New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:32 AM

Urdu Section ( 23 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Oneness of God, the distinctive characteristic of Islam خدا کی وحدانیت، اسلام کی نمایا خصوصیت

 

 خواجہ محمد زبیر

9 اگست, 2012

(انگریزی سے ترجمہ مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

اس دنیا میں ہر زندہ چیز  کی کچھ بنیادی خصوصیات ہیں، جو اسے  دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں  ۔ یہی سچائی  افراد کے لئے ہے لوگوں کے گروپوں اور ان کے مذاہب اور فلسفیوں کے لئے بھی  ہے۔ لہذا، مناسب ہے کہ ہم اسلام کی مخصوص خصوصیات کا پتہ لگائیں اور اس کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ سب سے پہلے، یہ واضح طور پر سمجھنا ہونا ضروری ہےکہ ہمیں دین اسلام کسی  فلسفی، ماہر قانون، ماہر اخلاقیات ، اور ماہر نفسیات، اور فاتح، کسی سلطنت کے بانی، سیاستدان یا قومی رہنما کے ذریعہ  نہیں دیا گیا ہے ۔

یہ کائنات کے خالق اور مالک کی طرف سے  نبیوں یا رسولوں  کے ذریعہ کے ذریعے، بنی نوع انسان کے لئے بھیجا گیا  ہے۔ انہیں خاص طور پر، (وحی) کی شکل میں اس کی رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی خواہش کے مطابق، اس میں ایک بھی  لفظ کا حذف و اضافہ کئے بغیر ، انسانوں تک اسے  منتقل کرنے کے لئے  خدا  کی طرف سے منتخب کیا گیا تھا ۔ ان میں سے ہر ایک نے وہی دین سکھایا، جسے  اللہ اسلام کا نام دیتا ہے  (معنی، اس کے آگے خود سپردگی) ۔

ان رسولوں میں سے آخری حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تھے۔ ان کے ساتھ ہی اسلام کی تعلیمات کو حتمی شکل دے دی گئی اور ہدایت کو  مکمل کر دیا  گیا۔ اسلام کی پہلی منفرد خصوصیت صحیح عقیدہ پر زور دینا ہے، اور وہ اللہ تعالی پر ایمان ہے، جو واحد و یکتا  ہے، پوری کائنات کا خالق، رب اور حاکم ہے، صرف وہی عبادت کے  قابل ہے، ہم سب کو اس کی طرف لوٹنا ہے ، اور زندگی میں کئے گئے  ہمارے اعمال کا حساب دینا  ہے۔

نبی آدم علیہ السلام سے آخری  پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تک تمام رسولوں کی بنیادی  تعلیم یہی رہی ہے ۔ وہ  اس تعلیم سے  کبھی نہیں ہٹے ۔ دوسری بات قابل ذکر یہ ہے کہ ، انسانوں  کے فائدہ کے لئے خدا کے پیغام کی تبلیغ اور اشاعت  کے لئے اس کے رسولوں کی تمام کوششوں کے پیچھے محرک صرف اللہ کی خوشنودی تھی۔ یہ  وہی تپش تھی جس نے دنیاوی فوائد، مال و زر ، ، طاقت یا عزت کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی ۔ اور نہ ہی انہوں نے ان کے مشن کی تکمیل میں،  ذاتی بنیاد پر کسی کے خلاف بدلے، نفرت یا دشمنی کی جگہ بنائی ۔

طائف کا سفر جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسلام کے لئے  تبلیغ شروع کی، اس کے نتیجے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور انہیں  مقامی لوگوں کے ذریعہ بد سلوکی کا سامنا  کرنا پرا  اور یہاں تک کہ انہیں شدید سنگسار بھی کیا گیا تھا۔ لیکن اس سے ان کی دل شکنی  نہیں ہوئی ۔ تمام بے عزتی کو صبر کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے ، انہوں نے ان کے لئے  صرف خالق کی مدد اور رحمت کی دعا کی۔

خدا  کے پیغام کو پھیلانے اور اس کے حکم کے قائم کرنے کے لئے، اللہ کے بندوں کو اخلاص  اور پورے دل کے ساتھ  کوشش کرنے کی  کی ضرورت ہے ۔ ان کا اجر ان کے نتائج سے قطع نظر اس طرح کی کوششوں کے لئے ہے۔ جب یا جہاں اس کی  کوشش کے  نتیجے میں پھل یا کامیابی ظاہر ہوتی اسے  صرف اس کا  جانا جاتا ہے ۔ تاہم اس نے اس کے وفادار بندوں، سچے مومنوں، کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ ان کی جدوجہد جلد یا دیر سے کامیابی سے ہمکنار ضرور ہوگی ۔

اسلام کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اللہ کے رسول، انبیاء، اس بات کے لئے  پابند فرض ہیں کہ  وہ  اس کی ہدایات ، اس کے کلام کی حفاظت اسی طرح کریں گے جیسا انہیں  اس کی طرف سے موصول ہوئے  ۔ وہ اس کے کلام میں کوئی تبدیلی یا ترمیم کی اجازت کبھی نہیں دیں گے  یا ان کے مشن کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ کبھی قبول نہیں کریں گے۔

طائف کے مغلوب ہونے  کے بعد، اس کے بااثر قبیلے ‘‘بنی ثقیف’’ کا ایک وفد، اسلام قبول کرنے کے بعد ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لئے آیا تھا ۔ انہوں نے  درخواست کی کہ ان کے بت ‘لات ’، جو   کافر عربوں کے سب سے زیادہ محترم  بتوں میں سے ایک تھا اسے نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ درخواست کو منظور نہیں کیا گیا ۔ بت اور اس کے مندر کو منہدم کر دیا  گیا ۔ اس کے بعد، بنی ثقیف  کے پورے قبیلے اور پھر طائف کی ساری آبادی اسلام کے دامن میں آ گئی ۔

جیسا کہ سلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں میں ہے، انفرادی اور سماجی زندگی کے لحاظ سے، اللہ کے احکام کے نفاذ میں، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کبھی سمجھوتہ کا رویہ  نہیں اپنایا ۔ دور خلافت میں بھی دین کے سلسلے میں اسی طرح کا غیر مصالحانہ  رویہ پایا جاتا ہے۔

 تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ، رسولوں نے ایمان کی تبلیغ کے درمیان،  اپنے عوام کی دانشورانہ سطح کا خیال نہیں رکھا ، یا انہوں نے  افہام و تفہیم اور حکمت  کے ساتھ اپنے مشن کو پورا نہیں کیا ۔ اس کے بجائے ، اللہ ، سب کچھ جاننے والے، نے   خود ان چیزوں کو نظر میں رکھنے کے لئے انہیں مشورہ دیا۔ اپنے آخری رسول کو، اس  نے کہا کہ: "(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ " - 16:125۔

قرآن مجید میں ایک اور مقام پر اللہ نے فرمایا : "(اے محمد‘صلی اللہ علیہ وسلم’) خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے۔ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ ۔۔۔ "- 3،159

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کے اصحاب کو بھی اسلام کی تبلیغ میں لوگوں سے گفتگو میں  نرم اور مہربان ہونے کا مشورہ دیا۔ وہ ان سے کہا کرتے تھے کہ  وہ معاملات کو حل کرنےکے لئے(مقرر)   کئے گئے ہیں مشکلات پیدا کرنے کے لئےنہیں ۔

 

ماخذ:

http://www.khaleejtimes.com/kt-article-display-1.asp?xfile=/data/opinion/2012/August/opinion_August33.xml&section=opinion

URL for English article

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/by-khwaja-mohammad-zubair/oneness-of-god,-the-distinctive-characteristic-of-islam/d/8227

URL for this article

 http://www.newageislam.com/urdu-section/khwaja-mohammad-zubair-خواجہ-محمد-زبیر/oneness-of-god,-the-distinctive-characteristic-of-islam-خدا-کی-وحدانیت،-اسلام-کی-نمایا-خصوصیت/d/11270

 

Loading..

Loading..