New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:13 AM

Urdu Section ( 8 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Revolution and Journalism اسلامی انقلاب اور صحافت

 

 

صاحبزداہ خورشید احمد گیلانی

دور حاضر میں صحافت کو جدید ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاچکا ہے ، مقنّنہ قانون بناتی ہے ، عدلیہ  اس کی تشریح  کرتی ہے، انتظامیہ  اسے نافذ کرتی ہے اور  صحافت  اس سارے عمل  کے لئے رائے عامہ تیار  کرتی ہے،  اس اعتبار سے صحافت  کو ریاست  کا چوتھا  ستون قرار دینے  میں کوئی  تامل  نہیں ہوتا ۔

کسی زمانے  میں لکھنے پڑھنے کو محض ‘‘ منشی گیری ’’ سمجھا  جاتا تھا  اور قلم پکڑنا  ایک ‘‘مولویانہ ’’ پیشہ تھا مگر عہد  جدید میں اس پڑھت لکھت نے صحافت  کا رنگ  اختیار  کرلیا ہے اور اس کے سامنے  ایک دنیا دنگ رہتی ہے ، امریکہ جیسی  واحد ‘‘ سپر پاور’’ سے لے کر مالدیپ  او رملایا جیسی ننھی  منھی  ریاست تک صحافت  سے آنکھیں  چار کرنے کا حوصلہ  نہیں رکھتی ، اس لئے کہ صحافت کی جدید  تکنیک اور ضرورت  نے ہر  ایک سے اپنی طاقت تسلیم کرالی ہے۔

پریذیڈنٹ نکسن سےلے کر بکنگھم  پیلس تک صحافتی  حملوں  سے کانپتے  نظر آئے ، بلاشبہ  آج کا دور ابلاغیات  کا دور ہے ، وسیع  و عریض  کائنات  کو ایک اکائی میں اسی ابلاغیات  نے بدلا ہے ، خواہ  وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا  ، دونوں کے اثرات  ہمہ گیر، انمٹ اور بے پناہ  ہیں ،  اس دور میں صحافت  کی افادیت  اب کوئی انوکھا یا نیا موضوع نہیں ایک مسلمہ  حقیقت  ہے ، البتہ  اس کے مختلف  پہلوؤں  کو ہر آدمی  منفرد  انداز میں  زیر بحث  لاتا ہے اور ان سے جداگانہ نتائج  اخذ کرتاہے،  ہر دور میں قلم  کی عصمت  کی قسمیں  کھائی گئیں،  اور حرف و لفظ کے تقدس  پر زور دیا گیا، بڑے بڑے فاتحین  عالم ہو گزرے ہیں ، داراوسکندر ، کیقبا دو کخیسر د ، جمشید فریدوں  نے بہت  سے علاقے فتح  کئے مگر  ان سب کے مقابلے  میں حرف  و لفظ  کی فتوحات کا دائرہ  وسیع  بھی رہا ہے اور پائیدار  بھی !

تلوار کے نوک نے وقتی  طور پر حالات  کو پلٹ  کر رکھ دیا مگر نوک  قلم  نے دل و دماغ  کی مستحکم  سلطنتیں الٹ  کر رکھ دیں، تلوار کی  دھار چار دن میں کند ہوگئی لیکن قلم  کے آثار  آج تک نظر آتے  ہیں ، تاہم  صحافت  کو دو دھاری تلوار کہا جاسکتا ہے، یہ لکھنے  والے ہاتھ  پر منحصر  ہے کہ وہ اس تلوار سے کیا کردار ادا کرتا ہے ؟ قلم  نے کبھی کبھار  اپنوں  کو بھی گھائل  کیا ہے اور ذرہ  بے مقدار  کو کوہ ہمالیہ  اور قطرہ کو قلزم بنا کر پیش  کیا ہے صحافت  کا یہ پہلو  ہمیشہ بحث طلب کررہا ہے لیکن  جن لوگوں  نے صحافت  کو قدرت  کی امانت  سمجھ کر برتا ہے  انہوں نے معاشرے انقلاب کی آبیاری  کی ہے ، صحافت  کے متنوع  پہلو ہیں،  اور اس کا کردار الگ الگ ہے ، ہم صحافت  کو تبلیغ  و دعوت  کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو سچی  بات یہ ہے کہ  کسی زمانے  میں جو کام منبر و محراب   نے سر انجام  دیا تھا وہی  کردار آج  منصب  صحافت ادا کرسکتاہے ، منبر و محراب  نے دلوں کی دنیا میں ہلچل  مچائی ، دماغوں کو جلا بخشی ، زاویہ  فکر بدلا، نقطۂ  نظر ترتیب  دیا، اور نیکی  و فلاح کی راہیں کھول دیں ۔

آج دنیا میں خیر کا جوبھی چرچا ہے وہ کسی بادشاہ  کا کارنامہ  نہیں بلکہ  ارباب  منبر و محراب  کا عطیہ  ہے، خیر و شر  میں تمیز  کا شعور  اور داعیہ  تاج و تخت  کا ورثہ نہیں بلکہ منبر و محراب کا صدقہ ہے، حق و باطل کے درمیان لکیر کسی  میر و وزیر نے نہیں کھینچی  بلکہ منبر و محراب کے وارث کسی فقیر نے قائم کی ہے، کیونکہ سو دو سو سال  پہلے ابلاغ  کا ذریعہ  منبر ومحراب  تھے ، لوگوں تک اپنی بات پہنچا نے کا وسیلہ  منبر و  محراب تھے ، منبر و محراب  کے اثرات  اگر چہ  بہت وسیع  ہیں مگر صحافت  جیسا جدید  ذریعہ ابلاغ  بہت دور تک او ربڑی  دیر تک اپنے اثرات پھیلاتا اور قائم رکھتا ہے ۔ رواں  صدی میں جہاں صحافت  نے کئی معرکے  سرکئے ہیں ، نئے نظریات  کو فروغ دیاہے، نئے معاشی نظام  کو متعارف کرایا ہے، سیاسی  انقلابات کا راستہ ہموار کیا ہے،  آزادی  کی تحریکوں کو شعلے دیئے  ہیں،  استعماری  گرفت  کو توڑا ہے،غلام او رمحکوم  عوام کو حصول آزادی  کے لئے ابھارا  ہے ،غور و فکر کے نئے آفاق  تلاش کئے ہیں، سیاسی بصیرت  اور انقلابی شعور کے  نئے جزیرے دریافت کئے ہیں،  ظلم کے مستحکم  نظام کو متزلزل کیا ہے اور افتاد گان  خاک کے ادھورے خوابوں  کو کامل  تعبیر  بخشی  ہے وہاں عالم اسلام  میں صحافت  نے تبلیغ و دعوت  کا فریضہ  بھی سر انجام  دیا ہے،  او رلاکھوں مسلمانوں میں از سر ایمان  و ایقان  کا جذبہ پیدا کیا ہے، بندگی رب کا ذوق  ابھارا ہے ، نفاذ  اسلام کو ولولہ تازہ  کیا ہے،  او رمثبت  تبدیلی  کے لئے مضبوط بنیادیں  فراہم کی ہیں ۔

آج عالم اسلام میں  چار سو جو اسلامی انقلاب کا غلغلہ ہے اس میں اور بھی کئی عوامل  کار فرماہوں  گے لیکن  بہت سا حصہ  صحافت  کا ہے جو اذہان  و قلوب  کی زمین  کو اس فصل کےلئے ہموار  اور تیار کرتی ہے ۔

سید جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے جس ولولے اور ہم ہنمے سے ‘‘ پین اسلامزم ’’  کی تحریک  چلائی کہ یورپ آج  تک اس اصطلاح  سے غش  کھاتا ہے، ‘‘العر و ۃ الوثقیٰ’’ محض ایک صحافتی جریدہ  نہیں تھا بلکہ دعوتی ادارہ تھا  جس نے بیک وقت علمی  تحریک،  روحانی  خانقاہ ، سیاسی  تربیت گاہ  اور رائے عامہ  کی رہبری کا فریضہ سر انجام دیا ، ‘‘ العروۃ الوثقیٰ ’’ کے تجزیے استعماری  قبا کے  بخیے  ادھیڑ تے تھے،  مضامین  میں ذہن  بناتے تھے ، اور اداریے سیاست  کا رخ متعین کرتے تھے، سید جمال الدین  افغانی رحمۃ اللہ علیہ  ایک شخص تھا لیکن  اپنے اندر ایک قوم جتنی طاقت  رکھتا تھا ، وہ ایک فرد تھا لیکن پوری جمعیت اسلامی کی نمائندگی کرتا تھا، ایک تن تنہا قلمکار  تھا لیکن  ملت اسلامیہ کا ضمیر تھا ، افغانی رحمۃ اللہ علیہ  کی طرز صحافت  نے لوگوں کو دعوت کا نیا اسلوب عطا کیا ، برصغیر ہند میں مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ  نے ‘‘ الہلال ’’ اور  ‘‘ البلاغ’’ کے ذریعے  رجوع الی القرآن  کی دعوت  کا  اہتمام کیا کہ شیخ الہند مولانا محمود  حسن رحمۃ اللہ علیہ جسے بزرگ کو اعتراف کرنا پڑا کہ ‘‘ اس نوجوان نے ہمیں بھولا ہوا سبق  یاد دلایا ہے ’’ ‘‘ الہلال ’’ معروف  معنوں  میں صحافتی  مجلّہ نہیں تھا بلکہ دعوت  و تبلیغ کا مرقع  تھا، اجتہادی  شان کا یہ  حامل پرچہ  دلوں کے سکوت آمیز سمندر  میں ایک عرصے تک تلاطم برپا کرتا رہا، اسی طرح ‘‘البلاغ ’’  نے ابلاع  کے نئے تجربے کئے  اور وہ ہر لحاظ سے خوشگوار  تجربے  تھے اور وہ ہر لحاظ سے خوشگوار تجربے ثابت ہوئے ، مولانا محمد علی جوہر رحمۃ اللہ علیہ  نے ‘‘ کامریڈ ’’ اور  ‘‘ ہمدرد’’ کے ذریعے عصری سیاست  کے ساتھ ساتھ  دعوت  کا بھرپور کام کیا، جب ‘‘ترک نادان ’’  نے خلافت  کی قباء  اپنے ہاتھوں  سے چاک کردی اور مسلمانوں کے رہے سہمے حوصلے بھی پست  کردیئے تو  وہ مولانا جوہر رحمۃ اللہ علیہ  تھے جنہوں نے  اپنے بے باک قلم  سے خلافت  کے نکتے  پر پوری ملت اسلامیہ  کے جذبات کا ایک دائرہ بنا دیا  حتیٰ  کہ عراق  کے شیعہ  مجتہد  ین کو احیائے خلافت اور تحفظ  خلافت  کا فتویٰ  جاری کرنا پڑا ۔

خواجہ  حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘درویش ’’ کے ذریعے  ایک روحانی  انقلاب  کی بنیاد رکھی ، قدرت نے خواجہ  حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ  کو انشاء پروازی کا حسن اس شان سے  بخشا  کہ حکیم  الامت  علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ  کو کہنا پڑا  ‘‘ اگر  مجھے خواجہ حسن نظامی  رحمۃ اللہ علیہ  کی طرح نثر و انشاء پر قدرت  حاصل ہوتی  تو میں شاعری  کو کبھی  ذریعہ  اظہار نہ بناتا ’’۔

خواجہ حسن نظامی رحمۃ اللہ علیہ  نے اس انشاء پردازی  سے اخلاقی و روحانی  اور معاشرتی  و سماجی  دعوت  کا کام لیا  ، چھوٹے چھوٹے  فقروں، خوبصورت  جملوں، دلچسپ  تمثلوں اور دلفریب  حکایتوں  سے تعمیر  سیرت  اور تشکیل  کردار کا فریضہ  انجام دیا، ملا واحدی رحمۃ اللہ علیہ  اپنی طرز کے ادیب تھے ،انہوں نے ‘‘منادی’’  کو حق اور اخلاق  کی ندا بنا دیا، مولانا  عبدلماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ  سہل نگا ر  انشاء پرداز تھے اور ان کی انشاء میں الفاظ کے مقابلے  میں فکر  زیادہ ہوتی  تھی،  انہوں نے بھی ‘‘ صدق ’’ اور ‘‘ سچ’’ کو روایتی  صحافت  کا حصہ  نہیں بنایا  بلکہ نام  کی مناسبت  سے راستی اور سچائی  کو فروغ  دیا، اسی باب میں  بے شمار نام ہیں ان سب کا احاطہ  مقصود  نہیں فقط یہ بتانا  ہے کہ صحافت  سے تبلیغ اور دعوت کا کام اسلام  نے کس طرح  لیا اور آج  اس خوشگوار  فریضے  سے کیوں  کر سبکدوش ہوا جاسکتا ہے؟ ۔

دور حاضر میں جب بھی اسلامی تحریکوں  کا جائزہ  لیا جائے گا اور اسلامی نظام کی منزل کے مسافروں  کا نام لیا جائے گا تو بہت  ہی نمایاں طور پر  جماعت اسلامی  او رمولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر آئے گا، صرف بر صغیر پر کیا موقوف  ہے دنیا بھر  میں چلنے والی اسلامی  تحریکوں  میں شاید سب سے زیادہ منظّم  اور با اثر جماعت ‘‘ جماعت اسلامی ’’ ہے اس  کے موجودہ انداز سیاست  سے اختلاف  کے باوجود  اس کی خدمات سے انکار ناممکن ہے،  جماعت  اسلامی  جیسی منظّم  اور عالمگیر تحریک مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ  کے میدان صحافت  میں داعیانہ  کردار کی مرہون منت  ہے، مولانا مرحوم نے  ‘‘ ترجمان القرآن ’’  کی  وساطت سے اہل اسلام  کو اسلام کی انقلابی دعوت سے روشناس کر ایا ، محدود مذہبیت  کے مقابلے  میں دین  کی آفاقی  حیثیت  کو اجاگر کرکیا،  عبادات  و رسوم  کے دائرے  سے نکال  کر اسلام  کو ایک مکمل  ضابطہ  حیات  کے طور پر پیش کیا،  اسلام کو تہذیبی  ، تمدنی، سیاسی، معاشرتی او رقانونی  مسائل  کے حل کے ذریعہ  ثابت کیا ۔

اس دور میں اور بھی اخبارات  و جرائد  شائع ہوتے تھے  اور بھر پور طریقے سے سیاسی  و معاشرتی  تجزیے  پیش کرتے تھے مگر  ‘‘ ترجمان القرآن ’’ کا داعیانہ اسلوب  اس قدر موثر  او رکامیاب  ہوا کہ ‘‘ ترجمان القرآن ’’ میں  پیش کی گئی فکر کی بنیاد  پر ‘‘ جماعت اسلامی ’’ جیسی تحریک  اٹھ کھڑی ہوئی، جس جس عہد  کی یہ مثالیں  ہیں بلاشبہ  وہ عہد  بھی پر آشوب  اور مسلمانوں کے لئے بالخصوص  پریشان کن تھے مگر  دور جدید تو عالم اسلام  اور اہل اسلام  کے لئے قیامت  بنا ہوا ہے ،  یونی پولر ورلڈ  میں عالم  اسلام کو سانس لینے کی  اجازت  بھی بڑی مشکل  سے مل رہی ہے ، عالم اسلام  پر مغربی تہذیب کی یلغار ، مغربی نظام سیاست  کا تسلط  ، سامراجی  اثرات  کا غلبہ ،اس کا معاشی گھیراؤ ، اور نظریاتی  سرحدوں  کا عدم تحفظ  ایسے مسائل نے عالم اسلام  کو حد درجہ پریشان کر رکھا ہے ، گذشتہ  عہد کے مقابلے  میں آج  صحافت  کو ذریعہ دعوت بنانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے ‘‘ برننگ  اشوز ’’ اور ‘‘ کرنٹ افیئر ز ’’ پر تبصرے اور  تجزیے بجاء مگر ذہن سازی  ، تطہیر افکار، تشکیل  کردار اور تعمیر  اخلاق پر زیادہ  توجہ صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کم از کم عالم اسلام  میں صحافت  کو اپنے روایتی  اسلوب سے ہٹ کر انقلابی خطوط  پر داعیانہ  کردار ادا کرنا چاہئے ، آج کی صورتحال  صاف پتہ دے رہی ہے کہ  اکیسویں  صدی میں  اس سے کہیں بڑھ کر اسلام  اور عالم اسلام کو چیلنج درپیش ہوں گے، ان خطرات  کا مقابلہ  رسمی اور روایتی  صحافت نہیں کرسکے گی اور دور جدید کے ٹکسال میں ڈھلے ہوئے سکّے اکیسویں صدی کے بازار میں  کار آمد نہیں  رہیں گے بلکہ  اس کے لئے صحافت  کو نیا روپ دینا ہوگا،  جو بیک وقت  دنیا کے سیاسی اور روحانی خلاء کو پر کر سکے، سیاست  اور روحانیت  کے درمیان  آج جو فاصلے نظر آتے ہیں وہ درحقیقت  انسانوں کے درمیان فاصلے ہیں ، اور  اگر یہ فاصلے اسی طرح بڑھتے رہے تو مستقبل  میں سیاسی و سماجی  اور فکری  و نظری بحران  جو بھی پیدا  ہوں گے ان سب سے بڑھ کر بیگانگی  اور  اجنبیت  کا بحران اٹھے گا تو  اس بحران کا مقابلہ  کسی روایتی  عمل سے  نہیں ہوسکے گا ، صحافت  کے دعوتی کردار  کے ذریعے روحانیت  اور سیاست  کی خلیج  پاٹنے  کی ضرورت  ہے تاکہ مستقبل  کی انسانی دنیا  سنگین  حادثے  سے محفوظ  رہے ۔

مئی  2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khurshid-ahmad-geelani/islamic-revolution-and-journalism--اسلامی-انقلاب-اور-صحافت/d/97983

 

Loading..

Loading..