New Age Islam
Fri Oct 30 2020, 06:01 AM

Urdu Section ( 17 Jun 2014, NewAgeIslam.Com)

Miracles of the Quran Part 10 اعجاز القرآن قسط دس

 

 

 

 

ٓیات میراث ۔ باب دہم

خواجہ ازہر عباس ، فاصل درس نظامی

قرآن کریم کے وحی الٰہی  ہونے کی ایک دلیل آیات وراثت بھی ہیں ۔ حضور کی بعثت  کے وقت عربوں  میں میراث  کی مندرجہ ذیل  رسوم جاری تھیں ۔ مختلف  حالات  میں کسی  ایک صورت  میں اختیار  کرلیا جاناتھا ۔

(1)  ترکہ میں وراثت  جاری نہیں  ہوتی تھی  ، وہ قوم  کی ملکیت  تھی ۔

(2) ترکہ تقسیم  نہیں ہوتا تھا   ، وہ خاندان  کی مشترکہ جائیداد  ہوجاتی تھی

(3) ترکہ میت  کے خلف  اکبر کا حق  ہوتا تھا،  دوسرے سب  قر ابتدار محروم  رہتے تھے ۔

(4) ترکہ کے مستحقین  وہ رشتہ دار ہوتے تھے جو میت کی وفات  کے وقت دفاع اور جنگ لڑنے کی صلاحیت  رکھتے تھے، باقی بچے   ، عورتیں  سب محروم ہوتی تھیں ۔

(5) ترکہ کے مستحق صرف مرد ہوتے تھے ، عورتیں  سب محروم ہوتی تھیں ۔

عہد  جاہلیت  کی رسوم کےبرخلاف قرآن کریم نے مندرجہ ذیل  قانون عطا فرمایا ۔ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَنَصِيبًا مَّفْرُوضًا ( 7۔4) ( ترجمہ) مردوں کے لئے اس میں سے کچھ ان کے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ  ہے اور عورتوں کے لئے بھی جو ان کے والدین  اور رشتہ دار چھوڑ جائیں حصہ ہے۔ چاہے وہ مال کم یا  زیادہ یہ حصہ مقرر اور لازمی ہے۔

اس آیت  میں پانچ  قانونی  حکم دیئے  گئے ہیں ۔

(1)  دوسرے یہ  کہ میرا ث بہر حال تقسیم ہونی چاہئے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو حتیٰ کہ اگر مرنے والے نے  ایک گز کپڑا چھوڑا ہے اور اس کےدس وارث ہیں ، تو اسے  بھی دس حصوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔

(2) تیسرے  اس آیت  سے یہ بات  بھی مترشح ہوتی  ہے کہ وراثت  کا قانون ہر قسم کے اموال  و املاک  پرجاری  ہوگا خواہ  وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ ، زرعی ہوں یا صنعتی ۔

(3) چوتھی آیت  سے معلوم  ہوتا ہے کہ میراث  کا حق  اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث  کوئی مال چھوڑ کر مرا ہو ۔

(4) پانچویں  یہ کہ قریب  تر رشتہ  دار کی موجودگی میں بعید  تر رشتہ دار کو میراث  نہیں جاسکے گا ۔ ( فقہ القرآن  ، علامہ اقبال  اوپن یونیورسٹی  ، اسلام آباد)

یہ بات واضح رہے کہ اسلام  سے پیشتر  نہ صرف عربوں  میں بلکہ ساری  دنیا میں  یہ حال تھا  کہ یتیموں  اور عورتوں کا کیا ذکر  ہے ، تمام  کمزور وراث ،  طاقتور وارثوں  کے رحم و کرم پر ہوتے تھے ۔ قرآن  نے اس صورت  حال کی طرف دوسرے مقام  وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا ( 19۔89) ( مردے کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو)کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے ۔ اس صورت  حال کو ختم  کردینے  کے لئے قرآن نے تمام وارثوں  کے حقوق خود متعین  کردیئے ہیں ۔ مردوں  کے بھی اور عورتوں کے بھی ۔ عورتوں  کو پہلی  بار مردوں جیسا  حصہ  حاصل ہوا اور اپنے والدین  ، شوہر اور رشتہ داروں کے ترکے میں بھی  اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ان کا حصہ  مقرر اور فرض ہوا ہے ۔

حصے متعین  ہوجانے  کے بعد قانونی  حقدار تو وہی ہوں گے ، جواز روئے قرآن  وارث  بنے ہیں لیکن صلہ رحمی اور خاندانی  و انسانی ہمدردی  کے عام حقوق  پھر بھی باقی رہیں گے ۔ چنانچہ  وارثوں  کو خطاب  کرکے ہدایت  دی گئی کہ اگر کسی  کی وراثت  تقسیم کرتے  وقت ، قر ابتدار ، یتیم اور مسکین  آموجود ہوں تو ہر چند کہ وراثت  میں  ان کا کوئی  شرعی حق  نہیں ہوتا، تاہم وہ ڈانٹے ڈپٹے  نہ جائیں  بلکہ ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دلاکر، ان کی دلداری کی کوشش  کی جائے ۔ فرمایا کہ یہ بات  بھولنی نہیں  چاہئے کہ  جس طرح دوسروں  کے بچے یتیم  ہوئے ہیں ۔ اسی طرح تمہارے بچے بھی یتیم  ہوسکتے تھے ۔ پھر سوچیئے کہ اگر یہ اپنے پیچھے  یتیم  چھوڑتے تو ان کے دل میں  ان کے متعلق  کیا کیا اندیشے  ہوتے ، اس لئے اللہ  سے ڈرناچاہئے  اور سیدھی  بات کرنی  چاہئے ۔

وراثت کی تقسیم  کرنے کا علم ، ‘‘ علم الفرائض ’’ کہلاتا ہے یہ علم بہت پیچیدہ اور خالص فنی علم ہے۔ یہ علم قارئین  کی دلچسپی  کا باعث نہیں ہوسکتا ۔ہم نے اس جگہ  تقسیم وراثت  کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ قارئین  کرام ان آیات  کی جامعیت  پر غور فرمائیں کہ پورا  وراثت کا قانون  صرف دو آیات نمبر 11،12 میں بیان  کردیا گیا ہے ۔ یہ دو آیات  اس درجہ جامع ہیں کہ سارا قانون وراثت  صرف ان دو آیات  میں بیان  کردیا گیا ہے ۔ ہمیں یہاں  ان آیات  کی قانونی اور معاشرتی  حیثیت  سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ ہم نے ان دو آیات  کا اس  جگہ اس لئے تذکرہ  کیا ہے کہ ہمارا دعویٰ ہے کہ انسانی فکر پوری  وراثت کی تقسیم ا س طرح جامع  طور پر صرف دو آیات  میں بیان نہیں کرسکتی ۔ حضور کا دور تو علمی دور نہیں تھا ۔ ہمارا  دعویٰ  ہے اس موجود ہ دور میں بھی ماہر سے ماہر قانون  داں اس طرح جامع  قوانین  و ضع  نہیں کرسکتے ۔ ان قوانین  کو وضع کرنے والوں  کے لئے ضروری  ہے کہ وہ نہ صرف قانون  کے ماہر ہوں  بلکہ انہیں  ریاضی   ( Arithmetics ) پر بھی پوری طرح مہارت  ہو ۔ جب کہ  حضور علیہ السلام  خود نہ ماہر قانون تھے  اور نہ ہی ریاضی  دان ، یہ قوانین  خالص  الہٰی  کے عطا کرد ہ ہیں ۔ انسانی ذہن  کی رسائی  ان تک نہیں ہوسکتی ۔

ایل ایل بی  کے کورس  میں ایک پرچہ  اسلامی قانون  کا بھی  ہوتا ہے ۔ اس پرچہ  میں اسلامی  قوانین  کے متعلق  سوالات  ہوتے ہیں  جو سو نمبر  پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس پرچہ  میں ایک سوال وراثت  کے بارے میں  بھی ہوتا ہے جو بیس نمبر  کا ہوتا ہے ۔ اس امتحان  کے اکثر طلباء وراثت کے سوال کو چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ  یہ اس درجہ مشکل  ہوتا ہے کہ طلباء کو یہ مشکل سے سمجھ  میں آتا ہے ۔ ہمارے علماء  کرام میں  سے بھی بہت  کم علماء  ایسے ہیں  جو وراثت  کے قوانین  کو عملاً جاری کرسکتے ہیں ۔ ورنہ  اکثر علماء اس فن سے ناواقف ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے  علماء کی یہ کمزوری  ہوتی ہے کہ وہ عموماً ریاضی  سے ناواقف  ہوتے ہیں ۔ اس علم  کے متعلق  عربی میں  بھی معروف  ایک کتاب  سراجی ہی ہے ۔ جو درس نظامی  میں شامل  ہے ۔ وراثت کی آیات  ذہن  انسانی  بنا ہی  نہیں سکتا  یہ خالص وحی کی عطا کردہ ہیں ۔

قرآن کریم  نے اپنے بے مثل  ہونے کا دعویٰ کیا تھا جو آج تک قائم  ہے ۔ ادارہ صوت الحق  ساری دنیا  کو چیلنج  دیتا ہے کہ اگر  ہوسکتا ہے تو صرف ان آیات کی مثل آیات  بنا کر پیش  کردیں ورنہ  قرآن  کا دعویٰ تسلیم کر یں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقام عبرت

ہمارے عہد کے شیعہ سنی  اسلام سے اپنی  وابستگی  کے باوجود  الگ الگ خانوں میں جیتے  ہیں ۔ ان کاملی مفاد  الگ ،  ان کی  کتابیں  الگ ، ان کے علماء الگ حتیٰ کہ  ان کی مساجد بھی الگ الگ ہوگئی ہیں ۔ صرف شیعہ سنی  پر ہی موقوف  نہیں ، بلکہ  مسلمانوں  کے مختلف  گروہ خواہ وہ اسماعیل  اور اباضی  ہوں یا بعد  کے عہد میں  بننے والے  سلفی، جماعتی، دیوبندی او ربریلوی  مسالک کے حاملین  ، ان سب نے اپنی اپنی مسجدیں  الگ کرلی ہیں،  کون سی مسجد  کس مسلک  کی ہے اس کا اندازہ  اس مسجد  میں پائی جانے والی دینی کتابوں  سے بآسانی ہوجاتا ہے ۔  ذرا باریک بینی  سے دیکھئے تو یہ حقیقت  چھپائے  نہیں پھپتی کہ مسجدیں  ہوں یا مدرسے ،بظاہر ان پر دینداری  کا کتنا ہی  خوشنما طمع  کیوں نہ چڑھا ہو اور ان کے میناروں  سے اللہ اکبر  کی صدا کیوں نہ سنائی دیتی  ہو دراصل  یہ تنگ نظری ، تعصب اور فرقہ بندی  کے قلعے بن کر رہ گئے ہیں جہاں خدا ئے واحد  کی عبادت  کے بجائے  اپنے اپنے  فرقوں  اور مسلکوں  کا علم بلند  کیا جارہا ہے ۔ بڑے قلق  کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ یہ دراصل  توحید  کے مراکز  نہیں بلکہ شرک اور بت پرستی  کے اڈے ہیں جو عین مسلم معاشرے کے اندر اسلام   اور مسلمانوں  کے خلاف برسرِ پیکار ہیں ۔

دسمبر، 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas/miracles-of-the-quran-part-10-اعجاز-القرآن--قسط-دس/d/87598

 

Loading..

Loading..