New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:19 AM

Urdu Section ( 26 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Perwez Saheb's Ideology on Hadith and Sunnah پرویز صاحب کا نظریہ حدیث و سنّت

 

ملک منظور حسین لیل۔ بھکر

روایات سے متعلق عقائد: ۔ حدیث کےبارے میں مروجہ عقائد کا خلاصہ یہ ہے کہ :۔ (1) دین کا (9:10) حصہ احادیث میں ہے جب کہ صرف (1:10) حصہ قرآن میں ہے۔ (2) حدیث بھی وحی ہے ۔ حدیث اور قرآن دونوں خدا کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔ حدیث کامقام وہی ہے جو قرآن عزیز کا ہے۔ (3) حدیث قرآن کے ساتھ اس کی مثل ہے (مثلہ ’معہ) ۔ (4) حدیث قرآن کی اتنی محتا ج نہیں ، جتنا قرآن حدیث کا محتاج ہے۔ اور حدیث قرآن پر قاضی ہے، قرآن حدیث پر قاضی نہیں۔ اس طرح حدیث  قرآن سےاونچی قرار پاتی ہے۔ (5) یہ قرآن کی مفسّر اور شارخ  نہیں بلکہ دین کے احکام میں مستقل حیثیت رکھتی ہے ( یعنی یہ مستقل دین ہے) ۔(6) قرآن حکیم کے حکم ‘‘ اطیعوا لرسول ’’ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت) سے مراد انہی احادیث کی اطاعت ( احادیث پرعمل) ہے۔ (7) حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے ۔ مولانا محمد اسماعیل مرحوم ( سابق صدر جمعیت اہل حدیث) نے ‘‘ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث ’’ میں لکھا ہے کہ اگر قرآن کاکوئی حکم احادیث کے خلاف جائے تو سمجھ لیناچاہئے کہ قرآن کا وہ حکم منسوخ ہوچکا ہے کیونکہ حدیث قرآن کی تفسیر ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہمیں قرآن کی متعلقہ زیر غور آیت یا حکم کی سمجھ نہ آئی ہو، لہٰذا، ہمیں حدیث کو حرفِ آخرمان کر قرآنی حکم کو منسوخ سمجھنا چاہئے ۔ ( جو شخص احادیث کے بارے میں ایسا عقیدہ نہ رکھے وہ منکر حدیث فلہٰذا ، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے)  ۔ عقیدہ  ٔ ناسخ و منسوخ پر لکھتےہوئے پرویز صاحب اپنی عظیم تصنیف ‘‘ شاہکار ِ رسالت’’ کے آخری باب میں کہتےہیں ۔ ‘‘ جو قرآن ( منسوخ ہونے سے ) بچ گیا ہے، اسےسمجھا کس طرح جائے ۔‘‘ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ‘ محدث’ کے عقیدہ کے رو سے کہا یہ گیا کہ وحی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم کی وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی اور دوسری قسم کی وحی ائمہ پر۔ ان کے صرف طریق تنزیل میں فرق  تھا ۔ وحی ہونے کی جہت سےان میں کسی قسم کا فرق نہیں  تھا ۔ یہ عقیدہ شیعہ حضرات کا تھا ۔

وحی کی اقسام :۔سنیوں کے ہاں یہ عقیدہ رائج کیا گیا کہ وحی کی دو قسمیں ضرور ہیں لیکن یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی نازل ہوئی تھیں۔ ایک کو وحی جلی ( یا وحی متلو) کہا جاتاہے اور دوسری کو وحی خفی ( یا وحی غیر متلو) ۔ وحی جلی ( یا متلو) قرآن مجید کے اندر ہے اور وحی خفی احادیث کے اندر۔ وحی غیر متلو کے متعلق یہ عقیدہ وضع کیا گیا کہ یہ بھی ‘‘ مثلہ ’معہ’ ۔’’ قرآن کے ساتھ اس کی مثل ہے۔ چنانچہ حضرت مقداد بن معدی کرب کی روایت    یو ں بیان کی جاتی ہے کہ :۔

مثلہ’ معہ’:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ مجھے ‘‘ الکتاب ’’ دی گئی ہے اور اس کے ساتھ  اس کی مثل کچھ اور ( اِنی اوتیت الکتاب و مثلہ’ معہ’) ۔ یاد رکھو !۔ عنقریب ایک شخص جس کا پیٹ بھرا ہوگا ، اپنے تخت پر بیٹھا کہے گا کہ تم اس قرآن کو لازم پکڑو۔ جو کچھ اس میں حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو کچھ اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو ۔ ( ابوبکر خطیب بغدادی۔ کتاب الکفایہ)۔ یہ ‘‘مثلہ’ معہ’ ۔ ’’ احادیث ہیں ۔’’ پرویز صاحب نے اپنی کتاب سیرت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ معراج انسانیت’’ میں ‘‘ ختم نبوت’’ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ :۔ کشف و الہام کے عقیدہ کی طرف ایک اور عقیدہ بھی ‘‘ اسلام کی سرزمین میں اجنبی پودا’’ ہے۔ اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ وحی نبوت  کی بھی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وحی ءِ غیر متلو اور دوسری ۔وحی ءِ  متلو وہ تھی جو :۔ (1)۔ خدا کی طرف سے الفاظ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی تھی ۔ (2) وہ وحی ، بالفاظ قرآن میں محفوظ ہے ۔ اور (3) اس وحی کی تلاوت ہر جگہ ہوتی ہے ۔ اور وحی ٍءِ غیر متلو وہ تھی ۔ (1) جس کا تصور ( بلا الفاظ) خدا کی طرف سے ملتاتھا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے الفاظ میں  بیان فرماتے تھے ۔ (2) یہ وحی ، کتب ِاحادیث  میں لوگوں نےاپنے طور پر جمع کی ہے۔ (3) قرآن   کی طرح اس کا حرفاً حرفاً  من جانب اللہ ماننا ضروری ہے۔’’ وحی ءِ متلو ( قرآن ) کی تلاوت کی جاتی ہے، جب کہ وحیءِ غیر متلو کی تلاوت نہیں کی جاتی۔

متلو اور غیر متلو وحی :۔ وحی متلو  اور غیر متلو  کے بارے میں پرویز صاحب اپنی کتاب ’’ معراج ِ انسانیت’’ میں مزید رقمطراز ہیں : ‘‘ قرآن کریم میں وحی کی ان دو قسمو ں کاکوئی ذکر نہیں ( حتیٰ کہ کتبِ احادیث میں بھی ان اصطلاحات ۔ متلو اور غیر  متلو۔ کا کہیں ذکر نہیں ملتا ) یہ عقیدہ یہودیوں کے ہاں مروج  تھا کہ وحی کی دو قسمیں  ہیں ۔ شب کتب ، وحی متلو۔ اور شب علفہ، وحی غیر متلو۔ اس سلسلہ میں پہلی بات تو یہی قابل غور ہے کہ یہ عقیدہ کہ خدا کی طرف سے نبی کو کوئی تصور بلا الفاظ ملتا تھا اور اسے نبی پھر اپنے الفاظ میں بیان کرتا تھا، علم النفس والا لسنہ کے خلاف ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کے ذہن  میں کوئی تصور ( Concept) بلا لفظ ( Word) کے آسکے۔ تصور اورلفظ ، لازم و ملزوم ہیں ۔ کیا آپ نے اس پر غور نہیں کیا کہ جب قرآن  نے کہا  کہ  نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ۔ عَلَىٰ قَلْبِكَ ( 26:193:134) اسے روح الامین  نے تیری قلب پر نازل کیا ۔ تو اس کے ساتھ ہی  تصریح کردی کہ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ (26:195) ‘‘ واضح عربی زبان میں ’’ یعنی وحی  کا القا ہمیشہ ( عربی زبان کے واضح) الفاظ کے ساتھ ہوتا تھا۔ الفاظ کے بغیر نہیں، ایسا ہو ہی نہیں  سکتا تھا ۔ اسی لئے وحی کو کلام اللہ ( اللہ کا کلام۔ او رکلام الفاظ کے بغیر ممکن  نہیں )  بھی کہا گیا ہے۔ اور اس کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد ہوا۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ ( 29:45) ۔ ‘‘ یہ کتاب جو تیری طرف وحی کی گئی ہے ، اس کی تلاوت کر ۔ ’’ یعنی مَا اُوحیَ ( جو کچھ بھی وحی کیا گیا تھا) وہ متلو ( جس کی تلاوت کی جائے) تھا۔ غیر متلو ، وحی کوئی نہیں تھی۔ لہٰذا ، وحی صرف قرآن کریم ہے ۔ ’’ چونکہ ‘‘ مَا اُوحیَ ’ ( جو کچھ وحی کیا گیا ) کی تلاوت کا حکم ہے لہٰذا غیر متلو ( وحی خفی) کا تو تصور ہی ختم ہوجاتا ہے ( موءلف)۔

حدیث بھی وحی ہے :۔ طلوع اسلام مئی ۔ جون 1982 ء ۔ ص ۔ 31 ۔ ‘‘جبریل ، قرآن اور سنت ، دونوں کو لے کر نازل ہوتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سنت بھی قرآن کی طرح سکھاتے تھے ۔ اس لحاظ سے ہم وحی میں تفریق کے قائل نہیں ۔’’ ( جماعت اسلامی کانظریہ  حدیث از مولانا محمد اسماعیل مرحوم۔ ص ۔ 60) جب وحی میں تفریق  نہ رہی ، اور قرآن اور حدیث میں مذکور وحی ایک ہی قرار پا گئی تو مولانا مسعود احمد صاحب نے بات کھل کر کہہ دی کہ : ۔ ‘‘ حدیث کو کتاب اللہ کہا جاتا ہے ۔’’ ( تفہیم اسلام ۔ ایڈیشن 1967ء)۔

شریعت بنچ کا فیصلہ :۔حیرت ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے شریعت نے قانونِ شفعہ کو اسلام کے معیار پر پرکھتے ہوئے ‘‘ سنت’’ کو ‘‘ وحی کی ایک صورت’’ قرار دیا ( PLD 1986 SC 360-431-DD) اس کی وجہ یہی نظریہ ہے کہ وحی کی  دو قسمیں  ، وحی متلو ( وحی جلی یعنی  قرآن) اور وحی غیر متلو ( وحی خفی یعنی سنت یا حدیث) ہیں ۔ یہ نظریہ قرآن کے خلاف ہے ( موءلف)۔

حدیث بطور وحی :۔  سوچنے کا مقام ہے کہ کیا آخری وحی آجانے کے بعد کسی ‘‘ وحی’’ کی یہ صورت اور کیفیت بھی ہوسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم تلاوت ( 29:45)  کے باوجود ایسی ہو جس کی تلاو ت نہ کی جائے، قرآن کی اصطلاح میں وحی کو کتاب ( جو چیز لکھی  جائے) کا درجہ حاصل ہے مگر جس وحی ( غیر متلو) کو کتاب کا درجہ حاصل نہ ہو او راسے وحیء غیر مکتوب ( جسے نہ لکھا گیا ہو) کہا جائے، جسے صاحب وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے ڈیڑھ دو سو سال بعد صرف زبانی روایات کی بناء پر جمع  و مدون  کیا گیا ہو،  اکابر جامعین  حدیث تقریباً تمام کے تمام غیر عرب ہوں، جس وحی کے ایک ہی بات یا واقعہ کے متعلق مختلف راویان ہوں اور اُن کی متعدد  روایات کے الفاظ اور انداز ایک دوسرے سے مختلف بلکہ بعض اوقات  باہم دگر متضاد ہوں، جسے صحیح ثابت کئے جانے کی ضرورت ہو( اور  اسی لئے) جو علومِ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل ( یعنی انسانی علم ، کردار، حافظہ اور نیت وغیرہ) کی محتاج ہو ( حدیث کو جرح و تعدیل اور صحیح  اور غلط کی کسوٹی پر چڑھا نا ہی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حدیث وحی کی کوئی صورت یا قسم نہیں) ، جس وحی کی ( انسانوں کی  اپنی وضع کردہ) مختلف اقسام ( صحیح، حسن، قوی، ضعیف، منقطع ، متواتر حتیٰ کہ ‘‘ موضوع ’’ وغیرہ ) ہوں اور جس کی حفاظت بھی نہ کی گئی ہو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ وحی ( قرآن کریم) کی نہ یہ صورت ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ اگر حدیث  کو بھی ‘‘ وحی’’ مان لیا جائے تو حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اپنی شخصیت  کے بارے میں  کیا تصور ابھرتا ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر بات میں وحی کے ذریعے ہدایات  ملتی تھیں تو اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شخصیت  کی حیثیت  کیا تھی ؟۔ ( موءلف)۔

حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی اہمیت :۔ قرآن کریم نے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف حیثیتیں بیان کی ہیں۔ معلم، مزکی، سپاہ سالار، قاضی، فرماں روا وغیرہ  تو کیا ان حیثیتوں  پرعمل کرنے کےلئے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم  پر وحی متلو (قرآن) کے ساتھ وحی غیر متلو ( خفیہ ہدایات و احکامات وغیرہ یعنی حدیث و سنت)  بھی نازل ہوتی تھی؟۔ اگر ہر صورت   اور ہر حیثیت  میں آپ کو وحی ( غیرمتلو) کنٹرول  کرتی  تھی اور آپ وحی ( غیر متلو) کے نزول سے پہلے  یا وحی  کے نزول کےبغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے تو پھر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی ذہانت و فطانت ، فہم و فراست  ، تدبیر و تدبر، قوتِ ارادی و خود اعتمادی اور قوتِ فیصلہ وغیرہ کی کیا اہمیت  و حیثیت  رہ جاتی ہے؟۔۔ اور پھر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح و شکست ( غزواتِ بدر، احدو حنین وغیرہ) کے کیا معنی نکلتےہیں ؟ ۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سارے ذاتی، عوامی یا حکومتی  فرائض وحی ( غیر متلو) کے تحت سر انجام دیتےتھے او راپنی طرف سےکچھ بھی کرنے کے مجاز نہ تھے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذاتی  حیثیت کیا ہے؟۔ پھر ہم جو سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم  کی کتب  لکھ لکھ کر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی  کے مختلف  گوشوں کو فخر سے سامنے لاتے رہتےہیں اور ان صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی، حکومتی، انتظامی، سیاسی، معاشی اور اعلیٰ ترین انسانی بصیرت او ربے مثل  حکمتِ عمیلوں  وغیرہ کے تذکرے کرتے رہتےہیں ،ان کی کیا اہمیت  رہ جاتی ہے؟۔ کیونکہ اس طرح تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوکچھ بھی کرتے تھے بلا واسطہ خدائی  احکامات ( وحی غیر متلو) کے تحت کرتے تھے۔ اس میں کمال حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اپنی شخصیت  کامل کا نہیں بلکہ خدائی کنٹرول کانظر آتا ہے۔ اس طرح تو اگر خدا چاہتا تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ کی بجائے کسی بھی اور شخص کو ہمہ وقت اپنے کنٹرول میں رکھ کر آخری نبوت   کا کام لےسکتا تھا ۔ اس مقصد کی خاطر نبی کےلئے کسی خاص  انسانی سطح کی شخصیت ، ذہن اور دل و دماغ کی ضرورت  نہیں تھی ۔ نہ ہی اسے  کسی خاص انتخاب ( اور وقت ۔ چالیس سال) کی ضرورت تھی ۔ خدا جسے چاہتا اسے فوراً انسان کامل  کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کردیتا ۔ ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ذاتی شخصیت کی بھی ایک خاص  حیثیت، اہمیت اور عظمت ہے( موءلف)۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشیرت:۔ یہ بشریت انبیاء کیا ہے؟ ۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی نبی کو ماورائے بشریت تسلیم کرنا خلافِ قرآن ہے۔ نبی ایک بشر ہوتا ہے۔ افصل البشر یعنی  بلحاط درجہ اعلیٰ وار فع بشر نہ کہ مافوق الانسان ہستی ۔ یعنی عام انسانوں سے بلحاظ درجہ نہ کہ بلحاظ قسم مختلف  ۔ البتہ وحی کے نزول کا فرق ایک نبی اور غیر نبی میں مخصوص امتیاز پیدا کردیتا ہے۔ نبی ایک ایسا بشر ہوتاہے جو جامعِ کمالات ، مستجمع  الصفات ، تمام اعلیٰ ترین انسانی صلاحیتوں کامالک اور ہر لحاظ سے اکمل و افضل ہوتا ہے ۔ گو نبی کو اپنی نبوت کے ملنے سے ایک لمحہ قبل تک بھی اپنی نبوت کا علم نہیں  ہوتا  لیکن اللہ تعالیٰ اپنے منصوبے کے تحت، بننے والے نبی کی اعلیٰ اور شایانِ نبوت تربیت کا بندو بست پہلے سے کرتا ہے اور اس کی شخصیت میں اعلیٰ ترین بشری اوصاف مثل فراست ، بصیرت ، جراءت وغیرہ مکمل طور پر بھردیتا ہے تاکہ وہ وحی کو وصول کرنے کے قابل بن سکے۔ اور پھر وحی کو بہترین طور پر عمل کرکے دنیا کے سامنے بہترین نمونہ پیش کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ قرآن کریم پر صرف حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی ہی عمل پیرا ہوسکتی ہے اور آج کے انسانوں کے لئے ایسا کرنا ممکن  نہیں ۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ( اعلیٰ ترین قسم کے) انسان تھے ،انہوں نے بحیثیت  بشر قرآن کریم پرعمل  کرکے دکھایا جس کامطلب واضح طور پر یہی ہے کہ دوسرے انسانوں کےلئے بھی قرآن کریم پرعمل کرنا ممکن ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ قرآن کے علاوہ وحی غیر متلو یا وحی خفی بھی حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ضبط و ہدایت کے لئے نازل ہوتی تھی تو اس طرح حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی مافوق البشر ہستی  قرار پاجاتے  ہیں جن کی پیروی کرنا ہمارے لئے نا ممکن  ہے کیونکہ اس طرح حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مثلکم کی بجائے ) بشریت کی کسی الگ قسم میں شمار ہونے لگتے ہیں ۔ ہم ، جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذاتی  حیثیت میں ( جس میں ان ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی شخصیت کامل کا وجود نا قابل انکار ہے) وحی خفی کاکردار شامل کرکے اور یوں ان ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمام اعلیٰ وارفع ترین بشری صلاحیتوں کا انکار کرکے   انہیں ایک معجزا تی ، طلسماتی  اور مافوق البشر ہستی بنادیتے ہیں ( موءلف)۔

انسان کامل:۔ جہاں تک حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی حیثیت  یا مختلف حیثیتوں  کا سوال ہے یا ‘‘وما ینطق عن الہویٰ ۔۔۔’’  وغیرہ کا تعلق  ہے تو ان کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شخصیت اس قدر فہم و فراست اور جرأت و بصیرت کی مالک تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور اشرف  و اکمل  انسان ، وحی منزل من اللہ ( قرآن کریم)  پرعمل پیرا ہونے کی پوری پوری صلاحیت  رکھتے تھے ۔ او رآپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی فطانتِ عظمیٰ اور وحی پر مکمل طور پر عمل کرنے کی قوت، طاقت، جرأت ، وسعت اور صلاحیت  کے سبب انسان   کامل کہلانے کے مستحق  ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور شخصیت میں اس قدر فہم و فراست اور بصیرت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے مفہوم و منشاء کو مکمل طور پر سمجھ جاتے اور پھر وحی کو بعینہ لوگوں تک پہنچا کر وحی کے حقیقی مفہوم و منشاء پرپوری  طرح عمل کر کے لوگوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرتے تھے ۔ خدا  ئے پاک نے ساری قوتیں  ، صلاحیتیں اور عظمتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم      کی شخصیت میں جمع کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو مکمل طور پر بالیدگی و نشو ونما عطا فرمادی ۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانی شخصیت کا اکمل ترین  نمونہ ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی پرمکمل   طور پر عمل کرکے دکھا دیتے تھے ۔اور یہ کہنا  کہ وحی ( قرآن) کے ساتھ اس کی تشریح        و تفسیر اور عمل کرنے کے لئے ہدایات بھی براہ راست اللہ کی طرف سے وحی  حفی ( غیر متلو یا غیر مکتوب) یعنی حدیث و سنت کی صورت میں نازل ہوتی تھیں ، درست نہیں کیونکہ اس سے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات اقدس و اعظم اور شخصیت کامل کی نفی ہوتی ہے ۔ اور وحی کے بغیر بات تک نہ کرنے کا مفہوم یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ قرآن کی حدود میں  رہتے تھے او رشدت سے وحی کی اتباع و اطاعت کرتے تھے ۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں وحی کی مکمل  طور پر اطاعت کرنے کی  صلاحیت،  او رسخت مخالف قوتوں کے دباؤ کے باوجود وحی پر عمل کر کے دکھا دینے  کی پوری پوری جرأت موجود تھی لہٰذا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی  کی خلاف ورزی کے ذرہ بھر امکان کا تصور بھی نہیں کیا  جاسکتا ۔ جب کہ ایک غیر نبی  میں بہت سی صلاحیتوں اور جرأتوں کے باوجود وحی کو پوری طرح  نہ سمجھ پانے او رعملاً  وحی کی خلاف ورزی  کرنے کے زبردست امکانات   موجود ہوتے ہیں ۔ اسی لئے   کسی دوسرے انسان کو انسان کامل کا درجہ حاصل نہیں ( موءلف)۔

وحی خفی اور حکمِ مشاورت:۔ مختلف فرائض کی بجا آور ی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دوستوں سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ۔ آخر یہ مشورہ کرنے کا حکم کس مقصد اور ضرورت کے تحت ہے؟ ۔ جب کہ وحی غیر متلو سارے مقاصد پورے کرتی اور ہر قسم کی مشکلات کاحل پیش کرتی ہے۔‘‘ ہمارے ہاں یہ عقیدہ   بھی ہے کہ وحی قرآن ہی نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد و عمل بھی وحی  پرمبنی  ہوتاتھا۔ اسے وحی خفی  کہا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فیصلہ وحی پرمبنی  ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشورہ کا حکم کیوں دیا گیا ۔  جو فیصلہ وحی پر مبنی ہو اس کے لئے مشورہ کاسوال ہی پیدا  نہ ہوتا۔’’ (طلوع اسلام، اکتوبر 1983ء۔ ص۔8)۔

وحی خفی اور علم غیب:۔ اگر وحی خفی کے عقیدے کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو اس کا واضح مطلب  یہ ہے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب بھی تھے کیونکہ  وحی  خفی علم غیب سے تعلق  رکھتی ہے۔ بریلوی حضرات علم غیب کی جو تشریح کرتے ہیں وہ عقیدہ  وحی ء خفی  کے رکھنے سے انہیں ( بریلوی فرقہ) کے حق میں جاتی ہے۔ بریلوی حضرات بھی حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے وجود کاحصہ اور حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب  کو اللہ کے علم غیب کی طرح کاعلم غیب نہیں سمجھتے ۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے علاوہ بھی  باقی تمام  باتوں کی خفیہ خبر دے رکھی تھی جسے وہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب کہتے ہیں اور وحی  خفی کا مطلب بھی ایسی ہی وحی  لیا جاتا ہے جو قرآن کے علاوہ کئی  امور بتانے  کےلئے خفیہ طور پر حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتی تھی ۔ جب کہ غیر بریلوی حضرات   کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کو جو علم غیب ملتا تھا وہ صرف وحی کے ذریعہ ملتا تھا یعنی صرف وحی ہی وہ علم غیب تھی جو حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انسانوں  سےممتاز کرتی تھی ۔ اس وحی ( قرآن کریم)  کے  علاوہ کوئی اور علم غیب نہیں  تھا جس  کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مالک ہوتے ( موءلف)۔

وحی خفی کی مثالیں:۔مولانا مودودی مرحوم نے اپنی کتاب ‘‘ سنت کی آئینی حیثیت’’ میں صفحات نمبر 118۔25 پر وحی خفی کی کچھ مثالیں دی ہیں لیکن ہم جب دیکھتے ہیں کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ  معاملات میں مشکلات بھی پیش آئیں ( مثلاً غزوہ ، احد و حنین وغیرہ اور غزوہ تبوک کہ افواہ کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لے گئے تھے ، حالانکہ وحی خفی کے ذریعے خبردار کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مصائب  سے بچا یا جاسکتا تھا ۔ چونکہ جن واقعات کے حوالے وحی خفی  کے جواز کے سلسلے  میں دیئے گئے ہیں ، ان میں سےبعض  مذکورہ  جنگوں سےبھی کم اہمیت کی واقعات ہیں) تو وحی خفی کے غیر قرآنی عقیدے سے ایمان مزید اٹھ جاتا ہے۔۔۔ جو وحی ( قرآن) چھوٹی چھو ٹی لغزشوں (مثلاً شہد کا نہ کھانا ، کسی کیلئے دعائے مغفرت  نہ کرنا وغیرہ) پر تنبیہ کر سکتی ہے وہ وحی اہم ترین  معاملات (مثلاً حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے کے خلاف غزوہ احد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا باہر جاکر لڑنا اور شکست کھانا یا نماز کے اوقات و رکعت اور طریق  ادائیگی وغیرہ) کے سلسلے میں بھی چند الفاظ کا اضافہ کر کے ان معاملات کانمٹا سکتی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی خفی  وغیرہ قسم کی کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ وحی ( قرآن) ہی کی چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے احکام الہٰی  پرنہایت کامیابی   سے عمل پیرا ہونے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے ۔ او راگر کہیں  اس عمل پیرائی میں ان صلی اللہ علیہ وسلم سے ذرا سی بھی لغزش ہونے لگتی تو وحی ( قرآن)  کے ذریعے انہیں صلی اللہ علیہ وسلم تنبیہ کردی جاتی  تھی ( 80:1 وغیرہ) ورنہ ( وحی خفی کو ماننے کی صورت میں تو) تنبیہ بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے  کیونکہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی اور بصیرت کے تحت کچھ کر ہی نہیں رہے  ہوتے تھے تو پھر تنبیہ کی کیا ضرورت رہ جاتی تھی یا وحی  ( قرآن) کی صورت میں تنبیہ  کی کیا ضرورت ہوتی تھی؟ ۔ ایک عام بشر اور ایک نبی میں یہی امتیاز نظر آتا ہے کہ ایک نبی میں اس قدر بصیرت رکھ دی جاتی ہے اور اس کی تربیت ایک الو ہی منصوبے کے تحت شروع ہی سے اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ بشریت کے باوجود  وحی کےمطابق  اکمل ترین عملی نمونہ بن کر دکھانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور جہاں کہیں اس سے لغزش  ہونے لگتی ہے، اسے تنبیہ کر دی جاتی ہے تاکہ ایک نبی معصوم عن الخطا ہونے کے مقام پر فائز رہے( موءلف)۔

محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث کی بلحاظ  درجہ بہت سی اقسام بیان کی ہیں جن میں ضعیف ( کمزور) ،غریب اور  موضوع وغیرہ احادیث  بھی شامل ہیں ۔ احادیث کے معتقد حضرات ایسی احادیث کو قرآن کریم پر رکھ کر ان کا انکار تو نہیں کرسکتے، البتہ اسماء الرجال کے مطابق انہیں ‘‘ غریب یا کمزور’’ وغیرہ کا درجہ دے کر تسلیم کرلیتے ہیں ۔ اگر احادیث کو ( خفی  غیر متلو یا غیر مکتوب) وحی مانا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وحی ‘‘غریب اور کمزور’’ بھی ہوتی ہے ۔ یا للعجب !۔ وحی کی متعدد اقسام بلحاظ درجہ ( کمزور غریب وغیرہ)  کا ہونا ہی  اس بات کا ثبوت  ہے کہ حدیث وحی ( کی کوئی قسم) نہیں کیونکہ  وحی غریب، کمزور، موضوع یا غیر صحیح وغیرہ نہیں ہوسکتی ۔ وحی  ہمیشہ ‘‘ صحیح’’ ہوتی ہے۔ صرف قرآن کریم ہی وحی ہے۔ وحی کی ایک ہی قسم  ہے جو قرآن کریم کی صورت میں محفوظ  ہے۔ ( 13:30،12:3،29:45،42:7،18:27،6:19) اور جس کی تلاوت کا حکم ہے ( موءلف)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مثلہ ’ معہ’ (وحی خفی کے عقیدے کی داستان):۔ طلوع اسلام اپریل 1983 ء ص۔9۔5۔ ‘‘ یہ ( اسلام کا ) نظام اس وقت تک قائم رہا جب تک ‘‘خلافت’’ قائم رہی ۔ اس کے بعد امت پرملوکیت مسلط ہوگئی تو اسلام کی گاڑی دوسری پٹری  پر جا پڑی۔ ملوکیت  کے معنی ہوتے ہیں بزورِ شمشیر اقتدار پر قابو  پا لینا۔ ا س کے بعد یہ اقتدار ( ذاتی جائیداد کی طرح) موروثی بھی ہوجاتا ہے۔ یہ نظام قرآن کے یکسر خلاف تھا ۔ ظاہر ہے کہ جب مملکت کی بنیادی  خلاف قرآن تھی تو اس میں قرآنی قوانین کے نفاذ کا سوال کیسے  پیدا ہو سکتا تھا ۔ حصول اقتدار کا قرآنی  طریق مملکت کے اسلامی  ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ ملوکیت  کو اسی لئے خلاف اسلام کہا جاتا ہے کہ اس میں اقتدار قرآنی  طریق  کے مطابق  حاصل نہیں  کیا جاتا ۔ لیکن ان شیا طین کی مشکل یہ تھی کہ رعایا بہر حال مسلمان تھی جسے مطمئن رکھنا  ضروری تھا کہ جو کچھ کیا جارہا ہے ، وہ اسلام کے خلا ف نہیں ۔ سوچئے  کہ یہ کس قدر مشکل مرحلہ تھا ۔ لیکن  انہوں نے اس مشکل کا حل دریافت کرلیا ۔ ( انہوں نے خود یہ حل تلاش کرلیا یا ان کے حاشیہ نشینوں نے انہیں یہ سُجھادیا!) اس کے لئے یہ عقیدہ  وضع کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف قرآن نہیں ملا تھا ۔

ملوکیت کی کارستانی :۔ مثلہ’ معہ’ ۔ قرآن کے ساتھ قرآن کی مثل کچھ اور بھی ملا تھا ۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ جنہوں نے یہ عقیدہ وضع کیا تھا ان کے  حوصلے  کس قدر دراز اور جراء تیں کس قدر بے باک تھیں!۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار یہ چیلنج  دیا ہے کہ :وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ( 2:23) ۔ ‘‘جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے ۔ اگر تمہیں اس کے منجانب اللہ ہونے پر شبہ ہوتو ( پورا قرآن نہیں، اس کی) ایک سورۃ کے مثل بنا کر دکھاؤ ۔ اس کے لئے جنہیں بھی تم اپنے  ساتھ ملانا چاہتے ہو ، ملالو ۔’’ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ( 2:24) ۔ ‘‘اگر تم ایسا نہ کرسکے۔ او رہم دعوے سےکہے دیتے ہیں کہ تم ایسا نہیں  کر سکو گے۔ قطعاً نہیں کرسکو گے۔ تو پھر جہنم  کےعذاب سے ڈرو۔’’ کفار نے تو اس کی ہمت نہ کی کہ قرآن کی کسی ایک سورۃ کی مثل بنا کر دکھا دیتے لیکن خود ہم نے یہ دعویٰ کردیا  کہ قرآن کے ساتھ قرآن کی مثل کچھ اور  بھی ہے۔ اور قیامت بلائے قیامت کہ اس منسوب کر دیا خود ذاتِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ۔ اس کے لئے نہ ہم خدا سے ڈرے ، نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نادم ہوئے! ۔  اس عقیدہ کے وضع کرنے والوں پرجب یہ اعتراض کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘‘قرآن کی مثل’’ اپنی طرف سے نہیں بنایا تھا ۔ یہ بھی خدا کی طرف سے بذریعہ وحی ملا تھا ۔ یعنی وحی کی دو قسمیں تھیں۔ ایک وحی مکتوب تھی جو قرآن کے اندر درج او رمحفوظ  ہوگئی ۔۔ دوسری وحی لکھی  نہیں گئی  تھی، روایات  کے ذریعے زبانی آگے چلی تھی ۔۔ ( ہم سمجھتے ہیں کہ جس دن یہ عقیدہ وضع ہوا، اُسی  دن اسلام دوسری پٹری پرجا پڑا۔ پھر حقیقی  اور غیر ملو ث و غیر محرف اسلام باقی نہ رہا۔ طلوع اسلام بابت دسمبر 1952ء میں علامہ تمنا عمادی رحمۃ اللہ علیہ  کا ایک نہایت بلند پایہ تحقیقی  مقالہ  شائع ہوا تھا جس میں ثابت کیا گیا تھا کہ یہ روایت یکسر وضعی  ہے)۔۔لیکن مشکل  یہ تھی کہ اس دوسری وحی کو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منضبط  کرکے امت کو دیا تھا، نہ ہی خلافتِ راشدہ کے زمانے میں یہ ِضبطِ تحریر میں آئی تھی۔ حتیٰ کہ جب ( عباسیوں  کے زمانے میں )  یہ عقیدہ وضع  ہوا، اُس وقت بھی یہ کسی کتاب میں منضبط  نہیں تھی۔ اس مشکل کا حل یہ سوچا گیا کہ لوگ جن باتوں کے متعلق  کہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں، انہیں  ( ان زبانی ) جمع کرلیا جائے۔ یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے قریب اڑھائی سو سال بعد شروع  ہوا۔ ان میں سے جن جامعین  روایات  کو معتبر  او رمستند  تسلیم کیا جاتا ہے، انہیں کس قدر کثیر تعداد میں روایات ملیں اور انہوں نے ان میں سے کتنی روایات کو مسترد کرکے بقایا کو قابلِ قبول سمجھا، اس کا اندازہ ذیل کی تفصیل  سے لگائیے’’۔۔ ( یہ تفصیل پہلے ‘‘ جمع و تدوینِ  حدیث’’ کے عنوان کے تحت آگئی ہے۔ موءلف)  ۔ ‘‘ مندرجہ بالا وضاحت سے د واہم نکات سامنے آتے ہیں۔ اوّل یہ کہ اُس  ( ابتدائی) ز مانے میں بھی کس قدر ایسی روایات پھیلی ہوئی تھیں جو ( خود جامعین کے معیار کے مطابق) نا قابل قبول تھیں ۔ اور دوسرے یہ کہ جامعین  نے ان میں سے اپنے قیاس کے مطابق  فیصلہ کیا کہ کون کون سی روایت قابلِ قبول ہے۔ ان کے پاس کوئی ذریعہ  ایسا نہیں تھاجس سے یقینی  طور پر معلوم کیا جاسکتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فی الواقعہ ایسا فرمایا تھا ۔ یہ وجہ ہے جو ایک مجموعہ  میں متضاد احادیث بھی ملتی ہیں اور مختلف مجموعوں میں ایک دوسرے  سےمتضاد بھی ۔۔۔اور  یہ ہیں وہ روایات جن کے متعلق کہا جاتاہے کہ یہ خدا کی طرف سے وحی خفی   کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کوملی تھیں ۔ او ران کی حیثیت ۔۔ قرآن کی مثل، قرآن کے ساتھ ۔۔ اتنا ہی نہیں کہ یہ ‘‘ قرآن کے ساتھ  قرآن کی مثل ’’ ہیں ۔ عقیدہ یہ ہے کہ یہ قرآن پر اضافہ بھی کرسکتی ہیں۔ حتیٰ کہ اسے منسوخ بھی ۔ اگر قرآن اور حدیث کے کسی  حکم میں تضاد ہو تو حکم  حدیث کا واجب الاطاعت ہوگا ۔۔ اس سے آپ  اندازہ لگائیے کہ اس ایک عقیدہ سےان سلاطین  کے احکام او ران کی روشِ زندگی کو اسلام کے مطابق ثابت کرنے کےلئے کتنے پھاٹک کھل گئے۔ جوبات سامنے آئی اس کے لئے ایک روایت وضع کرلی۔ ان وضعی احادیث  کی کس قدر بھر مار تھی، اس کا اندازہ  علامہ اسلم جیراج پوری رحمۃ اللہ علیہ کے اس تحقیقاتی مقالہ سے لگائیے جو طلوع اسلام بابت ستمبر 1981ء میں ‘‘ وضع حدیث’’ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ وضعی روایات کا ایک سیلاب تھا جو امنڈے چلاآرہا تھا  اور جن سے ہر خلافِ اسلام عقیدہ او رمسلک کےجواز کی سندمل جاتی تھی ۔

فرقوں کی پیدائش :۔ جب مملکت کو قوانیان کی ضرورت پڑی تو اس زمانے کےماہرین قانون نے ( جنہیں فقہاء کہا جاتاہے) قوانین کے مرتب کئے جو بیشتر  انہی روایات پرمبنی  یا ان سے مستنبط تھے ۔ جس طرح روایات ایک دوسرے سے متضاد تھیں، اسی طرح  ان فقہاء کے ضوابطِ قوانین  بھی ایک دوسرے سے مختلف  تھے ۔ اس طرح امت فرقوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ نےکہا ہم براہِ راست روایات کو اسلام سمجھتے  ہیں۔ انہیں  اہل حدیث  کہا جاتا ہے۔ اور ان کے بھی کئی  فرقے ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ ہم فقہ  کو اسلام تسلیم کرتےہیں۔فقہیں   چونکہ مختلف ائمہ  فقہ  کی  مختلف تھیں اس لئے  ان میں مزید فرقے پیدا ہوگئے ۔ حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی وغیرہ۔ ( ان کے علاوہ بے شمار اور بھی) ۔مملکت  نے یہ کیا کہ امورِ مملکت اپنی تحویل میں رکھ لئے جن میں مذہبی پیشوائیت کا عمل دخل نہیں تھا ۔ اور پرسنل لاز ان مذہنی پیشواؤں کےحوالے کردیئے  کہ تم آپس میں لڑو جھگڑو ۔ اس میں مملکت  کا فائدہ تھا ۔ ان کے باہمی جھگڑے کتنے ہی ہوں، قرآن کو سند اور حجت  کوئی بھی تسلیم  نہیں کرتاتھا ۔ نہ مملکت  ، نہ مذہبی پیشوائیت۔ اصل یہ ہے کہ ( جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں)  قرآن سے پیچھا چھڑانے کے لئے تو یہ سارا  کھیل کھیلا  گیا تھا! ۔ قرآن کو سند ماننے  سے سب سے پہلے خود مملکت  (ملوکیت) ختم ہو جاتی، او راس کے ساتھ پیشوائیت بھی ۔۔ ان دونوں  کا مفاد اس میں تھا  کہ قرآن طاقتوں پر رکھا رہے اوراس کا مصرف ، اس کے لفظوں کی تلاوت سے ثواب حاصل کرنا اور اسے مردوں کو پہنچانا رہ جائے۔ اس نہج سے دیکھئے تو ہم سابقہ اہل کتاب ( بالخصوص یہود) کے مقام پر ہیں۔ وہ کتاب اللہ کے بھی قائل  تھے لیکن اس کے ساتھ دوسری وحی( وحی غیر مکتوب) پر بھی ایمان رکھتے تھے  ( ہم نے وحی کی  دو قسموں  کا عقیدہ یہودیوں  ہی سے مستعار لیا ہے) ۔ یہ وحی روایات  کی شکل میں  تھی جس کا نام ‘‘مشنا’’ تھا ۔ انہی  روایات کی رو سے انہوں نے  اپنی فقہ مرتب کی تھی جسے ‘‘تالمود’’ کہا جاتا ہے۔ اسے بھی وہ تورات کی مثل سمجھتے  ہیں ۔ تورات پر ان کا محض رسمی ایمان ہے۔  عمل روایات اور فقہ ہی پر ہے۔ یہی مسلک ہمارا ہے۔۔ اسلام کی انفرادیت یہ تھی  کہ اس میں خدا  کی کتاب اللہ محض تلاوت  کے لئے ہو اور عمل روایات  اور فقہ کے مطابق تو، کتاب اللہ کامحفوظ ( بلکہ موجود)ہونا یا نہ ہونا یکساں ہے۔ قرآن کریم نے یہودیوں کا ( یہ کہتے ہوئے) سخت مواخذہ  کیا تھا کہ تم انسانوں کے وضع کردہ احکام کو شریعت  خداوندی  قرار دیتے ہو او رلوگوں سے یہی کہہ کر اطاعت  کراتے ہو اور اس باطل فروشی کو تم نے ذریعہ ، معاش  بنا رکھا ہے ۔ فویل ‘‘للذین یکتبون الکتاب باید یھم ۔ ثم یقولون ھذا من عنداللہ لیشتر وابہ ثمناً  قلیلاً ( 3:79) ۔ سوچئے کہ کیا ہم بعینہ اسی مقام پر نہیں؟۔ ہم نےکتاب اللہ کو بالا ئے طاق رکھ کر ، جامعین  روایات  کے قیاس  کی رو سے منتخب  کردہ احادیث  کو، ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیا۔ پھر انہیں ، قرآن کے ساتھ  قرآن کے ہم پایہ ( مثلہ’ معہ’) ٹھہرایا ۔ پھر ان کی رو سے انسانوں کے مرتب کردہ قوانین کو ابدی اور غیر متبدل شریعت خداوندی  قرار دیا او رانہی  کی اطاعت کا نام ‘‘اسلام’’ رکھا ۔ یہ سب ملوکیت کا ساختہ  پر داختہ تھا جس کامقصد اپنی  غیر اسلامی  روش کو اسلامی بنا کر دکھانا  تھا ۔ ملوکیت  کے ختم ہوجانے کے بعد، ان اختراعات کو بھی ختم ہوجاناچاہئے ۔ لیکن ان پر ابدیت  کی مہر لگانے کے کئے تقلید اسلاف کو عین اسلام قرار دے دیا ۔ اس سے رفتہ رفتہ  یہ حالت ہو گئی کہ :۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ( 2:170) ‘‘ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ کا اتباع کرو تو یہ کہتے ہیں کہ نہیں!۔ ہم اپنے اسلاف کے مسلک ہی کا اتباع کریں گے ۔’’ وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ( 39:45) ۔ ‘‘ جب ان کےسامنے خدائے وحدہ لاشریک ( قرآن خالص) کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کا دل پیچ و تاب  کھانے لگ جاتا ہے ۔ لیکن جب خدا کے سوا اوروں  کا ذکر کیا جائے تو ان کی باچھیں  کھل جاتی ہیں۔’’ یہ اپنے معتقدین   کو تاکید کرتے رہتے ہیں کہ : ۔ لا تسمعوالھذا القرآن ۔ جہاں  کہیں قرآن  کی بات ہوتو  اسےمت سنو۔ اور اس خیال سے کہ اسے دوسرے لوگ نہ سن لیں:۔ والغوافیہ۔ خوب شور مچاؤ۔  قرآن خالص کی طرف دعوت دینے والے کے خلاف نہایت زور شور سے پراپیگنڈہ کرو۔۔  یہ منکرِ رسالت ہے۔ تین نمازوں  اور نو دن کے روزوں کی تلقین  کرتا ہے۔ اردو  میں نماز پڑھتا ہے۔ ایک نیا فرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے کسی دن نبوت کادعویٰ کرے گا۔ وقس علیٰ ھذا۔ یہ جھوٹا  پراپیگنڈہ مسلسل  اور متواتر  کئے جاؤ ۔ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ ( 41:26)۔ یہی  ایک طریقہ ہے جس سے تم قرآن کی آواز کو دبا سکوگے۔’’

تفسیر قرآن بالرّ وایات:۔ ادارہ طلوع اسلام کی کتاب ‘‘ مقام حدیث’’   میں قرآن کریم کی تفسیر  روایات کی رو سے ، پر لکھا گیا ہے کہ ۔‘‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قرآن  کریم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ۔ آپ نے اسے صحابہ رضی اللہ عنہ کو سمجھایا۔ لہٰذا قرآن کی جو تفسیر  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے بیان  فرمائی تھی ، اس سےبہتر تفسیر اور کس کی ہوسکتی ہے ؟۔ اس لئے اگر کوئی شخص قرآن کی کسی آیت  کامطلب  اس سے مختلف  لیتا ہے جو مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا تو اس کامطلب صحیح نہیں ہوسکتا ۔ یہ بات بڑی معقول  نظر آتی ہے۔ اس میں کسے کلام ہوسکتا ہے کہ قرآن کا مطلب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا وہی صحیح ہوسکتا ہے۔ اس سے مختلف مطلب صحیح ہوہی نہیں  سکتا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قرآن کی جو تفسیر احادیث میں آئی  ہے کیا وہ واقعی  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ ہے؟۔ اس سلسلہ میں پہلے تو یہ سمجھ لیجئے  کہ پورے  قرآن  کریم کی تفسیر احادیث  میں بیان ہی نہیں ہوئی ،  اس کی بہت  تھوڑی سی آیات کی تفسیر بیان ہوئی ہے۔ بخاری  میں تفسیر کا صرف ایک  باب ہے اور اس میں چند جستہ جستہ آیات کی تشریح آئی ہے۔’’ اس کے بعد ‘‘مقام حدیث’’ میں بہت سی ایسی روایات بیان کی گئی ہیں جو قرآن کریم کی تفسیر  کے طور پر کُتبِ احادیث میں درج ہیں۔ لیکن  وہ زبانِ حال سے کہہ رہی  ہیں کہ وہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال نہیں ہوسکتے ۔ لیکن  فرقہ بند حضرات  انہیں  احادیث  ہی ماننے  پر مصر ہیں (موءلف) (جاری  ہے)

اکتوبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ طلوع اسلام، لاہور

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/malik-manzoor-hussain-leel/perwez-saheb-s-ideology-on-hadith-and-sunnah--پرویز-صاحب-کا-نظریہ-حدیث-و-سنّت/d/100204

 

Loading..

Loading..