New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 04:44 AM

Urdu Section ( 11 Jan 2015, NewAgeIslam.Com)

Religious and Practical Interpretation of 'Bismillah hir Rahman nir Rahim’ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ،کی دینی و عملی تفسیر

 

 

خواجہ ازہر عباس ، فاصل درس نظامی

ہم مسلمانوں کی اسلامی آداب معاشرت میں ( بسم اللہ الرحمٰن الرحیم) شریف کو بڑا اہم مقام  حاصل ہے او رہم سب مسلمان جب بھی کوئی کام شروع کرتے ہیں تو اس سے پیشتر عموماً بسم اللہ ضرور پڑھتے ہیں ۔ حدیث شریف میں آیا ہے  کُل امر ذی بال لم یُذ کرفیہ اسم اللہ فھو ابتر، جو اہم کام اللہ کے نام کے بغیر شروع ہوگا ، وہ ناکامی سے دو چار ہوگا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوتا ہے۔ تو بسم اللہ کہہ، کھانا کھانے سے پہلے، پانی پینے سے پہلے، وضو کرنے ، سواری پر سوار ہونے اور اترنے سے پہلے۔ اگر انسان اپنے خالق او رکار ساز حقیقی کا نام لینے کا خوگر ہوجائے تو اس کی برکت سے مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں اور اس کی تائید و نصرت پر بھروسہ ہوجاتا ہے ۔ امام قرطبی نے صحیح سند سے یہ حدیث شریف نقل کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص نے شکایت کی یا رسول اللہ  جب سے مشرف بااسلام ہواہوں جسم میں درد رہتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لیا کرو۔قرآن کریم کی ساری سورتوں کی ابتداء بسم اللہ سے ہوتی ہے۔ صرف سورہ توبہ ایسی سورت ہے جس کی ابتداء بسم اللہ سے نہیں ہوتی کیونکہ اس کا آغاز مکہ کے مجرموں اور معاہدہ  شکنوں سے  اعلان جنگ کے ساتھ ہوا ہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر اللہ کی صفارِ رحمٰن و رحیم کا ذکر کرنا مناسب نہیں تھا۔ بسم اللہ کا کلمہ تین الفاظ پر مشتمل ہے۔ ایک حرف باء، دوسرے اسم اور تیسرے اللہ۔ عربی قواعد کے مطابق حرف باء سولہ معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ جن میں سے چند معانی یہ ہیں۔

(1)  تعدیہ ۔ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ (2:17) اللہ ان کا نور لے گیا۔

(2) سبییہ ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ( 3:11) پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب ( کی وجہ) سے پکڑ لیا۔

(3) کے ساتھ ۔يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ ( 11:48) ، اے نوح سلامتی کے ساتھ اتر چل۔

(4) کے مقام پر ۔وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ ( 3:123) ، بے شک اللہ نے بدر کے مقام پر تمہاری مدد کی۔

(5) کے پاس ۔ إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ ( 25:72) ، جب وہ لغو کے پاس سے گزرتے ہیں۔

(6) کے وقت۔نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ ( 54:34) ہم نے انہیں صبح کے وقت نجات دی۔

(7) برائے قسم ۔ فَبِعِزَّتِكَ ( 38:82) تیری عزت کی قسم۔

(8) بازائدہ۔  لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ ( 88:22) اے رسول آپ لوگوں پر داروغے نہیں ہیں ۔

(9) با بمعنی کو۔ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ ( 82:9) ، بلکہ تم دین کو جھٹلاتے ہو۔

(10)  بابمعنی عوض ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ ( 12:20) اور انہوں نے اسے تھوڑی قیمت کے عوض بیچ دیا۔

 حرف ِباء کے اور دیگر معانی بھی لغات میں موجود ہیں ۔ ہمارے مقصد کے پیش نظر قارئین کرام کو سمجھانے کے لئے یہ معانی تحریر کرنے کافی ہیں ۔

لفظِ اسم ، کسی چیز کی علامت جس سے اُسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مُسمّٰی کا ذکر بلند ہوتاہے او راس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے۔

(1) وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا ( 11:41)  اور (نوح) نے کہا کہ اللہ کا نام لے کر سوار ہوجاؤ کہ اُسی کے ہاتھ میں اس کا چلنا ہے۔

(2) إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ( 27:30) اوروہ سلیمان کی طرف سے ہے ( او رمضمون یہ ہے) کہ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم والا ہے۔

لفظ اسم کی لغوی ، منطقی او رعلمی تفصیلات بہت ہیں جن کا جاننا قارئین کرام کےلئے ضروری نہیں ہے ۔ بس اتنا جاننا کافی ہے کہ اُردو میں اس کا ترجمہ نام ہے۔

اللہ ۔اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سب سے بڑا اور سب سے جامع نام ہے اور یہ نام اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کی تثنیہ اور جمع نہیں آتے، کیونکہ اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ نام ہے اس ذات حق کا ، جو جملہ صفاتِ عالیہ کا جامع ہے، یکتا، UNIQUE ، اور بے مثال ہے۔

حمد رابا تو نسبتے است درست

بردرِ ہر کہ رفت بردرِ نست

وہ بزرگ و برتر ذات عالی صفتِ ربوبیت کے ساتھ متصب ہے۔

ابرو با دومہ و خورشید و فلک درکار اند۔ تاتو نا نے بکف آری و بغفلت نخوری ھمہ ازبہر تو سر گشتہ و فرما نبردار۔ شرط انصاف نباشد کہ تو فرماں نبری  اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ( 24:35) کا مطلب یہی ہے کہ اس کائنات کی ساری رونق اللہ تعالیٰ کی ذات کی ہے۔ اس جہاں میں جہاں بھی کوئی روشنی و رونق ہے اس کا سر چشمہ اللہ کی ذات عالی ہی ہے۔ عقل کی روشنی، علم کی روشنی، وحی کی روشنی یہ سب اسی پروردگار کی عطاء کردہ ہیں۔ اسی روشنی  و رونق میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔ وہ صمد ہے کسی ایک کا بھی محتاج نہیں ۔

نہ تنہا بُدی چو نکہ خلقت نبود

نہ چوں کردہ شد، بر تو زحمت فزود

وللہ دُرّ

صاف آئے گی نظر صانع عالم کی جھلک

سامنے کچھ نہ رکھ ، آئینہ فطرت کے سوا۔

حرف باء کے مذکورہ بالامعانی کے پیش نظر مفسرین کرام نے معانی کی ترتیب ا س طرح کی ہے۔

(1) اللہ کے نام ساتھ (2) اللہ کے نام کی مدد سے  (3) اللہ کے نام کی برکت سے

(2) حرفِ باء کے جو بھی معنی لیں ، ان تینوں صورتوں میں یہ جملہ اپنے معنی مکمل نہیں کرتا۔ اس لئے عربی قواعد کے مطابق یہاں کوئی فعل مقدر  ماننا پڑتا ہے مثلاً یہ کہ میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں یا اللہ کے نام کے ساتھ پڑھتا ہوں ۔

رحمان ۔ اسم رحمان ، غضان اور سکران کے وزن پرمبالغہ کا صیغہ ہے۔ عربی محاورہ کے مطابق فعلان کا وزن جوش و جذبہ پر دلالت کرتا ہے۔ رحمٰن کے معنی ہیں جس کی رحمت ہنگامی طور پر شدت کے ساتھ واقع ہو۔ کائنات کی عام نشو و نما  اللہ کی صفت ر بوبیت سے ہوتی ہے اور کائنات میں ایک ہنگامی یا فجائی ارتقاء اللہ کی صفتِ رحمانیت کی رُو سے نمود پذیر ہوتا ہے۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم نے رحمٰن اور رحیم کی صفات کا الگ الگ ذکر کیا ہے۔ رحمٰن کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ رحمٰن کا اطلاق صرف ذات باری تعالیٰ کے لئے  ہوتا ہے اور رحیم میں دوسرے رحمت کرنے والےبھی شریک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روف و رحیم کہا گیا ہے ( 9:129)

قرآن میں جس  کثرت کےساتھ صفت ربوبیت کا ذکر آیا ہے تقریباً اسی شدت اور کثرت کےساتھ صفت رحمت کا ذکر بھی بےشمار مقامات پر آیا ہے،رؤف الرحیم، غفور الرحیم ،  عزیز الرحیم ، برَ الرحیم، کے مبارک الفاظ بار بار استعمال  ہوئے ہیں ۔قرآن کریم میں تقریباً ڈیڑھ سو مرتبہ اللہ کے ایسے نام آئے ہیں جن میں رحمٰن و رحیم موجود ہیں۔ رحیم کے معنی میں تسلسل اور تواتر کار فرما ہے رحیم کےمعنی ہیں جوش و شدت بالکل نہیں ہے بلکہ اس میں پائیداری اور استقلال ہوتاہے۔  بندہ جب بھی جناب باری تعالیٰ کو پکارتاہے ۔ وہ اس کی پکار کو سنتا ہے اور اس کی التجا ؤں کو شرف قبولیت عطاء فرماتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضہ تھا کہ جب اس نے انسان کو پیدا کیا تو اس کی طبعی ضروریات کا سامان از خود مہیا فرماتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو کرّہِ ارض کے گرد پھیلادیا تاکہ انسان جس جگہ بھی جائے، اُسے ہوا ملتی رہے ۔ ہوا کے ساتھ ساتھ روشنی کا انتظام بھی اسی طرح کیا گیا ۔ اس کے بعد پانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ساری دنیا میں کس فراوانی سےمہیا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد رزق کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اسی وجہ سے بنائی کہ اس کی ساری مخلوق اس زمین سے اپنا اپنا رزق حاصل کرے۔

آپ لفظ رحمت اور اس کے مفہوم پر غور فرمائیں۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ جب سے اس زمین پر مخلوقات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، یہ زمین سب کو رزق فراہم کررہی ہے اور ا س زمین میں رزق پیدا کرنے کی لا محدود صلاحیت رکھ دی گئی ہے۔ البتہ اس میں رزق کی پیداوار فطرت کے قوانین کے مطابق ہوتی ہے ۔ اگر ایسا ہوتا کہ یہ زمین ایک دفعہ ہی اپنا سارا خزانہ باہر نکال کر رکھ دیتی ، تو آئندہ آنے والی نسلیں بھوک سے مر جاتیں ۔ اسی لئے ارشاد ہوا وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ( 15:21) ( ترجمہ) تمام چیزوں کے خزانے ہمارے پاس ہیں لیکن ہم معّین انداز سے اُسے نازل کرتےہیں ۔ ‘‘بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ’’کے الفاظ بہت ہی معنی خیز ہیں اور اسی قسم کی آیات قرآن کریم کے وحی الہٰی ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ زمین سے فائدہ اٹھانے اور اس میں زراعت کرنے کے بھی قوانین مقرر ہیں ۔ زراعت کے ان قوانین کے علم میں جس قدر اضافہ ہوگا، اسی نسبت سےزمین کے خزانے حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک سو سال پیشتر ایک ایکٹر زمین سے کُل آٹھ من غلّہ حاصل ہوتا تھا لیکن اس موجودہ دور  میں ، زمین کے ایک ایکڑ سے 80 من غلّہ پیدا کیا جاتا ہے۔ غلّہ کی پیداوار میں جو اضافہ ہوا ہے، وہ انہیں قوانین کے معلوم کرنے سے ہوا ہے۔ جو قوم  بھی اس علم کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرے گی اسی نسبت سے اس کی ‘‘ بقدرمعلوم’’ میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

اس رحمت الہٰی میں کسی قسم کی کوئی تقسیم ، تخصیص یا امتیاز نہیں ہوتا۔ یہ سب رحمتیں ہر شخص کے لئے برابر مہیا ہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی جگہ امیر آدمی کو تو ہوا مل جائے لیکن غریب آدمی اس سے محروم رہے ۔ سورج کی پہلی شعاع جس طرح ایک امیر کے محل پر پڑتی ہے ، اسی طرح یہ شعاع ایک غریب آدمی کے جھونپڑی پر بھی پڑتی ہے ۔ بارش کے قطرات جس طرح ایک بڑے جاگیردار کے رقبہ کو سیراب کرتےہیں ۔ اسی طرح وہ قطرات غریب کا شتکار کی زمین سے بھی غلّہ اُگانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ تمام قوتوں کا منبع ہے۔ کائنات کا سارا انتظام و انصرام اس کے ذمہ ہے، وہ ہی اس کو چلارہا ہے ، اس لئے شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ ہمارے مفسرین کرام نے بسم اللہ کا یہی مفہوم تحریر کیا لیکن اس مفہوم کا ہماری عملی زندگی سے کوئی تعلق  نہیں بنتا۔ اب آپ بسم اللہ کا دینی مفہوم ملاحظہ فرمائیں  وھو ھذا۔

اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذات کی کُنہ و ماہیت کا ادراک عقل انسانی کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف اتنا ہی جان سکتے ہیں جس قدر اس نے اپنے متعلق علم عطاء فرمایا ہے۔ اپنی مبارک ذات کے متعلق جو علم اس نے عطا ء کیا ہے وہ اس کی اپنی صفات کاعلم ہے یعنی ہم اس باری تعالیٰ کے لئے صرف اتناہی جان سکتے ہیں ۔ جس قدر بھی ہم اس کی صفات کے متعلق جان سکتے ہیں ۔ اللہ رزاق ہے۔ رزاقیت کامفہوم ہم بخوبی جانتے ہیں۔ وہ حکیم ہے ، اس کے قوانین پر غور و فکر کرکے، ہم اس کے حکیم ہونے کا علم حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ غفور ہے۔ اس کے قوانین پر غور و فکر کر کے ، یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اگر کسی شخص کے تعمیری  نتائج پیدا کرنے والے اعمال کا وزن زیادہ ہے ،تو وہ شخص ان کے اعمال کے تخریبی نتائج کے مُضّرِ اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ جو اس شخص سے نادانستہ طور پر سرز د ہوگئے تھے ۔ ان صفات الہٰی کو اپنے میں منعکس کرنا مقصد حیات ہے اور جس مقام پر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا ظہور ہوتا ہے ۔ ہماری طرف سے بھی اسی صفت کا ظہور ہونا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور انسان کی صفات کے ظہور میں جس قدر مطابقت و تَطابُق ہوگا اس سے یہ اندازہ ہوسکتاہے کہ کس درجہ اللہ تعالیٰ کے صفات کا انعکاس اس شخص میں ہو چکا ہے ۔ عفو کے موقع پر عفو کا اور قہر کے موقع پر قہر کا ظہور ۔

یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی صفت کاظہور کس موقع پرکیا ہو۔ اس بات کی تعین قرآنِ کریم کی اُن آیات سے ہوتاہے جن کے آخر میں یہ صفات آئی ہیں۔ بیشتر مقامات پر آیات کے آخر میں کسی نہ کسی صفتِ الہٰی  کا ذکر ہوتا ہے ۔ ان آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قسم کے حالات و واقعات کا ذکر ان آیات میں ہوا ہے۔ ایسے مواقع پر اس صفت کا ظہور ہوناچاہئے جو ان آیات کے آخر میں آئی ہیں ۔ قرآن کریم میں بہت  گہرے غور و فکر کے بعد یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کس قسم کے حادثات و مقامات پر کس قسم کی صفتِ الہٰی ظہور پذیر ہوئی تھی ۔ ایسے مواقع پر اسی قسم کی صفت کی نمود ہونی چاہئے ۔ رحم کے موقع پر رحم ، اور عدل کے موقع پر عدل۔ جس مقام پر جس صفتِ الہٰی کی نمود کی ضرورت ہو، وہاں اسی صفت کا ظہور ہونا چاہئے اور اسی قدر ہونا چاہئے ، جس قدر اس کی ضرورت ہے۔ ان صفات میں سے نہ کسی صفت کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے او رنہ ہی کسی  صفت میں غُلُو کرنا چاہئے۔ یہ تمام  صفات اپنی  اپنی جگہ بہترین نتائج کی حامل ہوتی ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے ان کو الاسماء الحسنیٰ کہا ہے۔

اس ضروری تمہید کے بعد اب بسم اللہ کے مفہوم کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔

ہمارے مفسرین کرام نے بسم اللہ کی باء کو برکت اور استعانت کے معنی  میں لیا ہے، جو یقیناً بالکل درست ہے لیکن حرف ِ باء کے ایک معنی کسی چیز کا سبب ، کسی چیز کی عِلّت کے بھی ہوتے ہیں  فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ( 3:11) ( ترجمہ) او راللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت ( تفسیر نمونہ) جیسا کہ اوپر تحریر کیا جا چکا ہے ، سورۂ حشر میں قرآن کریم نے ان صفات کو اسماء سے تعبیر کیا ہے  لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ( 59:24)، اس لئے بسم اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ جو کام بھی اب کیا جائےگا، اس کامقصد اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت و رحمیت کو عام کرنا ہے اور معاشرہ میں ان صفات کا عملی مظاہرہ ہو، او رمحسوس طور پر ان صفات کا اثرات سامنے آئیں ۔ جب ان الفاظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کا ارشاد  ہے کہ ہم نے آیت کو اس لئے نازل کیا ہے کہ ہماری صفت رحمانیت اور صفت رحمیت تمام معاشرہ میں عام ہوجائے اور جب ایک مسلمان اپنے کسی  کام کو ان الفاظ کے ساتھ شروع کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ میں اس کام کو اس لئے کررہاہوں کہ اس سے اللہ کی صفتِ رحمانیت اور رحمیت  عام ہوجائے ۔ اس آیت بسم اللہ سے مقصود اللہ کی صفت رحمانیت و رحمیت کو عام کرنا ہے۔ اصل و بنیادی مقصد بسم اللہ کا یہی ہے کہ ہر شخص جو کام بھی کرے اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو معاشرہ میں عملاً ظہور پذیر کرنا ہے۔ مثلاً ہم نے جب یہ مضمون تحریر کرنا شروع کیا تو بسم اللہ  پڑھ کر شروع کیا اور آپ نے جب اس مضمون کو ملاحظہ کرنا  شروع کیا تو آپ نےبھی بسم اللہ پڑھ کر شروع کیا۔ ہم سب کا بسم اللہ پڑھنے سے یہی مقصود ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت و رحمیت کو عام کردیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا یہ جملہ مبارکہ سورۂ نمل میں بھی آیا ہے جب حضرت سلیمان نے ملکۂ سبا کو ایک خط تحریر کیا تھا تو انہوں نے خط کی ابتدا ء میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تحریر فرمایا تھا ( 27:30) انہوں نے تحریر فرمایا کہ میں جو یہ قدم اٹھا رہا  ہوں ، اس سے مقصد ملک فتح کرنا  نہیں ہے میرا مقصد یہ ہے کہ میں اللہ کی صفت رحمانیت و رحمیت کو عام کردوں۔ خود ملکہ سبا نے بھی اپنے درباریوں کے سامنے جب حضرت سلیمان کے اس خط کا تذکرہ کیا تو اس کو کتاب کریم کہا ہے۔ ملکہ سبا کے اپنے ملک کانظام بہت خراب تھا ۔ وہاں سورج کی  پرستش ہوتی تھی او ران کےاعمال بھی شیطانی اعمال تھے ( 27
:24) اس نظام میں انسانوں پر ظلم ڈھائے جارہے تھے اور ان کا صلاحیتیں نشو و نما نہیں  پارہی تھیں ۔ حضرت سلیمان کا خط خود اپنا مقصد واضح کررہا تھا کہ حضرت سلیمان کامقصد صرف اللہ تعالیٰ کی صفات رحمانیت و رحمیت کو اس ملک میں عام کرنا تھا اور ان دونوں صفات کو فروغ دینا تھا او ریہی مقصد اس آیہ کریمہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ہے۔

ہیست کلید در گنج حکیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نومبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/religious-and-practical-interpretation-of--bismillah-hir-rahman-nir-rahim’--بسم-اللہ-الرحمٰن-الرحیم-،کی-دینی-و-عملی-تفسیر/d/100962

 

Loading..

Loading..