New Age Islam
Tue Nov 30 2021, 01:14 AM

Urdu Section ( 17 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

True Taqiyya: Practice Of Muslims Concealing Their Religion In Order To Protect Themselves From Harm حقیقی تقیہ: خود کو نقصان سے بچانے کے لیے مسلمانوں کا اپنے مذہب کو چھپانے کا عمل

مارتھا لی برائے نیو ایج اسلام

17 نومبر 2021

لفظ تقیہ 'وقایہ' سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے تحفظ

اہم نکات:

دراصل تمام مسلمان - اصلاح پسندوں سے لے کر جہادیوں تک سبھی تقیہ پر عمل پیرا ہیں

بہت سارے مغربی مصنفین تقیہ کی شیعہ تفہیم سے یا تو ناواقف ہیں یا دلچسپی ہی نہیں رکھتے

---------

Photo: Pinterest

----

مشہور و معروف سخت گیر سنی اسلام پسند قلم کار ڈینیئل حقیتجو کا ٹویٹر اکاؤنٹ معطل ہونے سے کچھ ہی دیر قبل، انہوں نے خلیل اندانی پر الزام لگایا - جو کہ اسلام کے اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے اسلامی علوم کے پروفیسر ہیں - کہ وہ تقیہ کا ارتکاب کرتے ہیں، کیونکہ اندانی نے سنی مسلمان ساتھیوں سے اس بات کو چھپانے کا اعتراف کیا تھا کہ میں رمضان میں روزہ نہیں رکھتا (جیسا کہ بہت سے اسماعیلی نہیں رکھتے)۔

اگرچہ سطحی طور پر یہ ایک بہت ہی معمولی بات ہے، لیکن یہ درحقیقت کئی دہائیوں تک غیر مسلم مصنفین کی جانب سے لفظ تقیہ کے غلط استعمال کے بعد، تاریخی طور پر قابل قبول طریقے سے تقیہ بازی کی ایک نادر مثال ہے۔

لفظ تقیہ 'وقایہ' سے ماخوذ ہے جس کا معنی تحفظ ہے۔ تاریخی طور پر، اس سے مراد مسلمانوں کا خود کو نقصان سے بچانے کے لیے اپنے مذہب کو چھپانا ہے۔ سنی تقیہ بازی کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں، جبکہ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا میں ہے کہ مسلمان "تقیہ کو غیر مسلموں کے ساتھ معاملات میں بوجہ مجبوری استعمال تک محدود رکھتے ہیں" لہٰذا یہ اصطلاح شیعوں کی اصطلاح سے زیادہ قریب ہے، جو تاریخی طور پر سنیوں سے زیادہ کمزور ہیں۔

اندانی نے جو کہ ایک ممتاز اعتدال پسند مفکر ہیں، حقیتجو کا جواب اس تبصرے کے ساتھ دیا: ”اسماعیلی مسلمان اکثر تقیہ بازی کرتے ہیں، جس کا مقصد اپنے مذہبی عقائد و معمولات کو سنی اکثریت کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے چھپانا ہے۔ شیعہ اماموں کے نزدیک تقیہ ہمارے مذہب کا حصہ ہے۔ تاریخی طور پر ہم آپ جیسے عدم روادار فرقہ پرستوں کے ہاتھوں مارے اور کاٹے گئے ہیں!‘‘

حالیہ دہائیوں میں، تقیہ کا تصور بطور مروج، مذموم دھوکہ دہی کے، بطور خاص اسلامی دہشت گردی پر مغربی مباحثوں میں اور یہاں تک کہ مرکزی دھارے کے یورپی میڈیا میں بھی عام ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ تقیہ کی تاریخ اور اس کی حقیقت کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے زیادہ تر شیعہ ایسے حالات میں استعمال کرتے تھے جہاں ان کے پاس اپنی جانوں کے خوف کی جائز وجوہات تھیں، لیکن غیر مسلموں کا سنی اسلام پسند دہشت گردوں کے طرز عمل کے لیے اس اصطلاح کا استعمال کرنا عجیب بات ہے۔

تقیہ کے الزامات اکثر وہ لوگ بھی لگاتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام فطری طور پر انتہا پسند اور پرتشدد ہے، اور دھوکہ دہی مذہب کا ایک لازمی حصہ ہے۔

شیعہ پر سنیوں کے غصہ نے اور بے دریغ ان کی تقیہ بازی نے ریمنڈ ابراہیم جیسے مغربی مصنفین کو بھی تقیہ کا دفاع کرنے اور یہ کہنے سے نہیں روک سکی کہ"مسلمان جب بھی کافروں کے زیر تسلط ہوں، انہیں جھوٹ بولنے اور اپنے عقائد و معمولات کو چھپانے کی اجازت دینی چاہئے۔"

لیکن اگر اصلاح پسندوں سے لے کر جہادیوں تک تمام مسلمان تقیہ باز ہو جائیں، تو اس اصطلاح کا حقیقی معنی ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انتہا پسندوں کی واضح اسلام پسندی پر بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ بھی نہیں ہے کہ بے باک انتہا پسند حقیقت میں خفیہ اعتدال پسند ہیں۔

جہاں تک غیر قانونی اسلامی سرگرمیوں کا تعلق ہے، تو یہ واضح نہیں ہے کہ کسی بھی واضح دھوکے کے لیے مذہبی وضاحت کیوں ضروری ہے۔ جرم کا دارومدار دھوکے پر ہے۔ یقیناً تمام دہشت گردوں کو، چاہے وہ کسی بھی نظریے سے تعلق رکھتے ہوں، پکڑے گئے بغیر حملے کرنے کے اپنے حقیقی ارادوں کو خاک میں ملانا ہوگا؟

بہت سے مغربی مصنفین تقیہ کی شیعہ تفہیم سے یا تو ناواقف ہیں یا دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔ اور اس کے باوجود وہ اسلام پسندی کے رجحان کی وضاحت کے لیے اس اصطلاح پر انحصار کرتے ہیں۔ فرانسیسی پروفیسر Marie-Thérèse Urvoy کے مطابق، تقیہ کی حوصلہ افزائی شریعت کرتی ہے، لہٰذا اسلام پسندی ہی اسلام کی واحد مستند شکل ہونی چاہیے کیونکہ بصورت دیگر "قرآنی متن کا صاف انکار" لازمی آئے گا۔ "اسٹریٹجک پالیسی اور انٹیلی جنس کے ماہر" کلیئر ایم لوپیز کے مطابق، مغرب میں اخوان المسلمین نے "خود کو اسلام سے متعلق تمام معاملات میں 'موزوں' سند بنانے کے لئے "تقیہ" کا استعمال کیا ہے۔

درحقیقت ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی مسلمان شک و شبہ سے بالاتر نہیں ہے۔ پامیلا گیلر جیسے پنڈت نے بھی زہدی جسر جیسے ممتاز اسلام پسند مخالف مسلم کارکنوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ "تقیہ" کو ایک "خفیہ جہاد" کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

لیکن جیسا کہ حقیتجو کے طرز عمل سے واضح ہوتا ہے، سلفی، شیعوں سے وابستہ ایک معمول کے طور پر تقیہ کی مذمت زیادہ شدت کے ساتھ کر سکتے ہیں جن سے وہ نفرت کرتے ہیں، بجائے اس کے، کہ اسے مذہبی جوش و جذبے کے طور پر استعمال کریں۔ کچھ سنی علماء نے تقیہ بازی کو شیعہ مذہب کا "بنیادی اصول" اور ایک "فاسد عقیدہ" قرار دیا ہے جس کا سنی مسلک سے "کوئی تعلق نہیں ہے"۔

خاص طور پر حقیتجو جیسے سخت گیر شخص کا اس اصطلاح کو استعمال کرنا دلچسپ ہے۔ درحقیقت، انہوں نے ایک الگ سیاق و سباق میں شیعوں پر تقیہ بازی کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے ایک شیعہ میڈیا آؤٹ لیٹ کو اس کے "خفیہ ایران نواز ایجنڈے" کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ "خمینی ایجنڈے کا ایک عنصر تقیہ کی آڑ میں سنی-شیعہ اتحاد کا دم بھر کے شیعہ مذہب کو فروغ دینا ہے۔"

قابل غور بات یہ ہے کہ حقیتجو صرف شیعہ فریب کاریوں کو اجاگر کرنے کے لیے 'تقیہ' کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ وہ مغرب میں دیگر سنی علماء کی مذمت اور قن پر حملوں کے لیے بدنام ہیں - جن پر وہ اسلام کو کمزور کرنے اور مسلم نوجوانوں کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہیں،  لیکن انہوں نے کبھی بھی ان کے طرز عمل کو تقیہ بازی نہیں کہا ہے۔

 تقیہ کو ایک "عدم روادار فرقہ پرست" کا کلاسیکی معنوں میں استعمال کرتے ہوئے دیکھنا ایک بالکل نیا احساس ہے، جیسا کہ اندانی نے اسے بیان کیا ہے۔ جہاں تک مغرب میں اسلام اور اسلام پرستی کے تمام غیر مسلم تبصرہ نگاروں کا تعلق ہے، تو ان کے لیے یہ واقعی اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایسے سنی یا شیعہ اسلام پسندوں کے درمیان جو اپنے نظریاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے فریب کا سہارا لیتے ہیں، اور ایسے مسلمانوں کے درمیان تمیز کر سکیں جو اپنے مذہبی عقائد کو چھپانے پر مجبور ہیں، ورنہ ان کے قتل ہو جانے کا خطرہ ہے۔ دونوں کو آپس میں ملانے سے کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا، سوائے خود ان اسلام پسندوں کے، جو طویل عرصے سے مغربی غلط فہمیوں پر پروان چڑھ رہے ہیں۔

 ----

 مارتھا لی مڈل ایسٹ فورم کے ایک پروجیکٹ اسلامسٹ واچ کے ریسرچ فیلو ہیں۔

 English Article: True Taqiyya: Practice Of Muslims Concealing Their Religion In Order To Protect Themselves From Harm

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/taqiyya-muslims-religion-sunnis-shias/d/125795

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..