New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:52 AM

Urdu Section ( 17 Dec 2018, NewAgeIslam.Com)

Early Muslim History Needs Fresh Appraisal — I مسلم مؤرخوں نے اسلامی تاریخ میں موضوع روایات بھر کر اس کا مذاق بنایا ہے

 

 

ایم عامر سرفراز

28 اکتوبر، 2018

اسلام ایک سادہ اور پریکٹیکل مذہب تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ دین بھی اسی طرح کے چیلنجز کا شکار ہو کر رہ گیا ہے جن کا شکار اکثر دوسرے مذاہب ہوتے رہے ہیں۔ مذہب اسلام کے حوالے سے اس تشویش کا بنیادی باعث یہ ہے کہ ابتدائی مسلم تاریخ کس شکل میں اور کس طرح ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔ ابتدائی مسلم تاریخ نے کچھ لوگوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے اور کچھ کو منصرف کر دیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے کئی لوگوں کو مذہب اسلام سے ہی بیزار کر دیا ہے۔ ابتدائی مسلم تاریخ میں واقعات اور شخصیات کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے جو قرآن کی منشا اور اس کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کس پر اعتماد کیا جائے اور کس پر اعتماد نہ کیا جائے۔

یہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے بہت کم اصل ذرائع اور مصادر و ماخذ آج دستیاب ہیں جو ابتدائی اسلام پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ اس میں سے کچھ کی وجہ تو قدرتی آفتیں ہیں لیکن ان میں سے اکثر کی وجہ وہ کثیر جہتی سازشیں ہیں جو اسلام کے خلاف اس کے روز اول سے ہی کی گئی ہیں۔ قرآن کے علاوہ، جیسا کہ برمنگھم میوزیم میں پائی جانے والی ایک اوریجنل کاپی سے اس کی ایک بار پھر تصدیق ہو چکی ہے، اب بہت کم مواد ہی اپنی اصل شکل میں دستیاب ہے یا ہے بھی تو وہ مصنوعی اور موضوع ہے۔ صورت حال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مغرب کے بعض اہل علم اب یہ کہہ کر پورے اسلام کی حقیقت کو ہی سوالات کے دائرے میں لا رہے ہیں اسے ماضی میں خلیفہ عبد الملک اور دوسروں نے وضع کیا ہے۔ اب ہم اپنے ان بعض بنیادی یا ثانوی مصادر وماخذ پر غور کرتے ہیں جن پر اسلام کی ہماری موجودہ تفہیم کی بنیاد ہے۔

محمد بن اسحاق بن یسر (767-704 عیسوی) ان زبانی روایات کو جمع کرنے والے سب سے پہلے مؤرخ ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت نگاری کی بنیاد رکھی گئی۔ حضرت خالد بن ولید نے جب ان کے دادا کو قیدی بنایا تھا تب وہ کوفا میں عیسائییت سے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔

بلآخر انہیں ایک ایسی عورت سے روایت کرنے کے بعد مدینہ سے باہر نکال دیا گیا تھا جس سے ان کی کبھی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ ان کی زندگی میں مختلف مواقع پر ان پر یہودی اور ایک خفیہ مجوسی ہونے کا الزام بھی لگایا گیا۔ انہوں نے خلیفہ منصور کے دربار سے معاونت حاصل کرنے سے قبل مصر، ایران اور دیگر ممالک کا سفر کیا ،جس نے انہیں تاریخ کی ایک جامع کتاب لکھنے پر مقرر کیا تھا - حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اسی کا ایک حصہ تھی۔ یہ کتاب بغداد کی لائبریری میں رکھی گئی تھی لیکن بعد میں کسی طرح غائب ہوگئی۔

حیرت کی بات ہے کہ ابن اسحاق کی تاریخ قدرے اختلاف کے ساتھ ابن ہشام (50 سال بعد) اور ابن جریر طبری (150 سال بعد) اور کچھ دوسرے مؤرخیں کی کتابوں میں بھی پیش کی گئی۔ ان کے زیادہ تر مصادر مبینہ طور پر موضوع ، مجوسی اور یہودی تھے۔ ان کے معاصر امام مالک نے ابن اسحاق کو کذاب کہا۔ امام احمد بن حنبل نے فقہ میں ان کی رائے کو مسترد کر دیا ہے اور امام بخاری نے شاذ و نادر ہی اپنے صحیح میں ان کی روایات کو شامل کیا ہے۔

ابن شہاب الزہری (124-50ھ) کو ابتدائی مسلم مؤرخین اور احادیث کے اور راویوں میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی بھی شخصیت کافی پراسرار ہے ، ان کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے مدینہ چھوڑ دیا تھا اور دمشق میں خلیفہ عبد المالک کی خلافت میں ملازمت اختیار کر لی تھی اور وہ اپنی موت تک اموی حکمرانوں کی ہی خدمت کرتے رہے۔

جب ان کی موت ہوئی تو عباسی حکام نے طبری کو خفیہ طور پر دفن کیا کیونکہ انہیں تشدد کا خوف تھا۔ طبری نے ابو محناف ، سیف بن عمر ، ابن الکلبی جیسے مؤرخین اور اس زمانے میں گردش کرنے والی زبانی روایات پر انحصار کیا ہے۔ انہوں نے ان واقعات کے تقریبا تین سو سال بعد مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ زیادہ تر ابن اسحاق پر انحصار کرتے ہوئے ('شیطانی آیات' کی اختراع کے علاوہ) لکھی۔ کہیں کہیں طبری کا نام ابن جریر بن رستم اور کہیں طبری بن یزید بھی آتا ہے ؛ دونوں ہی ایک ہی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کے ساتھ مورخ ہیں۔

الزھری کی زندگی کا کوئی مستند حوالہ دستیاب نہیں ہے کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ وہ دوبارہ مدینہ گئے تھے۔ انہیں غیر مستند سمجھا گیا کیونکہ اگر کوئی تحریراً ان سے کچھ پوچھتا تو وہ جان بوجھ کر اسی سوال کے تین متضاد جواب دیتے تھے۔ وہ مبینہ طور پر زرتشتی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو سقوط فارس کے بعد کوفہ ، بصرہ اور بغداد جیسے عراقی شہروں میں آباد ہو گئے تھے۔ وہ وہی ہیں جنہوں نے قرآن کریم کے مختلف ترجموں کا نظریہ پیش کیا اور بعض آیتوں کو دوسری بعض آیتوں سے منسوخ بتایا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کے درمیان اختلافات کو ظاہر کیا اور اپنی فرقہ وارانہ لڑائیوں کے مضحکہ خیز واقعات درج کئے۔

ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (923-839عیسوی) اسلامی تاریخ میں سب سے اہم مورخ ہیں۔ جب ممتاد نے انہیں اپنی امان میں لیا تو ان کی عمر پچاس سال تھی۔ ان کی عمر ستر سال سے زائد تھی جب پہلی بار پیغمبروں اور بادشاہوں کی ان کی تاریخ تیرہ جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد وہ مشہور تو ہوئے لیکن ان کی شخصیت متنازعہ فیہ ہو کر رہ گئی جن کے گھر پر باقاعدگی سے پتھر پھینکے جاتے تھے۔ جب ان کی موت ہوئی تو عباسی حکام نے طبری کو خفیہ طور پر دفن کیا کیونکہ انہیں تشدد کا خوف تھا۔ طبری نے ابو محناف ، سیف بن عمر ، ابن الکلبی جیسے مؤرخین اور اس زمانے میں گردش کرنے والی زبانی روایات پر انحصار کیا ہے۔

انہوں نے ان واقعات کے تقریبا تین سو سال بعد مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ زیادہ تر ابن اسحاق پر انحصار کرتے ہوئے ('شیطانی آیات' کی اختراع کے علاوہ) لکھی۔ کہیں کہیں طبری کا نام ابن جریر بن رستم اور کہیں طبری بن یزید بھی آتا ہے ؛ دونوں ایک ہی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کے ساتھ مورخ ہیں۔ ان کے بعد آنے والے تمام مؤرخوں نے لفظ بہ لفظ طبری پر ہی انحصار کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں، "میں بیان کرنے والوں سے جو سنتا ہوں وہی اس کتاب میں لکھ رہا ہوں ۔ اگر میری اس کتاب میں کوئی بات فضول یا نا معقول معلوم ہو تو اس کا ذمہ دار مجھے نہ ٹھہرایا جائےاور نہ ہی میں اس کا جوابدہ ہوں گا۔ بلکہ میری اس کتاب میں پائی جانے والی تمام غلطیوں کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے یہ واقعات مجھ سے بیان کئے ہیں۔ "لہذا، کیا طبری کی باتیں اکثر افواہوں پر مبنی ہیں؟

ابن خلدون (1406-1332 عیسوی) اپنی کتاب ‘مقدمہ’ کی وجہ سے جدید تاریخ کے سرخیل تصور کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مسلم مورخین نے موضوع روایات اور نامعقول تعبیر و تشریح سے بھر کر مسلم تاریخ کا مذاق بنا یاہے۔ تاہم، شاہ عبدالعزیز (1824-1746 عیسوی) نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ مقدمہ ابن خلدون کے چھ صفحات شروع سے ہی غائب کر دیے گئے ہیں۔

ان صفحات میں مبینہ طور پر اسلامی تاریخ کے سب سے اہم پہلو یعنی یزید کی سلطنت اور کربلا کے واقعات کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے ۔ یہاں تک کہ کچھ جدید مطبوعات کے حاشیہ میں یہ بات لکھی گئی ہے کہ وہ صفحات پراسرار طور پر غائب کر دیے گئے ہیں۔ جب جلال الدین السیوطی (1505-1445عیسوی) نے تاریخ الخلفاء لکھی تو عبدالعزیز نے ان کی تنقید کی اور یہ کہا کہ یہ کتاب اس بات کی ایک مثال ہے کہ کس طرح ہمارے مورخین نے اندھیرے میں تیر چلانے کا کام کیا ہے ۔ اس سے قبل کہ السیوطی کو نویں صدی کا ایک مجتہد قرار دیا جاتا ، علماء اور حکام نے اس امر سے پردہ اٹھا دیا کہ کس طرح صوفی طبقے کی مالیاتی امداد کی جارہی ہے۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/315373/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-i

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/muslim-historians-have-made-a-mockery-of-islamic-history-by-filling-it-with-fabrications--early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-i/d/116825

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/m-aamer-sarfraz,-tr-new-age-islam/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-i--مسلم-مؤرخوں-نے-اسلامی-تاریخ-میں-موضوع-روایات-بھر-کر-اس-کا-مذاق-بنایا-ہے/d/117183

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..