New Age Islam
Mon Oct 25 2021, 01:47 PM

Urdu Section ( 5 March 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

System Based on Atheism and Democracy is not Acceptable -- Concluding Part ہمیں نظام کفر قبول نہیں ۔آخری قسط

 

The author of this article Asmatullah Muawiyah is the former head of the banned terrorist organisation Sipah-e-Sahaba (Militia of the Companions of the Prophet) and the emir of Punjabi Taliban, Pakistan. In this article, he reiterates the Taliban’s ideological stand echoing Maulana Maududi’s view on democracy that it is an un-Islamic form of government and a system based on kufr (non-belief). Of late, he has been trying to have a ‘meaningful dialogue’ with the Pakistan government for reasons known to him since his organisation Taliban has declared the Pakistan government a government of kafirs though the majority  of the ministers are Muslims and Islamic Shariah is the basis of the law of the land.

In this article the Maulana has tried his best to drive home the point that all the social, political and economic ills of Pakistan are the result of the 65 years of this democratic system based on non-belief (kufr) and only a system governed by the Taliban will rid the country of the corruption the country is mired in.

It should be noted that in their writings, the Talibani scholars harp on common issues of the people of the Pakistan and shed crocodile tears for them by mentioning the poverty, corruption of their leaders, plundering the wealth of the country by the feudal lords and nawabs who have captured power, and never ever say anything on the issues of killing of Shias, destroying the Sufi shrines and carrying out suicide attacks on civilians in the residential and commercial areas.  In the concluding part of this article the Maulana exhorts the youth and the common people of Pakistan to revolt against the government with the help of bullet not ballot and encourages them to cause bloodshed and anarchy in the name of implementing Shariah.He has tried to show the human face of Taliban (though it has none) by shedding tears on the plight of the common people. Like most Urdu writers, he has used rhetoric and emotional rants to arouse public sympathy in favour of the Taliban covering up their inhuman terrorist activities killing everyone who disagrees with them. They did not hesitate even to attack a 13 year old Muslim girl for peacefully opposing their policy. This article shows their duplicity in the worst form. We at New Age Islam will keep exposing this duplicity of these terror mongers and enemies of Islam.— New Age Islam Edit Desk

 

اس مضمون کے مصنف  ممنوعہ دہشت گرد تنظیم  سپاہ صحابہ کے سابق سربراہ اور پنجابی طالبان کے  امیر  عصمت اللہ معاویہ ہیں۔ اس مضمون میں  انہوں نے جمہوریت پر طالبان کے موقف  کا اعادہ اور مولانہ مودودی کے اس  نظرئیے کی تائید کی ہے کہ جمہوریت  ایک غیراسلامی اور کفر پر مبنی نظام حکومت ہے۔ فی زمانہ وہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ‘معنی خیز ’ گفتگو کے خواہاں ہیں جو کہ ناقابل فہم  بات ہے کیونکہ طالبان حکومتِ پاکستان کو  کافروں کی حکومت قرار دے  چکے ہیں جبکہ اس میں وزیروں کی اکژیت مسلما ن ہے اور ملک کے قانون کی بنیاد اسلامی شریعت پر ہے۔

اس مضمون میں مولانا نے  یہ باور کرانے کی جی توڑ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے سماجی ، سیاسی اور معاشی مسائل اسی 65 سالہ جمہوریت کا ثمرہ ہے جو کفر پر مبنی ہے اور یہ کہ صرف طالبان ہی   اس ملک کو بدعنوانی کے دلدل سے نکال  سکتے ہیں۔

یہ امر قابل  غور ہے کہ  طالبانی علماء پاکستان کےعوام کے  عام مسائل کا تذکرہ تو کرتے ہیں   اور غریبی ، لیڈروں کی بدعنوانی، حکومت پر قابض جاگیرداروں اور نوابوں کے ذریعہ ملک کی دولت کی لوٹ پر عوام کی ہمدردی میں گھڑیالی آنسو بھی بہا تے ہیں  مگر وہ شیعوں کے قتل ، صوفیوں کے مزاروں  کی تباہی اور رہائشی اور تجارتی علاقوں میں  شہریوں پر  خود کش حملوں کا کبھی  ذکر نہیں کرتے۔ لہذاٰ، اس مضمون کی آخری  قسط میں مولانا نےپاکستان کے طلباء  اورعوام  کو اسلامی خلافت کے قیام کے نام پر انقلاب  کے لئے اکسایا ہے اور انہیں قتل و غارت گری کی ترغیب دی ہے۔انہوں نے  انکے دکھوں پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر  انہیں  طالبان کا انسانی چہرہ  ( جو سرے سے ہے ہی نہیں ) دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اردو کے بیشتر شعراء کی طرح  انہوں نے جذباتی نعروں کااستعمال کر کے طالبان کی انسانیت سوز سرگرمیوں اور مخا لفین کے قتل کی پالیسی  پر پردہ ڈالنے اور  طالبان کی حمایت میں عوامی ہمدردی بٹورنے  کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ انہیں  انکی پالیسی کی پرامن طور پر مخالفت کرنے والی ایک 13 سالہ لڑکی پر جان لیوا حملہ کرنے میں بھی شرم نہیں آئی۔ اس مضمون میں بھی انکی  دوغلی پالیسی پوری طرح ظاہر ہو گئی ہے۔ نیو  ایج اسلام انکی اسی دوغلی پالیسی کو بے نقاب کرتا رہے گا۔۔۔۔نیو ایج اسلام ایڈٹ  ڈسک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مولانا عصمت اللہ معاویہ

مارچ، 2013

اس طرح کفار بھی  ایسے مسلمان کو بسر و چشم قبول کر لیتے ہیں ۔ جو مسلمان تو رہے ، مگر اسلامی نظام حکومت کے مطالبہ سےدست بردار ہو جائیں ۔ نظامِ کفر کی غلامی  قبول کرلیں تو اسے نماز، روزہ، حج ، اور زکوٰۃ کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اسے مدارس بنانے  اور چلانے کی اجازت مل جاتی ہے ۔ اسے وعظ و نصیحت  ، دعوت و تبلیغ کی اجازت مل جاتی ہے۔ جیسا کہ یہ سب کچھ ہندوستان ، برطانیہ، فرانس ، امریکہ ، اور یورپ تک میں عالم کفر نے دین کے ان تمام احکامات پر عمل کی اجازت دے رکھی ہے۔ مگر جب تم خلافت کی بات کروگے ..... نظام اسلام کی بات کروگے تو یورپ تو کجا خود تمہاری نام نہاد مسلم حکومتیں بھی تمہیں  کچلنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ جیسا کہ عالم عرب اور پاکستان میں یہ تجر بات دیکھے جاچکے ہیں ۔ وہ شیر جو بادشاہی کی خواہش کو ترک کردے ..... پنجر ےکی زندگی  قبول کر لے، ایسے شیر سے بھلا  کون خوف زدہ ہوگا۔

بس اے اہل دین و ملت! یہی ایک بنیادی نکتہ ہے۔ جسے سمجھنے کی ضرورت ہے ...... جسے مولانا ابوالحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے خوب صورت پیرائے میں بیان کیا  ہے ...... مولانا فرماتے ہیں ۔ کتاب دعوت و عزیمت ہے جلد ہشتم صفحہ 57 ہے۔

‘‘ ایک نہایت ہی اہم بات یہ ہے کہ شرعی حکومت کے بغیر  شریعت پر پورا عمل بھی نہیں ہوسکتا ۔  اسلام کے نظام عمل کا ایک مستقل حصہ ایسا ہے ۔ جو حکومت پر موقوف ہے ۔ حکومت  کے بغیر قرآن مجید  کا ایک پورا حصہ ناقابل عمل رہ جاتا ہے۔ خود اسلام کی حفاظت بھی قوت کے بغیر ممکن نہیں ۔ مثال کے طور پر اسلام کا نظامِ مالی و دیوانی و فوج داری  معطل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے قرآن غلبہ  و قوت کے  حصول پر زور دیتا ہے ۔ اسی لیے  خلافت اسلامی اہم اور مقدس چیز سمجھی  جانے لگی ۔ اس کو اکابر صحابہ رضوان اللہ علہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین پہ مقدم رکھا ۔ جسے بہت سے  کوتاہ نظر نہیں  سمجھتے  اور اسی  کی حفاظت کے لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے قربانی پیش  کی تاکہ اس کامقصد ضائع نہ ہو اور وہ نا اہل  ہاتھوں میں نہ جانے پائے ’’۔

اب تو بات صرف  نا اہل ہاتھوں کی نہ رہی ۔ کلیتاً نظام اسلام کو مسترد کردیا گیا۔ 64 سال سے ہماری  دینی مذہبی  جماعتیں  او رمقتدر علمائے کرام پاکستان میں نظام شریعت کا مطالبہ کرتے رہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ پاکستان میں نظام شریعت  نہیں جب نظام شریعت نہیں تو نظام کفر کے علاوہ  اور کیا ہوسکتا ہے؟ بس میرے بھائیو! ہم یہ نہیں کہتے کہ تم ناظم بدلو بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بس نظام بدلو۔ ہمیں  زرداری ، پی پی اور لیگوں سے چڑ نہیں ..... ہماری دشمنی نظام کفر  سے ہے۔ آج زرداری  کی حکومت ختم ہوجائے ...... کوئی متقی ، نیک سیرت ، پاکیزہ کردار، تسبیح و مصلیٰ کا سوار، علم و تقویٰ کا معیار ، امانت و صداقت کاپہرے دار، پاکستان پر حکومت کرنے لگے، مگر نظام کفر باقی رہے تو خدا کی قسم ہم اپنی جد وجہد  سےایک دن کے لیاے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ....... کیونکہ  ہمارا جہاد ہی نظام کفر کے خلاف ہے۔

ان بنیادی  نکات کے بعد آپ سےعرض  کروں گا ...... جائیے ، جید علماے کرام سے جاکر پوچھئے کہ اسلامی خلافت کے احیا اور نفاذ کی محنت  ہم پر واجب ہے کہ نہیں  ۔ میں  سرکاری وردباری صاحب جبہ و دستار کی نہیں علما ئے حق کی بات کررہا ہوں۔ شریعت کا نفاذ ، خلافت کا احیا واجب ہے ..... علمائے امت کا اس پر اجماع ہے ..... بلکہ خلافت کے احیا کے وجوب کو تو اہل سنت کے عقیدے کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے بغیر اسلام اور اہل اسلام کا شیرازہ  ہی بکھر جاتا ہے، یہی سچ ہے ..... تو پھر دیر کس بات کی ، ڈر کس بات کا ، خوف و اندیشہ کس چیز کا؟ اٹھو! اب اسلام کے رستے کی رکاوٹیں  بیلٹ سے  نہیں بُلٹ سے دو ر کر دو، یہ  ہڑتالیں ، یہ ریفرنڈم ، یہ دھرنے ، یہ جلوس  سب جمہوری ایجاد ہیں۔ اس سے اُمت کے حقیقی اثاثوں  کی تباہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ، تم اپنوں کے سر پھوڑ و ، اپنوں  کی دوکانیں  توڑو، املاک کو تباہ کرو، اپنے گلے پھاڑ و۔ پولیس ، فوج تمہیں ماریں تو انہیں مارو، یہ سب  تماشہ ہے ...... بہکاوا ہے ........ بس بند ہو جانی چاہئیں  یہ سب فضول مشقتیں  ...... آئیے بسم اللہ کیجئے ۔ اپنے  مجاہد بھائیوں کے ساتھ مل کر جامعہ حفصہ کی شہیدہ بہنوں کے خوابوں کی تعبیر  کے لیے ، لال مسجد کے شہید بھائیوں  کی امنگوں  اور تمناؤں  کو عملی روپ دینے  کے لیے،  شریعت یا شہادت کے حسین نعرے کو لے آگے بڑھو ...... بڑھو کہ جنت ہے منتظر ...... حورو ملائکہ ہیں صف بہ صف  ....... توڑ دو غلامی کی زنجیریں، چھوڑ دو طاغوتی تدبیریں  ، پاک شریعت پاک رستے سے ہی آئے گی ...... جب سینوں کا پاک خون پائے گی !!!

اے میرے تاجر  اور صنعت کار مسلمان بھائیو ! جس قدر تمہیں ستایا جاتا ہے .......

تمہیں مقامی ایس ایچ او سے لے کر تحصیل و ضلع  کی افسر شاہی کے منہ  میں کچھ روپے  اپنی تجارت و صنعت چلانے کے لیے دینے پڑتے ہیں ..... جس قدر تمہیں مجبور ہوکر مقامی سیاست دانوں کو ہدیے اور نذرانے دینے پڑتے ہیں ..... جس قدر تمہیں  بجلی، گیس کے بھاری  بھرکم بوجھ کو اٹھانا پڑتا ہے ..... پھر سامان کی ترسیل  پر بین الصوبائی پابندیاں  بین الاضلاع ٹیکسسز ، چونگیاں پھر سالانہ  ٹیکس  کا جبر ناروا، پھر زرداری کا جیب  خرچ ، کیا یہ سب کچھ تجارت  او رصنعت کی تباہی ، بے انتہا مہنگائی کا باعث نہیں بن رہا ۔ یہ ٹیکس جو آپ ادا کرتے ہیں  یہ  سود ہی ہے جو آپ عالمی اداروں کو دے رہے ہو کیونکہ  جو قرضہ  عالمی ادارے حکومت کو دیتے ہیں وہ مع سود کے آپ سے ٹیکسوں کے نام پر وصول کیا جاتا ہے۔ تو کیا سود کو لفظ ٹیکس کہنے سے  اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی اس کی حقیقت  تبدیل ہوجائے گی؟ حالانکہ  دونوں معاملہ  کرنے والے  فریق خود اس کو سود ہی کہتے ہیں ۔ بس اسلامی نظام حکومت صرف اورصرف سالانہ زکوٰۃ ہی کو لازم قرار دیتی ہے۔ زکوٰۃ  کی وصولی کو منظّم اور باتدبیر بناتی ہے ...... جس سے تمہاری بنیادی  سہولتوں  پر ہی خرچ کردیا جاتا ہے ..... او رمزید یہ کہ تمہاری  یہ پاک کمائی کسی غریب کے گلے کا لقمہ اور تن کے دو کپڑے کا سبب بن کر تمہارے  لیے تمہارے اُخروی  اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتی ہے۔ بجلی اور گیس تمہاری صنعت تک پہنچا نا اسلامی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آپ کو اور آپ کے اموال کو تحفظ  دینا اسلامی حکومت کی ذمہ داری  ہے۔ آئیے  اس ظالمانہ ، جابرانہ نظام کفر سے نکلنے  کے لیے ہمارا  ساتھ  دیجئے  ۔ اسلامی نظام حکومت کے راستوں کی رکاوٹیں دور کرنے میں مجاہدین  کے شانہ بشانہ  کھڑے ہوجائیں ۔

اے اسکول ، کالج  یونیورسٹیوں کے نوجوانو! تمہاری  محنتوں کے سبب حاصل ہونے والی ڈگریوں کو کون اہمیت دے رہا ہے ...... تمہارے میرٹ کا کسے خیال ہے ....... یہاں پیسہ ہے ....... اس کی چمک  تمہاری محنتوں پر آسمانی بجلی بن کر گررہی ہے۔ یہاں وفاقی صوبائی وزرا، وفاقی ، صوبائی سیکٹریوں ، جرنیلو ں کے خاندانوں کے علاوہ  کس جوان کو آگے  بڑھنے کاموقع دیا جاتا ہے ۔ آپ جو کچھ  کریں ...... آپ کے والدین جس قدر محنت  سے آپ  کی فیس  پوری کریں مگر انجام نا امیدی  ویاس کی صورت ہی آئے گا۔ یہ کو ایجوکیشن سسٹم تمہاری  بنیادی جذبات کے استحصال کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ پاکیزہ جذبات ، متاع شرم و حیا کی تباہی کے لیے اس نظام تعلیم میں اس پر بنیادی توجہ دی گئی ۔ آج کالج اور یونیورسٹی ہاسٹلز کی جو حالت ہے ......کیا مسلمان  معاشرے میں اس  کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے۔ آج  شریف گھرانے کیا بچی  زیور تعلیم سے کیسے آراستہ  ہو۔ اس کی پاک دامنی بھی کس طرح محفو ظ رہے؟ یہاں گناہ آسان اور نیکی مشکل  نہیں بنادی گئی؟ گناہ قابل فخر اور نیکی قابل حقارت نہیں ہوچکی ؟ سچ جانو، یقین مانو! اس کا اصل سبب  ہم پر مسلط  کردہ نظام کفر ہی ہے۔ اس لیے تمہیں  علم وحی  سے بھی مکمل  دور کیا گیا ..... لارڈ میکالے  کے نظام تعلیم سے جوڑ دیا گیا ۔ اس نظام تعلیم  نے آپ کی جوانیوں  میں تعمیر  کی جگہ تخریب  کے اسباب  زیادہ پیدا کردیئے گئے ۔

اے میرے نوجوان بھائیو! بس آگے بڑھو ...... فراعنہ  وقت کوللکار و، نظام اسلام کی محنتوں میں ہمارے  ہم قدم ہو جاؤ ۔ اب تو تمہاری جوانی کا سورج شباب پر ہے۔ کل یہ بڑھاپے  کی کھائی کا سفر شروع کردے گا...... آئیے ! شرم حیا ، صدق وفا  کی حفاظت  ، شریعت کے نفاذ کے لیے اپنی توانا صلاحیتوں  کو دین  کے لیے کھپانے آگے بڑھئے ۔ اسلامی  نظام حکومت ہی تمہیں دل کو سکون اور انصاف و عدل فراہم کرسکتا ہے، اسلام، خاندان ،قبیلے اور سفارش نہیں آپ کو آپ کی صلاحیتوں اور قابلیت کے مطابق  آپ کو جائز مقام دے گا۔ آؤ بڑھو! قافلہ شریعت بڑھ رہا ہے ، ظلم و نا انصافی کے خلاف برائی اور نظام بدی کے خلاف  تم اس قافلے کے ساتھ  ہو چلو، اسلامی  نظام حکومت تمہارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ......زرداریوں ، کیانوں ، گیلا نیوں سے تمہیں  خیر کبھی بھی حاصل نہیں ہوگی ۔اُٹھو اس طاغوتی نظام کو مل کر ہم بحیرہ عرب میں غرق کردیں، شریعت  نافذ کردیں دنیا بھی  تمہاری  اور آخرت بھی تمہاری  ہوجائے گی ۔ اے مدارس  دینیہ  کے طلبہ ! یاد کیجئے ...... مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاملی کے معر کے کو ، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ  کے اس جملے کو کہ ‘ میں  تو چاہتا ہوں کہ ہمارے مدرسے کا ہر طالب علم انگریز کے قلعے میں شگاف  ڈال دے چاہے اس کے بدلے ہمارے  مدرسے کی اینٹ  سے اینٹ بجادی جائے ’۔ انگریز کا قلعہ نظام کفر ہی تو ہے ...... اگر اس قلعے کو نہ گرایا گیا تو کبھی بھی علم و حی کی قدر نہیں  کی جائے گی ..... جس معاشرے میں  علم  وحی کی قدر نہ رہے ۔ وہاں اہل  علم و عمل  کی قدر کا تو تصور بھی مفقود ہوجاتا ہے ۔ آج  اہل دنیا مدارس  کو صرف یتیموں  او ر لاوارثوں  کی پناہ گاہیں کیوں قرار دے دیتے ہیں تاکہ وہاں پڑھنے  پڑھانے  والوں کو معاشرے  سے الگ تھلگ  کردیا جائے ۔ جب اس نظام باطلہ کے مفاسد میں سب سے اہم یہ ہے کہ یہ قرآن مجید  کے آفاقی آئین و ضابطے  کو مسترد کردیتا ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ یہ اہل قرآن ، حفاظ  قرآن ، علما قرآن کو سینے  سے لگائے ۔ دشمن کی طاقت ٹٹولنے کے بجائے اللہ تعالیٰ  کی طاقت پر نظر  رکھو ..... آگے بڑھو ...... طالبان او رمجاہدین کے موقف کو سمجھو .... یہ سلف و خلف کی محنتوں کا ثمرہ ہیں ۔ یہ سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ  الہند  مولانا محمود  الحسن رحمۃ اللہ علیہ  کی جد وجہد اور فکر کی ارتقا کا دوسرا مرحلہ ہیں ۔ یہ مولانا  حسین احمد  مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی صبر  و رضا ، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ  کی تربیت کا نتیجہ  ہیں ۔ ان طالبان کو سمجھنے  کے لیے امریکی ڈالروں سے چھپنے  والے روز  ناموں، ماہناموں ، اور دینی صحافت  کے نام پر کفر کو مضبوط کرنے والوں  کو نہ دیکھیں ..... یہ جھوٹ کے سر چشمے  اور دجالی مورچے  ہیں ..... یہ نجی  اور سرکاری ٹیلی ویژن عوام الناس  کے ایمان کے لیے ڈر ونز کا کردار ادا کررہے  ہیں ۔ دیکھو !ٍ اگر وزیر ستان بسنے والے انصار مہاجرین حق  نہ ہوتے تو عالم کفر کاہدف کیوں بنتے ۔ پھر  روزانہ پاک بازوں کے لاشے کیوں گرتے، دنیا کفر کی زبان کا  یہ مجاہد ین چھالا کیوں بن  جاتے ۔ آپ خود ہی سوچیں  کیا اس پر  اجماع  امت نہیں کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کا ساتھ دینے والے کافرو مرتدد ہیں۔ کیا ایسے نام نہاد مسلمانوں کے ساتھ  بھی اسی  سلوک کا حکم تفاسیر میں نہیں  ۔ جو سلوک  یہود نصاریٰ  کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ یا للعجب!

رب محمد! کی قسم اگر علما لکھ دیں کہ پاکستان میں رائج  نظام ، نظام اسلام ہی ہے ..... حکومت کا امریکہ کاساتھ دینا شرعاً جائز ہے ...... پارلیمنٹ کا نیٹو سپلائی  بحال کرنا مسلمانوں کے خلاف کفر سے تعاون نہیں اور یہ جائز ہے۔ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کا در پردہ ڈرون حملوں میں امریکہ  کا تعاون  جائز اور شرعاً درست ہے۔ اگر حکومت  پاکستان کی اعانتِ کفر عین اسلام ہے تو ہمارا سر حاضر ہے ، تن حاضر ہے ..... میں اسلام آباد  حاضر ہو جاؤں گا۔ سزائے موت دے دیجئے ....... اگر اعانتِ کفر، کفر ہے۔ دستور اسلامی کو مسترد کرنا کفر ہے ....... اگر نظام اسلام کی جگہ نظام کفر رائج کرنے کے خلاف تمام فتویٰ خصوصاً حنفی  فقہ کی معتبر کتاب فتاویٰ شامی میں جہاد کا فتویٰ مذکور ہے تو  پھرکیا میرے طالب علم بھائیو! آپ اپنا  منصب  اپنے فرائض  کو پہچا ننے میں کیوں  متدبذب ہیں۔

بس بڑھو! جب تک نظام خلافت نافذ نہیں ہوجاتا تب تک منزل دور اور سفر وادی تیہ کاسفر بن جائے گا۔ علم وحی کا تحفظ  بغیر خلافت  کے مشکل  او رعلم وحی  پر عمل  ناممکن ہے ۔ اگر  آپ  چاہتے  ہیں کہ مساجد و مدارس اور دارالافتا ہی  نہ رہیں بلکہ  دارالقضاء  بن جائیں ۔ اگر آپ  چاہتے ہیں  کہ امت محمدیہ کی باگ ڈور اہل علم کے ہاتھ  آجائے ۔ تو اس نظام کفر کو اضطراری کی کیفیت  کا چولا پہنائے بغیر چونسٹھ سال سے اس  خنز یر کو خوراک قرار دے کر خاموش تماشائی بنے بغیر  اٹھو او رکچھ کر گزرو۔ تمہارے سامنے افغان کہساروں میں موجود تمہارے بھائی ایک شان دار مثا ل ہیں۔ بس دیر مت کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری حامی و مددگار ہے اب شریعت  اسلامی اور آبروئے دین کا مسئلہ ہے۔ اس نازک موڑ پر آسمانوں  کے رب کی خواہش کے مطابق آپ کردار ادانہ کرسکے تو آنے والی نسلیں بھی ہمیں معاف نہ کر پائیں گی ۔ اٹھیے اور حق ادا کیجئے ،قرض ادا کیجئے ، فرض ادا کیجئے ۔ اے اہل پاکستان! اگر آپ چاہتے ہیں کہ پولیس جیسے وحشی انسانیت کے نام پر دھبہ  ، محافظین  رشوت و ظلم سے تمہیں  نجات حاصل ہو۔ کیونکہ اس پولیس کا مکروہ چہرہ اب عوام الناس سے ڈھکا چھپا  نہیں ۔ واہ کینٹ ٹیکسلا میں ایک قیدی  عورت ساری رات ان وحشیوں  کی ہوس کانشانہ بنی رہتی ہے تو کہیں پہ سڑکوں پر لوگوں کے کپڑے اتار کر مارا جاتا ہے ۔ کہیں  تھانوں میں ہر  ایک بے آبرو اور بے عزت کردیا جاتا ہے۔ پٹو اری  سے لے کر وزرا تک ہر جگہ ظلم کا پہرہ ہے۔ اٹھو روز روز عزتوں کی پامالی پر کب تک آنکھیں بند رکھو گے ...... جہاں رکھوالے چور ڈاکو بن جائیں ...... جہاں حکومتی مشینری  غریبوں پر عذاب بن جائے ...... جہاں انصاف  سولی پر چڑھ جائے ۔ جہاں  رذیل شخص عزت دار اور عزت دار ذلیل ہو جائیں ۔ جہاں گناہ آسان او رنیکی مشکل ہوجائے ۔ جہاں ظلم اولوں کی طرح برس رہا ہو ....... وہاں خاموشی ظلم کا تعاون بن جاتی ہے۔ آئیے  ظلم کے معاون کے بجائے ظالموں کے رستے کی رکاوٹ بن جائیں۔ ہماری دعوت او ر پیغام ہمارے دل  کا درد یہی ہے ....... اٹھو ہمارا ساتھ  دو کیونکہ  یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ نفاذ شریعت  کی خاطر ، نظام اسلام کی خاطر، اللہ تعالیٰ کے شیرو ! نظام کفر پر کاری ضربیں لگانے آگے بڑھو ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی ونا ناصر ہو ....... آمین !!!

مارچ ، 2013   نوائے افغان جہاد

 

URL for Part-1:

https://www.newageislam.com/urdu-section/system-based-on-atheism-and-democracy-is-not-acceptable-part-1-(ہمیں-نظامِ-کفر-قبول-نہیں-(قسط-1/d/10032

URL for Part-2

https://www.newageislam.com/urdu-section/system-based-on-atheism-and-democracy-is-not-acceptable-part-2-(ہمیں-نظامِ-کفر-قبول-نہیں-(قسط-2/d/10064

URL for Part-3

https://www.newageislam.com/urdu-section/system-based-on-atheism-and-democracy-is-not-acceptable-part-3-(ہمیں-نظامِ-کفر-قبول-نہیں-(قسط-3/d/10249

URL for English article:

https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/maulana-asmatullah-muawiyah,-tr-new-age-islam/the-taliban-view-of-islam-and-governance--‘we-do-not-accept-this-anti-islamic-system-called-democracy’-–-concluding-part/d/10661

URL for this article:

https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-asmatullah--مولانا-عصمت-اللہ/system-based-on-atheism-and-democracy-is-not-acceptable----concluding-part--ہمیں-نظام-کفر-قبول-نہیں-۔آخری-قسط/d/10663

 

Loading..

Loading..