New Age Islam
Sat May 15 2021, 01:46 AM

Urdu Section ( 12 Dec 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Politics of Ashura عاشورہ کی سیاست

 

ایم اے نیازی

15 نومبر 2013

مسلمانوں کے نزدیک عاشورہ مختلف  اہمیتوں اور معنویتوں  کا حامل ہے ۔ اس کی سب سے پہلی معنویت یہ ہے کہ  یہ امر متیقن ہے کہ اسلامی سال کے آغاز پر  کسی بھی طرح کا کوئی جشن نہیں منایا جائے گا۔ یہ بات معقول ہے اس لئے کہ اسلامی تہوار عیدین ہیں اور سال نو اس کا ہم پلہ نہیں ہے ۔ تاہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن کربلا کے میدان میں ان کے نواسے کی شہادت سے بہت پہلے ہی عاشورہ کے دن روزے رکھ کر اس دن کو ممتاز کر دیا تھا ۔ عاشورہ سے اسلام اور عیسائی و یہودی مذاہب میں ایک ربط کا پتہ چلتا ہے ۔اس میں سیاست کا بھی عنصر شامل ہے ، اس لئے کہ  حالانکہ امام حسین نے اسلام کے دائمی اصول و معتقدات کی بقاء کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کی ، لیکن اس موقع پر انہوں نے ایک ایسے  شخص کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا جسے انہوں نے خلافت کے لائق نہیں  سمجھا ۔

 امام حسین  کی شہادت اور  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں  کے درمیان ربط پیدا کرنے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک ایسا بنیادی ربط ہے  جو اسلام کے یہودی  ورثہ کو فراہم کیا گیا ہے ۔ قرآن کے اصرار کے مطابق اسلام میں یہودی روایتیں بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلسلہ نسب حضرت اسماعیل کے ذریعہ حضرت ابراہیم تک  ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ابراہیمی قربانی (جسے اسلام صرف عیدالاضحیٰ کے طور پر ممتاز کرتا ہے ) اور  امام حسین کی قربانی کے درمیان ایک صدائے باز گزشت ہے ۔ عیسائی مبصرین ابراہیمی قربانی کا تقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سولی پر چڑھنے سے کرتے ہیں ، جبکہ مسلم مبصرین شہادت سے کوئی بھی موازنہ نہیں کرتے ، دراصل تقابل ناگزیر ہے ، خاص طور پر اس وقت جب یہ یاد کیا جا جاتا ہے کہ امام حسین ابراہیم اور اسماعیل دونوں کی اولاد ہیں ۔

اور ساتھ ہی ساتھ امام حسین کی شہادت کی سیاست سے گریز بھی کیا جاتا ہے ۔ یہ بنیادیہ طور پر  ایک سیاسی واقعہ تھا اور امام  حسین یزید کے ہاتھ پر  بیعت کرنے سے انکار کررہے تھے جو کہ یزید شدت کے ساتھے  طرح چاہتا تھا ۔ امام حسین کی شہادت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  اسلام سیاست کو مذہب کا ایک ایسا  جزو لاینفک گردانتا ہے جس سے پہلو تہی نہیں کیا جا سکتا ۔ اسے کوئی اگلے انتخابات پر نہیں چھوڑ رہا ہے ۔ امام حسین نے ذاتی طور پر اور اپنے خاندان کے ساتھ یہ ثابت کر دیا کہ حاکم کی مرضی جان دینے کے لئے کافی تھی۔‘سیاسی اسلام ’ سے علیحدگی کےلئے جنگجوؤں کی تنقید کی گئی ہے ۔ یہ ایک ایسی تنقید ہے جس کی بنیاد  چرچ اور ریاست کی مغربی تفریق پر ہے، جہاں حاکم بھی خود کو ذاتی اور نجی میں منقسم کرتا ہے  ۔ یزید پر امام حسین کی  تنقید اس کی عوامی صلاحیتوں میں فقدان کی بنیاد پر  نہیں تھی بلکہ  اس کی بنیاد ذاتی طور پر قانون سے اس کی سرکشی تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ   اگر جو شخص خود قانون پر  عمل نہیں کر  سکتا وہ پوری امت مسلمہ کو قانون کے ذیر اثر کیسے لا سکتا ہے ۔ اس بات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ قانون  انسانوں کی بنائی ہوائی تعمیرات کا ایک سلسلہ نہیں ہے بلکہ خود اللہ کے احکام و فرامین کی ایک تفہیم ہے ۔ خلیفہ اس قانون کو نافذ کرنے ،  تمام مسلمانوں کے  ایک نمائندہ کی حیثیت سے اسی کے تحت اپنی شب و روز گزارنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ، اور اس کے بدلے میں وہ امت کی بیعت کا مستحق ہوتا ہے جو کہ اس کی اطاعت شعاری کا ایک عہد و پیمان ہے ۔ یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لئے کہ اس میں امت نہ صرف یہ کہ اسے ایک حاکم کے طور پر قبول کرتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے لوگ قانون کی اس کی اپنی تشریحات پر عمل کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں ۔ جیسا کہ اس کی گونج صدیوں تک رہی جسے امام حسین نے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

کیا یزید اتنا مصر تھا ؟ امام حسین یزید کی خلافت کو للکارنے والے پہلے شخص تھے ، اور یزید بالکل اسی طرح ان کی اطاعت حاصل کرنا چاہتا تھا جس طرح دور جدید میں انتخابات ہارنے والے مراعات کے انعامات  کرتے ہیں ۔ فرق پیدا کرنے والی ایک اور وجہ یہ تھی کہ امام حسین کو بہت سارے لوگوں نے خلافت کی امید واری کا اعلان کر دینے کے لئے کہا ۔ اس سےایک نقاد کا  یہ بھی معمہ حل ہو گیا کہ :

اگر یزید خلافت کے لائق نہیں تھا تو پھر کون تھا ؟ اگر امام حسین اپنی بیعت دے دیتے تو  یقینی طور پر اس سے ان کی امیدواری ختم ہو جاتی۔

امام حسین نے پیش قدمی کی اور اپنے نانا جان کی تعلیمات اور اللہ عزو جل کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے اپنے دعوے پر ثابت قدم رہے ۔یہ بات اہم ہے  کہ انہوں نے حقیقی طور کسی  کو بھی ایسا نہی پایا جس کی اطاعت شعاری کی جائے ۔ جس طرح کوئی اس شخص کی امامت میں نماز ادا نہیں کر سکتا جو کہ امام کے تمام شرائط کو پورا نہیں کرتا ، بالکل اسی طرح کوئی بھی اس شخص سے کی اطاعت نہیں کر سکتا جو اس کے تمام تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ۔

امام حسین کی شہادت کے بعد ہی شیعہ اور سنی کی تقسیم وجود میں آئی ۔ یہ اس وقت  سے تھی ، اس کا وجود  معاویہ اور امام حسین کے درمیان اختلافات کے بعد  نہیں ہو ا۔  تاہم امام حسین کی شہادت کا تعلق کسی ایک فرقے سے نہیں بلکہ  تمام مسلمانوں سے ہے ۔ بغداد میں ترکی  کے وزیر داخلہ اہمت دیوتوگلو کا حالیہ بیان  یہ ہے کہ شیعہ اور سنی کی تقسیم بیش قیمتی ہے ، یہ صرف اس کے اپنےاقدار کی بات نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس میں تینوں خلافتی دارالحکومت شامل  ہیں ۔ دیوتوگلو کا تعلق خود ترکی استنبول سے ہے ۔ بغداد کی سرزمین پر بات کرتے ہوئے جو کہ عباسیوں کا دارالحکومت ہے ، شام کے بارے میں ،دمشق کی سرزمین جو کہ بنی امیہ کا دارالحکومت ہے ۔دوسرے خلافتی دارالحکومت، کوفہ عراق میں ہے ،جبکہ قاہرہ (جہاں بغداد کے منگولیوں کے زیر تسلط آجانے کے بعد عباسی خلافت کا احیاء کیا گیا تھا) نے تحریر اسکوائر کی افراتفری کا مشاہدہ کیا ہے ۔ تاہم خلفائے راشدین کا دارالحکومت مدینہ نہ صرف یہ کہ اس وقت سے دارالحکومت رہا ہے بلکہ وہ سعودی حکومت میں بھی محفوظ و مامون رہا ہے ۔

اس کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ شہادت ایک ایسادرجہ ہے جو اللہ عز وجل عطا کرتا ہے ، اور اس کی وجہ سے  آخرت میں جنت میں ایک اعلیٰ مقام حاصل ہوتا ہے ۔ یہ شہداء کے  اعلیٰ مقام و مرتبت کی وجہ سے ہے جس کی خواہش کی جاتی ہے ۔ تاہم ، اگر چہ فیصلہ خدا  کا ہوتا ہے، اس اصطلاح  کا استعمال لوگ دوسروں کے بارے میں کر سکتے ہیں ۔ امام حسین کو شہید کہے جانے کی ایک وجہ یہی ہے ، شہید و شخص ہے جو اللہ کے راستے  میں مارا گیا ہو۔

عاشورہ کا تعلق صرف امام حسین کی شہادت سے نہیں ہے ۔ ایک حدیث کے مطابق یہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کی یوم پیدائش اور آدم علیہم السلام کی مغفرت کی سالگرہ  بھی ہے ۔ جبکہ مسلمانوں کے لئے شہادت ہی اس دن اور مہینے کا تعین کرتی ہے ۔ عاشورہ کا تعلق سیاست ، ریاست سے  ہے جیسا کہ ہونے کی توقع کی جاتی ہے ۔ ریاست کی نوعیت پر  بحث و مباحثہ اب تک جاری ہے ۔ اس لئے نہیں کہ  دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کچھ بھی نہیں ہے ۔ چونکہ اس میں اسلامی ریاست کا تصور شامل ہے،جیسا کہ اس نے امام حسین کے ساتھ کیا۔ ان کےاس قیاس  کو کہ ریاست خود اسلامی تھی جنگجوؤں نے قبول نہیں کیا ۔ اگر چہ ‘سیاسی اسلام’ مغرب کے لئے  پریشان کن ہو  سکتا ہے ، امام حسین کی شہادت کا یہ بنیادی پیغام باقی ہی رہتا ہے  کہ  کسی ظالم و جابر  شخص کو ایک حاکم کی حیثیت سے مسلمانوں کو قبول نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ امر اتنا اہم ہے کہ اس کے لئے امام حسین نے نہ صرف اپنی جان قربان کر دی بلکہ اپنے خاندان والوں کی بھی جان قربان کر دی ۔

عاشورہ کا سبق انتہائی بااثر ہے ۔ یہ برائی کی مزاحمت کے اسلامی پیغام کو  قوت بخشتا ہے ۔ اور یہ ‘سیاسی اسلام ’ کی بنیاد ہے ۔ امام حسین کی یہ مثال اس بات کی مضبوط یاد دہانی کروانے والی ہے کہ مسلمان آسانی کے ساتھ کسی بھی چیز کو مذہبی  قرار  دیکر اسے طاق نسیاں پر نہیں رکھ سکتے ۔ حاکم کے تعلق سے امام حسین کا نظریہ  یہ ہے کہ ذاتی معاملات کو  مذہب کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جانا چاہئے ۔ یہ ایک مذہبی تعطیل نہیں بلکہ ایک سیاسی تعطیل ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ ، مصباح الہدیٰ ، نیوایج اسلام)

ایم اے نیازی  ایک ماہر صحافی اور دی نیشن کے فاؤنڈنگ ممبر اور ایگزیکٹو ایڈیٹر بھی ہیں ۔

ماخذ: http://www.nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/columns/15-Nov-2013/the-politics-of-ashura

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/m-a-niazi/the-politics-of-ashura/d/34457

URL for this article:  

http://newageislam.com/urdu-section/m-a-niazi,-tr-new-age-islam/the-politics-of-ashura-عاشورہ-کی-سیاست/d/34838

 

Loading..

Loading..