New Age Islam
Thu Dec 02 2021, 05:46 PM

Urdu Section ( 13 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Do Madrasas Fortify Islam? کیا مدارس واقعی اسلام کے قلعے ہیں؟

مالک اشتر نوگانوی

10 نومبر، 2014

تبلیغی اجتماعات ،مدارس کے ذمہ داروں کی پریس ریلیزوں ،دستار بندی کے جلسوں اور علمائے کرام کے مضامین میں ایک جملہ آپ نے یقیناً پڑھا سنا ہوگا۔ یہ جملہ ہے ‘‘ مدارس اسلام کے قلعے ہیں’’۔ اس جملے کا اصل مطلب کیا ہے یہ تو ظاہر ہے وہی لوگ بتاسکتے ہیں جو اس جملے کو تواتر کے ساتھ دہراتے ہیں لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ کہتے وقت کہنےوالے کامطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اسلام بچا ہوا ہے تو وہ اس مدارس کی ہی بدولت اور اگر اسلام کے گرد حقائق حصار نام کی کوئی شئے ہے تو وہ یہی مدارس ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ  اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ  لکھتے وقت مدارس کی خدمات کو فراموش کرناممکن نہیں ۔ مدارس اسلامیہ نے نہ صرف یہ کہ اسلامیات کی عبقری شخصیات  تیار  کیں بلکہ مدراس سے نکلنے والے یہ علمائے کرام سائنس ، فلسفہ یہاں تک کہ فن تعمیر کے شعبوں میں غیر معمولی  صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔ زیادہ دور کیوں جائیں، دنیا بھر میں اپنی طرز تعمیر کے سبب مشہور تاج محل کے آرکیٹیکٹ استاد احمد لاہوری کو ہی لے لیجئے ۔ مغل تاجدار شاہجہاں  جسے عمارتیں بنوانے کا شوق تھا اس کے دربار میں استاد احمد لاہوری ایک آرکیٹیکٹ کے طور پر تھے ۔ تاج محل کے چیف آرکیٹیکٹ ہونے کے علاوہ دہلی کے  لال قلعے کی بنیاد بھی استاد احمد لاہوری نے ہی رکھی ۔لاہوری کہیں اور سے نہیں بلکہ ایک مدرسے سے ہی فارغ تھے ۔ میں نے لاہوری  کی مثال یہاں اس لئے  دی کیونکہ ہمارے یہاں عمارت سازی او رمدرسوں کا آج کے دور میں دور دور تک  کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا لیکن ایک دور ایسا بھی رہا  جب ایسا  عظیم آرکیٹیکٹ  مدرسے سے تیار کیا ۔

یہ ایک مثال  کیا مدارس اسلامیہ کی تاریخ  کو عرب سے لے کر بھارت تک جہاں سے چاہئے پڑھ جائیے ایک شاندار تاریخ آپ کو دکھائی دے گی، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں  کہ موجودہ دور میں یہ ساری باتیں ‘ قصہ پارینہ ’ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ موجودہ دور میں مدارس اسلامیہ بالخصوص  برصغیر بھارت و پاکستان کے مدارس کی صورتحال کو دیکھیں تو کوئی بہت حوصلہ افزا حالات نہیں ہیں ۔ مدارس کا پورا نظام اس وقت جس کیفیت سے دو چار ہے اس میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے اس سطور کو پڑھتے ہی ‘ مدارس کے ذمہ داروں’ کی ایک جماعت مجھ پر چڑھ دوڑنے کی کوشش کرے گی، بعض اصحاب ان سطور میں  ‘ یورپ اور امریکہ کی سازش ’ کے سراغ تلاش کریں گے تو کچھ اس میں ‘ لادینیت’ کی بو سونگھنے کی کوشش کریں گے۔ اس سب سے قطع  نظر میں اپنے موضوع پر واپس آتا ہوں، بھارت کے مدارس کا پورا ڈھانچہ دیکھیں تو اس میں کئی  مسائل شدت سے  سر اٹھا ئے نظر آتے ہیں ۔ سب سے پہلا مسئلہ تو بیشتر مدارس میں جمہوریت نام کے شئے کافقدان ہے۔ یہ بات  بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ بیشتر بھارتی  مدارس ذاتی جاگیروں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں ۔ جس نے مدرسہ بنوایا پھر اس ‘مدرسے کا مہتمم’ بننا  اسی کی نسل کا مقدمہ قرار پاتا ہے ۔ کشمیر  سے کنیا کماری اور گوہاٹی سے گجرات تک قدم قد م پر آپ کو مدارس کی شکل میں پھیلی جاگیر یں مل جائیں گی ۔ آپ ذرا سا غور  کریں تو دیکھیں گے کہ عموما مدرسے کے ذمہ دار اپنے بعد اپنا مدرسہ گاڑی، گھوڑے اور زمین و زیور کی طرح میراث میں دے جاتے ہیں ۔ جمہوریت اور شوریٰ کیا ہوتی ہے یہ آپ ایسے مدارس میں نہ ہی پوچھیں تو اچھا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر مدارس کی مجلس شوریٰ ہوتی ہے لیکن اس کی حیثیت بس اتنی ہے کہ وہ ‘ مدرسے کے امیر’ کی سنے اور اطاعت کرے۔

بات صرف مدرسوں کی ذاتی امارت میں بدلنے کی ہی نہیں  ہے بلکہ مدرسے کے مالیات سےمتعلق امور میں بھی وہی ایک شخص ‘ سب کچھ’ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بھلے  ہی مدرسے لوگوں سے ملنے والی رقومات شرعیہ سےچلتے ہوں لیکن مدرسے کے ‘ ذمہ دار’ کے پاس پہنچتے ہی وہ فنڈ ‘ احتساب سے مستثنیٰ’ ہو جاتا ہے ۔ ایسے بہت سے مدارس ہیں جس میں کوئی باہر والا تو کیا مدارس کے اساتذہ اور منیجمنٹ کے اراکین بھی ‘ صاحبہ مدرسہ’ سے حساب کتاب مانگنے کی  ہمت نہیں کرسکتے ۔ ایک ایسے دور میں جب کہ مالی شفافیت کی بات پوری دنیا میں ہورہی ہے اور سوشل آڈٹ جیسی کوششیں ہورہی ہیں آپ ان مدارس سے کم از کم آج کے دن توتو قع نہیں کرسکتے کہ یہ ‘ حساب ’ دیں گے۔

مدارس میں جمہوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ نصابی سطح پر بھی اصلاحات کی بہت گنجائش ہے۔ آج منطق اور فلسفے کی بحثیں بہت دور نکل چکی  ہیں لیکن چونکہ مدارس کی ‘ نصابی کتابیں ’ آج سےبہت پہلے لکھی جاچکی  اور نئی کتابیں شامل نصاب نہیں ہوئیں  اس لئے طلبہ منطق  و فلسفہ پڑھ کر بھی دور قدیم میں جی رہے ہیں ۔ یہاں پر ایک اور اہم بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی کی جہاں کہیں بات ہوتی ہے ‘ صاحبان مدارس’ ببانگ دہل احتجاج پر آمادہ ہوجاتےہیں ۔ ایسے میں جب کہ بڑی بڑی دانشگاہیں  پابندی سے ‘ نصابی کمیٹی ’ کی میٹنگ کرتی ہیں  اور نصاب میں ضروری  رد و بدل ہوتا رہتا ہے تو کیوں نہ ہمارے مدارس بھی اس روش کو اپنائیں تاکہ مدارس کے طلبہ کو فائدہ حاصل ہوسکے ۔ میرے خیال میں نصاب میں تبدیلی کی بات پر اگر ہم ‘ صاحبان مدارس’ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے  یہ مان بھی لیں کہ وہ نہیں  چاہتے کہ قرآن و حدیث جیسے بنیادی مضامین کا حصہ نصاب میں کم کرنے کی  کوشش ہو ، تو آخر منطق و فلسفے جیسے مضامین کو اپ ڈیٹ کرنے میں کیا تامل ہے؟۔

یہاں پر ایک اور پہلو بھی دلچسپ ہے ۔ اگر بات صرف فقہی  علوم کےمعاملے میں پرانی کتابوں پر منحصر ہونے تک محدود ہوتی تو صبر کیا جاسکتا تھا لیکن خود عربی زبان سکھانے کے  معاملے میں بھی مدارس اسی ‘ قدامت پسندی’کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ عربی اور فارسی  سکھانے کے لئے جو کتابیں مدارس میں پڑھائی جارہی ہیں  وہ کتابیں ہیں جو مدتوں سے پڑھائی جاتی رہی ہیں ۔ اس لئے جدید عربی پر مدارس کےفارغین  کی اتنی دسترس نہیں ہوتی جتنی کتابی عربی پر ہوتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک طالب علم نے مدرسے میں اپنے  10 سال عربی سیکھنے میں لگائے ہیں تو کیا یہ اس کا حق نہیں کہ وہ جدید عربی سمجھ بول سکے ۔ آپ ذرا اپنے آس پاس دیکھیں تو یونیورسٹیوں سے عربی سیکھنے والے طلبہ بڑی کمپینوں میں مترجم کے طو رپر مناسب تنخواہ پارہے ہیں  اور ہمارے مدارس کے فارغین اپنی کتابی عربی کے سبب صرف قدیم کتابوں کے مطالعے تک محدود ہیں ۔

ایک او ردلچسپ بات یہ ہے کہ جب کمپیوٹر اور سائنس کی تعلیم کی بات زیادہ ہوتی ہے ‘ صاحبان مدارس ’ یہ کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرلیتےہیں کہ ‘‘ ہمارے یہاں کمپیوٹر کی تعلیم کامعقول انتظام ہے’’۔  میرے خیال میں یہ جملہ بجائے خود غلط اور کنفیوز کرنے والا ہے ۔ ہمارے صاحبان مدارس یہ بات کہتےہوئے  بھول جاتےہیں کہ محض کمپیوٹر کو آن آف کرناسیکھ لینا یا سیکھا دینا کمپیوٹر کی تعلیم ہر گز نہیں  ہے ۔ کمپیوٹر دراصل کوئی پڑھانے والی چیز ہے ہی نہیں یہ دراصل ایک مشین ہے ۔ ہاں جب کسی مخصوص  سافٹ ویئر یا پروگرام کی باقاعدہ تربیت لی جائے تو وہ کمپیوٹر کی تعلیم کے زمرے میں آئے گا، اور ظاہر ہے مدارس میں ایسے سافٹ ویئر لرننگ پروگرام ہوتے نہیں ۔

کئی مدارس کے نصاب میں ایک ‘ آف دی ریکارڈ مضمون’ بھی ہوتا ہے جسے مناظرہ کہتے ہیں ۔ اس کی کہیں تو باقاعدہ کلاسیں لگتی ہیں اور زیادہ تر جگہوں پر اس کی تربیت ‘ غیر نصابی سرگرمی’ کی طرح ہوتی ہے۔ آپ اگر بر صغیر میں مسلکی اختلافات کی آگ میں گھی  ڈالنے والے چند ‘ بڑے ناموں ’ کی ایک لسٹ تیار کریں تو بلاشبہ اس میں اکثریت ‘ فارغین مدارس ’ کی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جو اسلام پر امن بقائے باہم، اتحاد اور ‘ اللہ کی رسی  کو مضبوطی سے تھامے رکھو’ جیسے پیغام دیتاہے اسی اسلام کے قلعے میں پلے افراد تفرقے بازی اور اتحاد امت کو پارہ پارہ  کرنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتےہیں  ؟ ۔ کیو ں کفر کے فتوے باٹنے کی ذمہ داری جن حضرت نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے ان میں  زیادہ تر بلکہ تقریباً سب کے سب مدارس کی پیداوار ہیں؟ ۔ ذرا غور کیجئے کہ یونیورسٹیوں میں ادیان کے مطالعے کاشعبہ ہوتاہے لیکن ہمارے مدارس میں اتنی رواداری نہیں ہے کہ و ہ دوسری فقہ تک پڑھا دیں یاکم از  کم  اپنی لائبریری میں اسی مکتب فکر کی کتابیں ہی رکھ لیں۔ مناظر ے بازی  سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہمارے مدارس ایسے سنجیدہ  فکر  علماء پیدا کریں جو دین اسلام کی صحیح تفہیم کرسکیں ۔ کفر کے فتوے باٹنے والوں کی فی الحال کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔

یہ کہا ں کی دوستی  ہے کہ بنیں  ہیں دوست ناصح کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا ۔

اگر مدارس سے یہ امید رکھنا  زیادتی  ہے کہ وہ پہلے کی طرح جدید علوم کے ماہرین پیدا کریں تو کم از کم یہ امید رکھنا تو زیادتی نہیں ہے کہ مدارس اچھے عالم پیدا کریں ۔ ایسے علماء جو کسی کی اشتعال انگیز ی کا شکار نہ ہوں اور جن کے جذبات سے کھیلنا آسان نہ ہو۔ یہ بات اس لئے بھی عرض ہے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ جذباتی  نعرے بازی کرنے والے پرچوں اور صحافیوں کی مقبولیت خوب دیکھی گئی ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ کوئی ان فارغین مدارس یا طلاب مدارس کو جذباتی فریب میں آسانی سے لے کر انہیں اسے سحر میں گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ کیا ہم اپنے مدارس کے ذمہ داروں سے یہ امید بھی نہ رکھیں کہ وہ طلباء کی تربیت کو اس ڈھب سے انجام دیں کہ ان طلبہ کو جذباتی نعروں کےفریب کاشکار ہونے سے بچایا جاسکے ۔

مدارس میں اصلاحات کی کوشش ہی دراصل ایک ایسا جملہ بن گیا ہے جسے سن کر ہی ‘ صاحبان مدارس ’ بدک جاتے ہیں ۔ انہیں اس میں سازشیں اور شورشیں  نظر آتی ہیں لیکن شاید ہی کبھی ہمارے یہ صاحبان مدارس ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کرتے ہوں کہ کہیں واقعی ہمیں اپنے محاسبہ کی ضرورت تو نہیں ہے؟۔ کیا وجہ ہے کہ ہم نےمدارس کو ‘ مقدس گائے’ بنا دیا ہے ؟۔ مرکزی مدرسہ بورڈ کی تشکیل کا معاملہ  آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ کس طرح صاحبان مدارس نے اس بورڈ کو رکوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا ۔ جب حق تعلیم ایکٹ کو مدرسوں میں نافذ کرنے کا ذکر چھڑا تو صاحبان مدارس پھر ہتھے سے اکھڑ گئے ۔ یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس پورے مضمون میں ہمارا روئے سخن تمام مدارس کی طرف نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی تعداد میں ایسے مخلص  افراد ہیں جو مدارس کو خلوص نیت  کے ساتھ چلا رہے ہیں  اور ہر ممکن طور پر شفافیت بھی برتنے کی کوششیں کر رہے ہیں  لیکن  اکثریت  انہیں مدارس کی ہے جن کے ذمہ دار ان کا رویہ فوری  اصلاح کامتقاضی ہے۔

مدارس کے ذمہ داروں سے ہمارا یہ شکوہ کسی بد نیتی پر قطعی مبنی نہیں ہے ۔ دراصل یہ شکوہ اس لئے ہے کہ ہمیں  مدارس سے امیدیں بہت ہیں  اور ان کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں ۔ مدارس کے سامنے ان کی شاندار تاریخ ایک مثال ہے اور جدید دور میں سائنسی ترقی نے تحصیل علم کو بہت آسان کردیا ہے ایسے  میں بھی اگر ہمارے مدارس میں اس قدر اصلاح  کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو یہ محاسبے کی گھڑی  تو ہے :

وفا آموختی  ازما، بکار دیگر اں کردی

ربودی گوہر ازما، نثا ر دیگر اں کردی

10 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ اخبار مشرق، نئی دہلی

URL:https://newageislam.com/urdu-section/malik-ashtar-naoganvi/do-madrasas-fortify-islam?--کیا-مدارس-واقعی-اسلام-کے-قلعے-ہیں؟/d/99998


Loading..

Loading..