New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 05:18 AM

Urdu Section ( 10 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam Despises Disunity and Forbids It in Any Form in Society مذہب اسلام کسی صورت بھی انتشار و افتراق کو پسند نہیں کرتا او رنہ ہی معاشرے میں اس کی اجازت دیتا ہے

مولانا حافظ عبدالرحمن سلفی

3 جون،2022

اسلام دین فطرت او رانسانی زندگی کی تمام تر ضروریات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ہمارا خالق و مالک ہے، وہ بخوبی جانتاہے کہ ہماری دنیاوی و اخروی فوز و فلاح کن امور کی بجا آوری میں پنہا ں ہے۔ چنانچہ اس نے رحمت کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت حتمی مرتبت مبعوث فرما کر ہمارے لئے دین کا اکمال و اتمام فرما دیا اور رہتی دنیا تک آنے والے انسانوں کی دنیاوی کامیابی و کامرانی اور آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی حیات جاودانی کی فوز و فلاح کے لئے قرآن و سنت یعنی حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں نسخہ کیمیا عطا فرمادیا، تاکہ بنی نوع انسان اس سے فیض یاب ہوکر اقوام عالم کی امامت و قیادت کا فریضہ بجا لائے او راپنے خالق و مالک اللہ رب العالمین کے احکام اور اس کے محبوب آخری پیغمبر رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہئ حسنہ پر عمل پیرا ہوکر دونوں جہانوں کی کامیابیو ں سے ہم کنار ہو۔

چنانچہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی،فکری و نظریاتی ہم آہنگی اور نظم وضبط پر بے انتہا زور دیا ہے۔ اسلام کسی صورت بھی انتشار و افتراق کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اسلامی معاشرے میں اس کی اجازت دیتاہے۔ اس لئے قرآن و سنت میں انفرادی و اجتماعی زندگی گزارنے کا اسلوب و آداب شرح وبسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، تاکہ اہل ایمان کے درمیان کسی قسم کا اختلاف رونما نہ ہونے پائے۔ لہٰذا آیت قرآنی کے مطابق حکم دیا گیا کہ ”تم سب اہل ایمان باہم مل کر اللہ کی رسی(قرآن و حدیث) کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ مت ہوجاؤ۔“اللہ کی رسی سے مراد قرآن مجید اور اسوہئ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔

گویا واضح ارشاد ہوا کہ اگر اللہ کے ساتھ تعلق استوار رکھنا چاہتے ہو تو اس کی رسی کو تھام لو اور اس کی رسی سے مراد کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے، جب تک ان دوچیزوں کو تھامے رہو گے جو میں تمہارے درمیان چھوڑ ے جارہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب(قرآن مجید) اور دوسری میری سنت یعنی احادیث مبارک گویا ہدایت کا سرچشمہ وہ چیزوں یعنی قرآن مجید او رحدیث کو قرار دیا گیا ہے اور ان سے روگردانی کو ضلالت و گمراہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

آج ہم امت مسلمہ کی زبوں حالی اور کسمپرسی پر نگاہ دوڑائیں او راس ذلت و رسوائی کے اسباب و عوامل پر غور کریں تو بدقسمتی سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ امت اپنے اصل منہج سے دور ہوگئی ہے جس کی وجہ سے رب کی رحمتیں ہم سے دور ہوگئی ہیں۔ تاریخ اسلام کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ جب تک اہل اسلام فکری ونظریاتی بنیادوں پر استوار رہے، دنیاوی ترقی و عروج کا مقدر ٹھہرا،لیکن جب اسلام کی نظریاتی اساس یعنی قرآن وحدیث سے روگردانی کی گئی اور من چاہے افکار ونظریات پر مبنی فرقہ وارانہ سوچ کو پروان چڑھایا گیا تو وحدت امت پارہ پارہ ہوتی چلی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین اسلام جو ایک اللہ او رایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر مبنی ایک امت کا تصور لئے ہوئے تھا، بٹواروں کا شکار ہوتا چلا گیا اور مختلف اسلام دشمن قوتوں کی رخنہ اندازیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جو آج تک جاری ہے۔ حالانکہ دین ابتداء سے ایک تھا آج بھی ایک ہے اور قیامت تک ایک ہی رہے گا۔ جیسا کہ فرمان رب العالمین ہے: ”بے شک، اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین تو اسلام ہی ہے۔“ اب قیامت تک یہی دین اسلام جو قرآن و حدیث پر مشتمل ہے، اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت کا حامل ہے۔اب امت مسلمہ کو اسی اصول پر کار فرما رہناہے۔ دین کامل و اکمل ہے اور اس میں کسی قسم کے رد وبدل کی گنجائش نہیں ہے۔ جیسا کہ خود خالق کائنات نے تکمیل دین کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ”آج کے دن ہم نے تمہارے لئے دین کو مکمل کردیا او ر تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور اسلام کو بطور دین تمہارے لئے پسند فرمایا۔“(سورۃ المائدہ)

آج ہم جس ماحول سے گزر رہے ہیں وہ انتہائی پر آشوب دور ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں اور ہم خواب غفلت کا شکار تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جارہے ہیں۔کہیں ہمیں علاقائی سطح پر محدود کیا جارہا ہے تو کہیں نسلی لسانی عصبیتو ں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔موجودہ انتہائی پر فتن دور میں بخیر دعافیت زندگی گزارنے اور فتنوں سے محفوظ و مامون رہنے کا بس ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ خالص کتاب و سنت سے والہانہ وابستگی، اتحاد تنظیم او رباہمی اخوت ومحبت۔ ہمیں اللہ کی طرف رجوع ہونے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات میں علماء پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے تحمل و برداشت اور رواداری اختیار کریں، اس سلسلے میں عوام الناس کا شعور بیدار کریں۔ اب فیصلہ خود ہمیں کرناہے کہ آیا ہم تباہی وبربادی کی جانب عزم سفر ہو کر مکمل خاتمہ چاہتے ہیں یا خالص قرآن و سنت کے پاکیزہ دامن سے وابستہ ہوکر ان تمام لعنتوں سے اپنے دامن جھٹک کر دنیا و آخرت کی فلاح کامرانی چاہتے ہیں۔

3 جون،2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/islam-despises-disunity-society/d/127219

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..