New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 08:05 PM

Urdu Section ( 3 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Spiritual Universalism of Vivekananda سوامی وویکا نند کی روحانی عالم گیریت اور آفاقیت

 

ایم این کندو

23 جنوری2014

سوامی وویکا نند نے پوری کائنات کو ایک ہی حقیقت مطلقہ کا ایک مظاہرہ سمجھا۔ (ان کا فلسفہ یہ تھا) کہ اس پوری کائنات میں ایک ہی ذات ہے اور ایک ہی وجود ہے۔ لیکن جب اس کا گزر وقت، خلاء اور تسبیب و تعلیل سے ہوا تو اس کی مختلف نوعیتیں سامنے آئیں اور انہیں مختلف ناموں سے پکارا گیا۔ لیکن کل کائنات کی حقیقت ایک ہی ذات مطلق ہے۔

جب پوری کائنات کو اتحاد کے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو خود غرض اور تنگ نظر ذہنیت اور تفریق و تقسیم کی تمام تر دیواریں یکسر زمین بوس ہو جائیں گیں۔ تمام مذاہب کی ہم آہنگی اور انسانیت کی تقیدس و تطہیر ہی سوامی وویکا نند کا مقصد حیات تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہر جان ممکنہ طور پر تقدیس، قدرت کاملہ اور منتظر مظاہر کا حامل ہے۔ اور اس کائنات میں بسنے والی تمام جانوں کا مقصد حیات انسانیت کی بے لوث خدمت،گہری خود احتسابی کے ذریعہ حصول حکمت، حصول روحانیت میں خلوص و لگن اور ایک خاص قسم کی جسمانی مشق کے ذریعہ انہیں حقائق و موجودات کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ ان تمام جسمانی مشق کو یوگا کہا جاتا ہے، جو کہ اس حقیقت مطلقہ سے دنیاوی وصال کا ایک انوکھا فن ہے۔

اس کی مشق ایک غیر مذہبی انداز میں بھی کی جا سکتی ہے لیکن اگر اس مشق میں موجودہ مذاہب میں سے کسی ایک مذہب کی روح ڈال دی جائے تو اس سے اور بھی زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ خارجی مذہبی رسومات کی حیثیت ثانوی ہے لیکن اس کے روحانی جوہر کو بھی قبول کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ہم ایک ایسے آفاقی مذہب کی تلاش میں ہیں کہ جس پر اس دنیا کے تمام انسان عمل کر سکیں تو اس میں مذاہب عالم کے رسوم و رواج کی تمام سطحوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔

ایک موقع پر سوامی وویکا نند نے کہا تھا کہ ‘‘ہم پوری انسانیت کو ایک ایسی دنیا میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں نہ کوئی قرآن ہو، نہ کوئی بائبل ہو اور نہ ہی ویدوں کا کوئی تصور ہو، جبکہ ایسا اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب ہم ان تینوں مقدس کتابوں کے درمیان اختلافات کو مٹا کر ان کے درمیان ہم آہنگی قائم دیں۔ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی مذہب کی مختلف شکلیں ہیں جس کا پیغام وحدانیت ہے، تاکہ ہر انسان وہ راستہ اختیار کر سکے جو اس کے لیے زیادہ سازگار ہو’’۔ ایک عالمی مذہب کے اس نظریہ کا تعلق ایک گروہ سے نہیں ہے بلکہ اس سے ایک اعلیٰ درجے کی حکمت و دانائی کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

سوامی جی ویدک انسانیت نوازی اور تمام کو گلے لگانے والے عقیدہ وحدۃ الوجود کے ترجمان تھے۔ ان کے لیے جوابی اشارہ تحمل نہیں بلکہ مذہبی قبولیت تھا۔ تحمل اور بردباری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان احساس برتری کا شکار ہوتا ہے۔ ‘آپ غلط ہیں لیکن میں آپ کو اپنی فراخ دلی اور کشادہ قلبی کی وجہ سے آپ کو برداشت کروں گا’۔ یہ توہین ہے۔ طرز فکر اور نظریات میں اختلافات اس کائنات کی سرشت میں داخل ہے۔ اگر تمام انسانوں کا طرز فکر یکساں ہوجائے تو پھر مزید سوچنے کا کیا فائدہ رہ جائے گا؟ لیکن ہمیں یہ سوچنے کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ ‘میں حق پر ہوں اور دوسرے لوگ باطل کا شکار ہیں’۔ سچائی کا مشاہدہ متعدد پہلوؤں سے کیا جا سکتا ہےاور مختلف طریقوں سے اس کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اس سچائی کو ضرور قبول کرنا چاہیے کہ ایسی بہت ساری سچائیاں ہیں جو فی الحقیقت ایک ہی ہیں۔

عالمی اخوت کا تصور کوئی نیا تصور نہیں ہے بلکہ یہ تصور سوامی وویکا نند سے پہلے بہت سارے لوگوں نے پیش کیا ہے۔ لیکن روحانیت کے بغیر اس کی کوئی بھی کوشش خود میں ناکامی کا شکار رہی ہے جیسا کہ پوری دنیا میں یہ ثابت ہو چکا ہے۔ عالمی اخوت کی ہماری تحریک عام طور پر ایسے لوگوں کو خارج کر دیتی ہے جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں اور اس طرح اس کی موت آپ ہی ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر کمیونسٹ لوگ غیر کمیونسٹوں کے خلاف سخت فرقہ پرست ہو گئے۔ اور یہی معاملہ دوسرے مذاہب کا بھی ہے۔

سوامی وویکا نند نے ایک بھی ایسے لفظ کی تبلیغ نہیں کی جس سے روحانیت کی نفی ہوتی ہویادین سے راہ فرار اختیار کرنے یا مصیبت زدہ عوام سے دور ہونے کے راستے ہموار ہوتے ہوں۔ خلق خدا کی بے لوث خدمت سوامی جی کے لیے معرفت نفس کا ایک پسندیدہ راستہ تھا۔ ان کے لیے آزادی پوری کائنات پرخود کے پھیلاؤ کی توسیع کا معاملہ تھا۔

تمام لوگوں کے لیےغیر مشروط محبت، ہوشمند انفصال اور کسی بھی فرقہ پرست مذہبی اصول و معتقدات سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی خدمت کے ذریعہ روح اور نفس کی وسعت حاصل کر کے بنیادی الٰہیت اور تمام مخلوق کے اتحاد کو محسوس کیا جانا ضروری ہے۔

تمام مخلوقات کے ذرہ ذرہ کو محیط یہ افاقیت یا نظام حیات کا ایک مذہب یا آنے والی نسلوں کی روحانیت کے طور پر فروغ پانا ضروری ہے جو کہ موجودہ دنیا کے تمام مسائل کا تریاق ہو۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:  http://www.speakingtree.in/spiritual-articles/new-age/spiritual-universalism-of-vivekananda/91692

URL:

https://www.newageislam.com/spiritual-meditations/m-n-kundu/spiritual-universalism-of-vivekananda/d/35443

URL for this article:

https://www.newageislam.com/urdu-section/m-n-kundu,-tr-new-age-islam/spiritual-universalism-of-vivekananda-سوامی-وویکا-نند-کی-روحانی-عالم-گیریت-اور-آفاقیت/d/35583

 

Loading..

Loading..