New Age Islam
Sat Oct 24 2020, 07:31 PM

Urdu Section ( 16 Jun 2016, NewAgeIslam.Com)

Some Remarkable Issues Related to Divorce طلاق سے متعلق چند قابل توجہ امور

 

 

 

مولانا عبدالحمید نعمانی

16 جون، 2016

طلاق کے مسئلے میں کئی باتیں ایسی ہیں ، جن پر سبھی کو توجہ دینا چاہئے۔ اس کو اس طور سے پیش کرنا صحیح نہیں ہے جس سے مذہب او راہل مذہب کی شبیہ خراب ہوتی ہو۔ یہ تو سبھی ایک طرح سے تسلیم کرچکے ہیں کہ تکلیف دہ ازدواجی زندگی سےآزادی کےلئے مجبوری میں طلاق ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ طلاق صرف دینے کی بات تک محدود نہیں ہے، بلکہ لینے کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔شوہر بیوی کاذہن و عمل جب ایک دوسرے کے ناموافق و مخالف ہو اور ایک دوسرے کے جذبات ،ضرورتوں اور حقوق و فرائض کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے اور ہر ایک اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو نظرانداز کر کے صرف اپنی پسند اور حقوق پر توجہ دیتا ہے تو بات بگڑنے کا آغاز ہوجاتاہے اور نوبت ، طلاق اور جدائی تک پہنچ جاتی ہے ۔ ایسی صورت حال میں کبھی طلاق دی جاتی ہے او رکبھی طلاق لی جاتی ہے، بسا اوقات دونوں کے درمیان کچھ ایسے امور پیش آجاتے ہیں جن کےمدنظر کبھی مرد ہمیشہ کےلیے جدائی چاہتا ہے تو کبھی عورت کسی قیمت پر شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے اور اس کے ماں باپ ،بھائی وغیرہ بھی اپنی بیٹی بہن کو متعلقہ آدمی سے ہر قیمت پر دائمی جدائی چاہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ طلاق کامعاملہ ایک طرفہ نہیں ہوتا ہے۔ اس تناظر میں طلاق کے صرف ایک پہلو پر زور ڈالنے سےپورامسئلہ نہ تو واضح ہوتاہے او رنہ اس کے حل کا راستہ نکل سکتا ہے۔ ایسے میں تین طلاقوں کو ایک قرار دینے سے صورت حال میں کوئی بنیادی بہتر تبدیلی پیدا نہیں ہوسکتی ہے ۔ بحث صرف اس مردو عورت کے متعلق ہی محدود رہ جاتی ہے جو دوبارہ شوہر بیوی کے طور پر ازدواجی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ عدالتوں میں اب تک جتنے مقدمات جاکر زیر بحث بنے ہیں ان میں بیشتر میں مرد و عورت ، میاں بیوی کے طور پر پھر سے دوبارہ ازدواجی زندگی شروع کرنے کی بات سامنے نہیں آئی ہے۔اس میں انتہائی نفرت و حقارت پائی جاتی ہے ۔ اس پس منظر میں سب کو سمجھنا ہوگا کہ تین طلاق کے نام پرکسی نہ کسی بہانے سےاس کو بے معنی وبے اثر بناکر یونیفارم سول کوڈ کی راہ ہموار کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے ۔ اور جب یہ ہوجائے گا تو تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کی بات بھی بےمعنی ہوجائے گی۔ اس سلسلے میں حلالہ کی بات کو انتہائی مکرہ اور نفرت انگیز شکل میں پیش کرنے کامقصد بھی کچھ او رنہیں ہے ، ورنہ اسےبہت آسانی سےسمجھا جاسکتا ہے کہ جس سماج میں ‘‘نیوگ’’ جیسی رسم کو دھرم اور روایت کی سند قبول حاصل ہو، اسے حلالہ کو جس میں دوسرا مرد بھی باقاعدہ شوہر ہی ہوتا ہے،نفرت و تضحیک کانشانہ بنانے کے لیے کیا جواز ہے۔

حلالہ درحقیقت پہلی شادی کی طرح کا دوسرا نکاح ہے، اسے ہی پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کی شکل کو حلالہ کہہ دیا جاتا ہے ۔بلبیر پنج اور شنکر شرن جیسے اعلیٰ ذات والےنظام کے حامل اور سنگھی آئیڈیالوجی کے حامل افراد کو مسلم خواتین سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے ؟ تین طلاقوں کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ از دواجی تعلق کے لیے ، دوسرے مرد سے نکاح لازمی ہے، اس کاحکم تو قرآن کی صریح آیت اور صحیح احادیث میں دیا گیا ہے اور یہ سبھی کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اس لیے اس کے حوالے سےکسی مسلک کونشانہ بنانا غلط ہے۔ اس معاملے میں اہل حدیث ،غیر اہل حدیث، شیعہ، سنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس تناظر میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ اسلامی شریعت میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہے، انتہائی بے خبری اور جہالت کی بات ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نفس نکاح کو ملعون قرار نہیں دیا ہے، بلکہ حلالہ کے عمل میں شر ط کو شامل کرنا لعنتی عمل ہے۔ اسے تو کوئی بھی شریف عالم مفتی صحیح قرار نہیں دےسکتا ہے او رنہ آج تک دیا ہے۔لہٰذا اس کےنام پر علماء ، مفتیان کرام اور فقہا ء کو تنقید و تضحیک کا نشانہ بنا نا قطعی طور سے غلط اور علماء دشمنی کے جذبے کےاظہار کےسواکچھ اورنہیں ہے۔ جو بات شریعت میں شرط کےدرجے میں نہ ہو او رصرف بہتر او رمثالی طریقے کےذیل میں آتی ہو اس پر کسی کام کے وقوع (ہونے) و عدم و قوع (نہ ہونے) کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ہے۔ مسئلہ طلاق دینے کے قرآنی اور آئیڈل طریقے کانہیں ہے یہ تو غیر متنازعہ اور متفق علیہ ہے بلکہ جوان کو نظر انداز کرکے بیک وقت تینوں طلاق دینے کے وقوع اور عدم وقوع کا ہے، کسی عمل پر شریعت کے حوالے سے پسندیدہ ، ثواب او رناپسندیدہ او رگناہ ہونے کے متعلق ہی بحث ہوگی ۔ اس کے وقوع او ر عدم وقوع کامسئلہ بالکل جدا ہے۔ شرعی اعتبار سےحلال حرام، پسندیدہ ، ناپسندیدہ دونوں طرح کے افعال کا وقوع تسلیم کیا جاتاہے۔ ورنہ اس سلسلے میں کسی طرح کی کارروائی ، حکم اور سزا جزا کاکوئی معنی مطلب نہیں رہ جائے گا ۔ طلاق کے معاملے کو بھی اس اصول و ضابطے سےالگ کر کےنہیں دیکھا جاسکتا ہے ۔ کتاب و سنت اور اسلامی شریعت میں طلاق کامسئلہ اپنے اختیار کے صحیح استعمال کا ہے۔ اس کےخلاف شریعت غلط استعمال ، فضول خرچی، اسراف و تبذیر، حاصل آزادی اور ملکیت کےبے جاتصرف کےذیل میں آتا ہے ، مال و دولت کو شریعت نے صحیح اور جائز مصرف میں ضرورت کےمطابق خرچ کرنے کی اجازت وہدایت دی ہے، لیکن اگر کوئی حرام کاموں میں اور ناجائز طور سے صرف کردے یا ایک کی جگہ تین خرچ کردے تو اس کے وقوع سےانکار کرناخلاف حقیقت اور سچ کو جھٹلا ناہوگا او ریہ کہناغلط ہوگاکہ آدمی حسب سابق خرچ شدہ مال کا علی حالہ مالک بناہوا ہے۔ شوہر نکاح کےساتھ ہی تین طلاقوں کا شرعی و سماجی طورسے مالک ہوجاتاہے۔ اسے اپنی زندگی میں ضرورت کے وقت تدریجاً استعمال کرنے کی ہدایت ہے،لیکن کوئی اس کی خلاف ورزی کرتےہوئے فضول خرچی ، تبذیر او ربے جا تصرف سےکام لےکر حاصل ملکیت کو خرچ کرے گا تو وہ شرعاً و سماجاً مالک نہیں رہ جائے گا۔ اس کی وجہ سے جہاں آدمی بے جا تصرف کا مجرم مانا جائے گا ، وہیں جرم کا نتیجہ بر آمد ہوگا کہ آدمی بیوی سے محروم ہوجائے گا۔

طلاق کامعاملہ انفرادی عمل نہیں ہے، اس کےغلط طریقے سے استعمال سے دوسرے بھی متاثر ہوتےہیں، کم از کم بیوی جس سے پختہ عہد ( میثاق غلیظ) نکاح کرکے ازدواجی زندگی کا آغاز کیا گیا تھا،متاثر تو ہوتی ہی ہے، اس لیے بیک وقت تین طلاق دینے کو آخرت پر کلیتاً نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ نکاح و طلاق دنیاوی و سماجی پہلو بھی ہے، اس لیے غلط طلاق کا نتیجہ دنیا میں بھی سامنے آئے گا۔ تین طلاقوں کےبعد بھی ، بغیرذہنی ، جسمانی و مالی تعزیرو سزا کے رجوع کاحق دینے کا صاف مطلب ہےکہ قرآن و سنت کے خلاف بیک وقت تین طلاق دینے کو کوئی ایسا جرم نہیں سمجھا جاتاہے۔ جس کاکوئی برا نتیجہ کسی سزا کی شکل میں نکلے ، اسی طرح جولوگ تین طلاقوں کو طلاق مغلظہ قرار دے کر بات کو ختم کردیتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں کررہےہیں کہ اس پرروک تھام کا طریقہ سامنے نہیں آتا ہے ۔ ایسا کرتے ہوئے یہ بتانا بھی ضروری ہےکہ بغیر کسی صحیح سبب کے تین طلاق دینا جرم اور حرام ہے، جس پر سزا بھی ہوسکتی ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے والے اس کو مجرمانہ مانتےہوئے طلاق دینے والوں کے ساتھ پیش آئیں اور تین طلاق کو تین ماننے والے کوئی مناسب سزا تجویز کریں، نیز یہ کہ تین بار لفظ طلاق کے استعمال کی صورت میں بعد کے دوبار کوتاکید و اطلاع پر محمول کرکے ایک طلاق رجعی قرار دیں جیساکہ مسئلہ بھی ہے تو بہتری کاآغاز ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں طلاق دینے والے کےبیان کو اصل قرار دے کر فتویٰ دینےسےطلاق کے متعلق دونوں فریق بڑی حد تک فریب آجائیں گے ۔ متکلّم اپنی بات کی مراد او رمعنی مطلب کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ جانتا ہے، اس کے مد نظر شریعت کی سہولتوں اور گنجایشوں سےمسائل ومشکلات کے حل میں مدد لینی ہی چاہئے ۔ اس سلسلے میں طلاق لینے ، دینے والے کے مسلک کے خلاف فتویٰ دینے سے بھی غلط روش کو فروغ ملتا ہے، اس سےاتباع شریعت کے بجائے خواہش پرستی کی راہ ہموار ہوتی ہے اس پر روک لگانے کے لیے سبھی مسالک اور فریقوں کو سوچنا چاہئے۔

16 جون ، 2016 بشکریہ :انقلاب ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-hameed-nomani/some-remarkable-issues-related-to-divorce--طلاق-سے-متعلق-چند-قابل-توجہ-امور/d/107665

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..