New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 08:00 PM

Urdu Section ( 3 Jun 2010, NewAgeIslam.Com)

Revolution On A New Mission انقلاب’ ایک نئے مشن پر

Recently, Hindi daily Dainik Jagran has bought MID DAY group which publishes eveninger Mid-Day and the widely circulated Urdu daily Inquilab. This deal is very important from the Muslim point of view as the daily Inquilab had been launched by Ansari brothers 72 years ago and was the only newspaper of the Muslims. It is very popular among the Urdu speaking masses and is seen as the representative of the Muslim community. The newspaper has a readership of about three lakh. Khurshid Alam analyses the effects of the deal on the Muslim society in this Urdu article presented below:

 

URL: https://newageislam.com/urdu-section/revolution-on-a-new-mission--انقلاب’-ایک-نئے-مشن-پر/d/2948

 

خورشید عالم

گزشتہ دنوں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے کسی دھماکے سے کم نہیں ہیں۔ ایک واقعہ ملکی سطح پر رونما ہوا تو دوسرا بین الاقوامی سطح پر ۔ بین الاقوامی سطح پر ہوئے اس واقعہ میں جہاں معروف انگریزی جریدہ وپالیسی ساز میگزین ‘نیوزویک’ کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے وہاں ملک کے ایک بڑے ہندی اخبار ‘دینک جاگرن ’ نے ‘مڈ ڈے ’ گروپ کو خرید کر صحافتی دنیا میں ایک نئی رقم کی ہے۔ مڈ ڈے گروپ کے تحت شام کو مشہور انگریزی کثیر الاعت روزنامہ ‘مڈ ڈے ’ او ر اردو کا معروف اخبار ‘انقلاب’ شامل ہے۔ دینک جاگرن کی یہ ڈیل میڈی حلقہ میں کافی اہم مانی جارہی ہے اور اسے مستقبل میں فاش ازم فورسز کی جانب سے مسلمانوں میں گھس پیٹھ کرنے کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی بااثر شخصیات نے اس معاملے پر کسی طرح کے رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن عام مسلمانوں میں اس کو لے کر کافی بے چینی پائی جارہی ہے۔

72سال قبل انصاری برادران کے ذریعہ شروع کیا گیا انگریزی روزنامہ ‘مڈڈے’ مسلمانوں کا واحد انگریزی اخبار تھا جو اب دینک جاگرن کی ملکیت ہے، اسی طرح ممبئی سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ ‘انقلاب’ جس کے قارئین کی تعداد تقریباً  3لاکھ کے قریب ہے کا رشتہ بھی انصاری فیملی سے منقطع ہوگیا ۔ انگریزی شام نامہ مسلمانوں کا کس حد تک ترجمان تھا اس بحث سے قطع نظر روزنامہ انقلاب کے مشن اور اس کی ملی فکر سے کسی کو اختلاف نہیں  تھا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانان ہند اس کے وجود پر فخر کرتے تھے اور وہ بھی ملت کی ترجمانی کے فرائض انجام دیتا تھا لیکن جس طرح نوٹوں کی چھنکار میں اس کی ملکیت بدل گئی اس کے بعد ملت اسلامیہ کو اس پر فخر تو کجا وہ مسلمانوں کی ترجمانی کے فرائض حسب سابق انجام دیتا رہے گا، کے سوال کو لے کر شکو ک وشبہات کے سائے مزید گہرا گئے ہیں۔عام مسلمان اس بدلی ہوئی صورتحال کو سانس روکے دیکھ رہا ہے۔ خواجہ حسن نظامی کے الفاظ میں مسلمانوں کو یہ بات  تسلیم کرلینا چاہئے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، ان کا بیشتر مذہبی لٹریچر اردو میں ہے۔ اس لئے یہ کہنا اردو تمام ہندوستانیوں کی زبان ہے، خلاف واقعہ بات ہے۔ اس سچائی کے باوجود اردو کے فروغ میں غیر اردو داں طبقہ جس طرح آگے آرہا ہے وہ بذات خود قابل غور پہلو ہے اور اردو کا دم بھرنے والے اردو داں طبقہ پر ایک بھرپورطمانچہ ہے۔ عصر حاضر میں اردو  کی ترویج واشاعت جن غیر اردو کے صنعتی گھرانوں سے کی جارہی ہے ان میں سہارا پریوار کا نام قابل ذکر ہے۔ اس سہارا پریوار کے تحت روز نامہ ‘راشٹریہ سہارا ’ جو ملک کے 9مختلف مقامات سے شائع ہورہا ہے۔ اسی طرح مفت روز ہ ‘عالمی سہارا’ او رادبی میگزین ‘بزم سہارا’ بھی اس پریوار کی زینت ہیں۔ اس کے علاوہ پندرہ روزہ میگزین ‘دی سنڈے ایڈین ’ بھی ایک غیر اردو داں حلقہ کی جانب سے شائع کیا جارہا ہے جو اپنے موضوعات کے لحاظ سے اپنی پہچان بنانے میں دکھائی پڑتا ہے۔ میگزین ہند وستان کی 13دیگر زبانوں میں بھی شائع ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک بڑا گروپ ہے۔ دیگر اردو اخبارات میں روز نامہ ‘پرتاپ’ روزنامہ ‘ ملاپ’ اور حال ہی میں نئی دہلی سے شائع ہونے والے روز نامہ ‘حالات ہند’بھی اسی غیر اردوداں طبقہ کی  طرف سے شائع کیا جارہا ہے۔ راموجی فلم سٹی کی پہاڑیوں سے ‘ای ٹی وی اردو’ کی ترنگین بھی اردو قاری کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔ آج بھی ا سکی ‘خبریں ’، ‘ہمارے مسائل’، ‘ادبی پروگرام مشاعرہ’ کی مقبولیت کا اندازہ اس کے سامعین کی بڑھتی تعداد سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ اس غیر اردو داں طبقہ کی فہرست میں اب انقلاب بھی شامل ہوگیا ہے۔

دینک جاگرن نے اس اخبار کو خرید نے کے بعد اسے وسعت دینے اور مختلف مقامات سے ایڈیشن شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انقلاب اب ملک کے 9مقامات سے شائع ہوگا۔ اس لحاظ سے راشٹریہ سہارا کے بعد یہ دوسرا اخبار ہوگا جو غیر اردوداں طبقہ کی طرف سے اتنے بڑے پیمانے پر شائع ہوگا اور ملت اسلامیہ کی نمائندگی کا فریضہ انجام دے گا۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کی جانب سے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے انگریزی روزنامہ نکالنے کی بات کرنا ہوائی قلعہ تعمیر کرنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ ممبئی کےمشہور صحافی آکار پٹیل نے اس ضمن میں مسلم کاروباری عظیم پریم جی، حکیم عبدالحمید کے ہمدرد او ر تقسیم ملک سے اب تک کامیابی سے ہمکنار مہندر ا برادرز اور غلام محمد کی پاٹنر شپ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ مہیندر ا اینڈ مہیندرا کی 6.3بلین ڈالر والی اس کمپنی سے تقریباً ایک لاکھ افراد روزگار سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے اس جانب توجہ نہیں کی کہ ملت کی ترجمانی کے لئے کوئی اقدام کرتے۔

جہاں تک دینک جاگرن کی فکر کا معاملہ ہے وہ بالکل واضح ہے اور اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں پایا جاتا ہے اور نہ ہی وہاں فاشزم کیے اس فکر کو لے کر کوئی معذرت خواہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا انقلاب ملت کے حقیقی مسائل کی ترجمانی کرسکے گا یا پھر محض جذباتی مسائل میں الجھا کر انہیں اصل مسائل سے دور کرے گا۔یہ صحیح ہے کہ اردو اخبارات کا دائرہ کار مسلمان اور ان کی خبریں ہی انہیں اس طرح راغب کرتی ہیں لیکن کیا یہ خبریں اور ان کاک انداز ملی سوچ وفکر کی غماز ہوگی یا جذباتیت کا شکار ، بظاہر تو اکابرین کے فوٹو ز اور پریس ریلیز وں کی بھر مار اسے ملی شناخت دینے میں اہم کردار ادا کرے گی لیکن کیا بین السطور میں بھی اس کا عکاسی ہوگی۔

بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے جن صحافیوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا ان میں دینک جاگرن کے ایڈیٹر نریندر موہن بھی شامل تھے۔ نریندر موہن کے قلم سے شائع ہونے والی ویکلی کالم میں اکثر مسلمانوں اور ان سے متعلق شرعی مسائل پر بے لاگ اور لچر قسم کی تحریریں ہوتی تھیں جس پر کانپور کے عمائدین شہر نے ان کا دھیان اس جانب دلایا لیکن صورتحال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے فرزند سنجے گپتا اخبار کے ایڈیٹر بنے ۔گوکہ انہوں نے اپنی تحریر وں میں اس قسم کے تبصروں سے گریز کیا اور بظاہر خود کو غیر جانبدار پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود وہ اخبار کی پرانی روش اور پالیسی پر قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے ترجمان والے مضامین کو شائع کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور نہ ہی مذہبی کالم میں اسلام کو کوئی موقع دیتے ہیں۔ اس کے برخلاف ان افراد کے مضامین پابندی سے شائع ہوتے ہیں  جن کی اسلام مخالف تحریروں پر کسی کلام کی ضرورت نہیں۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی تحریک یامشن کی کامیابی اس کے افکار ونظریات کو پھیلا نے اور پروان چڑھانے میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ ماضی کی تمام تحریکیں چاہے وہ مسلمانوں کے ذریعہ شروع کی گئی ہوں یا برادران وطن کے ذریعہ ،اس کی گواہ ہیں۔ اس لحاظ سے یہ عجب وغریب ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے خود مسلم زعما کو اس کی فکر نہیں ہے اور دوسرے اس میدان میں مسلمانوں کا قبلہ کعبہ درست کررہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نئے قائد نتن  گڈکری نے جس طرح اپنی حکمت عملی ترتیب دی ہے اس کے تحت اپنی بات پہنچانے کےلئے ان کی زبان میں ان کے اخبار کا نقشہ کار ہے۔ دینک جاگرن کے ذریعہ انقلاب کی خریدار کی مبصرین اسے فکر ی ترجمان کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اپنی نیّا پار لگانے کے لئے ملت غیر اردو داں طبقہ کی بیساکھی کا سہارا کب تک لیتی رہے گی۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/revolution-on-a-new-mission--انقلاب’-ایک-نئے-مشن-پر/d/2948


 

Loading..

Loading..