New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 06:33 PM

Urdu Section ( 8 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Islamic Way Of Self-Purification تزکیۂ نفس کادینی طریقہ

 

خواجہ ازہر عباس

مئی 2013

مولاناامین احسن    ا صلاحی کاشمار اس دور کے ممتاز علماء کرام میں ہوتاہے۔ وہ سولہ سال تک جماعت اسلامی کےایک اہم رکن رہے۔ اس کے بعد انہوں نے چند اختلافات کی بنا ء پر جماعت اسلامی سےعلیحدگی اختیار کرلی اور اپنی باقی زندگی ، گوشۂ تنہائی میں ، قرآن کریم کی تعلیم  و تدریس میں گزار دی ۔اس عر صہ میں انہوں نے سینکڑوں طلباء قرآن کی راہ نما ئی فرمائی اور ایک نہایت عمدہ تفسیر ‘‘ تد بر قرآن’’ کےنام سے تصنیف فرمائی ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہےکہ ہمارے تفسیر ی ذخیرہ میں شروع کے دورکی تفاسیر اتنی عمدہ نہیں ہیں جتنی اس موجودہ دور کی تفاسیر ہیں ۔ ہمارے علماء کرام اصولی طور پر تو سلف صالحین کی پیروی کے قائل ہیں اور سلف صالحین کے قول و فعل سےسر مو انصراف کرنے کو تیار ہیں لیکن عقل انسانی ترقی کرتی چلی جارہی ہے اورمعاشرے خود بھی ترقی کررہے ہیں ۔ زمانے  کے  تقاضے بھی مجبور کررہے ہیں کہ گزشتہ ایک ہزار سال پیشتر کی سوچ کو ترک کردیا جائے ۔ وہ گزشتہ تفاسیر مُعجزات ، کرامات، تو ہمات اور بعید از قیاس باتوں سےبھری ہیں۔ وہ تفاسیر موجودہ دور کے ذہن کو مطمئن کرہی نہیں سکتیں۔ آپ طبری ، ابن کثیر ، تفسیر مظہری ، تفسیر کبیر کوملاحظہ فرمائیں اور پھر اس دور کی تفاسیر کامطالعہ فرمائیں ۔ آپ کو ان کےمعیار میں بہت نمایاں فرق محسوس ہوگا ہمارے خیال میں مذہبی  نقطہ ٔ نگاہ سےاور روایات کی رُو سے جتنی تفاسیر اب تک اردو  زبان میں تحریر کی گئی ہیں ۔ مولانا  اصلاحی کی تفسیر ‘‘ تدُ بر قرآ ن  ’’ ان میں سب سے بہتر تفسیر ہے۔ جو موجودہ دورکے ذہن  کو مطمئن کر دیتی ہے۔ البتہ موجودہ دورمیں ایرانی علماء نے بھی قرآن کریم پر کافی کام کیاہے۔ ان کا اپنا نقطۂ نگاہ ہےلیکن  ان کے نقطہ ٔ نگاہ سےصرف نظر کرنے کے بعد، ان کی تفاسیر اچھی ہیں اور ان موجودہ دورکی تحریر کردہ تفاسیر میں ‘‘ تفسیر نمونہ’’ کا ایک اپنامنفرد مقام ہے۔ تقریباً بارہ علماء نے غالباً حکومت کے تعاون سے مل کے تصنیف کی ہے۔

مولانا اصلاحی اپنے اعلیٰ مقام کےعلاوہ بھی نہایت پختہ سیرت بزرگ  تھے۔ وہ سر تا پا اخلاص کے پیکر تھے ۔ اور پاکستان اور مسلمانوں سے حد درجہ محبت کرتے تھے ۔ انہوں نے بہت طویل عمر پائی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ہم نے ان کی چند تقاریر میں شرکت کی ہے ۔ ایک تقریر انہوں نے سیرت النبی  کے موضوع پر F.C کالج ، لاہور کی تھی۔ اگرچہ وہ خطیب نہیں تھے  ، خطابت ان کا میدان بھی نہیں تھا۔ لیکن ان کے باوجود ان کی تقریر میں اس قدر عمدہ علمی مواد تھا  کہ وہ سب سامعین  کو مسحور  کر گئی۔ مولانا  اصلاحی مرحوم نے تفسیر ‘‘ تدبر قرآن’’ کے علاوہ بھی چند کتب تحریر کی ہیں ۔ ان کتب  میں سےان کی ایک کتاب ‘‘تزکیہ نفس ’’ بھی دو جلدوں میں طبع  ہوئی ہے اور یہ کتاب Net  پہ موجود ہے۔ یہ بہت ہی عمدہ کتاب ہے اور قرآن کریم کےطلبا ء کےلئے اس کامطالعہ ضرور فائدہ مند ہوگا۔ اس کتاب  کا ایک باب قارئین  کرام کے مطا لعہ  کے لئےطبع کیا جاتاہے ۔ آپ اس باب  کو مطالعہ فرمائیں ۔ مولانا  موصوف کامقام اس درجہ بلند ہےکہ ہم ان کےمضمون  پر تبصرہ  کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے البتہ مضمون کےبعد، چند گزار شات، اس مضمون کی وضاحت کےسلسلہ  میں تحریر کرنامناسب معلوم ہوتا ہے ۔ اب مولانا کامضمون ملاحظہ فرمائیں ۔

تعلق با للہ اور اس کی اساسات۔

تعلقات میں سب سے پہلے  جو تعلق زیر بحث آتا ہے وہ آدمی کاتعلق اپنے رب کے ساتھ ہے۔ اسی تعلق  کےصحیح  شعور اور اس کی صحیح  معرفت سےآدمی کو دوسرے تعلقات کے صحیح حقوق و فرائض  کی شناخت ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ ہمارا تعلق ہماری  ذات کے ساتھ کن بنیادوں پر قائم  ہے ۔ خاندان ، قبیلہ ، قوم  حکومت اور ریاست کے ساتھ ہمارے تعلق کی اساسات  کیا ہیں اور بنی نوع انسان کےساتھ ہم کن روابط کےساتھ وابستہ  ہیں۔

ان تمام تعلقات کی بنیادیں اگر  واضح ہوکر سامنے آجائیں اور آدمی ہر غلط بندھن  کو توڑ دے اور ہر صحیح  رشتہ کو استوار کر لے تو وہ اپنے رب کا فرما نبردار بندہ، اپنے خاندان اور کنبے کا ایک لائق فرد، اپنی ریاست کا ایک خیر خواہ وفادار شہر ی اور دنیا میں ایک سچا محبّ انسانیت بن جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جس کو حاصل کر کےدر حقیقت ایک انسان ایک صحیح تربیت یافتہ اور ایک پاکیزہ انسان بنتا ہے اور اسی طرح کا تربیت یافتہ اور پاکیزہ  انسان بنانا اس تزکیہ کا اصل مقصود ہے جس کی تعلیم حضرات انبیا ء علیہم السلام نے دی ہے۔ اگر انسان کے ان تعلقات  کاکوئی گوشہ بھی ناہموار رہ جائے تو صرف یہی نہیں کہ اس گوشہ میں تزکیہ کی برکت سےمحروم رہتاہے ،بلکہ یہ دلیل ہے اس بات  کی کہ اس کےدوسرے گوشوں میں بھی نا ہموار یاں اور خرابیاں موجود ہیں ۔ ہماری زندگی  کے یہ تمام پہلو ایک دوسرے کےساتھ اس طرح بندھے  ہوئے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا بناؤ یا بگاڑ  ایک دوسرے  پر اثر انداز ہوتا ہے۔

قرآن مجید  کے تد بر سے یہ بات واضح ہو تی ہےکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماراتعلق صحیح طور پر اس صورت میں قائم ہوتاہے،جب ہم اپنے آپ کو اللہ کی صفات کے تقاضوں کےمطابق بنائیں۔ اللہ تعالیٰ  کی ہر صفت  ہمارے دل  ، ہماری روح اور ہمارے ارادے سے ایک خاص مطالبہ  کرتی ہے۔ اگر ہم یہ تمام  مطالبے  ٹھیک ٹھیک  پورے کردیں  تو اس  کےمعنی یہ ہیں کہ ہم نے اپنے رب کے ساتھ اپنے تعلق  کو بالکل صحیح بنیاد پر قائم  کرلیا۔ در حقیقت یہی تقاضے ہیں جن  کی تفصیلات شریعت میں بیان  ہوئی ہیں اور قرآن مجید میں اکثر احکام و ہدایات  کےبیان کےساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ  کی کسی صفت  کاجو حوالہ ٓاتا ہے وہ درحقیقت اسی بات  کو واضح  کرنے کے لئےآتا ہے کہ یہ مطالبہ یایہ ہدایت اللہ کی فلاں صفت کا جلوہ ہے وہ شخص در حقیقت  شریعت کی اصلی روح کو پہچانتا ہے۔ شریعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےاحسان سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ اللہ کی بندگی اور اطاعت اس طرح کرتا ہے کہ گویا بندہ اللہ  کو دیکھ رہاہے ۔ بندہ کا اللہ کو دیکھنا  یہی ہے کہ شریعت کے ہر حکم کے اندر اللہ کی صفات کا جو عکس ہے وہ اس طرح کو نظر آتاہے اور جب وہ عکس اس کو نظر آتا ہے تووہ صاف یہ محسوس کرتاہے کہ اس کے اندر اللہ کی نگراں آنکھیں چھپی ہوئی ہیں جو اسے دیکھ رہی ہیں۔

قرآن مجید کی تلاوت کیجئے تو آپ کو ہر حکم اور ہدایت کے ساتھ اللہ کی کسی نہ کسی صفت کا حوالہ  ضرور ملے گا۔ کہیں ایک بات فرمائی جائے گی اور اس کے ساتھ یہ آئے گا کہ اللہ علیم و خبیر ہے ۔کہیں ایک بات کا حکم دیا جائے گا اور ارشاد ہوگا کہ اللہ علیم و حکیم ہے ۔ کہیں کسی چیز  سےروکا جائے گا اور اس کے ساتھ یہ تنبیہ ہوگی کہ اللہ قوی و عزیز ہے۔ اس سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام دین و شریعت درحقیقت اللہ کی صفات کا مظاہرہ ہے۔ آدمی اگر اپنے رب کو پوری طر ح شریعت  کے رنگ میں رنگ لے تو اس نے اپنے آپ کو صبغۃ اللہ میں رنگ لیا ۔اور دوسری بات یہ واضح ہوئی کہ شریعت  کے احکام کی پابندی کا اصلی مزا صرف اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے جو شریعت کے احکام  کے اندر اللہ  کی صفاتِ جمال و جلال کو دیکھ رہا ہو ۔ جو لوگ اس جمال و جلال کےمشاہدے سےمحروم رہتےہیں ان کی دیندار ی بالکل  رسمی اور رواجی  دینداری ہوتی ہے۔ اس کے اندر اوّل تو پائیداری  نہیں ہوتی اور  پائداری  ہوتی بھی  ہے تو اس کے اندر روح اور زندگی نہیں ہوتی ۔

ایک غلط فہمی کی طرف اشارہ :۔

یہاں ایک غلط فہمی سے آگاہ کردینا ضروری ہے وہ یہ کہ اللہ کی صفات کے تقاضوں کے مطابق بننا اور چیز ہے اور اللہ کی صفات کامظہر بننے کی کوشش کرنا ایک بالکل دوسری چیز ہے۔شریعت انسان کاتعلق اللہ کے ساتھ جوڑتی ہے ۔ اس میں اصلی نصب العین اور مطمح نظریہ ہے کہ بندہ اپنے ظاہر وباطن ، دونوں میں اللہ کی صفات کےتقاضوں کے مطابق بن جائے ۔ شریعت میں بندے کےلئےکمال کا سب سے بڑا درجہ یہی ہے جو اکتساب اور جد و جہد سے حاصل کیاجاسکتا ہے ۔ اس کے بعد اگر کمال کاکوئی درجہ ہے تو وہ نبوت کا درجہ ہے لیکن وہ اکتسابی چیز نہیں بلکہ اللہ ہی نے جس کو چاہاہے  یہ مرتبہ دیاہے لیکن جو گیوں  اور راہبوں کے تصوف میں، بالخصوص اس تصوف میں جس کی بنیاد و حدت الوجود کے نظر یہ  پر ہے، مطمح نظر اللہ کی صفات کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کانہیں ہے، بلکہ اللہ کی صفات کامظہر  بننے کا  ہے ۔ اس مجاہدہ اور یاضت کا اصلی مقصود یہ نہیں  ہوتا کہ آدمی  عہد یت کاکمال درجہ  حاصل کرلے ، بلکہ سارا زور اس بات پر صرف ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کی صفات کا اس طرح مظہر بن جائے کہ قطرہ  دریا میں ضم ہوجائے اور دوئی اور تفرقہ کے سارے نشانات مٹ جائیں :

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا

ظاہر ہے کہ یہ مطمح نظر شریعت کے مطمح نظر سے ایک بالکل مختلف  مطمح نظر ہے۔ شریعت  آدمی  کو بندہ بنانا چاہتی ہے اور اس کا تزکیہ کا ساراجہاد اسی مقصد کےلئے ہوتا ہے ۔ بر عکس اس کے جو گیا  نہ تصوف میں آدمی  اپنے آپ کو الہٰ بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی ساری ریاضت میں یہی غلط نقطۂ نظر کا ر فرما ہوتا ہے ۔ اگر اللہ کی شان تجر د ہے تو اس راہ پر چلنے  والے اپنے اندر تجرد کی شان پیدا  کرنا چاہئیں گے ۔ اگر اللہ بے نیاز  ہے تو یہ حضرات بھی بے نیاز  بننے کی  کوشش کریں گے۔اگر اللہ مصرف ہے تو یہ بھی مصرفِ ارواح و قلوب  بننے  کےلئے زور لگائیں گے ۔ اگر اللہ علیم و خبیر  ہے تو یہ بھی غیب  کے پردوں میں جھانکنے کےلئے طرح طرح کے چلّے اور مراقبے کریں گے۔ اگر اللہ شافی ء مطلق ہے تو یہ بھی چاہیں گے کہ ان کے ہاتھ  لگانے اور ان کے چھو منتر سےبھی  مریض شفا پا ئیں اور مرد ے جی اٹھیں۔ اگر اللہ آگ اور پانی پر حکمران ہے تویہ بھی پانی  پر چلنا اور آگ سے کھیلنا  چاہیں گے ۔ یہاں  تک کہ اس راہ پر چلنے والےلوگ اگر شریعت  کی پابندیوں  کو قبول بھی کرتےہیں تو اپنےمذکورہ بالا مطمح نظر ہی کی خدمت کےنقطۂ نظر سے قبول کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ پابندیاں اس مطمح نظر تک پہنچنے کےلئےایک زینے  اور سہارے  کاکام دیتی  ہیں۔ بالا آخر ان کے ہاں  ایک وہ منزل بھی آتی ہےجہاں  یہ ساری  چیزیں بندھن اور حجاب کےحکم  میں داخل  ہو جاتی  ہیں اور حصول کمال مطلق کی راہ میں سبک روی کےلئے ان ساری پابندیوں سے آزاد ہوجانا ان کے ہاں ضروری ہو جاتا ہے۔

اسلام نے تعلق باللہ کے اس نقطۂ نظر کو بالکل غلط قرار دیا ہے ۔ اس نے تعلق با للہ میں ، جیسا  کہ ہم نے عرض کیا ، جس اصول کی طرف رہنمائی کی ہے وہ یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو صفات الہٰی کے تقاضوں کے مطابق بنائے ۔ مثلاً یہ کہ اللہ منعم ہے تو بند ہ کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس کا شکر گزار وبندہ بنے۔ اللہ خالق ہے تو چاہئے کہ بندہ اسی کے امر و حکم کی اطاعت کرے ۔ اللہ سمیع و علیم ہے توبندہ اسی سے مانگے اور اسی پر بھروسا کرے۔ اللہ قدوس ہے توبندہ کو چاہئے کہ اپنے ظاہر و باطن ، دونو ں کو زیادہ سےزیادہ پاکیزہ بنائے ۔ اللہ عادل  و طاقتور ہےتو چاہئے کہ وہ ہر لمحہ اس سے ڈرتا رہے  اور ظلم و نا انصافی کی ہر بات سے پر ہیز کرے ۔ غرض اللہ کی ہر صفت بندے کو گونا گوں ذمہ داریوں اور بے شمار حقوق و فرائض کے بندھنوں میں با ندھتی ہے اور بندہ  اللہ کی صفات اور ان کے عائد کردہ حقوق و فرائض کے علم و عمل  کی راہ میں جتنا ہی  بڑھتا جاتا ہے اتنا ہی  اللہ سے اس کا قرب بھی بڑھتا جاتا ہے اور اسی اعتبار سےاس کی ذمہ داریاں  بھی مشکل سےمشکل تر اور نازک  تر ہوتی جاتی ہیں۔

اس بحث سے پہلے یہاں یہ تنبیہ ہم نے اس لئے  ضروری  سمجھی ہے کہ جو گیا نہ تصوف کے بعض  غلط اثرات اس تصوف میں بھی گھس آئے ہیں جس کو مسلمانوں نے اختیار  کیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بعض ذہنوں میں وہ غلط فہمی موجود ہوتو آدمی پر تزکیہ کے اس نظام  کی اصلی قدر وقیمت  واضح نہیں  ہوسکتی جس کی طرف کتاب وسنت میں رہنمائی کی گئی ہے اور جس  کے اصول و مبادی ہم واضح کرنا چاہتے ہیں ۔

تصوف پر ہمارے متقدمین  نے جو کتابیں  تصنیف  فرمائی  ہیں ان میں سےبعض  کتابوں کی  قدر وقیمت  کے ہم بہت قائل ہیں لیکن ان کتابوں اور ان کے لائق احترام مصنفین  کے واجبی احترام  کے باوجود دیانتداری کے ساتھ ہماری رائے  یہ ہے کہ ان میں مقامات کی جو تشریح کی گئی ہے اس میں اکثر جگہ ایسا  محسوس ہوتا ہے کہ بات کتاب وسنت  کی حدود سےآگے نکل  گئی ہے ۔ ایک چیز کا جو اعلیٰ معیار وہ پیش کرتے ہیں اگرکتاب وسنت کی کسوٹی پر اس کو پرکھیے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ مقام  کتاب و ہ سنت کے مقام  سے ایک مافوق مقام ہے۔ یہاں تک کہ اگر اصلی معیار اس کو مان لیجئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم بھی اس معیار پر شاید  ہی پورے اتر سکیں ! اس چیز کا اثر طبیعت پر یا تو  مایوسی  کی شکل میں پڑتا ہے ، آدمی یہ سمجھ  بیٹھتا ہے کہ یہ باتیں ہمارے دائرہ جد وجہد  سےباہر  ہیں یا پھر کتاب و سنت سے اس کو یہ بدگمانی پیدا ہو تی ہے کہ ان میں  جو معیار پیش  کیا گیا ہے، وہ صرف عام معیار ہے، عبدیت وغیرہ  کا حقیقی معیار وہ ہے جو اہل تصوف پیش کرتے ہیں۔

اس تمہید کے بعد اب ایک  مناسب ترتیب کے ساتھ ہم ان اساسات کو واضح  کرنے کی کوشش کریں گے جن پر اللہ تعالیٰ نےپسند فرمایا کہ ہمارا تعلق اس کے ساتھ قائم ہو اور جن پر ہم اپنا تعلق  اس کے ساتھ قائم کر کے اپنے آپ کو اس صفات کے تقاضوں کے مطابق بنا سکتے ہیں۔

آپ نے مضمون مطالعہ فرمایا۔ کیسا عمدہ اور جامع مضمون ہے۔ یہ بات  خیال میں رکھئے کہ یہ مضمون  خالص  مذہبی نقطۂ نگاہ سےتحریر کیاگیاہے۔ اس کی دینی حیثیت آپ کے سامنے بعد میں پیش کی جائے گی۔اس مضمون کی خوبی  یہ ہے کہ اس مضمون میں روحانیت کے تصور اور مروجہ تصوف کو جڑ بنیاد سےاکھیڑ کے پھینک دیاہے جومسلمانوں کی تذلیل واہانت کا اصل سبب ہے ۔ مذہب کے دائرہ کے اندر رہ کر تزکیہ نفس کا یہ طریقہ تجویز کرنا، بڑی پیش رفت کی دلیل ہے ۔ آپ خود ملا حظہ فرمائیں کہ زمانے  کے تقاضے کس طرح مذہب کے داعین کو بھی مجبور کررہے ہیں کہ وہ گوشوں اور زاویوں سےباہر نکلیں ۔ایک ہزار سال سے جو تصوف ہمارے  ہاں چلا آرہا ہے اس کو ایک لخت ترک کردیں ۔ طوعاً و کرہاً ،یہ حضرات تزکیہ نفس کے اس نظریہ کو اختیار کرنے پر مجبور ہورہےہیں جس کو تحریک طلوع اسلام اپنے ابتدائی  دور سے پیش کرتی چلی آرہی ہے ۔ تحریک طلوع اسلام نے ہمیشہ تزکیہ نفس کے معنی انسانی  صلاحیتوں  کو نشو و نما  دینا  ،ان کی برو مندی کرنا، اور ان کو DEVELOP  کرنا  ، ہی تحریر کیا ہے۔ آپ مولانا کامضمون ذہن میں مُستحضر رکھیں پھر یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں ‘‘ جس چیز کو قوانین  الہٰی  کی اطاعت کہتے ہیں وہ (معاذ اللہ) کسی  مُستبد مطلق  العنان ڈکٹیٹر کے احکام کی فرماں پذیری نہیں ہوتی بلکہ ان ہدایات (DIRECTION) کا اتباع ہوتا ہے جن سے انسانی ذات کی نشو ونما ہوتی ہے ۔ ان ہدایات کے اتباع سےاس ذات کے تقاضوں کی تسکین ہوتی ہے ۔ ‘‘ یہ اقتباس ادارہ طلوع اسلام کی شائع کردہ کتاب   ‘‘ من و یزداں’’ سےلیاگیا ہے جو یہ سطور اس کتاب کے صفحہ 16 پر تحریر  ہیں یہ ساری کتاب اسی محور کے گرد گردش کررہی ہے۔

اس جامع و پرُ مُغز مضمون کےبارے میں ہماری طرف سے گزارش ہےکہ مولانا نے جس تزکیہ نفس کی نشاندہی فرمائی  ہے وہ ان کے اپنے نظریہ کے مطابق صفات الہٰی کے تقاضوں کو پوراکرنے اور قرآن کے احکام کی اطاعت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ان میں سے پہلی بات کے متعلق یہ عرض ہے کہ صفاتِ الہٰی کے تقاضوں کو پورا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ قرآن کریم  کی آیات کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی ایک صفت یا دو صفات کا ذکر ضرور ہوتا ہے ۔ ان صفات کا تعلق ان حالات سے ہوتا ہے جن کاذکر ان آیات میں ہورہا ہے ۔ آپ کو اب یہ دیکھنا  ہوگا کہ آپ کو جب بھی وہ حالات پیش آئیں تو آپ ان صفات کے مطابق عملی اقدام اٹھائیں جو اس آیت کے آخر  میں مذکور ہیں اس طرح آپ اللہ  تعا لیٰ کی صفات کو اپنے اندر منعکس یعنی (INTERNALIZE) بھی کرتے ہیں اور صفت الہٰی کا تقاضہ بھی پورا کرتے ہیں۔

دوسری بات  مولانا صاحب مرحوم نے قرآن کے احکام کی اطاعت تحریر فرمائی ہے ۔ اس کے لئے عرض ہے کہ قرآن کریم کی  رو سےاللہ تعالیٰ کی اطاعت براہِ راست نہیں ہوسکتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت،رسول اللہ کی معرفت اور اُن کے ذریعے سے ہوتی ہے۔ جس طرح اللہ کی اطاعت رسول کی معرفت ہوتی ہے بعینیہ ، اسی طرح رسول کی اطاعت بھی صرف اور صرف اولوالا مر کے ذریعہ ہی ہوسکتی  ہے ۔ اگر اولوالا مر درمیان میں واسطہ نہ ہوں، تو رسول اللہ کی اطاعت ہو ہی نہیں سکتی (59۔4) ۔ اس بات کو تسلیم کر لینے کے بعد صرف اولوالامر کی اطاعت کےذریعہ سے ہی رسول اللہ کی اطاعت ہوسکتی ہے پھر یہ بات ماننے  کے لئے کسی افلاطون یا کسی سقراط کی عقل کی ضرورت نہیں رہتی  کہ اس طرح  کی اطاعت صرف اسلامی نظام کے اندر ہی ہوسکتی ہے کیونکہ اولوالامر اسلامی نظام کے  حکام اور اس نظام کو چلانے والے افراد ہی ہوتے ہیں (59۔4،83۔4) بغیر اسلامی نظام کے قیام کے اللہ و رسول کی  اطاعت ہوہی نہیں  سکتی اور نہ ہی تزکیہ نفس ہوسکتا ہے کیونکہ تزکیہ نفس کے لئے قوانین  الہٰی کی اطاعت  لازمی ہے۔ تزکیہ نفس صرف اس معاشرہ میں ہوسکتا ہے جس میں اسلامی نظام قائم ہوتا ہے اور جس میں اللہ  و رسول  کی استمراراً اطاعت ہوتی ہے۔ یہ نظام اللہ تعالیٰ کی صفات کو اساس بنا کر ہی  قائم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات ہی مستقل اقدار ہوتی ہیں اور یہی اقدار POLITICAL PARLANCE  میں انسانی حقوق کہلا تی ہیں ۔ غیر اسلامی نظام میں صفات الہٰی کے مطابق نہ تو عمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں ۔ مولانا نے جو تحریر فرمایا وہ مذہبی نقطۂ نگاہ سےتحریر فرمایا ہے، ہماری طرف سےجو معر وضات پیش کی گئی ہیں، وہ اس کی دینی  حیثیت کی وضاحت کرتی ہیں۔ آخر میں یہ بات گوش گزار کرنامناسب  معلوم ہوتاہے کہ جس طرح صدر اوّل  کے بعد سے تحریر طلوع اسلام ایک بالکل منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ تصوف اور تزکیہ نفس کے بارے میں سارا لٹریچر مطالعہ فرمالیں، صدر اوّل سےلےکر آج تک تصوف و تزکیہ کا یہ مفہوم اور یہ طریقہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا۔ اس نظریہ کی وجہ سے پر ستش ، تہجد ، نوافل ، اشتراق ، ریاضات ، تسبیح و تہلیل ، الہام، والقاء، گوشہ نشینی ، زاویہ گری، چلہ کشتی  ، تبلیغی دورے ، دنیا سے نفرت ، آدم بیزاری، سب سے مستغنی ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ بہت اہم اور بڑی خوش آئند بات ہے۔ اگر ہم مسلمان مروجہ تصوف اور مروجہ تزکیہ نفس کو ترک کر کے ،اس قرآنی تزکیہ کو اختیار کرلیں تو مسلمانوں کی قسمت ایک ہی  نسل کے اندر بدل سکتی ہے۔ و ذلک ھو النور العظیم۔ قارئین کرام سے ہماری درخواست  ہے کہ وہ اس کتاب کو ضرور زیر مطالعہ لائیں ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کتاب مارکیٹ  میں دستیاب  ہےلیکن یہ کتاب Net پر موجود ہے۔ وہاں  سےملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

مئی 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/khwaja-azhar-abbas---خواجہ-ازہر-عباس/islamic-way-of-self-purification--تزکیۂ-نفس-کادینی-طریقہ/d/11478

 

Loading..

Loading..