New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:40 AM

Urdu Section ( 21 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Is Unity among Ummah Possible? کیا واقعی اتحاد بین المسلمین ممکن ہے؟

 

مالک اشتر نو گانوی

22 نومبر، 2014

یہ کوئی تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ راجدھانی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انجنیئرنگ کالج اڈیٹوریم میں اتحاد  بین المسلمین پر ایک پانچ روزہ پروگرام منعقد کیا گیا ۔ ایک مشہور عالمی تنظیم (جس کانام ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے) کے تعاون سے ہورہی اس کانفرنس میں ملک بھر کے علمائے کرام او ر دانشوروں  کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے ۔ اس کانفرنس کے آخری دن بھی علماء کی دھواں دھار تقریریں جاری تھیں ، اتحاد بین المسلمین کےنعرے بلند کئے جارہے تھے ، علماء اپنی تقاریر میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو کا پیغام دے رہے تھے ، تقریروں میں بار بار بتایا جارہا تھا کہ شیعہ سنی کو آپس میں لڑوانا یورپ امریکہ کی سازش ہے اس لئے ،اس سے بچو۔ تقریروں  کا یہ سلسلہ صبح سے شروع ہوکر ظہر کی نماز تک چلتا رہا۔ نماز کا وقفہ ہوا۔ کانفر س میں شریک لوگوں نے بڑے ہی جوش و خر وش کے ساتھ شیعہ سنی کی تفریق کئے بنا ایک ساتھ صفیں باندھ لیں اور ایک ہی عالم کے پیچھے شیعہ سنی دونوں نماز پڑھنے  کھڑے ہوئے۔ برا دلکش نظارہ تھا کوئی ہاتھ باندھے نماز پڑھ رہا ہے تو کوئی اپنے فقہ کے مطابق ہاتھ کھول کر لیکن سب کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ علماء کی تقریروں کا ان افراد پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اتفاق سے نماز کے وقفے میں میں نے آڈیٹوریم میں جھانک کر دیکھا تو پایا کہ کچھ لوگ اندربیٹھے منتظر ہیں  کہ باہر ‘ مشترکہ نماز جماعت ختم  ہو تو ہم ’ اپنی والی پڑھیں۔ ہوا بھی یہی جب شیعہ سنی مشترکہ جماعت ختم ہوئی تو ان لوگوں نے اپنی جماعت قائم کی۔ جانتےہیں یہ الگ جماعت قائم کرنے والے کون افراد تھے؟۔ جی ہاں ، کوئی اور نہیں یہ وہی مقررین تھے جن کے گلے صبح سے اتحاد بین المسلمین  اور شیعہ سنی بھائی چارے کی تقریریں کرتے کرتے سوکھ گئے تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجود ہ دنیا میں بھلے ہی جنگ و حدال کا دور دورہ ہو لیکن اس دور میں مکالمے کو رواج دینے کی کوششیں  بھی خوب ہو رہی ہیں ۔ ادیان کے تقابلی مطالعے کا دور ہے او ر تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی کوششیں  ہورہی ہیں۔ دراصل انسانی برادری کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر بعض ارباب حل و عقد مان چکے ہیں کہ انسانیت کی فلاح اختلاف میں نہیں  بلکہ اتجاد  میں ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے تو قرآن تو بہت پہلے پیغام دے چکا ہے کہ  ‘ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ بازی نہ کرو’ ۔ ایسے میں اگر دو کلمہ گو فرقوں کے درمیان گہری خلیج موجود ہے تو کسی نہ کسی کو تو اس کی ذمہ داری لینی ہی ہوگی۔ میں نے اپنے پچھلے ایک مضمون میں ذکر کیا تھا کہ اگر آپ برصغیر میں شیعہ سنی تفرقہ کو ہوا دینے والوں کی ایک لسٹ  بنائیں تو اس میں زیادہ تر مدارس کے فارغین نکلیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر بعض  مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار یہ بات کیو ں نہیں سمجھ رہے کہ مناظرے بازی اور دوسرے فرقہ کو کافر ثابت کرسکنے والے علماء مقبول مقرر تو ہوسکتے ہیں مگر ان سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ قوم کی فکری تربیت میں معاون ہوں گے۔

یہاں پر ایک سوال یہ ضرورپیدا ہوسکتاہے کہ آخر انتشار کا  ٹھینکر ا علما ء  و خطبا ء کے سر پر ہی کیوں پھوڑا جائے؟ بات دراصل یہ ہے کہ علماء قوم کی مذہبی آنکھ اور دماغ ہوتے ہیں۔ ہمارا مزاج بھی کچھ ایسا ہے کہ ہم علماء کی رہنمائی کو عموماً بنا چوں چرا کئے  مان لیتےہیں ۔ ایسے میں اگر علماء ہمیں یہ سمجھانےمیں لگ جائیں کہ فلاں مسلک والوں سے بچو تو ظاہر ہے ایک سادہ لو ح اس ‘ وارننگ ’ کو بھی مذہبی ‘ فریضہ’  کے زمرے میں رکھ لیتا ہے ۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں  کہ علماء اور خطیب اپنی تقاریر میں مسلکی اختلافات کو ہوا نہیں دیتے تو بھی وہ اپنی ذمہ داری سےنہیں بچ سکتے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اور بھی اختلاف کو ہوا دے رہا ہے تو ہمارے علماء کیوں اس کے خلاف تحریک نہیں چلاتے اور اتحاد بین المسلمین  کا پیغام عام نہیں کرتے؟ میں اس مرحلے پر یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ علماء سےمیری  مراد تمام علماء نہیں ہیں اور نہ ہی ایسا ہے کہ سارے ہی علماء انتشار پسندی پر آمادہ ہیں لیکن  وہ علماء یا علماء نما شخصیات  بھی بڑی تعداد میں ہیں جو اس آگ میں ’ حسب توفیق’ پیٹرول ڈالنے سے باز نہیں آتے۔ ہم سنتے آئے ہیں کہ تاریخ میں کب کب کس کس کے خلاف بڑے پیمانے پر پرویگنڈے کئے گئے تاکہ اس شخص یا جماعت کے بارےمیں رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں ہموار کیا جا سکے، لیکن اگر میں آپ کو اس پروپگنڈے کےبارے میں بتاؤں جو عموماً ہمارے یہاں ایک دوسرے مسلکوں کے خلاف کیا جاتاہے  تو آپ بھی کانوں پر انگلیاں دھرلیں گے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے گھٹیاں او ربے بنیاد الزامات کو پانی دینے میں  ‘ بالغ نظر مولوی صاحبان ’ بھی  پیچھے نہیں ہیں۔

مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اگر کم پڑھے لکھے مولوی اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے والی بات کریں تو کہا جاسکتاہے کہ ‘ ان کا علم  کم ہے اس لئے ایسی نا سمجھی کررہے ہیں، لیکن اگر ‘بڑے اداروں کے مفتیان’ فتوے دے کر خلیج میں اضافہ کا سامان کرتے دکھائی دیں تو آپ کیا کریں گے؟ مثال کے طور پر دارالعلوم دیوبند کے آن لائن دارالافتاء کی ویب  سائٹ پرموجود کچھ فتاویٰ ملاحظہ ہوں ۔ سوال نمبر 1495 میں دارالا فتاء سے پوچھا گیا کہ ‘میں ایک سنی  ہوں، میں نے ایک شعیہ لڑکی سے شادی کی ہے۔ میں نکاح خواں  کے ذریعہ دیئے گئے نکاح نامے کی صحت کے بارے میں جاننا  چاہتا ہوں’۔ اس سوال کے جواب میں دارالافتاء نے فتویٰ نمبر 927/866=B  صادر کیا ۔ اس فتوے کا مضمون  ملاحظہ ہو۔ ‘ ایک مسلمان کسی شیعہ لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا ۔ شیعوں کی کتابوں میں درج ان کے عقائد کے مطابق وہ لوگ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں ۔ اس لئے شیعہ سنی شادی ممکن نہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ آپ شیعہ لڑکی سے نکاح کیسے کرلیا اور آپ کے والدین  کیسے مان گئے ؟’’

آپ خود بتائیں ایسے فتاویٰ کے بعد کیا اتحاد بین المسلمین  کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے؟  اب اس کے بعد اگر کوئی کہے کہ ‘ شیعہ سنیوں کو تو امریکہ لڑوا رہا ہے’ تو آپ کہئے گا ؟ ۔ چلئے ایک اور فتویٰ سنئے، دیوبند کے ہی آن لائن دارالا فتاء سے سوال نمبر 1566 میں پوچھا  گیا کہ ‘‘ کیا شیعوں سےمل سکتے ہیں ؟ شیعوں کے ساتھ کھانے پینے کا کیا حکم ہے؟’’ اس سوال کے جواب میں دارلافتاء نے فتویٰ نمبر 503/498=D  صادر کیا ۔ اس فتوے کامضمون دیکھیں ۔ ‘ ‘شیعی عقائد سنیوں سے متصادم ہیں، ان سےملنا جلنا اچھا نہیں ہے۔ ہاں انسانی  بنیاد پرملا جاسکتاہے ۔ اگر پتہ   ہوکہ ان کے یہاں  کا کھانا ٹھیک ٹھاک ہے تو کھا سکتے ہیں لیکن جیسا کہ شیعوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کھانے میں کچھ ملا دیتے ہیں اس لئے ان کے یہاں کھانے سے بچنا چاہئے۔’’ بات محض کسی ایک گروپ کی نہیں ہے۔ ایسی باتیں  ہر گروپ کی طرف سے ہوتی رہتی ہیں جو دوسرے مسلک  کے دل آزاری کا سبب بنتی ہیں۔ حال ہی میں ایران کی مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ اور سرکردہ عالم آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اپنے ایک بیان میں تاکید کی کہ شیعہ سنی ایسے بیانات سے بچیں جن سے اختلاف کو ہواملتی ہو۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق رفسنجانی  نے کہا کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی سے داعش اور طالبان جیسے عناصر کو پنپنے کاموقع ملتا ہے۔ اس سے پہلے ایران کے رہبر  اعلیٰ آیت علی خامنہ ای نے فتویٰ دیا تھا کہ صحابہ کرام یا ازدواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی حرام ہے۔ یقیناً  یہ ایسے بیانات ہیں جن کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ شیعہ سنی اختلافات کامسئلہ ہم جتنا چھوٹا سمجھ رہے ہیں وہ اتنا ہی بڑا ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں تو آپ کو پاکستان سے عراق اور سعودی عرب سے شام تک ا س مسئلے کی بو واضح طور پر محسوس ہوگی ۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے ایک  عادت سی بنا لی ہے کہ ہم اپنے سارے مسائل کو ایک ٹوکرے میں بھر کر امریکہ اور اسرائیل  کے سر پر الٹ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے مسجد کاپیش امام کہہ رہا ہے کہ فلاں  فرقے کے لوگ تو ‘ تھوک کر کھلاتےہیں ’ یا پھر کوئی جاکر کہتا ہے کہ ‘ فلاں مسلک کے پیروکار جہنم میں جھونکے جائیں گے’ اس میں یورپ  اور امریکہ کہا ں سے آگیا ؟۔

ہمارے علمائے کرام ، ہمارے لئے انتہا ئی لائق  احترام ہیں، ہم اپنے علماء کی ایک بات کو قیمتی مانتےہیں او رہمارا ان سے ‘‘حضرت ناصح گر آئیں دیدہ و دل فرش راہ’’  والا معاملہ ہے۔ ہم علماء کی ہدایات پر عمل کرناچاہتےہیں لیکن ہم یہ بھی چاہتےہیں کہ ہم قرآن مجید کے اتحاد کے پیغام  کو اپنی زندگیوں  میں نافذ کریں اور اس سلسلہ میں ہمیں  اپنے علماء ، خطباء ، مبلغین اور واعظین کے مدد  درکار ہے۔ ہمیں یقین ہے وہ ہمیں نا امید نہیں  کریں گے۔

22 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/malik-ashter-nouganvi/is-unity-among-ummah-possible?---کیا-واقعی-اتحاد-بین-المسلمین-ممکن-ہے؟/d/100129

 

Loading..

Loading..