New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 01:45 AM

Urdu Section ( 31 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Ayatullah Baqar al-Namr: A Shia Scholar in Saudi Arabia سعودی عرب کے شیعہ عالم دین آیۃ اللہ باقر النمر

 

 

مولانا علی حیدر غازی قمی

1 جنوری، 2015

سعودی عرب میں آئے غیر ملکی مزدوروں اور کارکنوں کے سر قلم کرنے کی خبریں تو اخباروں کی زینت بنتی رہی ہیں جس میں سعودی عرب کے اسلامی قوانین پر عمل در آمد کی تشہیر ہوتی رہی ہے صرف مخالفین او رمظلو موں پر ہی وہاں کی نمائشی عدالت اپنا شکنجہ کستی دیکھائی دیتی ہے لیکن کبھی کسی شہزادےپر وہاں کی فرمائشی عدالت نے ہر گز کوئی فرد جرم عائد نہیں کی اس پر کسی کو بھی تعجب کرنے یاحیران ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے ملکوکیت میں اقرباء اور خویش پروری ایک بنیادی چیز ہے جس پر سارانظام شہنشاہیت گردش کرتا ہے ۔ سعودی عرب میں نہ جمہوریت ہے اورنہ مکمل اسلامی آزادی بلکہ استعمار کے منصوبہ کے مطابق ایک شاہی نظام مسلمانوں میں امریکی اور اسرائیلی  مفادات کو محفوظ رکھنے کےلئے جاری و ساری ہے اور سعودی عرب ہی کو کیوں رویا جائے خلیج  میں تمام ریاستیں لگ بھگ اسی استعمار کی منصوبہ بند سازش پر کار فرما ہیں تاکہ ان کی حکومتیں باقی رہ سکیں۔

امریکہ بہادر اور مغرب  بھی یہاں پر کبھی کسی جمہوریت کی بات کو نہ از خود اٹھاتا ہے اور نہ ہی یہاں  کے عوام کو اٹھانے کی اجازت دی جاتی ہے یہاں پر انسانی حقوق کی کھلی پامالی ہوتے ہوئے آزادی کا سرعام قتل ہوتے ہوئے تمام آزادی اور حقوق انسانی کے ٹھیکیدار بے  حد خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں پاکستان کی ملاملہ یوسف زئی کی حمایت ہوئی اس کو پوری دنیا نے سپورٹ کیا ، تسلیمہ نسرین کو تحفظ ، سلمان رشدی پر عرب ملکوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی توہین کرنے پر چپی سادھی او رلندن، امریکہ، فرانس کی طرف سے آزادی بیان کابہانہ بنا کر آج تک اس کو تحفظ فراہم کیا جارہاہے ایک تھرڈ کلاس  کا انگریزی ادیب آج تمام  دنیا میں مشہور ہوگیا ہے او رجسے دیکھئے اس کی آزادی  بیان پر بات کرتا دیکھا ئی دے جائے گا لیکن آیۃ اللہ باقر العمر جو سعودی شہری ہیں ان کی آزادی بیان کی حمایت نہ امریکہ کررہاہے نہ لند ن او رنہ فرانس بلکہ پورا مغرب خاموش تماشائی بناہوا ہے۔

آج سعودی عرب میں آیۃ اللہ الشیخ باقر العمر نے صرف آزادی بیان اور حقوق انسانی ہی کی تو باتیں کی تھیں انہوں نے نا انصافی کی بات کہی، سعودی عرب کے نظام شاہی پر تنقید کی ، شیعہ مذہب کو تسلیم کئے جانے کامطالبہ کیا، سعودی عرب  کے غریب  انسانوں کی غربت کا ذکر کیا،جنت البقیع ( روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل ایک قبرستان ہے جس میں بہت سے جلیل القدر صحابہ مدفون ہیں) کی تعمیر کامطالبہ کیا بس یہ تھی ان کی خطاء جس پر پورا عالم خاموش ہے کسی نے ان کی حمایت نہیں کی بحرین کے آل خلیفہ کے ظلم و تشدد پر بھی عالمی برادری خاموش ہے۔ آیۃ اللہ باقر نے اس پر تنقید کی اور بحرین میں شاہی فوجوں کا عوام پر تشدد روز بروز بڑھ رہا ہے مگر مغرب  خاموش ہے انہیں صرف داعش کو پیدا کرنے اور اس کی پرورش کی فکر ہے انہیں کسی او ر سےکیا لینا دینا آیۃ اللہ باقر النمر سعودی شہری ہیں وہ سعودی مشرقی صوبہ الشرقی کے شہر العوامیہ کے باشندے ہیں وہ  1968ء مطابق 1379ھ میں عوامیہ کی سرزمین پر پیدا ہوئے پلے، بڑھے اور ابتدائی تعلیم حاصل کی ، دینی تعلیم اپنے والد ماجد جو اپنے زمانے میں  مایہ ناز خطیب مانے جاتے تھے ، سے حاصل کی آپ کے دادا آیۃ اللہ شیخ محمد بن ناصر آل نمر قدس سرہ بھی ایک ممتاز عالم دین تھے اور علاقہ کے عام افراد ان سے دینی ضروریات کو پورا کرتے تھے ۔

آیۃ اللہ باقر العمر نے اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک بھی سفر کیا ہے بلکہ شام میں آپ نےایک اعلیٰ دینی ادارہ کی کئی سالوں تک مدیر یت بھی فرمائی ہے وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان ہیں انہوں نےشاہی نظام پر اپنے جمعہ  کے خطبوں میں تنقید کی جس پر انہیں پہلی مرتبہ 2006 میں گرفتار کیا گیا اذیتیں پہنچائی گئیں اس وقت ان پر قرآن مجید پر ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا جو کانفرنس بحرین میں منعقد ہوئی تھی، دوسری مرتبہ آپ کو 23 اگست 2008 کو گرفتار کیا اور ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ آپ عربستان کے شرقی علاقہ کے لوگوں کو حکومت کے خلاف اُکسارہے ہیں تاکہ یہ علاقہ سعودی عرب سے الگ ہوجائے ۔ پھر مارچ 2009 میں گرفتار کیا مگر اس مرتبہ عوام کےغم و غصہ کی وجہ سے 24 گھنٹے ہی میں رہا کرنا پڑا اس کے بعد 2012 میں آپ کی گاڑی پر گولیاں برسائی گئیں اور زخمی کر کے آپ کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا، آپ دو سال سے قید با مشقت جھیل رہے تھے کہ استعمار  کا بمع سعودی کے شام اور عراق کے ہر محاذ پر مسلسل شکست کے بعد عراق میں شیعہ سنی کاجھگڑا بھی پھل پھول نہ سکا اور فیل ہوگیا لہٰذا استعمار سارا منصوبہ دھڑا کا دھڑا رہ گیا تب اس نے سعودی عالم دین الشیخ  باقر النمر  کی حمایت کرنے کے بجائے منصوبہ  بندی  سےانہیں  پھانسی کی سزا کااعلان کرا دیا وہ بھی محرم الحرام سے قبل تاکہ ہندوستان ، پاکستان او ربنگلہ دیش میں سنی، شیعہ جھگڑا ہوجائے لہٰذا میری تمام مسلمانوں سے بے حد درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ آقا باقر العمر کی سزا کےمنسوخ کئے جانے کے لئے احتجاجات کریں لیکن کسی بھی صورت میں اپنے کو فساد ، جھگڑے میں ہر گز نہ پھنسائیں کیونکہ ہمارا ملک جمہوری ہے یہاں پر جمہوریت کی آبیاری کرناہر ملک  کے باشندے کا فرض ہے۔

 آج پورا سعو دی عرب مشرقی علاقہ جس میں الحصاء، العوامیہ ، القطیف ہے آیۃ اللہ العمر کی حمایت میں سڑکوں پر آگیا ہے حکومت کے خلاف آواز بلند ہونے لگی ہے اور شاہی نظام ان کے مطالبوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ان پر عرصہ حیات تنگ کررہاہے آج سعودی جیلوں میں 30 سے 40،45 ہزار افراد بند ہیں جن میں اکثریت شیعوں کی ہے یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے حکومت پر کسی قسم کی تنقید کی ہے یا تنقید میں حصہ لیا ہے ۔ آیۃ اللہ باقر العمر کو اپنی اس جرأت رندانہ کاعلم تھا اس کے نتیجہ سے وہ باخبر تھے چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے کہ : تم مجھے مارنے کے علاوہ او رکربھی کیا سکتے ہو میں تو اس شہادت کو خوش آمدید کہتاہوں ، موت میرے لئے زندگی کی ابتدا ہوگی اور میں محبت اہلبیت میں شہادت کو مرحبا کہتا ہوں ۔ آیۃ اللہ العمر کو پھانسی  کی سزا سنانے پر ہم تمام آزاد منش انسان مذمت کرتےہیں اور اپنی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ آزادی  بیان حق کا دفاع کرے اور آیۃ اللہ باقر العمر کی پھانسی کی سزا پر روک لگائے اور نمائشی عدالت کے حکم کی منسوخی پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور جمہوری کردار ادا کرے۔

1 جنوری، 2015  بشکریہ : روز نامہ صحافت، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/maulana-ali-haidar-ghazi-qummi/ayatullah-baqar-al-namr--a-shia-scholar-in-saudi-arabia--سعودی-عرب-کے-شیعہ-عالم-دین-آیۃ-اللہ-باقر-النمر/d/100781

 

Loading..

Loading..