New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 06:54 PM

Urdu Section ( 8 Jan 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Early History of Islam Needs Fresh Appraisal — IX مودودی ایک عالم دین کم اور سیاست باز زیادہ تھے

ایم عام سرفراز

7 دسمبر، 2018

علامہ اقبال احمدیہ جماعت کی تفرقہ باز فطرت اور سامراجی منصوبے کی وجہ سے اس پر اپنا اعتماد ایک دہائی پہلے ہی کھو چکے تھے ، اور علیگڑھ کے طلباء اسلام کے قرآنی ماڈل کی ترویج و اشاعت کرنے کے لئے کافی ‘‘دنیا دار’’ ظاہر ہو ئے۔ علامہ اقبال کو خود اپنے وسائل کے فقدان اور اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے میں متمول اور سرمایہ دار مسلمانوں کی سردمہری پر کافی افسوس ہوا۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم اور زمین دار چودھری نیاز علی ان کی مدد کو آگے بڑھے۔

نیاز علی نے اقبال کی فکر کے مطابق ایک دار الاسلام کی تعمیر کرنے اور اسے چلانے کے لئے پٹھان کوٹ (بھارت) میں ایک سو ایکڑ زمین اور مالی امداد بھی فراہم کی۔ علامہ اقبال نے اس ادارے کے لئے ایک اسکالر مع منتظم کی فراہمی کے لئے فوری طور پر جامعہ ازہر کو خط لکھا۔ ان کی جانب سے معذرت خواہی موصول ہونے کے بعد انہوں نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے جہاں کئی دوسرے لوگوں سے رابطہ کیا وہیں سید سلیمان ندوی سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے ضعیف العمر کی وجہ سے اس سے انکار کر دیا لیکن اس کے ایک شعبہ کا حصہ بننے کے لئے راضی ہو گئے۔ انہوں نے اور علامہ جئے راجپوری نے چوہدری سے اس کام کے لئے اقبال کے محافظ اور ایک سرکاری ملازم غلام احمد پرویز کی سفارش کی۔ جب پرویز سے اس کے لئے پوچھا گیا تو انہوں نے محمد علی جناح سے مشورہ طلب کیا لیکن انہوں نے مسلم لیگ کے لئے ان کی ذمہ داریوں سے انہیں برطرف کرنے سے انکار کر دیا۔ بدلے میں پرویز نے ایک ایسے شخص کی توثیق کی جو ان کے پاس حیدرآباد (دکن) سے ملاقات کرنے آئے تھے اور اسلام کے بارے میں مشہور اخبارات میں متاثر کن مضامین لکھ چکے تھے۔

علامہ اقبال نے اس نوجوان کو اس منصوبے پر بحث و تمحیص کرنے کی غرض سے لاہور آنے کے لئے لکھا۔ اقبال نے 1938 میں جاوید منزل میں اس نوجوان کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں تاکہ وہ اپنے نقطہائے نظر کی وضاحت کر سکیں اور اس نوجوان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگا سکیں۔ اقبال اس سے متاثر نہیں ہوئے..... انہیں یہ لگا کہ یہ ڈاڑھی منڈا انسان قدامت پرست ہے جسے نہ تو مذہبی علوم میں کوئی گہرائی و گیرائی ہے اور نہ ہو اسے انتظامی امور کا کوئی تجربہ ہے۔ یہ کہا گیا کہ وہ 'ملا' ہے اور کسی بادشاہی مسجد میں صرف خطابت کے لائق ہے۔ تاہم، نیاز علی اور دیگر کامیاب ہوگئے کیونکہ اس منصوبے کو شروع کرنے میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی تھی اور ایک شعبہ قائم کرنا انتہائی ضروری ہو چکا تھا۔ اقبال کی بادل ناخواستہ رضامندی کے بعد ایک باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ..... ابوالاعلی مودودی آ چکے ہیں۔

مودودی نے دار الاسلام میں ایک شاندار شروعات کی، جیسا کہ انہوں نے ایک نصاب تیار کیا ، ایک جریدہ شائع کیا اور ایک قابل شعبہ قائم کیا۔ مودودی کا کام ایک ایسا تعلیمی اور تحقیقی سینٹر قائم کرنا تھا جس میں ایسے قابل علماء کی ایک ٹیم تیار کی جائے جو اسلام پر شاندار کام کر سکیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے وہ دار الاسلام کو رہنما فراہم کر کے اور مذہبی تحریک کی بنیاد رکھ کر ایک مثالی مذہبی کمیونٹی کے ذریعہ بھارت میں سیاسی 'اسلامی احیاء' کا مرکز بنانے میں لگ گئے۔ انہوں نے مختلف مسلم علماء کو لکھا اور انہیں اپنے ساتھ شامل ہونے کے لئے مدعو کیا۔ ان کی آواز پر ندوی ، اصلاحی ، فراہی ، اسد سمیت اور دیگر بڑے علماء ان کے ساتھ ہو گئے۔ یہ کمیونٹی چند اراکین، ایک مجلس شورا اور ایک صدر پر مشتمل تھی۔

اسی دوران مسلسل علالت کے بعد علامہ اقبال وفات پا گئے۔ مودودی مبینہ طور پر لاہور میں ہی تھے لیکن ان کے جنازہ میں شریک ہونے کے لئے وقت نہیں نکال سکے۔ نیاز علی اور ان کے ساتھیوں پر فوراً ہی یہ بات عیاں ہو گئی کہ مودودی تعلیمی سرگرمیوں سے زیادہ سیاست میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں؛ اور جناح اور مسلم لیگ کو تنقید کا نشانا بنا رہے ہیں۔ مودودی جلد ہی لیگ کو پاکستان کے نام پر ایک سیکولر ملک بنانے کا ارادہ رکھنے والی ''کافروں کی جماعت '' اور 'برائے نام مسلمان' قرار دینے والے تھے ۔ یہی بات ایک وجہ بن گئی کہ سب نے اپنا اپنا راستہ الگ منتخب کر لیا اور مودودی اپنے زیادہ تر شعبہ جات اپنے ساتھ لاہور لے گئے اور وہاں 1941 میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان پر مودودی کا تیز و تند حملہ اس عوامی رجحان کو شکست نہ دے سکا جو 1946 تک لیگ قائم کر چکی تھی۔اور اس طرح ایک آزاد مسلم ریاست کا جنم ہوا۔

مودودی نے پاکستان کا انتخاب کیا اور روز اول سے ہی اسے ‘‘اسلام پرست’’ بنانے کے اپنے مشن کا آغاز کر دیا۔ ان کے کافی پیروکار ہیں اور ان کا اسلامی نقطہ نظر یا ان کی صحافت ایک علیحدہ مضمون کا موضوع ہے۔ تاہم، وہ اقبال اور جناح کے بارے میں اپنی پوری زندگی شرمندہ رہے ۔ امین اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد اور ارشاد حقانی سمیت ان کی تحریک کے اہم نمائندوں نے 1960 کے وسط میں ماہی گوت میٹنگ کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ مودودی تبدیلی کے اسلامی ایجنٹ کی حیثیت سے لوگوں پر توجہ مرکوز کریں جبکہ مودودی کا نقطہ نظر تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد اسلام کو سب کے اوپر نافظ کیا جائے۔ انہوں نے اپنے سیاسی مقالے میں لینن ازم، ہیگل کی دوئیت (dualism) اور افغانی کے وحدت اسلامی (Pan-Islamism) کے نظریات کو بھی شامل کیا جس کی وجہ سے اخوان المسلمین اور اسلامی جمعیت طلبہ جیسی نوجوانوں کی تنظیموں کی دلچسپی ان کی تحریک میں بڑھی۔ افغانستان میں سوویت افواج سے جنگ کرنے والے مجاہدین اور القاعدہ بھی انہیں کے نظریات سے متاثر تھا۔ ان کی بنائی ہوئی تنظیم جماعت اسلامی آج منتشر ہے جبکہ ان کے مخالف گروہ سے تعلق رکھنے والے جاوید غامدی آج اونچی اڑان بھر رہے ہیں۔

محمد اسد (Leopold Weiss) نے کبھی بھی مودودی کی تحریک سے وابستگی اختیار نہیں کی کیونکہ وہ بھارت میں ہی ایک علیحدہ مسلم ریاست کا نظریہ رکھتے تھے۔ پاکستان کی آزادی کے بعد اسد کو پاکستان کی شہریت عطا کی گئی اور وہ پاسپورٹ رکھنے والے سب سے پہلے شخص بن گئے۔ جب پاکستان بن رہا تھا انہیں دنوں میں جناح نے اسد کو لاہور میں ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن (Department of Islamic Reconstruction) قائم کرنے کے لئے کہا جس کا مقصد "اسلامی خطوط پر اپنی زندگیوں کو ازسرنو استوار کرنے میں ہماری کمیونٹی کی مدد کرنا" تھا۔ ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن کو پاکستان کے پہلے آئین کا مسودہ تیار کرنے میں بھی تعاون کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن میں اسد کی چند چیزوں کو معروضی قرار داد میں بھی شامل کیا گیا ۔ جناح کی موت کے بعد فورا ظفر اللہ خان نے اسد کا ٹرانسفر وزارت خارجہ میں کردیا۔ اس کے بعد اسد نے جلد ہی مشتبہ حالات میں پاکستان چھوڑ دیا اور اس کے بعد فوراً ہی ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن بھی کالعدم قرار دیدی گئی۔ دسمبر 1948 میں جناح کی موت کے صرف ایک مہینے بعد ہی ڈپارٹمنٹ آف اسلامک ری کنسٹرکشن کے زیادہ تر دستاویز پراسرار طور پر لگی ایک آگ میں تباہ ہو گئے۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/330688/early-history-of-islam-needs-fresh-appraisal-ix/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/maududi-was-more-interested-in-politics-than-academics--early-history-of-islam-needs-fresh-appraisal-—-ix/d/117147

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/early-history-islam-needs-fresh-ix/d/117402

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..