New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 11:20 AM

Urdu Section ( 11 Jun 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

We lived on Your Promises تیرے وعدے پر جئے ہم

محفوظ الرحمن

وزیر اقلیتی امور سلمان خورشید نے ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کوبہتر بنانے کے سلسلے میں اپنے حالیہ انٹرویوز میں جس فکر مندی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ حوصلہ افزا تو ہے، لیکن اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ جہاں چاہ نہ ہووہاں خوش کن وعدوں کی سرسبز شاداب فصل سے بھی کام نکالا جاسکتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے ارباب حکومت نے وعدوں کی بے ثمر فصل اگانے کے فن کو اوج  ثریا تک پہنچادیا ہے تو یہ کچھ غلط نہیں ہوگا۔سلمان خورشید نے ریزرویشن کے مطالبے کو یکسر نظر انداز ،بلکہ مسترد کرتے ہوئے مسلمانوں کو دیگر زیادہ بار آور امکانات پر توجہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو حسد، مخاصمت اور مزاحمت کے جذبات کو پروان چڑھا سکتا ہو۔ ان کے خیال میں ریزرویشن کے نتیجے میں مسلمانوں کے تعلق سے فضا معاندت ومخاصمت کے شراروں سے بھر جائے گی ،دوسروں میں مزاحمت کا جذبہ پیدا ہوگا اور یہ مسلمانوں کے لئے خسارے کا سودا ثابت ہوگا۔

وزیر با تدبیر نے دوسری چیزوں کے علاوہ یہ مژدۂ جاں فزاں بھی سنایا ہے کہ نسبتاً جلد نتائج کی حامل کچھ اسکیموں کو انہو ں نے اپنی اولین ترجیحات میں شامل کررکھا ہے اور سچر کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں بھی وہ کو تاہ دست ثابت نہیں ہوں گے ۔سلمان خورشید نے لارڈ میکا لے کا ذکر خیر بھی کیا ہے، جس کا اولین مقصد تعلیم کی ترویج کے ذریعہ گور وں کی سرکار کے لئے کلرکوں کی فوج تیار کرنا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کومیکالے کے دام سے آزاد کرلیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چپراسی سے کلرک بننا بہتر تو ہے لیکن وہ مسلمانوں کو چیف ایگزیکٹیو افسر کے مناسب پر بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ کسے انکار ہوگا اس بات سے کہ مسلمانوں کو اعلیٰ ملازمتوں میں بھی حسب حال جگہ ملے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اعلیٰ ملازمتیں تو دور رہیں انہیں توچپراسی اور کلرک کی ملازمت بھی آسانی سے نہیں مل پاتی ۔ اب تک جتنے سروے کرائے گئے ہیں ، جتنے کمیشنوں او رکمیٹیوں کی رپورٹیں سامنے آئی ہیں، ان سب میں یہ بات  مشترک رہی ہے کہ سرکاری نوکریوں ،ترقیاتی اسکیموں اور تعلیم گاہوں میں انہیں جو نمائندگی مل رہی ہے وہ ان کی آبادی کے لحاظ سے بے حد کم ہے۔

گوپال سنگھ کمیٹی نے 14جون 1983کواقلیتوں سے متعلق اپنی سو ادو سو صفحات پرمشتمل جو رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی اس میں تعلیم وملازمت میں اقلتیوں کی حصہ داری ،دیہی ترقی میں ان کا حصہ ، صنعت میں ان کی جگہ اور ان کی فلاح وبہبود کے لئے مالی اداروں کے رول پر تفصیلی اعداد وشمار کے ذریعہ جو منظر کشی کی گئی تھی اسے ہر اعتبار سے مایوس کن ، بلکہ دردناک ہی کہا جاسکتا ہے ۔ حکومت نے اس کمیٹی کی پیش کردہ تجاویز پرکوئی توجہ نہیں دی اسے اس لائق بھی نہیں سمجھا گیا کہ اس پر کھل کر بحث ہو۔

1996میں قومی اقلیتی کمیشن کے رکن وردہارا جن کے صدارت میں پلاننگ کمیشن کی اقلیتی کمیٹی نے مرکزی حکومت اور بینک ملازمتوں میں اقلیتوں کی حصہ داری پر اعداد وشمار کے حوالے سے کہا کہ ان ملازمتوں میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کی تعداد بہت کم او ران کی آبادی سے بالکل بے ربط ہے۔ اس پر یہ توجہ دی جانی چاہئے ،لیکن اس عدم تو ازن کو دور کرنے کے لئے کوئی بڑا کیا چھوٹا قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔ اسی طرح 1999میں قومی اقلیتی کمیشن کے صدر ڈاکٹر طاہر محمود نے کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں بہت ہی دوٹوک لفظوں میں کہا کہ تمام عوامی ملازمتوں میں اقلیتوں کی نمائندگی بے حد مایوس کن اور انتہائی بے انصافی کی مظہر ہے، جس کے سدّباب کے لئے مناسب اقدامات کی پہلی ترجیح دینا ضروری ہے۔ ا س رپورٹ میں تمام سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لئے 15فی صدر ریزرویشن دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی ،لیکن اسے کسی بھی درجے میں لائق اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔اب سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ بار بار دیا جارہا ہے ، حالانکہ اس میں زیادہ تر وہی باتیں کہی گئی ہیں ، جو اس سے پہلے کہی جاچکی ہیں۔403صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ 30نومبر 2006کو پارلیمنٹ میں پیش کی جاچکی ہےاور اس کی بعض سفارشات پر ترجیہی بنیادوں پر عمل درآمد کی بات بھی کہی جارہی ہے ۔ اس رپورٹ میں جو خاص بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کے حالات سے بھی بدتر ہوچکے  ہیں ۔ یہی نکتہ دراصل سچر کمیٹی کی رپورٹ کی شاہ کلید ہے۔ اس کو ذہن میں رکھ کر ہی اس کمیٹی کی سفارشات کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے اور یہ شاہ کلید بہت ہی بلیغ انداز میں یہ اشارہ کرتی نظر آتی ہے کہ ان کے ورد کا درماں شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کی طرح ریزرویشن ہی ہے ۔ ریزرویشن کے ذریعہ ہی انہیں اس مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے ، جہاں وہ اپنے پاؤں پر آپ کھڑے ہوکر قوم کی تعمیر وترقی میں اپنے شایان شان رول ادا کرسکیں۔

(بشکریہ راشٹریہ سہارا ، نئی دہلی)

URL for this article:

Loading..

Loading..