New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:48 PM

Urdu Section ( 3 May 2010, NewAgeIslam.Com)

Thank God we were not traitors خدا کا شکر ہے کہ غدار ہم نہیں نکلے

-- خدا-کا-شکر-ہے-کہ-غدار-ہم-نہیں-نکلے/d/2797

مولانا اسرار الحق قاسمی

ممبئی بم دھماکوں کے سلسلہ میں جاری مقدمہ کا فیصلہ آچکا ہے۔ ہماری نظر میں اس فیصلہ  کا روشن پہلو وہ ہے ، جس کے تحت اس مقدمہ میں ماخوذ دو ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کردیا گیا ہے۔ عدالت نے ایک طرف جہاں یہ کہا ہے کہ فہیم الدین انصاری اور صباح الدین کو پولس نے بلاوجہ ماخوذ کیا ہے اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، وہیں یہ بھی کہا ہے کہ یہ دراصل ملک کے خلاف جنگ تھی ۔ فاضل عدالت کے ان دونوں جملوں کو اگر ملا کر دیکھا جائے تو اس سے یہ صاف واضح ہوجاتا ہے کہ عدالت نے بجا طور پر یہ محسوس ہی نہیں کیا ہے، بلکہ اس کو بالواسطہ طور پر جتا بھی دیا کہ کوئی ہندوستانی مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہوسکتا ۔مقدمہ کا فیصلہ آنے کے بعد ان دونوں کے وکیل نے بھی یہی کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ کوئی ہندوستانی ، خواہ ہندو ہو یا مسلمان ملک کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لے سکتا۔

یہاں ذرا ٹھہر کر اب دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں۔ حال میں ایک بار پھر انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں اور خاص طور پر مالیگاؤں ،اجمیر اور دوسرے مقامات پر بم دھماکوں میں آر ایس ایس کے پرور دہ گرگوں کا ہاتھ ہے ۔ ان میں سے بعض پولس کی گرفت میں آبھی گئے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ جنوری 2009میں ہم نے خدشہ کا اظہار کیا تھا، وہی سامنے آیا۔ ہم نے لکھا تھا کہ ‘مالیگاؤں بم دھماکوں کے الزام میں ماخوذ مہنت سدھاکر دویدی اور ریٹائرڈ میجر  رمیش اپادھیائے کے خلاف ممبئی اے ٹی ایس نے جو چارج شیٹ تیار کی ہے، اس کی رو سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں اور ان کے دوسرے ساتھی نہ صرف مالیگاؤں بلکہ اجمیر شریف کی درگاہ اور حیدر آبادکی مکہ مسجد میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھی ملوث تھے۔ اے ٹی ایس کو میجر کے قبضہ سے اس مفہوم کی آڈیو ریکارڈنگ ملی تھی ۔ اس ریکارڈ نگ کو بھی ثبوت وشواہد کا حصہ بنا یا گیا ہے۔ حالانکہ عدالتوں میں بیشتر واقعات میں آڈیو ریکارڈنگ کو قابل شہادت تسلیم نہیں کیا گیا ہے، لیکن مذکورہ معاملہ کی سنگینی اور واقعاتی شواہد کی بئیت شاید اس ریکارڈنگ کو قابل تسلیم بنا دے ،پھر اب تو جدید سائنس کا دور ہے جس نے بے پناہ ترقی کرلی ہے ، لیباریٹری میں اس تحقیق کی جاسکتی ہے کہ ریکارڈنگ میں جو آواز ہے وہ ملزموں سے ملتی جلتی انہی کی ہے۔ یقین ہے کہ اے ٹی ایس جس طرح معاملہ کے تئیں سنجیدہ ہے، اس نے اس پہلو پر ضرور غور کرلیا ہوگا۔ اس کے علاوہ اے ٹی ایس نے ویڈیو ریکارڈنگس بھی برآمد کی ہیں۔ راجستھان پولس نے اجمیر دھماکوں کے سلسلے میں آر ایس ایس کے جس وشنو پرساد کو گرفتار کیا ہے، اس نے کہا جاتا ہے کہ اعتراف کیا کہ مکہ مسجد بم دھماکے میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ابھی صرف چھوٹی مچھلیاں ہاتھ آئی ہیں اور بڑے چہروں پر پڑا نقاب اٹھنائی باقی ہے۔ اور ان تمام مچھلیوں اور بڑے چہروں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے اور ان کا کوئی بڑا اور منظم نیٹ ورک کام کررہا ہے۔ ابھی اس بیٹ ورک کو توڑنے اور بے نقاب کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

بہر حال یہ تو اب واضح ہوگیا ہے کہ اس سلسلے میں برسرتفتیش مختلف ایجنسیاں بالکل صحیح سمت میں تفتیش کررہی ہیں۔ حالانکہ ہمارا اب بھی یہی کہنا ہے کہ آنجہانی ہیمنٹ کرکرے آگر زندہ ہوتے تو شاید مالیگاؤں معاملہ کی تحقیقات بہت آگے نکل چکی ہوتیں ،لیکن بہر حال کرکرے کے بعد آنے والے چیف پر بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ  نہیں تھا۔ حالانکہ ان کی جگہ اب دوسرے کودے دی گئی ہے، لیکن ہونا یہ چاہئے تھا کہ تمام انصاف پسند طاقتیں ان کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ اے ٹی ایس چیف کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ جو کام کررہے ہیں، اس سے نہ صرف اس ملک کی سلامیت جڑی ہوئی ہے بلکہ پورا انصاف پسند ملک اس کے نتائج کا بھی انتظار کررہا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو بھی بیدار رہنے کی ضرورت ہےاور اے ٹی ایس چیف اور اس تحقیقات سے وابستہ سبھی افراد اور ان کے اہل خانہ کو سیکورٹی مہیا کرائی جانی چاہئے ۔ ہیمنٹ کرکرے کی سیکورٹی میں فی الواقع چوک ہوئی۔ اس کے علاوہ ان کی موت یا قتل یا دانستہ قتل یا پر اسرار قتل کی تحقیقات کا مطالبہ بالکل درست اور حق بجانب تھا، لیکن سیکولر طاقتوں کی بھیڑ میں گھسے ہوئے فرقہ پرستوں نے اس مطالبہ پروہ فتنہ کھڑا کیا کہ اے آر انتولے تک کو خاموشی اختیار کرنی پڑی ،لیکن اب جبکہ عدالت نے قصاب کو کرکرے کا قاتل ثابت کردیا ہے، اب اس مطالبہ پر بات کرنا بے سود ہے۔ تاہم حکومت چاہے تو اب بھی کرکرے کی موت کے اور کئی پہلوؤں کی تفتیش کی جاسکتی ہے۔ یہاں قصاب کے جرائم کے سلسلہ میں ہمیں عدالت کے فیصلہ پر ذرہ برابر شک نہیں ۔ عدالت نے بجا طور پر تمام ثبوت وشواہد کی بنیاد پر ہی اسے مجرم اور دوسروں کو بے گناہ ثابت کیا ہے۔

یہاں ایک سوال حقوق انسانی کے تناظر میں یہ ہے کہ جب عدالت نے واضح طور پر فہیم اور صباح کو باعزت بری کردیا ہے اور پولس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے انہیں بے گناہ قرار دے دیا ہے تو خود پولس کے خلاف کیا کوئی کار روائی نہیں ہونی چاہئے۔ آخر دوشریف ہندوستانیوں کی زندگی کا جو بڑا بھاری نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کیسے ہوگی اور کون کرے گا؟ اتنے عرصہ میں ان کے اہل خانہ جو مصائب جھیلے ہیں، ان کی تلافی کیسے ہوگی ؟ خود ان دونوں نے جو بدنامی اور ذلت کی زندگی گزاری ہے، اس کا حساب کون دے گا؟ پھر ملک بھر کی جیلوں میں جو مسلمان قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہے ہیں ، کیا وہ بھی  اسی طرح بے گناہ نہیں ہوسکتے؟ آخر ان کے مقدمات کو جلد از جلد فیصلہ کیوں نہیں کیا جاتا؟

مالیگاؤ ں بم دھماکوں کی مسلسل تحقیقات میں اے ٹی ایس نے اس قدر انکشافات کردئے ہیں کہ اگر خدانخواستہ اس معاملہ میں پروہت او رپرگیہ کی بجائے عارف اور ناصر ملوث ہوتے تو اب تک پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک بھیانک طوفان آچکا ہوتا ۔ ہرمسلمان کا جینا دشوار کردیا گیا ہوتا۔  ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہوتا اور ملک بھر میں لاکھوں بے گناہوں کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہوتا۔ ٹی وی چینل پر دن رات یہی بحث چل رہی ہوتی۔ مسجدوں او رمدرسوں میں چھاپہ ماری ہورہی ہوتی ،لیکن پروہت او رپرگیہ کے بھیانک کارناموں او ر ان کے عزائم کی تفصیلات سامنے آنے کےباوجود ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ خود مسلمانوں نے اس کی احتیاط رکھی اور اردواخبارات نے ایسا کچھ نہیں لکھا کہ جس سے عمومی طور پر ہندو برادران وطن کو ٹھیس پہنچے۔ اور اب جب کہ فہیم اور صبا ح کو باعزت بری کردیا گیا ہے تو ان کی بے گناہی کے چرچے ٹی وی چینلوں پر اس زور شور کے ساتھ نہیں ہورہے ہیں، جس زور شور کے ساتھ ان کی گرفتاری کے چرچے ہوئے تھے اور چیخ چیخ کر سارے متعصب چینل اور متعصب اخبارات یہی کہہ رہے تھے کہ دہشت گردوں کے تار مقامی آبادی سے جڑے ہیں اور ایسا کہتے وقت وہ مسلم محلوں او رمسلم آبادیوں کے نام گناتے تھے۔ بہر حال اس وقت اے ٹی ایس کی چارج شیٹ نے جو انکشاف کیا تھا وہ یہ تھا کہ پروہت اور اس کے دوسرے ساتھی اجمیر شریف کی درگاہ اور حیدر آباد کی مکہ مسجد کے بم دھماکوں میں ملوث تھے ۔ دویدی ریکارڈ گفتگو میں یہ کہا گیا ہے کہ اجمیر اور حیدر آباد میں کوئی آئی ایس آئی والا دھماکہ کرنے نہیں آیا ، بلکہ یہ اپنا ہی کوئی آدمی تھا۔

گفتگو میں اس ضرورت کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے جگہ جگہ ہندو وادیوں کے گروپ بننے چاہئیں ۔ کیا اس سے اب بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملک بھر میں ہونے والے دھماکوں میں یہی گروپ اور طاقتیں ملوث تھیں؟ پھر مسجدوں او رقبرستانوں میں  مسلمان کیوں بم دھماکے کرے گا؟ لیکن اس کے باوجود حیدر آباد کی پولس کو اب تک مسلمان نوجوانوں کی بے گناہی کا یقین نہیں آیا ہے۔ حیدر آباد میں مکہ مسجد کے دھماکوں کے الزمام میں پولس نے 68نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ایک عرصہ تک جب ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملاتو ان کا معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا۔ سی بی آئی نے بیشتر نوجوانوں کو معمولی پوچھ گچھ کے بعد رہا کرنے کےلئے کہہ دیا ،لیکن پولس نے بہت سے نوجوان کو آج تک بھی نہیں چھوڑا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پورے ملک میں یہی حال ہے۔ مسلم نوجوان اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہےہیں۔ یہاں ایک بات اپنے ان  لوگوں سے بھی کہنی ہے ،جو محض مسلک کے احتلافات کے سبب اپنے مسلمان بھائیوں کی مخبری کرتے ہیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ اجمیر کے دھماکے کے بعد مسلمانوں کے ایک مسلکی گروپ نے مسلمانوں کے ایک خاص طبقہ کے خلاف بے ہودہ الزامات عائد کردئے ۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ پولس نے بغیر کسی ثبوت کے کئی مساجد کے ائمہ کو گرفتار کرلیا۔ ان کے خلاف پولس کو آج تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، مگر ان پرمقدمات اسی طرح قائم ہیں۔ اب جب کہ راجستھان اے ٹی ایس نے اس کا انکشاف کردیا ہے کہ اجمیر میں دھماکے کرنے والے ہی مکہ مسجد دھماکوں میں ملوث تھے تو ملک میں جن بے قصور مسلمانوں اور خاص طور پر اماموں اور اساتذہ کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کو بلا تاخیر رہا کیا جانا چاہئے ۔ اس سلسلے میں اگر مسلمانوں کو کوئی مہم بھی چلانی پڑے تو ضرور چلائی جانی چاہئے۔

mahaqqasmi@gmail.com

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/thank-god-we-were-not-traitors--خدا-کا-شکر-ہے-کہ-غدار-ہم-نہیں-نکلے/d/2797


 

Loading..

Loading..