New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 08:22 PM

Urdu Section ( 27 May 2013, NewAgeIslam.Com)

The Duty To Order Good And Prohibit Evil – Part 1 فریضۂ امر با لمعروف ونہی عن المنکر ۔ قسط ۔1

 

شریعت کا نفاذ طالبان کا مشن ہے مگر اس  مشن کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ  ان کے خیال میں شریعت کے نفاذ کا مطلب  شریعت کے ان  کی تفسیر  یعنی وہابی اسلام  کا جبری اور پر تشدد نفاذ  ہے جس میں دین کے معاملے میں انسان کی شخصی آزادی  جو کہ قرآن میں واضح طور سے موجود ہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ان کی حکومت میں ہر موڑ، ہر گلی ، بازاروں ، مدرسوں ،اسکولوں حتی کہ گھروں میں  لوگ کوڑوں اور بندوقوں کے ساتھ گھومتے ملیں گے  اور لوگوں کو نیکی اور بدی کے اپنے تصور کے مطابق عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ مثال  کے طور پر گلیوں میں ‘امر با لمعروف نہی عن المنکر’  کے لوگ  لڑکیوں کو اسکو ل جانے سے روکیں گے کیونکہ ان کے مذہب میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا  غیر شرعی عمل ہے۔ لہذا، اسی  ۔نہی عن المنکر۔ کے تحت انہوں نے  پاکستان میں ایک اسکول  جانے والی  لڑکی پر جان لیوا حملہ کیا۔

شریعت کے پر تشدد اور جان لیوا نفاذ کی  مثالیں زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی دکھائی دیں گی۔اس مضمون کی بنیاد حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جس میں مسلم معا شرے میں ایک ایسے گروپ  کی وکالت کی گئی ہے جو لوگوں کو بھلے کاموں کی ترغیب دے اور برے کاموں سے منع کرے۔ مگر اس حدیث کو  طالبانی عا لم نے  ایک ایسے گروپ کی تشکیل کی بنیاد بنا یا جو قانون ہاتھ میں  لیکر لوگوں کو سزا دینے کا مجاز ہوگا  اور اس طرح سے ہر شخص سماج  میں پولس میں بن جائیگا۔ پاکستان، افغانستان اور سیریا کے  خانہ جنگی کے شکار علاقے میں  اس طرح کے واقعات کی خبریں آئی ہیں کہ جہادی تنظیموں نے  ’امر بالمعروف ‘ کے نام پرقانون اپنے ہاتھ میں لیکر   انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اور شریعت کی   ‘خلاف ورزی ’ کرنے والوں کو سزا دی۔

اسی طرح کے ایک گروپ  کا ایک ممبر ایک شخص کے مکان میں بلا اجازت گھس گیا اور اس سے کہا کہ تم نے اسلامی شریعت کی  خلاف ورزی کی ہے اس لئے تمہیں سزا دی جائیگی۔ جب مکان مالک نے اس سے پوچھا کہ آپ بلا اجازت میر ے مکان میں کیسے  دا خل ہوئے تو  اس  خدائی فوجدارنے فلمی انداز میں جواب دیاکہ ۔ ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔لہذا، طالبان  کے یہ خدائی فوجدار لوگوں کے مکان میں بھی  شریعت کی خلاف ورزی کی تفتیش کرنے کے لئے بلا اجازت داخل ہو جائیں گے اور مجرموں کو اپنی مرضی کے مطابق سزا دیں گے۔

ہم ذیل میں طالبان  کے ترجمان رسالے نوائے افغان جہاد  شمارہ مئی  2013 میں مطبوعہ مضمون فریضۂ امر با لمعروف ونہی عن المنکر پیش کررہے ہیں تاکہ قارئین کو اندازہ ہوسکے کے طالبان اور ان جیسی دہشت گرد تنظیمیں شریعت کے نفاذ کے نام پر کس طرح  کا نظام قائم کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مولانا عبدا لوہاب ہاشمی حفظہ اللہ

مئی ، 2013

 الحمد اللہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علی  رسولہ الکریم و علی آلہ و صحبہ اجمعین  ، اما بعد:

عن ابی سعید رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : من رأی منکم منکر ا فلیغیرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ ،فإن لم یستطع فبقلبہ ،وذلک أضعف الإ یمان ( رواہ مسلم)

عزیز دوستو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث امر با لمعروف نھی عن المنکر  کے حوالے سے ہے ۔ اس موضوع کے حوالے سےکچھ  نکات ہیں جن کی  وضاحت ضروری ہے ....

پہلی بات یہ ہے کہ امر با لمعروف نھی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا  فرض کفایہ ہے ....حکم شرعی کے لحاظ سے یہ فرض کفایہ ہے ...... فرض کفایہ  سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اُسے اداکرنے کے لیے امت میں سے اگر ایک ٹولی ، ایک ایسی جماعت، ایک ایسا گروہ ،اتنے لوگ نکل  آئیں جو امت کے لیے کافی ہو ..... تو پوری  امت کا ذمہ ہوجاتا ہے ، یہ فریضہ  ادا ہوجاتا ہے ...... اور اگر امت میں کوئی ایسی ٹولی موجود نہ ہو، کوئی  ایسا  گروہ موجود نہ ہو، اتنے لوگ فریضے کے ادا کرنے کےلیے موجود نہ ہو ں، پھر پوری امت کے ذمہ یہ فریضہ ہوتا ہے ..... جب تک پوری امت اس فریضہ کو ادا نہ کرلے تب تک سب اس بارے میں گناہ گار تصور ہوں گے ...... جس طرح نماز جنازہ ہے، نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ...... کسی گاؤں اور کسی  علاقے میں فوتگی ہوجائے تو اُس میت کےلیے کفن دفن اور جنازہ کا انتظام کرنا فرض کفایہ ہے ...... اتنے لوگ  اگر نکل  آئیں کہ دفن کردیں، کفن کا بندوبست بھی کردیں، جنازہ بھی کرواسکیں تو پھر پورے علاقے اور پورے گاؤں کےلوگوں کا ذمہ بری ہوجاتا ہے  ..... اور اگر اتنے نہیں آئے  ..... مثلاً ہزاروں لوگ موجود ہیں، لیکن ان ہزاروں میں کوئی  ایسا نہیں ہے جو کفن دفن اور جنازہ کے معاملات کو دیکھ سکے  ..... تو ہزار لوگ بے شک موجود ہیں لیکن سب گناہ گار ہیں ....... اس کے برعکس اگر تین چار ایسے  افراد سامنے آئیں جو کفن دفن اورجنازہ کا انتظام کردیں تو تمام لوگوں کا ذمہ بری ہوگیا ......

امر بالمعروف نھی عن المنکر بھی اس طرح ہے ..... امر بالمعروف نھی عن المنکر  کا فریضہ اسلامی  حکومت یا  اسلامی امارت میں خلیفہ  اور امیر المومنین کی  ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایسے افراد یا ایسے گروہ کونامزد کرے یعنی ایسے لوگ چُن لے اور اُن کا تعیین  ہو جائے، ایک ادارہ  اس  طرح بن جائے جو ادارہ امر بالمعروف نھی عن المنکر کے نام سے ہو ...... اور ان افراد کو محتسبین ، کہا جاتا تھا ..... ان کو باقاعدہ کفالہ دیا جاتا تھا اسلامی امارت اور اسلامی خلافت کی طرف سے ...... کہ یہ ہر طرح سے فارغ البال ہوں اور ان کا کام یہی ہو کہ یہ گلیوں ، کوچوں ، بازاروں ، مساجد میں اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے مسلسل کام کریں ....... خلافت کے زیر تسلط اور سلطہ میں جتنا بھی  علاقہ ہوتا، اس تمام علاقہ کے لیے ، علاقہ کی وسعت کے مطابق لوگوں کو نکالا جاتا ...... پھر اُن کو یہ ذمہ داری دی جاتی اور وہ لوگ امر با لمعروف نھی عن المنکر کا کام کرتے اور اس طرح پوری امت اس فریضے سے بری ہوجاتی ہے۔

میرے عزیز و ! آج خلافت قائم نہیں ہے، اسی لیےپوری  امت مختلف خطوں میں تقسیم ہے ...... ٹکڑوں کی شکل میں امت بٹ چکی ہے ..... اب سوال یہ ہے کہ امر بالمعروف نھی عن المنکر  کا یہ فریضہ  کون ادا کرے گا؟  اس حالت میں جب خلافت موجود نہ ہو تو ہر طبقہ جہاں وہ موجود  ہیں وہاں کے سربرآور دہ افراد کی یہ ذمہ داری ہے ..... مثلاً گھر کے اندر والد بطور سربراہِ خاندان موجود ہوتا ہے ..... اب اس خاندان کے اندر اتنے لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے کہ وہ امر بالمعروف نھی عن المنکر کی ذمہ اٹھائیں ......کوئی ایسا فرد جواس گھر کے اندر واجب الا طاعت ہو، لوگ اُس کی بات کو سنتے اور تعمیل کرتے ہوں، اُس کو سُلطہ  حاصل ہو، کوئی منکر کا ارتکاب کرے تو وہ اُسے منع بھی کر سکے ..... اس کا یہ فرض ہےکہ امر بالمعروف نھی عن المنکر اپنے گھر میں کرے۔

اسی حوالے سے یہ بھی عرض ہے کہ ایک فریضہ ہے امر با لمعروف نھی عن المنکر اور ایک کام ہے نیکی کی دعوت دینا اور برائی نہ کرنے کی دعوت دینا ....ان دونوں میں فرق ہے ..... ‘امر ’ ہوتاہے حکم ، آرڈر ..... کہ بطور حکم کہا جائے کہ اس کام کو ضرور بالضرورکرو .....اگر وہ نہ کرے تو آپ کے پاس سُلطہ  موجودہو جس کی بنیاد پر آپ اُس سے بز ور  وہ کام کرواسکیں  .... نہی  سے مراد ہوتا ہے کہ منع کرنا یعنی مت کرو ..... دونوں میں فرق ہے ..... دعوت یہ ہے کہ ہم لوگوں کے پاس جائیں اور کہیں کہ بھائی ! نماز پڑھو ، روزہ  رکھو، نیک کام کرلو ، برائی نہ کرو ..... یہ دعوت ہے .... ایک ہوتا ہے امر کرنا  نہی کرنا ..... حکم دینا کہ چلو نماز کی طرف چلو ..... نماز پڑھو ، نماز قائم کرو.... یہ ‘امر’ والا کام وہ فرد کرسکتا ہے جس کے پاس سُلطہ موجود ہو ......

 میرے عزیز و! اب چونکہ خلافت موجود نہیں ہے ..... لہٰذا خلافت کی عدم موجودگی میں امت کے ہر طبقہ کے لیے اُس  کے سُلطہ  کا دائرہ موجود ہے اور یہی دائرہ اُس کی ذمہ داری ہے ...... والداور گھر کے بزرگ کی ذمہ داری اُس کا گھر ہے ...... اُس کا یہ فریضہ ہے کہ اس گھر کے اندر کوئی ایسا ضرور کھڑا کرے جو امر المعروف اور نہی عن المنکر کرے ..... نماز کا وقت ہوجائے تو یہ ایسا فرد ہو کہ گھر کے جن جن افراد پر نماز فرض ہے ..... خواتین ہیں یا مرد ہیں ...... اُن سب سے نماز پرھوائے ..... یہ کرنا فرض کفایہ ہے ...... اگر ایسا کوئی  فرد بھی موجود نہ ہوتو خاندان کے اندر جتنے بھی  لوگ موجود ہیں سب کے سب گناہ گار ہونگے ..... اس فریضہ کے ترک کرنے کا جو وبال ہوگا اُس میں خاندان کا ایک ایک فرد مبتلا ہوگا ......

اسی طریقہ سے اس داائرہ کو بڑھا کرکسی گاؤں کے اندر بھی یہی شکل دی جاسکتی ہے  ...... گاؤں کے اندر بھی کچھ ایسے افراد لازماً ہونے چاہئیں ، کوئی کمیٹی ہونی چاہیے،کوئی لجنہ ہونی چاہیے کہ وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کاکام کرے .....اتنے افراد ہوں کہ وہ  کفایت کریں ..... ایک گاؤں میں ہوسکتا ہے کہ پانچ افراد کی ضرورت ہو ، اور یہ بھی  ممکن ہےکہ ایک گاؤں بڑا ہو اور اُس میں پچاس افراد بھی اس کام کے لیے کم ہوں .... تو علاقے  کی جتنی ضرورت ہو، اُسی ضرورت کے مطابق اُتنے لوگوں کو نکلنا چاہیے ،نامزد ہونا چاہیے ، اس کام کےلیے وہ گلیوں کوچوں میں پھریں ،بازاروں میں جائیں، مساجد میں جائیں ، مدارس میں جائیں او ر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ ادا کریں ..... اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس صورت میں گاؤں کے سارے  لوگ گناہ گار ہیں ......

اسی طرح  دیگر دائرہ کا ربھی موجود ہیں ..... جس طرح تنظیمیں ہیں ..... اسلامی تنظیمیں  ہیں،مرکز ہیں ،مدرسے ہیں ..... مدرسے کے اندر جسے سُلطہ حاصل ہوتا ہے وہ مہتمم مدرسہ ہے،مدرسے کا بزرگ ہوتا ہے ....... اب اُس کے اوپر فرض ہے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے کسی کونامزد کرے ....... کہ وہ مدرسے میں جتنے بھی طلبہ ہیں، ہزاروں میں ہیں یا سیکڑوں میں  ..... اُن میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر  کا کام کرے .... تنظیم کے اندر، خواہ وہ جہادی تنظیم ہے یا  دعوتی تنظیم ہے ..... اس تنظیم کے اندر امیر کو سُلطہ حاصل ہوتا ہے ..... اس کے اوپر فرض ہے کہ وہ خود یہ کام کرے  یا کسی کی نامزد گی کرے کہ وہ 24 گھنٹے امر  بالمعروف و نہی عن المنکر کرتا رہے ...... نماز کا وقت ہے تو سب کو جگایا جائے ..... کوئی موسیقی سن  رہا ہے ، کوئی ٹی وی اور فلم دیکھ رہا ہے، اُسے منع کیا جائے کہ وہ گناہ مت کرو ...... یہ امر بالمعروف نھی عن المنکر ہے ..... یہ حکم شرعی ہے .........

اب امر بالمعروف نھی عن المنکر کا طریقے سے اس فریضے کوسر انجام دینا ہے ..... تو میرے عزیز و ! یہ تقسیم ہے ہاتھ ، زبان ..... اس کے طریقہ کار کو دو چیزوں کی بنیاد پر اپنا یا جاتا ہے ...... پہلی بات سُلطہ  کے لحاظ سے ، قدرت کے لحاظ سے  ..... جس کے پاس سُلطہ ہے اور جو اُس کے تحت ہیں تو اُن میں وہ  کوئی منکر دیکھے گا تو اُسے ہاتھ سے روکے گا ....... جہاں زبان کی قدرت موجود ہے اور زبان کا سُلطہ موجود ہے وہاں زبان سے اُسے روکے گا .... انسان کی  قدرت کو دیکھتے ہوئے ، اُس کے سُلطے کو دیکھتے ہوئے ، اُس کی  حاکمیت کو دیکھتے ہوئے ،ان میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کیا جاتا ہے .... جیسا کہ گھر کے ایک بزرگ ہیں جو اپنے بیوی بچوں کے اندر  امر بالمعروف نھی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں ..... مرکز کے اندر امیر ہے تو امیر ہاتھ سےمنع کرے گا .....

(جاری  ہے)

مئی ، 2013  بشکریہ : نوائے افغان جہاد

URL for English article:

http://newageislam.com/islamic-sharia-laws/maulana-abdul-wahab-hashmi,-nawa-e-afghan-jihad/the-duty-to-order-good-and-prohibit-evil-–--part-1/d/11748

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-wahab-hashmi,-nawa-e-afghan-jihad/the-duty-to-order-good-and-prohibit-evil-–-part-1--فریضۂ-امر-با-لمعروف-ونہی-عن-المنکر-۔-قسط-۔1/d/11770

 

Loading..

Loading..