New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 04:42 AM

Urdu Section ( 11 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

~Looking Back~ Islam and Democracy Not At Odds in Tunisia ~گئے دنوں پر ایک نظر~ تیونس میں اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے کی ضد نہیں

 

رضوان مسمودی

11 اکتوبر 2013      

تیونس ۔ 23 اکتوبر کو منعقدہ انتخابات اتنے ہی تاریخی تھے جتنا کہ اس ملک میں رونما ہونے والا حالیہ انقلاب۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بے شمار لوگوں کو نئی آئین ساز اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے کے بعد خوشی اورمسرت سے چیختے ہوئے دیکھ ۔ یہ اُن کے لیے بہت بڑا عزاز اور افتخار تھا کہ اپنی زندگی میں وہ پہلی مرتبہ ایک آزاد شہری کی حیثیت سے اس انتخاب میں حصہ لے رہے تھے۔

آج تیونس کے عوام دین اور سیاست کے درمیان اشتراک کارکے تعین کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ مسئلہ محض اس لیے گھمبیر شکل اختیار کر گیا ہے کہ اسلام پسندوں اور سیکولرلوگوں کی صفوں میں موجود انتہا پسند نئی حاصل شدہ جمہوری آزادیوں کو اپنے سخت گیر خیالات کی ترویج کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ افہام و تفہیم اور قوم کے مفادات کا درست تعین جمہوریت کی طرف مراجعت کے سفر کے اہم عناصر ترکیبی ہیں جنھیں باہمی اختلاف کی نظر نہیں ہونا چاہیے۔

توقع کے عین مطابق اسلامی سیاسی جماعت النہضہ نے انتخابات میں 41 فیصد ووٹ کر کے کل 89 نشستیں حاصل کیں۔ یہ جماعت جمہوریت اور انسانی حقوق کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔ انتخابات میں ریاست میں مذہب کے کسی کردار کی مخالف چار جماعتوں نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان جماعتوں میں دی کانگرنس فار دی ریپبلک، العریضۃ الشابیہ، التکتل اور دی پروگریسوڈیموکریٹک پارٹی (PDP) شامل ہیں۔ تین دوسری سیکولر جماعتیں دی ماڈرنسٹ ڈیموکریٹک پول (PDM)، افکتونیزاور دی کیمونسٹ ورکرز پارٹی (POCT)کی کارکردگی خراب رہی جس کی بڑی وجہ اُن کا بظاہر غیر اسلامی اور مذہب مخالف نظرآنا تھا۔ اظہار آزادی کے نام پر جب ان جماعتوں نے ایک فلم ’’نوگاڈ اینڈ نو ماسٹر‘‘ کی حمایت کی تو وہ عوام کے مذہبی جذبات و احساسات سے غیر ہم آہنگ ہو گئیں۔ بہت سارے لوگوں کے نزدیک اس فلم میں الحاد پرستی کو ابھارا گیا ہے اور اُس میں خدا تعالیٰ کی نمائندگی ایک کارٹون "پرسی پولس" کے ذریعے کی گئی ہے۔ خود پی ڈی پی نے بھی اس مسئلہ پر یہی موقف اپنایا جس کے بعد فروری میں اُس کی 20 فیصد کے لگ بھگ مقبولیت میں کمی واقع ہوئی جو اکتوبر میں مزید گھٹ کر محض چھ فیصد رہ گئی۔

اس کے نتیجہ میں النہضہ تیونس میں سب سے اہم سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی ۔ 30 سال تک مسلسل باضابطہ استبداد کا شکار رہنے والی اس جماعت کو بالآخر فروری 2011 میں ایک سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم کرلیا گیا۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اس نے بڑی کامیابی سے اپنے آپ کو ایک ایسی جماعت کے طور پر متعارف کیا جس کی جڑیں اسلامی اقتدار میں پیوست ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جمہوریت، انسانی حقوق اور عظمت انسانی پر بھی پورا یقین رکھتی ہے۔

تیونس کے عوام اسلام اور جمہوریت یا اسلام یا جدیدیت میں کوئی تضاد نہیں دیکھتے اور نہ ہی وہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب چاہتے ہیں۔ وہ بیک وقت مسلمان اور جدت پسند بننا چاہتے ہیں اور النہضہ نے انھیں اس کا ایک بہترین موقع پیش کیا ہے۔ چار نومبر 2011 کو رائٹر کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں النہضہ کے صدر اور شریک بانی راشد غنوشی نے کہا تھا کہ ’’ہم کسی نظام زندگی کو عوام پر مسلط کرنے کے خلاف ہیں۔ [...] تمام سیاسی جماعتوں نے موجودہ آئین کے آرٹیکل ایک کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تیونس کی قومی زبان عربی اور مذہب اسلام ہے۔ یہ صرف ایک حقیقت کا اظہار ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آئین میں اسلام کے بارے میں مزید کوئی حوالہ نہیں دیا جائے گا۔ ہم پورے ملک کو آزادی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

یہ با لکل وہی بات ہے جسے تیونس کے عوام کی اکثریت سننے کی مشتاق ہے کیونکہ انھوں نے سیکولر آمریت کو اس لیے نہیں اتار پھینکا تھا کہ اُس کی جگہ مذہبی آمریت کو مسلط کر دیا جائے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ریاست اُن کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرے یا اُسے ان پر مسلط کرے۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ اور انتخاب ہونا چاہیے اور ریاست کو تمام شہریوں کی آزادی اور اختیار کا احترام اور تحفظ کرنا چاہیے۔

اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا النہضہ کی قیادت میں تیونس ایک حقیقی اور مستحکم جمہوری ملک بن کر ابھر سکتا ہے۔ جیسا کہ خود اس جماعت نے وعدہ کیا ہے اگر النہضہ ترکی کے ماڈل کو اپنائے تو مجھے یقین ہے کہ اس سے نہ صرف اسے کامیابی حاصل ہو گی بلکہ اُس کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہو گا۔

مذہب اور سیاست کے درمیان تعلق پر بحث کئی سال تک ہی نہیں بلکہ شائد صدیوں تک جاری رہےگی۔ یہ بحث حتیٰ کہ یورپ اور امریکہ میں بھی آج تک جاری ہے۔ اس لیے تیونس کے عوام کے لیے حقیقی چیلنج یہ ہے کہ انھیں اچھی طرح علم ہو کہ باہمی نفاق کے بجائے کیا چیزانھیں متحد رکھ سکتی ہے۔

نئے آئین میں گو کہ ملک کو سیکولر ریاست نہیں قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ سوال تیونس اور عرب دنیا میں انتشار کا سبب بنتا ہے تاہم یہ بات بالکل عیاں ہے کہ عوام ایک سول اور جمہوری ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے آئین میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی، انصاف اور قانون کے سامنے سب کی برابری اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو جگہ دی جائے۔ جس طرح ترکی نے اسلام اور جمہوری روایات کو یکجا کر کے مسلم دنیا میں ایک کامیاب اور جدید ریاست کی مثال پیش کی ہے اسی طرح تیونس اسلامی اقدار اور اصولوں کو جدیدیت، آزادی اور جمہوریت سے ہم آہنگ کر کے عرب دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

رضوان اے مسمودی اسلام اور جمہوریت کے مطالعہ کے مرکز کے صدر ہیں۔ یہ مضمون کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔

By an Agreement with CGNews

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-politics/~looking-back~-islam-and-democracy-not-at-odds-in-tunisia/d/13902

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/radwan-masmoudi-رضوان-مسمودی/~looking-back~-islam-and-democracy-not-at-odds-in-tunisia-~گئے-دنوں-پر-ایک-نظر~-تیونس-میں-اسلام-اور-جمہوریت-ایک-دوسرے-کی-ضد-نہیں/d/13955

 

Loading..

Loading..