New Age Islam
Sat Jul 31 2021, 11:27 AM

Urdu Section ( 26 Dec 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Early Muslim History Needs Fresh Appraisal — IV وہ سازش جس کی بیج مجوسیوں نے بوئی

ایم عامر سرفراز

12 نومبر، 2018

ابتدائی مسلم تاریخ کی تیسری روایت موسوی ، خادم زادہ ، فاطمی، قرامطی، امدادی، حمید الدین، مونٹگمری اور دیگر کی تصنیفات پر مبنی ڈاکٹر احمد کے ریویو (review) سے ماخوذ ہے۔ ان کے مقالہ اور میرے اس مضمون کا مقصد خالص تعلیمی [academic] ہے، مذہبی عقائد کی توہین یا تاریخ اسلام کی قابل قدر دشخصیات کی بے عزتی کرنا ہرگز نہیں۔

احمد کا یہ ماننا ہے کہ معیاری ابتدائی مسلم تاریخ 636 عیسوی میں قادسیہ میں شکست کھانے کے بعدمجوسیوں کی سازش کا حصہ ہیں۔ وہ کبھی یہ نہیں بھول سکے کہ کچھ عرب بدووں نے کس طرح ان کی سلطنت کو تاخت و تاراج کر دیا۔ لہذا، انہوں نے مسلمانوں کے درمیان جسمانی طور پر اور دانشورانہ سطح پر ایک لامتناہی تنازعات کی بنیاد ڈال دی۔ ایک طرف تو انہوں نے ایک عجیب تاریخ گڑھنے کے لئے اپنی عقل و فہم اور شاہی اثر رسوخ کا استعمال کیا اور دوسرے طرف انہوں نے بنی امیہ کو ختم کرنے کے لئے عباسیوں کو اکسایا اور اس کے بعد عباسی سلطنت کو تباہ کرنے کے لئے 1258 ء میں ہلاکو خان کو دعوت دی۔ اس طرح مجوسیوں نے عربوں کے ہاتھوں اپنی شکست و ریخت کا بدلہ لیا۔

فارس کی فتح کے بعد، کچھ مجوسیوں نے 'اسلام قبول' کر لیا لیکن ان میں سے اکثر ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ مغل بادشاہ اکبر کے مشہور 'نو رتنوں' کی طرح ساسانی بادشاہوں کے بھی بیس رتن ہوا کرتے تھے جنہیں عشاورہ کہا جاتا تھا۔ ان میں سے 15 افراد زندہ رہے اور سمرقند میں چینی شہنشاہ کی امان میں آ گئے۔ اس کے بعد وہ مسلم خلفاء کو تہہ تیغ کرنے اور مسلمانوں کو قرآن کریم سے دور کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے لئے اپنے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

فارسی فوج کے شکست خوردہ کمانڈر ہرمزان ہمیشہ عشاورہ سے رابطے میں رہا۔ وہ حضرت عمر کو اس کی زندگی بخشنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد مدینہ میں آکر آباد ہو گیا تھا۔ اس نے مدینہ منورہ میں یہودیوں اور ناصریوں کے ساتھ مل کر سازش کی اور ایک فارسی غلام، فیروز ابو لولو کو حضرت عمر پر ایک خاص قسم کے چاقو سے حملہ کر کے قتل کرنے کے لئے تیار کیا ۔ فیروز نے اس منصوبہ کو خفیہ رکھنے کے لئے خودکشی کر لی۔ حضرت عمر کے بیٹے عبیداللہ نے ہرمزان اور دیگر سازش کاروں کو ہلاک کر دیا۔

یہودیت سے اسلام قبول کرنے والے عبد اللہ بن سبا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کے لئے خلافت کی وارث کے مقدس حق کا پرچار کر کے عراق کے اندر اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اس نے حیرہ کے ایک عیسائی جفینہ کے ساتھ ساز باز کی جو روم میں شاہی سیکورٹی کا انچارج ہونے کے بعد اسلام 'قبول' کر چکا تھا۔ تاریخ کی اس روایت میں حضرت عثمان کے دور میں امن اور خوشحالی تھی اس لئے کہ حضرت علی عراق کے گورنر، حضرت امیر معاویہ شام کے گورنر اور ابن العاص مصر کے گورنر تھے۔ خلیفہ بغیر کسی تحفظاتی دستے کے عام لوگوں کی طرح رہتے تھے۔ سبا بن شمعون اور اس کے بیٹے عبد اللہ بن سبا نے اس کا فائدہ اٹھایا اور حضرت عثمان کو تلاوت قرآن کے دوران قتل کر دیا۔

40 ہجری میں جب حضرت علی کوفہ میں نماز پڑھا رہے تھے تب عشاورہ نے ایک بار پھر حملہ کیا۔ ایک مجوسی جمشید خراسان عرف ابن ملجم نے ایک دو دھاری خنجر سے حضرت علی پر حملہ کیا۔ اس کے تین دن بعد حضرت علی وفات پا گئے۔ پھر اس کے بعد حضرت عمر کے قتل کے ماسٹر مائنڈ کے بیٹے جبن بن حرموزن نے 46 ھ میں حضرت حسن کے قتل کی ایک ناکام کوشش کی، حضرت حسن کو زہر دیا گیا تھا لیکن ایک دوسری روایت یہ ہے کہ آپ کی وفات دق کی وجہ سے 49 ہجری میں ہوئی تھی۔

60 ہجری میں حضرت امیر معاویہ کا وصال ہو چکا تھا۔ نئے خلیفہ کے انتخاب کے لئے مجلس جاری ہی تھی کہ جبن بن ہرمزان عرف بلال بن یوسف اور اس کے ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوفہ کے گورنر ہاؤس میں داخل ہو گئے اور گورنر حضرت حسین کو قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔ علامہ مسعودی کے مطابق جبن بن ہرمزان بعد کے سالوں میں بھی حضرت عبداللہ بن زبیر کے خلاف سرگرم رہا۔ آخر کار وہ 70 ہجری میں عبداللہ بن زبیر پر قاتلانہ حملے کے دوران مارا گیا۔

احمد لکھتے ہیں کہ کربلا کا المناک سانحہ مبینہ طور پر 680 عیسوی میں پیش آیا۔ تاہم، ان دو کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے جنہیں حضرت حسین کے بیٹے امام زین العابدین نے 700 عیسویوں میں لکھی۔ امام مالک نے بھی 758 عیسوی میں لکھی گئی اپنی موطا میں کربلا کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ ہر طرح کے متنازع فیہ مواد سے بھری حدیث کی کتابیں 860 عیسوی سےمنظر عام پر آنا شروع ہوئیں لیکن ان میں بھی سانحہ کربلا کا کوئی ذکر نہیں ہوتا تھا ؟ 900 عیسوی میں امام طبری نے سب سے پہلے بغیر کسی حوالے کے تشکیک کے ساتھ واقعہ کربلا کی پوری روداد بیان کی۔ وہ اپنی اس روداد کربلا میں ابو مخناف نامی ایک ایسے شخص کا حوالہ دیتے ہیں جو اس موضوع پر پہلے ہی لکھ چکا ہے۔ لیکن ابو مخناف ایک افسانوی کردار ہے اور یہ بات طے ہے کہ طبری نے دراصل یہ پوری روداد خود سے ہی لکھی ہے۔

عباسی حکومت کے اکثر ادوار میں فارس کے مجوسی کافی بااثر تھے۔ دراصل سلطنت عباسیہ کا شریک بانی ابو مسلم خراسانی بھی ایک خفیہ مجوسی ہی تھا۔ وہ اتنے زیادہ طاقتور تھے کہ خلیفہ ہارون الرشید اکثر خود کو کمزور اور بے اختیار پاتا تھا(باوجود اس کے کہ خود اس کی ماں ایک مجوسی تھی)۔ مجوسیوں کے بارامیکا خاندان کو ہارون الرشید کی وزارت پر قبضہ ہونے کی وجہ سے بے نظیر اختیارات حاصل تھے اور انہوں نے عدالت کی زبان عربی سے بدل کر فارسی کر دی۔ علامہ قندھاوی کے مطابق عباسی عدالت کے تمام اہم عہدے مجوسیوں کے ہی قبضہ میں تھے اور عباسی حرم سرایوں میں ان کی خواتین کا راج تھا۔ انہیں حالات میں حقیقی تاریخ اور عقیدے سے سنگین انحراف عمل میں آیا۔

جس طرح امام ابو یوسف سلطنت بنی امیہ کے شاہی جج مقرر ہوئے اسی طرح امام طبری نے 270 ہجری میں خلیفہ معتمد کی عدالت میں ایک مضبوط مقام حاصل کر لیا اور بعد میں خلیفہ المقتدر باللہ کی اطاعت گزاری میں اس کے پسندیدہ عالم دین بن گئے۔ شاہی وفود مکہ ، مدینہ، دمشق، قادسیہ ، کوفہ اور دیگر صوبائی مراکز کو بھیجے گئے۔ ان کے لائبریریوں کے مواد تباہ کر دئے گئے اور ان کی جگہ شاہی منظوری کی مہر والی سرکاری کتابیں رکھ دی گئیں۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/320977/early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-iv/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/an-elaborate-conspiracy-steered-by-the-magian-nobility--early-muslim-history-needs-fresh-appraisal-—-iv/d/116915

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/early-muslim-history-needs-fresh-iv/d/117274

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..