار ہوتی ہے، یہاں تک کہ انسان کیلئے مفید ترین چیزیں بھی اگر حدِ اعتدال سے بڑھ جائیں یا حدِ ضرورت سے کم ہوجائیں،توانسان کیلئے رحمت کے بجائے زحمت اور انعام خداوندی کے بجائے عذاب آسمانی بن جاتی ہیں۔ہوا انسان کی کتنی بڑی ضرورت ہے؟ لیکن جب آندھیاں چلتی ہیں تویہی حیات بخش ہوا کتنی ہی انسانی آبادیوں کو تاخت و تاراج کر کے رکھ دیتی ہیں! پانی زندگی و حیات کا سرچشمہ ہے لیکن جب دریاؤں کی متلاطم موجیں اپنے دائرے سے باہر آجاتی ہیں تو کس طرح سبزہ زار کھیتوں اور شاد وآباد بستیوں کوخس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہیں، قدرت کی اکثر نعمتوں کی یہی حال ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کانظام اعتدال پر رکھا ہے۔ زمین کے نظام کشش ہی کولے لیجئے، زمین میں جو قوت کشش اس وقت ہے، اگر اس سے بڑھ جائے تو سائنس دانوں کاخیال ہے کہ انسان کا قدوقامت بلّی اور چوہے کی طرح ہوجائے، اور بڑھ جائے تو انسان اونچے درختوں بلکہ تاڑ کے درختوں کے ہم قامت ہوجائے، غور کیجئے کہ اگرانسان کا قداتناچھوٹایا اتنا بڑا ہوجائے تویہ کتنی پریشان کن بات ہوگی؟

اللہ تعالیٰ نے سورج اور زمین کے درمیان ایک متوازن فاصلہ رکھا ہے۔ یہ فاصلہ بڑھ جائے تو زمین برف سے ڈھک جائیگی اور گھٹ جائے تو زمین میں ناقابل برداشت گرمی ہوگی۔ قدرت کا پورا نظام اعتدال پر قائم ہے، اور ترازو ربِ کا ئنات نے خود اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، اسی لئے قرآن نے اللہ تعالیٰ کو ”رب العالمین“ قرار دیا ہے۔

جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو اعتدال پر قائم فرمایا ہے، اسی طرح اللہ اپنے بندوں سے بھی اعتدال چاہتا ہے اور افراط وتفریط کو نا پسند فرماتا ہے، قرآن میں ہے کہ ”بے شک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل او راحسان کا حکم فرماتا ہے۔“ (النحل:90)عدل کی روح اعتدال ہے اور جادہ اعتدال سے ہٹ جانا ہی انسان کو ظلم کی طرف لے جاتا ہے۔اعتدال زندگی کے کسی ایک شعبے سے متعلق نہیں بلکہ یہ زندگی کے ہر مرحلے میں مطلوب ہے۔ قرآن حدیث پر نگاہ ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ گفتار و رفتار، خوشی و غم، سلوک و برتاؤ او راللہ تعالیٰ کی عبادت، ہر شعبہ زندگی میں افراط و تفریط نا پسند یدہ ہے اور اعتدال مطلوب و محبوب ہے۔

اگر انسان چل رہا ہو تو اس کی رفتار معتدل ہونی چاہئے او راس میں اترانے کا انداز نہیں ہوناچاہئے۔ یہ چال کا اعتدال ہے، قرآن کریم میں ہے کہ ”تم زمین پر اِترا کر نہ چلو، کہ تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، او رنہ پہاڑ کی بلندیوں کو چھوسکتے ہو۔“ (الاسرا:37)بول چال میں بھی اعتدال مطلوب ہے، آواز نہ تو ایسی پست ہو کہ مخاطب سن بھی نہ سکے نہ ہی اتنی بلند ہو کہ حدِ اعتدال سے گزر جائے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ”اور اپنی آواز کو کچھ پست رکھا کر، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔“(لقمان:19)

لباس و پوشاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لباس کو پسند نہیں فرمایا، جس کے پیچھے جذبہ تفاخر کار فرما ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سادہ لباس زیب تن فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سادہ لباس استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی، لیکن یہ بھی مقصود نہیں کہ آدمی ایسے پھٹے کپڑے پہنے جو اس کے مصنوعی فقر کا مظہر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو نعمت سے سرفراز فرمائے،تو اس پر اس نعمت کا اثر نظر آنا چاہئے۔ غرض کہ نہ افراط ہو او رنہ تفریط۔ایک طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھنے کابہ تاکید حکم فرمایا (ترمذی،حدیث نمبر:2763) دوسری طرف حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چہرے کی چوڑائی او رلمبائی والے حصہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ داڑھی تراشابھی کرتے تھے۔ (ترمذی،حدیث نمبر:2762)

دعا کے بارے میں فرمایا کہ آواز بہت بلندنہ ہو،بلکہ ایک حد تک پست ہو، بہت بلند آواز میں دعا کرنے کو زیادتی قرار دیا گیا: ”تم اپنے رب سے گڑگڑ ا کر او رآہستہ (دونوں طریقوں سے) دعا کیا کرو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔“(الاعراف:55)

بالغ لڑکی کو خود اپنے نکاح کا حق دیا گیا۔ ارشاد ہے کہ بے شوہر خاتون بمقابلہ ولی کے خوداپنی ذات کی زیادہ حق دار ہے،(ابوداؤد، حدیث نمبر:2098)لیکن چونکہ ولی کی شرکت کے بغیر عورت کی نا تجربہ کاری اسے نقصان پہنچا سکتی ہے،اس لئے یہ بھی فرما دیا گیا کہ ولی کی شرکت کے بغیر نکاح کا انعقاد بہتر نہیں:”لانکاح الابولی“ (ابوداؤد، حدیث نمبر:2085)

اگر کوئی شخص ظلماً قتل کیا گیا ہو توحکم فرمایا گیا کہ مقتول کا ولی قاتل سے انتقام لے سکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ یہ بھی قانون او راصول کے دائرہ میں ہو او رقتل میں حدود سے تجاوز نہ ہو: ”قتل نفس اور ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہئے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے۔“(الاسراء:33)

انفاق اسلام میں حد درجہ مطلوب او رپسندیدہ ہے، لیکن قرآن نے یہاں بھی اعتدال پر قائم رہنے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ ’’نہ تو اپنے ہاتھ بالکل باندھ لو، او رنہ اتنا خرچ کرو کہ خود تمہارے لئے حسر ت اور لوگوں کی ملامت کا سبب بن جائے۔“ (الاسراء:29)ایک صحابی اپنی پوری جائیداد اللہ کے لئے وقف کرناچاہتے تھے، توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتدال کا حکم دیا اور غلو کو منع فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ مسلسل روزے رکھتے تھے اور رات بھر نماُز پڑھتے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم ہوا تو نا پسندیدگی ظاہر کی اور فرمایا: کبھی روزے رکھو اور کبھی نہ رکھو، نماز بھی پڑھواور سوؤبھی، کیونکہ تم پر تمہاری آنکھ کا بھی حق ہے،تمہاری جان کا بھی او رتمہاری بیوی کا بھی۔(بخاری، حدیث نمبر:1977) اسی طرح کی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے بھی ارشاد فرمائی۔(دیکھئے: ابوداؤد، حدیث نمبر:1369) اگر کسی شخص کو روزہ رکھنے کی طرف بڑی رغبت ہو تو اسے ”صوم داؤد ی“ رکھنے کا حکم دیا گیا، یعنی حضرت داؤدعلیہ السلام کے طریقے پر عمل کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا عمل یہ تھا کہ ایک دین روزہ رکھتے اور اگلے دن نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزہ رکھنے کا سب سے معتدل طریقہ قرار دیا۔(ابوداؤد، حدیث نمبر:2427)

حلال و حرام میں بھی اللہ تعالیٰ نے اعتدال کا حکم فرمایا: جہاں اس بات کو منع کیا گیا کہ آدمی حرام کواپنے لئے حلال کرلے، وہیں یہ بھی حکم فرمایا گیا کہ ”جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہو، دین میں غلو کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس حلال کو بھی حرام نہ کرلیاجائے۔“ (المائدہ:87)

جہاد میں دین و ایمان او رنفس وجان کا اعلانیہ دشمن سامنے ہوتا ہے، لیکن اس موقع پر بھی راہ اعتدال کی رہنمائی کی گئی کہ جو تم سے برسر جنگ ہو، تمہاری جنگ ان ہی لوگوں تک محدود ہونی چاہئے، اور اس سے آگے تجاوز نہیں کرناچاہئے: لیکن اس موقع پر بھی راہ اعتدال کی رہنمائی کی گئی کہ ”جو تم سے بر سر جنگ ہو، تمہاری جنگ ان ہی لوگوں تک محدود ہونی چاہئے، اور اس سے آگے جانا یا تجاوز کرنا نہیں چاہئے۔“ (البقرۃ:190)انسان جو ش انتقام میں جادہئ انصاف سے ہٹ جاتاہے او رحد اعتدال سے گزر جاتاہے، اس لئے فرمایا گیا کہ ”اگر کسی نے تم پر ظلم کیا ہو تو تمہارے لئے اس کے ظلم کے بقدر ہی اقدام کی گنجائش ہے، جواب میں تمہارے لئے انصاف کے دائرہ سے آگے بڑھ جانا درست نہیں۔“(البقرۃ: 194)

جب نفرت کا ماحول پیدا ہوتا ہے او ر کسی گروہ کی طرف سے زیادتی کا واقعہ پیش آتا ہے، تو فطری طور پر غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اوریہ آگ انصاف کے تقاضوں کو سوکھے پتوں کی طرح جلا کر رکھ دیتی ہے۔ قرآن کریم نے خاص طور پر تاکید کی کہ ”گو اعدائے اسلام نے تمہیں مسجد حرام سے روک رکھا ہے، لیکن ان کی یہ برائی بھی تمہیں انصاف کا دامن چھوڑ دینے اور انتقام کی نفسیات سے مغلوب ہوکر تمہارے آمادہ ظلم ہوجانے کا باعث نہ بنے۔“ (المائدہ:2)

تنقید او راحترام میں بھی میانہ روی مطلوب ہے، یہ جائز نہیں کہ کسی کی فکر پر تنقید کرتے ہوئے اس کی ذاتیات کو بھی نشانہ بنایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بد ترین دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا نہیں کیا او را س بات سے بھی منع کیا گیا کہ احترام میں غلو کی صورت پیدا ہوجائے، اسی لئے غیر اللہ کو سجدہ کرنے اور کسی کے سامنے اپنے آپ کو جھکانے سے منع کیا گیا۔

عام طور پر دو چیزیں انسان کو ”راہِ اعتدال“ سے منحرف کردیتی ہیں: محبت اور عداوت۔ محبت انسان سے بصیرت ہی نہیں، بصارت بھی چھین لیتی ہے اور اسے اپنے محبوب کی برائیوں میں بھی بھلائیاں نظر آتی ہیں، یہی حال نفرت و عداوت کا ہے، دشمن میں رائی جیسی برائی ہو تو وہ پہاڑ محسوس ہوتی ہے او رپہاڑ جیسی خوبی ہوتو وہ رائی سے بھی حقیر نظر آتی ہے۔ اسلام سے پہلے جو قومیں گمراہ ہوئیں، ان کی گمراہی کا باعث یہی ہوا، غلو آمیز محبت یا انکار و نفرت۔ اسلام نے اسے اس میں بھی اعتدال کا حکم دیا ہے۔ دشمن بھی ہوتو اس کی غیبت او ربہتان تراشی سے منع فرمایا گیا، دوست او رمرکز عقیدت ہوتب بھی اس کی تعریف میں غلو، مبالغے اور تملق و خوشامد کو ناپسند کیا گیا۔

قرآن مجید میں ہے کہ کسی سے عداوت ہو، تو اس کوبھی حدِ اعتدال سے باہر نہ جانے دے، ممکن ہے کہ کل اللہ تعالیٰ تمہارے اور اس کے درمیان محبت پیدا فرمادے: (الممتحنہ: 7)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اسے مزید واضح فرمایا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”اپنے دوست سے حدِ اعتدال میں رہتے ہوئے دوستی کرو، بعیدنہیں کہ کسی دن وہی تمہارا دشمن بن جائے، او راپنے دشمن سے بھی بغض میں اعتدال رکھو، کیا عجب کہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔“ (ترمذی، حدیث نمبر:1998)غرض کہ دوستی او ر دشمنی میں بھی اعتدال ہو۔

جو قوم دنیا کے لئے عدل او راعتدال کی امانت لے کر آئی تھی او رجس سے دنیا کی قوموں نے میانہ روی کا سبق سیکھ کر تہذیب و ثقافت کی منزلیں طے کیں اور شہرت و ناموری کے بامِ کمال تک پہنچیں، آج وہی اُمّت افراط و تفریط، بے اعتدالی او رغلو کا عنوان بن گئی ہے،زندگی کا کون سا شعبہ ہے جس میں ہم نے بے اعتدالی کو اختیار نہیں کیا ہے۔ تعمیری کاموں میں ہمارا بخل او ربے فائدہ کاموں میں ہماری فضول خرچی دونوں کی مثال نہیں ملتی،احترام و عقیدت میں ذرّے کو آفتاب بنانا اور اختلاف وعداوت میں چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ انتشار بنانا ہمارا طرہ امتیاز سمجھا جاتا ہے، ہمارا ایک گروہ حکومت وقت کے اشارہ پر آگ کو پانی کہنے میں بھی نہیں شرماتا، او رہمارا ایک طبقہ چنگاری جیسے واقعہ پر خود شعلہ بن جاتا ہے،لوگوں کے ساتھ سلوک کے معاملے میں ہماری بے اعتدالی دن رات کا مشاہدہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ افراط وتفریط آخرت میں اللہ کی پکڑ اور دنیا میں قوموں کی رسوائی کا سامان ہے اور اعتدال و میانہ روی آخرت میں سر خرو ئی اور دنیا میں کامیابی کا کلید!

1نومبر،2019، بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-khalid-saifullah-rahmani/justice-and-moderation-are-islam-s-fundamental-ethos--عدل-اور-اعتدال،-اسلام-کابنیادی-مزاج-ہے/d/120427

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..