New Age Islam
Mon May 10 2021, 01:33 AM

Urdu Section ( 21 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Vivekananda Envisioned The Union Of Vedanta Intellect And Islamic Form For India وویکانند ویدانت دماغ اور اسلامی جسم کے اتحاد کے قائل تھے

 

مولاناعبد الحمید نعمانی

22 جنوری، 2013

19 ویں صدی عیسوی صرف ہندوستان میں ہی نہیں ،بلکہ عالمی سطح پر اہم اور کئی حوالے سے تاریخی  صدی ہے۔ اس میں ایسی شخصیات پیدا ہوئیں  ، جنہوں نے وقت کو سمت اور رفتار دینے اور اس کے دھارے کو موڑ نے کا کام کیاہے۔ وویکا نند ، جو وویک (عقل و شعور) اور آنند (اطمینان و سرور) کاایک بہتر نمونہ تھے، اسی انیسویں صدی میں  1863ء کو پیدا ہوئے تھے، ان کے آگے پیچھے اسی صدی میں کئی تاریخی و انقلابی شخصیات کی پیدائش اور تحریکات کا آغاز ہوا اور انجام و اختتام بھی ۔ بعض ایسی اہم شخصیات اور ان کی جاری کردہ تحریکات بھی  جو وجود میں تو 18 ویں صدی میں آئیں ،لیکن انہیں شناخت 19 ویں صدی میں ملی۔ اور ان کے عروج زوال کی صدی بھی یہی 19ویں صدی  ہے۔ ایک نظر ذیل کی شخصیات ، ادارے اور تحریکات پر ڈالیں  : حضرات شاہ عبدالعزیز 1746۔1824، شاہ محمد اسحاق 1782۔1846، بہادر شاہ ظفر 1775۔1862،سید احمد بریلوی 1786ء، شاہ اسماعیل شہید 1779۔1831، فضل حق خیر آبادی 1797۔1861، سر سید 1817۔1898 ، امام محمد قاسم  نانوتوی 1832۔1880، امام رشید احمد گنگوہی 1829۔1905، مظہر نانوتوی 1821۔1885،مولانا سید نذیر حسین 1805۔1902، مولانا رحمت اللہ کیرانوی 1813۔1891، حاجی امداد اللہ 1818۔1899 ، شیخ الہند مولانا محمود حسن 1851۔1920، مولانا احمد رضا 1856۔1921، مولانا شبلی 1857۔1914، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی 1863۔1943، مولانا عبید اللہ سندھی  1874۔1944، علامہ اقبال 1877۔1938، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی 1879۔1957، حکیم اجمل خاں 1864۔1927، نواب وقار الملک 1841۔1917، مولانا محمد علی جوہر 1878۔1931، مولانا آزاد 1888۔1958، مولانا برکت اللہ 1862۔1927، ڈاکٹر مختار احمد  انصاری 1880۔1936 ، مولانا عبدالباری فرنگی محلی 1878۔1926، مفتی کفایت اللہ 1875۔1952، مولانا شوکت علی 1873۔1933، ڈاکٹر سیف الدین کچلو 1888۔1963، مولانا ابو المحاسن سجاد بہاری 1881۔1940، علامہ سید سلیمان ندوی 1884۔1953، علامہ شبیر احمد عثمانی 1885۔1949، علامہ انور شاہ کشمیری  1875۔1933، مولانا سید محمد علی مونگیری ناظم اول ندوۃ العلماء لکھنؤ 1846۔1927، محمد علی جناح 1876۔1948، خواجہ حسن نظامی 1879۔1955، گاندھی جی 1869۔1948، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی 1888۔1959، مولانا نورالدین بہاری 1897۔1932، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری  1881۔1961، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری 1886۔1962، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی 1892۔1956، ۔ اداروں کے تعلق سے دیکھیں تو دارالعلوم دیوبند ،مظاہر علوم سہارنپور 1866 ء ، علی گڈھ 1875 ء ، دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو 1892۔

غرض کہ شخصیات  ، ادارے ، تحریکات ، ہر  لحاظ سے 19 ویں صدی اہم صدی ہے۔ سوامی وویکانند کی پیدائش اور عمل کی صدی بھی یہی  ہے، ان کی وفات کا سن 1902 ہے، جو مولانا سید نذیر حسین کا سال وفات ہے، جب کہ مولانا اشرف علی کی پیدائش کا سنہ اور وویکا نند کی پیدائش  کا سنہ ایک ہی ہے۔ یہ اور بات کہ ملک گیر سطح پر جس طرح وویکا نند  کو یاد کیا جارہا ہے  ، سرکاری اور غیر سرکاری سطحوں پر او رمیڈیا میں التفات و توجہ ملی ہے، ویسا مذکورہ  شخصیات ، اداروں اور تحریکات میں سے گاندھی  جی جیسی  شخصیات کے استثنیٰ  کے ساتھ کسی کو وہ توجہ نہیں ملی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں  سے عظیم بطل  حریت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ الاسلام مولانا  حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ  کے نام پر ڈاک ٹکٹ جاری کرکےمرکزی  سرکار نے تھوڑی توجہ دے کر تلافی کی کوشش کی ہے، تاہم جو توجہ اور جگہ سرکار او رمیڈیا  میں سوامی  وویکا نند کو ملی ہے، ویسی دیگر کو، خصوصا مسلم شخصیات و تحریکات اور اداروں کو نہیں ملی ہے، اس حوالے سے سرکار اور میڈیا کے ذہن کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، ہمیں پریشانی اور تکلف  نہیں ہے کہ تحریک آزادی  میں کوئی خاص کردار نہ ہونے کے باوجود دیگر خدمات کے تناظر میں وویکا نند  کو آر ایس ایس  کے ساتھ سرکار بھی تقریبات منعقد کر کے یاد  کرے گی۔

قابل احترام صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وویکا نند ایک عظیم محبّ وطن، مفکر، روحانی پیشوا، انسان دوست اور خلق کو بیدار کرنے والے ایک عظیم سنت تھے، ان سے متعلق 150 ویں سالہ پروگرام پورے سال جاری رہے گا 19 ویں صدی کی مذکورہ شخصیات میں سے کئی ایسے ہیں، جنہوں نے عالمی سطح پر اپنے افکار و خیالات اور کام کے اثرات ونقوش ثبت کیے ہیں۔ 11 جنوری کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک ریشمی رومال کی یاد میں ٹکٹ کا اجرا محترم صدر جمہوریہ کے ہاتھوں عمل میں آیا ، اسی طرح وویکا نند کے نام پر بھی ڈاک ٹکٹ صدر جمہوریہ کے ہاتھوں جاری کیا گیا۔ یہ اعتراف کا سلسلہ خوش آئند ہے۔ تاہم وویکا نند  کو جس لگن اور جذبے کے ساتھ سامنے لایا جارہاہے ، اس سے بہ خوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ سوامی جی اتنے چھائے ہوئے کیوں ہیں، 10 جنوری، 2012 کو ہمارے منجھلے بیٹے نے سوامی وویکا نند کے متعلق اپنا خیال پیش کرتے ہوئے کہا مجھے  ان پر انگریزی میں تقریر کرنا ہے، آپ بھی اپنے مطالعے  کی روشنی میں کچھ ایسی  باتیں بتائیں  ، جن کو ملا کر میں اپنی تقریر  تیار کر سکوں  ، ظاہر  ہے کہ اسے وویکا نند  پر بولنے کے لیے کہا گیا ہوگا۔ چند سال پہلے پرگتی میدان  میں منعقد ہونے والے سالانہ عالمی کتاب میلے میں دیکھا گیا تھا  کہ کئی ادبی و اشاعتی  ادارے اور ان سے وابستہ افراد کس تڑپ اور بے چینی کے ساتھ وویکا نند کی تحریروں ، بیانوں اور افکارو خیالات سے روشناس کرانے  میں لگے  ہوئے ہیں، ہمیں بہت  احترام او رمحبت کے ساتھ  اپنے اسٹال تک لے گئے اور سوامی جی کی تحریروں ، بیانات اور خطوط پر مشتمل دس جلدوں کی کتاب وویکا نند  ساہتیہ اور الگ الگ موضوعات کے تحت ان پر لکھی درجنوں کتابوں کا ڈھیر لگادیا، راقم سطور کئی کتابوں کا پہلے ہی مطالعہ کرچکا تھا، لیکن جب دیکھا کہ دس جلدوں پر مشتمل وویکا نند ساہتیہ صرف دو ڈھائی سو روپے میں  مل رہی ہے، تو اسے خریدنے سے خود کو نہیں روک سکا، واضح رہے کہ ہر جلد  ساڑھے چار سو صفحات سے کم پر مشتمل نہیں ہے، کتاب ہاتھ میں لے کھڑا سوچتا رہا کہ کاش کوئی ادارہ  ہم جیسے درویشوں کو کسی بھی موضوع پر لکھی  کتاب کی اتنی  جلدیں سو پچاس زیادہ  ہی لے کر فراہم کردے تو ہمارے لیے آگہی کی راہ کتنی آسان ہوجائے۔

ہمیں یہ اعتراف کرنے میں  کوئی شبہ نہیں  ہے کہ سوامی وویکا نند کی شخصیت اور فکر و عمل میں عظمت کے ساتھ روشنی بھی ہے، اس کی چھاپ ، گاندھی  جی، جواہر لعل نہرو، سبھاش چندر بوس ، سی راج  گوپال آچاری جیسے آزادی  سے پہلے کے سیاسی رہنماؤں کی زندگی اور فکر پر صاف نظر آتی ہے، اور ان سے رہنمائی  لیتے دیکھائی  دیتے ہیں۔یہ تو ہمیں تسلیم کرنا چاہئے  کہ ملک و قوم کی عظیم ہستیاں توجہ و التفات سے مزید عظیم اور نمایاں  ہوجاتی ہیں، وویکا نند  جتنے  بڑے تھے، لوگوں کی توجہ نے اس سے زیادہ بڑا بنادیا، وہ بذات خود توانائی اور خود اعتمادی  سے پرتھے انہوں نے اس سے دوسروں کو بھی  بھر جانے پر حد سے زیادہ زور  دیا اور جو لوگ خود غرضی اور بزدلی میں مبتلا تھے، انہیں  اس سے جھٹکے دے کر خالی ہوکر انسانوں سے محبت اور غربت نوازی کے جذبے سے بھر جانے کےلیے  آمادہ کیا، جس  وویکا نند کو سورو پے  کی نوکری  نہیں مل رہی تھی ، وہ ایسی جگہ کھڑے ہوگئے کہ وہ  یہ کہہ سکیں کہ سنیاسی نوکری نہیں کرتا، صرف گیان (معرفت) تقسیم کرتا ہے، سوامی جی نے اس وقت کہا تھا جب انہیں  ہارو رڈیونیورسٹی  میں شعبہ فلسفہ کا صدر بنا دینے کی تجویز پیش ہوئی تھی  ، ہمیں  ان سے بہت سی باتوں سے دلائل  کے ساتھ اختلاف بھی ہے، لیکن وویکا نند  کی اس حقیقت  بیانی کی قدر کرنی پڑتی ہے کہ غریبوں  کی ان دیکھی  اور ان کا استحصال ہندوستان کے زوال اور پس ماندگی کا بنیادی  سبب ہے، 19 ویں صدی  کی بڑی شخصیات میں سے وویکا نند  زیادہ قابل توجہ بن جانے میں یہ بات بھی نظر آتی ہے کہ روحانی پیشوا وں کے الگ انداز میں انہوں نے عام آدمی اور نظر انداز کردیے گئے  افراد کے حق میں آواز اٹھائی ۔

یہ کوئی کم بڑی بات نہیں تھی کہ اپنے وقت میں وویکا نند نے ملک کو متوجہ کیا کہ بھارت ماتا کی خدمت کامطلب ہے اس کے باشندوں کی خدمت اور ہمارے مسائل و مصائب کی جڑ، غریبی او رجہالت و ناخواندگی  ہے، اور غریبی کا سبب  بھی جہالت و ناخواندگی ہے۔ جن جاتیوں اور طبقوں کو تعلیم  سے محروم رکھا گیا ہے، انہیں  تعلیم دو، وہ ملک کے عوام کی محبت میں مادیت سے اتنے اوپر اٹھ گئے تھے کہ انہیں اپنا مفاد  نظر نہیں آتا تھا ، ساری  چاہتیں  اور خواہشیں ،سماج کے فائدے ، ملک کے مفاد اور انسانی مفاد میں بدل گئی تھیں ۔ ماں نے رام کرشن کی خدمت میں جانے سے یہ کہہ کر روکنا چاہا کہ وہ تمہاری  توہین کرتے ہیں، حتی کہ  لات تک مارتے ہیں، تو وویکا نند نے جواب دیا کہ ماں آدمی کی عزت کیا اور توہین کیا، یہ توخیالی او رمحض وہم ہے، آدمی تو مٹی کا پتلاہے ، توہین ہوتی ہے ملک کی، مذہب اور تہذیب کی۔اس نظریے کے تحت وہ انسانوں میں جلتی جیوتی کو دیکھ لیتے تھے ۔ جب امریکہ کے ریلوے اسٹیشن پر ایک افریقی سیاہ فام قلی نے اپنا جات بھائی سمجھ کر ہاتھ ملانا چاہا تو سوامی نے اسے گلے گلا لیا تھا، جب دوستوں نے یہ کہا کہ آپ یہ کیوں نہیں بتلادیتے  کہ میں افریقی  نہیں، ہندوستانی ہوں ، تو اس کا جواب وویکا نند نے یہ دیا تھا کہ میں اس لیے پیدا نہیں  ہواہوں کہ خود کو بڑا بتاکر دوسروں کو کم تر ثابت  کروں۔ایسی حالت میں  پہنچا آدمی ہی یہ اعلان کرسکتا ہے کہ جب تک لاکھوں لوگ بھوک اور جہالت میں رہ رہے  ہیں تب تک میں ہر اس آدمی کو ملک  مخالف مانتا ہوں ، جس نے ان کے پیسے سے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود  ان پر توجہ نہیں دی، اگر غور سے دیکھا جائے تو سوامی جی  اس حقیقت اعلیٰ کے بالکل قریب سے گذرہے ہیں جس کے بغیر کسی بھی  عمل کی قیمت اور فنا کو وجود نہیں ملتا ہے، تاہم انسانی سماج کو بنانے میں ایسے انقلابی فکر و عمل کےرول سے انکار نہیں  کیا جاسکتا ہے۔

 انسانی مساوات سےتعلق خاطر کے مد نظر ہی انہوں نے یہ کہا تھا کہ میرا تجربہ ہے کہ کبھی کوئی مذہب انسانی مساوات کی منزل تک قابل لحاظ تک پہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے، اس لیے میرا  قطعی خیال ہے کہ عملی اسلام کی مدد کے بغیر ویدانت ازم کے نظریات خواہ وہ کتنے ہی شان دار ہوں عام انسان کے لیے بالکل بے فائدہ ہے،ہمارے  مادر وطن کے لیے دو عظیم نظاموں کا ملاپ ہندو ازم اور اسلام، ویدانت، دماغ اور اسلامی جسم ، واحد امید ہے، میں  دل کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ مستقبل کامعیاری ہندوستان انتشار و افتراق سے نکل کر ویدانت دماغ او راسلامی جسم کے ذریعہ  کامیاب اور فتح مند ہورہا ہے (وویکا نند ساہتیہ جلد 6 ص ، 405 مطبوعہ ادویت آشرم کلکتہ 1984ء ) سوامی  جی نے ہندوستانی جات پات پر مبنی  اونچ نیچ سے جواز حد دکھی تھے ، کہیں اس میں اسلام کے تصور مساوات کا تو دخل نہیں تھا، یہ حوالہ اور سوال اس لیے ضروری ہے کہ آر ایس ایس والے بھی  وویکا نند  150 ویں  سالہ تقریب  منارہے ہیں  اور مودی تک ان کا نام بہت لے رہے ہیں ، یہ لوگ کیا سوامی جی کے اس اعتراف کو تسلیم کریں گے کہ اسلام عام لوگوں کے لیے پیغام کی شکل میں آیا، پہلا  پیغام تھا مساوات کا ،ایک مذہب ہے پریم ، جات، رنگ یا دیگر  کسی چیز کا اب کوئی سوال نہیں ،اسے مانو اس عملی  خوبی  نے بازی ماری، یہ عظیم الشان پیغام سیدھا سادہ تھا، ایک خدا میں یقین کرو، جو جنت  اور زمین کا خالق ہے، اس نے سب کی تخلیق صفر اور عدم سے کی ( ویکا نند جلد 7 ص ، 232 مطبوعہ مذکور) گرچہ وویکا نند نےاسلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے تعلق  سے ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا ہے، جن پر تنقید و اختلاف کی پوری پوری گنجائش  ہے، تاہم ما قبل میں مذکورہ 19 ویں صدی کی شخصیات ان کے افکار و اعمال ، تحریکات اور اداروں کے حوالے سے ، وویکا نند  کے فکر و عمل کامطالعہ وقت کا تقاضا ہے اور ضرورت بھی ، اس کے بغیر اخذ و استفادہ کا عمل بہتر طور سے جاری نہیں  ہوسکتا ہے

22 جنوری، 2013  بشکریہ: روز نامہ ہمارا سماج ، نئی دہلی

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abdul-hameed-مولاناعبد-الحمید/vivekananda-envisioned-the-union-of-vedanta-intellect-and-islamic-form-for-india-وویکانند-ویدانت--دماغ-اور-اسلامی-جسم-کے-اتحاد-کے-قائل-تھے/d/10108

 

Loading..

Loading..